پیر، 29 مارچ، 2010

ارکان اسمبلی کی جعلی ڈگریاں اور تعلیمی بورڈ کی حالت زار

عطا محمد تبسم

آج  سے کراچی میں ہزاروں طلبہ و طالبات میٹرک کے امتحانات میں شرکت کررہے ہیں۔دو دن پہلے ان میں سے بیشترطلبہ اس بات سے پریشان تھے کہ انھیں ان کے ایڈمٹ کارڈ نہیں ملے تھے۔پھر یہ طلبہ پریشان ہوکر بورڈ آفس پہنچ گئے۔جوں جوں طلبہ کا ہجوم بڑھا،معاملات بھی الجھ گئے۔ ایڈمٹ کارڈ اور امتحانی فارم کے معاملے پر ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے باہر احتجاجی مظاہروں کی بازگشت گورنر ہاﺅس کا سلسلہ بدھ کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ سیکڑوں پرائیویٹ امیدوار سخت گرمی اور دھوپ میں اپنے امتحانی فارم جمع کرانے کیلئے احتجاج کرتے رہے لیکن بورڈ نے ان کے امتحانی فارم وصول نہیں کئے۔ البتہ بورڈ نے نجی اور سرکاری اسکولوں کے امتحانی فارم 12 سو روپے لیٹ فیس کے ساتھ وصول کئے۔ 24 اسکولوں کے ایک ہزار سے زائد فارم بدھ کو جمع کئے گئے جن میں 3 سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول بھی شامل تھے۔ جن کے ایڈمٹ کارڈ جمعرات کو جاری ہوئے ۔ میٹرک کے طلبہ کو ہزاروں روپے فیس کی ادائیگی کے بعد جو ایڈمٹ کارڈ مظاہروں کے بعد ملے وہ انھیں گھروں پر ملنا چاہئے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارا سارا تعلیمی نظام تباہ ہوتا جارہا ہے۔ تعلیمی بورڈ کی کارکردگی ہمار معیار تعلیم کا اظہار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کی جانب سے امتحانات شروع ہونے سے 10 روز قبل 13 مارچ سے ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کا شیڈول جاری کیا گیا جبکہ بورڈ کی جانب سے اسکولوں سے امتحانی فارم لینے کا سلسلہ گزشتہ اکتوبرسے جاری تھا۔ 6 مارچ تک بورڈ نے 12 سو روپے لیٹ فیس کے ساتھ امتحانی فارم وصول کئے۔ بورڈ کی سیکریٹری کے مطابق آخری تین دن میں شدید دباو ¿ کے باعث امتحانی فارم جمع کرانے کی میں اضافہ کیا گیا جس میں ساڑھے 4 ہزار سے زائد امتحانی فارم جمع ہوئے دو روز تک ان کی اسکروٹنی ہوئی اور 21 مارچ سے ایڈمٹ کارڈ جاری ہونا شروع ہو گئے۔ اسی دوران سیکڑوں پرائیویٹ امیدوار اور کئی نجی اسکول نے امتحانی فارم جمع کرانا چاہا لیکن بورڈ نے امتحانی فارم نہیں جمع کئے جس کی وجہ سے مظاہرے اور احتجاج شروع ہوا۔اور دو پرچے ملتوی کرنا پڑے ۔ بہت سے حلقے میٹرک کے پرچے ملتوی ہونے کے ذمہ دار افسران کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔اس وقت سیکنڈری بورڈ سے یونیورسٹی تک مبینہ رشوت، سفارش، نقل اور بدعنوانی کا راج ہے۔ جبکہ اس صورتحال کا نوٹس لینے کیلئے کوئی ذمہ دار شخص تیار نہیں۔ گزشتہ سال جب بوٹی مافیا کے ارکان کو نقل کراتے ہوئے پکڑا گیا۔ تو انہی افراد کو نکال دیا گیا۔ جنہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔امتحانی ہالوں میں جو صورتحال ہوتی ہے وہ تو ایک الگ کہانی ہے لیکن طلباء اندھیرے میں اپنے مستقبل کا چراغ کیسے جلائیں گے یہ کسی نے نہیں سوچا۔ امتحانی ہالوں میں بجلی کی بندش کے دوران متبادل انتظامات کا کوئی بندوبست نہیں۔ ائرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کرتعلیمی ترقی کے لئے سیمینارز اور مباحثوں پر کروڑوں خرچ کرنے والوں کواس اہم اور بنیادی مسئلہ کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے لیکن شاید یہ ہمارے حکمرانوں کے لئے مفت کے کھیل کا درجہ رکھتاہے یہی وجہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا اندازہ ہونے کے باوجودکسی بھی امتحانی ہال میں متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی متبادل بندوبست نہیں کیاگیاہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ان بچوں پر جو امتحان دے رہے ہیں۔یہ بھی پہلی بار ہورہا ہے کہ سائنس کے طلبہ کو امتحان دوپہر میں ہورہا ہے۔ ہمیں اپنے اداروں کو مثالی بنا نا تھا۔ لیکن کیا کریں قوم کے رہنما جعلی ڈگریاں لے کر اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں تو قوم کے بچوں کا کیا حال ہوگا۔