بدھ، 2 جون، 2021

ماسک.........


عطا محمد تبسم 

 آنکھ کھلتے ہی، میرا ہاتھ چہرہ پر گیا، میرا ماسک ۔۔۔ رات جب میں سویا تھا تو اسے میں نے منہ پر لگایا تھا،  لیکن اب  وہ میرے چہرے پر نہیں تھا، خوف کی ایک لہر میرے سراپے میں دوڑ گئی،میں نے جلدی سے بستر ٹٹولا، اور جلد ہی مجھے وہ مڑا  تڑا   ایک طرف نظر آگیا، میں نے اسے ہاتھ میں لے کر پہلے اس کی سلوٹیں درست کی اور پھر اسے منہ پر لگالیا۔  ایک  بو کا احساس ہوا، لیکن پھر میں اسے بھول گیا، میری گرم گرم سانسیں  اس ماسک میں  گھٹ گھٹ کر نکل رہی تھی، جی چاہا اسے منہ سے نوچ کو پھینک ہی دوں۔ رات بھی  میں اس سے بہت تنگ آیا  ہواتھا، یہ بار بار کبھی میری آنکھوں  اور کبھی میری ناک سے نیچے کھسک جاتا ،  عجیب بےہودہ  چیز ہے یہ ماسک 

جانے کس مٹی کا بنا ہے،  مٹی کا نہیں کسی میٹریل کا بنا ہے، کپڑا   بھی نہیں ہے اور کاغذ بھی نہیں ہے، اس کی تہہ کتنی موٹی ہے،  بس یونہی سے ہے،  اس سے نفرت  تھی مجھے ، شروع شروع  تو میں نے اسے نہ منہ لگایا اور نہ ہی اس پر توجہ دی، بھلا  میں کیوں لگاؤں ماسک، مجھے کیا پڑی  جو اسے منہ پر اوڑھے  رہوں، کانوں میں  الجھائے رکھوں، لیکن جب  آفس میں داخلی گیٹ پر کھڑے گارڈ نے مجھے روک کر کہا،  سر ماسک لگالیں۔ اس کے بغیر انٹری نہیں ہوگی تو میں حیران  اور پریشان ہوگیا، اوہو تو اب بات یہاں تک آگئی ہے، گارڈ اس دن ماسک کا ایک ڈبہ لیے بیٹھا تھا، اس نے ایک ماسک مجھے نکال کر دیا، اور تاکید کی سر دفتر میں یہ لگا کر رہنا ہوگا۔ ماسک کے بغیر آپ لفٹ میں داخل نہیں ہوسکتے، ماسک کے بغیر باتھ روم میں آپ نہیں گھس سکتے، ماسک کے بغیر آپ کسی کے کمرے میں نہیں جاسکتے۔ماسک کے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جانے اور بھی کیا کچھ کہتا میں اس کے پاس سے نکل آیا۔لیکن اندر آنے سے پہلے اس نے میرے ہاتھ پر ایک سرخ شعاع ڈال کر یہ بھی دیکھا کہ میرا درجہ حرارت کیا ہے،  وہ تو خیر ہوئی کہ میرا جسمانی درجہ حرارت ہی ماپا گیا، غلطی سے اس نے اگر میرے دماغی درجہ حرارت کو چھو لیا ہوتا تو وہ  مجھے دفتر میں گھسنے بھی نہیں دیتا، بلکہ ممکن ہے ایڈمن کو رپورٹ کرتا کہ صاحب کو اسپتال ٹسٹ کے لیے بھیج دیں۔  ابھی کل ہی رضوان کو گیٹ ہی سے پہلے اسپتال اور پھر گھر بھیج دیا گیا تھا،  اسے حرارت تھی، گلا خراب تھا، اگلے تین ہفتے  اس نے کس اذیت میں گذرے تھے، گھر جاتے ہی اس نے الگ کمرہ کرلیا، اور  بچوں اور بیوی کو بھی قریب آنے سے منع کردیا۔ شام ہونے تک گھر میں رونا پیٹنا مچ گیا، بچے  رو رو کر کہہ رہے تھے، ہم بابا کے پاس جائیں گے ۔ اور بیوی انھیں سنبھالتی سنبھالتی  خود بھی روہانسی ہو رہی تھی۔  شام کو اس کا کھانا ایک ٹرے میں رکھ کر دروازے کے آگے رکھ دیا گیا۔  بچے دور سے باپ کو دیکھ  کر  رو رہے تھے، رضوان نے تین ہفتے  بہت مشکل  اور پریشانی میں گذارے،  وہ تو اللہ کا شکر ہوا کہ اگلی رپورٹ نیگیٹیو  آگئی ۔ کل ہی شبیر کا فون آیا تھا، بہت دن بعد بات ہوئی، میں نے خیریت پوچھی تو اس  نے بتایا کہ  وہ کل ہی اسپتال سے  ڈسچارج ہوکر گھر آیا  ہے، تمھیں کیا ہوا۔  