منگل، 5 ستمبر، 2017

بابو


بابو (والد صاحب) کے کاغذات میں 1964 کی یہ رسید ملی الفاروق ہائی اسکول ریشم گلی نیا نیا بنا تھا مشتاق صاحب ہیڈ ماسٹر تھے ان دنوں شام کی کلاسوں کا نائٹ اسکول کاآغاز کیا تھا پانچویں کلاس کا دن میں طالب علم تھا رات میں چھٹی کلاس نو بجے تک کلاس ہوتی باہر کی دکانوں پر ریکاڈنگ یا ریڈیو پر بلند آہنگ گانے ستارو تم تو سوجائو پریشان رات ساری ہے سنتے سنتے ڈیسک پر سوجاتا مسٹر جمیل اور نسیمہ والی انگریزی کی کتاب پڑھائی جاتی اور اسپیلنگ پر زور دیا جاتا اس زمانے میں اورینٹ ہوٹل اور سلطان ہوٹل کے درمیان والی اورنگ زیب مسجد کاقضیہ شروع ہوگیا مسجد نیچے تھی اورینٹ ہوٹل اونچا روز جلوس نکلتے اور کوہ نور چوک میدان جنگ بن جاتا شیلنگ ہوتی جلوس سٹی کالج سے نکلتے عثمان کینڈی رضوان صدیقی رحمت ہٹلر جیسے طالب علم رہنما تھے. پانچ روپے فیس تھی بابو کے لئے تو شائد بہت ہوگی ماہانہ تنخواہ ہی 64 روپے تھی لیکن سونا بھی 64 روپے تولہ تھا سنار گلی سے نکلتے تو ہر دکان پر لٹکی سلیٹ پر چاک سے بڑا بڑا نرخنامہ لکھا ہوتا سونے کا آج کا بھاو جانے کیسے پیٹ پر پتھر باندھ کر یہ خرچے برداشت کرتے اسکول کے زمانے میں کالے بوٹ سفید قمیض خاکی پینٹ اسکول ڈریس تھا ابا نے پرانے فوجی بوٹ کی جوڑی ایک موچی کو دی ہوپ فل اسکول کے نزدیک جو مزار ہے اس کے برابر میں دکان تھی اس موچی کی ماہر فن تھا میں روزانہ اسکول سے آتے ہوئے اس کی دکان پر جاتا اور پوچھتا میرا جوتا بن گیا . ایک ماہ کے بعد اس نے بہت اچھے اور مضبوط جوتے بناکر دیئے بہت عرصے تک چلے. ریگولر داخلہ چھٹی کلاس میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہوا داخلے کے لیے ٹیسٹ لیا جاتا تھا پاس ہونے والوں کی.لسٹ لگتی میرا نام لسٹ میں آیا تو داخلہ ہوگیا سامنے گول بلڈنگ بن رہی تھی اسکول کے پیچھے ریڈیو اسٹیشن تھا برابر میں ڈپٹی کمشنر ہاوس تھا شائد نیاز احمد کمشنر تھے ان دنوں رسالہ روڈ اور اسٹیشن روڈ مرکزی شاہراہ تھیں چوڑی اور صاف صبح سویرے خاک روب جھاڑو دیتے چھلی میں کچرا اٹھاتے گھوڑے تانگے چلتے تھے موٹر بہت کم تھی

آپا


گھر میں لاٹین کا گلاس سر شام صاف کرکے جلادی جاتی آپا (والدہ جنہیں سب آپا کہتے تھے) رات کو نیند کے جھونٹے کھاتی جاتی اور عزیز بیڑی کے بنڈل باندھتی جاتی ایک ہزار بیڑی پر لیبل لگانے کی اجرت پچیس پیسے ہوتی پم بہین بھائی سب مل کر چار پانچ ہزار بیڑی کے لیبل لگاتے پھر آپا ان کے بنڈل بناتی ایک بنڈل 25 بیڑی کا ہوتا پھر یہ بیڑی بھانڈے میں پہنچائی جاتی منشی اس کا حساب کتاب رکھتے پھر ہمارے گھر بجلی لگ گئی دو بلب لگے 25 واٹ والے بجلی کابل دو ڈھائی روپے ماہانہ ہوتا یہ بل بھی کاغزوں میں ملا. رات 9 بجے بتی بند کردی جاتی مجھے اس زمانے میں بچوں کی دنیا اور کہانی کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہوگیا بتی بند ہوجاتی گلی میں اسٹریٹ لائٹ کا بلب جلتا تھا گھر کے ساتھ میں چھت پر چلا جاتا اور رات تک کہانی پڑھنے کی عیاشی کرتا آج بچوں کو بجلی کایہ بل.دکھایا تو بس حیران ہوگے آ ج کی.نسل کیا جانے کے پچھلی نسل نے کیس اس ملک کو.بنایا تھا محنت مزدری اور پیٹ کاٹ کے

ریڈیو



سال تو جانے کونسا تھا پر تھا ریڈیو کا زمانہ بابو جی کے پیچھے پڑ گئے ریڈیو خریدیں پھر ایک دن بابو جی کے ساتھ دونوں چھوٹے بھائیوں کو لے کر سٹی تھانے کے مقابل رضوی برادرز پہنچے ریڈیو فروخت کرنے کی سب سے بڑی دکان تھی آر جی اے کا ٹرانسٹر ریڑیو ایک سو آٹھ روپے کا خریدا رسید بھی میرے نام پتہ کے ساتھ کاٹی گئی الہ دین کے بڑے چار سیل لگتے تھے اب گھر میں صبح شام ریڈیو کی آواز گونجتی تلاوت سے آغاز ہوتا یہ ریڈیو پاکستان ہے آواز بہت بھلی لگتی سارے دن پروگرام اور فرمائشی گیت چلتے رات کو ڈرامے اور فرمائشی گیتوں کے پروگرام ان دنوں اتوار کو ریڑیو پاکستان بچوں کے پروگرام میں جاتے بھائی جان عبدالقیوم جب اسٹوڈیو میں لے جاتے تو اس کی منفرد خوشبو سے من بھر جاتا ریڈیو والوں نے جشن تمشیل منایا پچھواڑے میں اسٹیج بنا بہترین ڈرامے نامور فنکار حیدرآباد کی تاریخ میں اس قدر نابغے پھر ایک ساتھ کبھی جمع نہ ہوئے الیاس عشقی اپنے سفید بالوں سے.نمایاں نظر آتے ایک بار جوہر حسین نے زیڈ اے بخاری کو نیشنل سنٹر میں بلایا وہ بھی سفید سر والے ان کے الفاظ کا اتار چڑھاو قصے کہانیاں بہت دن مزا دیتی رہی رجب علی بچوں کے پروگرام میں آ تے بعد میں نورجہاں کے ساتھ ان کا دوگانا مجھ سا تجھ کو چاہنے والا کوئی اور ہو اللہ نہ کرے نے انھیں خوب شہرت دی یہ ریڈیو جو سب کی آنکھ تارا اور راج دلارا تھا گھر میں ٹی وی آنے کے بعد جانے کب ناکارہ اور از کار رفتہ میں بدل گیا