کرونا۔۔۔۔۔۔ اچھا لیکن تم نے تو وکسین  کرالی تھی، ہاں بس اس کے بعد ہی  طبعیت خراب ہونی شروع ہوئی، پہلے دو تین دن ہلکا بخار ہوا، پھر  یکایک بہت کمزوری محسوس ہونے لگی،نہ کھانسی  نہ کوئی اور علامت لیکن کمزوری تھی کہ بڑھتی ہی جارہی تھی۔ اسپتال گیا تو مجھےفوری طور پر  کوؤیڈ  کے اسپیشل وارڈ میں بھیج دیا، فوج   اور وہ بھی  ائیر فورس والے،   یوں  بھی اپنے رٹائرڈ افسران کا بہت خیال کرتے ہیں۔  یوں شبیر کی دن رات نگہداشت اور علاج نے اسے  جلد صحت یاب کردیا۔  اس کے بیٹے  کی شادی تھوڑے عرصے پہلے ہی تو ہوئی تھی۔   اس کے  بیٹے کے سسر کیسے  اچانک رخصت ہوگئے۔  تین چار دن کے بعد جب وہ وینٹی لیٹر تک پہنچے تو  انھوں نے اپنی چیک بک اور ضروری کاغذات اور فائلیں، اسپتال منگوالیں،  سارے حساب کتاب کیے۔ وکیل سے  دستاویزات بنوائی، زمین جائیداد گھر، کاروبار  لینا دینا  ، ڈائری  میں سب کچھ لکھوایا اور پھر سب پر دستخط کر دیئے،  انھیں شاید اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اب نہیں بچنے کے۔دو تین ماہ پہلے ان کے بڑے بھائی بھی اسی کیفیت میں تھے، وہ ان کے علاج معالجے میں ان کے ساتھ لگے رہے تھے۔  ان کی موت کے بعد، اب جو یہ اس کیفیت میں آئے تو  خود ہی سمجھ گئے، اور جاتے جاتے سب حساب کتاب کر گئے۔یہاں کا حساب کتاب تو یہیں رہ جائے گا، آگے کے حساب کتاب  کی فکر کسی کسی کو ہوتی ہے، پھر اللہ جیسی بزرگ و برتر ہستی کے سامنے کون حساب دے سکتا ہے۔ یہ میں صبح سویر کس چکر میں پڑ گیا،  ستیا ناس ہو اس ماسک کا ۔۔۔  جس نے صبح صبح ہی  مجھے کہاں کہاں کی سیر کرادی۔پہل پہل تو میں  بالکل بھی نہیں ڈرا کرتا تھا، لیکن اب تو  میں  گھر سے باہر نکلتے ہوئے، سب سے پہلے ماسک کی فکر کرتا ہوں، کل  جب میں گاڑی سے نکل کر بنک میں داخل ہونے لگا تو  گارڈ نے مجھے یہاں بھی روک دیا، صاحب ماسک لگا کر آئیں،  میں نے جیب  دیکھی تو  یہ کہیں نظر نہ آیا، واپس گاڑی  میں آیا، ڈیش بورڈ، اور بیگ کی تلاشی لی، لیکن ماسک نہیں ملا۔ وہ تو شکر ہوا کہ ایک لڑکا  ماسک کا ڈبہ ہاتھ میں لیے میرے قریب سے گذرا ۔ صاحب ماسک چاہیئے،  میں نے فورا اس سے ایک ماسک خرید لیا، لیکن اب میرے بیگ، میری پتلون کی جیب، قمیض  کی جیب،  آفس کی الماری،  لکھنے کی میز، کتابوں  میں نشانی کے لیے بھی ماسک ہی  ماسک ہیں۔میں گھر سے نکلتا ہوں تو میرے آس پاس بے چہرہ لوگوں کا ایک ہجوم ہوتا ہے، سب کے چہرے ماسک کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں، ساری خوبصورتی اور بد صورتی  اس ماسک نے ڈھانپ لی ہے۔چور ، ڈاکو، قاتل ، لٹیرے،موبائل چھینےر والے اور لوٹ مار کرنے والے  اب آسانی سے ماسک لگا کر واردات کرسکتے ہیں۔ مجھے اب کسی پر شک نہیں ہوتا  ۔سڑک  پر  ،فٹ پاتھ پر، گلی میں ، کچرے کے ڈھیر پر ، اور ہوا میں ماسک اڑتے نظر آتے ہیں۔  نماز پڑھتے ہوئے مسجد میں بھی میری توجہ کا مرکز ماسک ہی ہوتے ہیں، ماسک میں ڈاڑھی کہیں چھپی اور کہیں تھوڑی بہت نظر آتی ہے،  شاپنگ سینٹر کے اندر اور باہر خوب صورت چہروں پر لباس کے ہم رنگ ماسک۔۔۔۔

 رات کا پچھلا پہر ہے،  جانے یہ کونسی جگہ ہے،  اچانک  نعروں کی آواز ، شور   بلند ہورہا ہے،  سامنے لاکھوں لوگوں  کا ہجوم ہے، لیکن یہ سب ننگ دھڑننگ پھٹے پرانے لباس  گرد آلود جسم  اور چہرے،پیدل ان کے پیر ننگے ہیں، ان کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی ہیں،  وہ سانس لینے کی جہدوجہد میں لگے ہوئے  آگے ہی آگے بڑھتے جارہے ہیں، تو دوسری جانب گاڑیوں میں ماسک لگائے، آکسیجن سلنڈر اٹھائے، ہاتھوں میں پانی کی بوتل ،موبائل لیے ، کانوں پر ایئر فون چڑھائے، ہاتھوں میں کمپیوٹر  اٹھائے چند ہزار افراد ان لاکھوں افرد سے خوفزدہ ہوکر ہر طرف بھاگتے نظر آ رہے ہیں۔ جانے یہ کون سا ملک ہے، کونسی جگہ ہے، کون لوگ ہیں۔ کون لوگ ہیں یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیبلز:

منگل، 9 جنوری، 2018

Beemakar Frookhat ka fun

منگل، 12 دسمبر، 2017

Beemakar Takaful

منگل، 5 ستمبر، 2017

بابو


بابو (والد صاحب) کے کاغذات میں 1964 کی یہ رسید ملی الفاروق ہائی اسکول ریشم گلی نیا نیا بنا تھا مشتاق صاحب ہیڈ ماسٹر تھے ان دنوں شام کی کلاسوں کا نائٹ اسکول کاآغاز کیا تھا پانچویں کلاس کا دن میں طالب علم تھا رات میں چھٹی کلاس نو بجے تک کلاس ہوتی باہر کی دکانوں پر ریکاڈنگ یا ریڈیو پر بلند آہنگ گانے ستارو تم تو سوجائو پریشان رات ساری ہے سنتے سنتے ڈیسک پر سوجاتا مسٹر جمیل اور نسیمہ والی انگریزی کی کتاب پڑھائی جاتی اور اسپیلنگ پر زور دیا جاتا اس زمانے میں اورینٹ ہوٹل اور سلطان ہوٹل کے درمیان والی اورنگ زیب مسجد کاقضیہ شروع ہوگیا مسجد نیچے تھی اورینٹ ہوٹل اونچا روز جلوس نکلتے اور کوہ نور چوک میدان جنگ بن جاتا شیلنگ ہوتی جلوس سٹی کالج سے نکلتے عثمان کینڈی رضوان صدیقی رحمت ہٹلر جیسے طالب علم رہنما تھے. پانچ روپے فیس تھی بابو کے لئے تو شائد بہت ہوگی ماہانہ تنخواہ ہی 64 روپے تھی لیکن سونا بھی 64 روپے تولہ تھا سنار گلی سے نکلتے تو ہر دکان پر لٹکی سلیٹ پر چاک سے بڑا بڑا نرخنامہ لکھا ہوتا سونے کا آج کا بھاو جانے کیسے پیٹ پر پتھر باندھ کر یہ خرچے برداشت کرتے اسکول کے زمانے میں کالے بوٹ سفید قمیض خاکی پینٹ اسکول ڈریس تھا ابا نے پرانے فوجی بوٹ کی جوڑی ایک موچی کو دی ہوپ فل اسکول کے نزدیک جو مزار ہے اس کے برابر میں دکان تھی اس موچی کی ماہر فن تھا میں روزانہ اسکول سے آتے ہوئے اس کی دکان پر جاتا اور پوچھتا میرا جوتا بن گیا . ایک ماہ کے بعد اس نے بہت اچھے اور مضبوط جوتے بناکر دیئے بہت عرصے تک چلے. ریگولر داخلہ چھٹی کلاس میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہوا داخلے کے لیے ٹیسٹ لیا جاتا تھا پاس ہونے والوں کی.لسٹ لگتی میرا نام لسٹ میں آیا تو داخلہ ہوگیا سامنے گول بلڈنگ بن رہی تھی اسکول کے پیچھے ریڈیو اسٹیشن تھا برابر میں ڈپٹی کمشنر ہاوس تھا شائد نیاز احمد کمشنر تھے ان دنوں رسالہ روڈ اور اسٹیشن روڈ مرکزی شاہراہ تھیں چوڑی اور صاف صبح سویرے خاک روب جھاڑو دیتے چھلی میں کچرا اٹھاتے گھوڑے تانگے چلتے تھے موٹر بہت کم تھی

آپا


گھر میں لاٹین کا گلاس سر شام صاف کرکے جلادی جاتی آپا (والدہ جنہیں سب آپا کہتے تھے) رات کو نیند کے جھونٹے کھاتی جاتی اور عزیز بیڑی کے بنڈل باندھتی جاتی ایک ہزار بیڑی پر لیبل لگانے کی اجرت پچیس پیسے ہوتی پم بہین بھائی سب مل کر چار پانچ ہزار بیڑی کے لیبل لگاتے پھر آپا ان کے بنڈل بناتی ایک بنڈل 25 بیڑی کا ہوتا پھر یہ بیڑی بھانڈے میں پہنچائی جاتی منشی اس کا حساب کتاب رکھتے پھر ہمارے گھر بجلی لگ گئی دو بلب لگے 25 واٹ والے بجلی کابل دو ڈھائی روپے ماہانہ ہوتا یہ بل بھی کاغزوں میں ملا. رات 9 بجے بتی بند کردی جاتی مجھے اس زمانے میں بچوں کی دنیا اور کہانی کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہوگیا بتی بند ہوجاتی گلی میں اسٹریٹ لائٹ کا بلب جلتا تھا گھر کے ساتھ میں چھت پر چلا جاتا اور رات تک کہانی پڑھنے کی عیاشی کرتا آج بچوں کو بجلی کایہ بل.دکھایا تو بس حیران ہوگے آ ج کی.نسل کیا جانے کے پچھلی نسل نے کیس اس ملک کو.بنایا تھا محنت مزدری اور پیٹ کاٹ کے

ریڈیو



سال تو جانے کونسا تھا پر تھا ریڈیو کا زمانہ بابو جی کے پیچھے پڑ گئے ریڈیو خریدیں پھر ایک دن بابو جی کے ساتھ دونوں چھوٹے بھائیوں کو لے کر سٹی تھانے کے مقابل رضوی برادرز پہنچے ریڈیو فروخت کرنے کی سب سے بڑی دکان تھی آر جی اے کا ٹرانسٹر ریڑیو ایک سو آٹھ روپے کا خریدا رسید بھی میرے نام پتہ کے ساتھ کاٹی گئی الہ دین کے بڑے چار سیل لگتے تھے اب گھر میں صبح شام ریڈیو کی آواز گونجتی تلاوت سے آغاز ہوتا یہ ریڈیو پاکستان ہے آواز بہت بھلی لگتی سارے دن پروگرام اور فرمائشی گیت چلتے رات کو ڈرامے اور فرمائشی گیتوں کے پروگرام ان دنوں اتوار کو ریڑیو پاکستان بچوں کے پروگرام میں جاتے بھائی جان عبدالقیوم جب اسٹوڈیو میں لے جاتے تو اس کی منفرد خوشبو سے من بھر جاتا ریڈیو والوں نے جشن تمشیل منایا پچھواڑے میں اسٹیج بنا بہترین ڈرامے نامور فنکار حیدرآباد کی تاریخ میں اس قدر نابغے پھر ایک ساتھ کبھی جمع نہ ہوئے الیاس عشقی اپنے سفید بالوں سے.نمایاں نظر آتے ایک بار جوہر حسین نے زیڈ اے بخاری کو نیشنل سنٹر میں بلایا وہ بھی سفید سر والے ان کے الفاظ کا اتار چڑھاو قصے کہانیاں بہت دن مزا دیتی رہی رجب علی بچوں کے پروگرام میں آ تے بعد میں نورجہاں کے ساتھ ان کا دوگانا مجھ سا تجھ کو چاہنے والا کوئی اور ہو اللہ نہ کرے نے انھیں خوب شہرت دی یہ ریڈیو جو سب کی آنکھ تارا اور راج دلارا تھا گھر میں ٹی وی آنے کے بعد جانے کب ناکارہ اور از کار رفتہ میں بدل گیا

پیر، 8 دسمبر، 2014

ایک اور چراغ گل ہوا


ایک نوجوان کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ ایک خاندان تباہ برباد ہوگیا، پی ٹی آئی کو ایک لاش مل گئی، قربانی قربانی قربانی۔۔۔۔۔۔۔ سیاست دان عوام سے جان مال کی قربانی مانگتے ہی رہے ہیں۔ لیکن جب اقتدار میں آتے ہیں تو سب بھول جاتے ہیں۔ وہ ایوب خان، یحیحی خان، مجیب، بھٹو،نواز شریف ،بے نظیر، مشرف اور الطاف حسین بن جاتے ہیں۔ کپتان کو پتہ نہیں وہ کہاں جا رہے ہیں ۔کئی بر اپنے بیانات بدلتے ہیں۔ تبدیلی تبدیلی تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو کچھ نہیں پتہ کیا تبدیلی لانی ہے۔ ان کے آس پاس جو چہرے ہیں انھیں دیکھ کر تبدیلی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ کاش فیصل آباد میں یہ سانحہ نہ ہوتا۔ اب لاہور اور کراچی اور پورا پاکستان بند ہونا ہے، جانے کیا ہوگا۔