بدھ، 5 فروری، 2014

برظانوی صحافی ایوان ریڈلی اب دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے لئے سرگرداں ہیں۔

برظانوی صحافی ایوان ریڈلی کے ساتھ یہ تصویر فاران کلب کی تقریب میں لی گئی
 
 
 
 
ایوان ریڈلی سے میرا پہلا تعارف نائین الیون کے بعد اس وقت ہوا تھا، جب روزنامہ ڈان میں ان کی طالبان کے قید کی روئیداد شائع ہوئی۔ میں نے اس روئیداد کو قومی اخبار میں ترجمہ کرکے دو پورے صفحات پر شائع کیا۔ یہ روئیداد بہت مقبول ہوئی۔ ایوان ریڈلی نے قید کے دوران طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ رہا ہونے کے بعد قرآن کریم کا مطالعہ کروں گی اس لیے آزادی نصیب ہونے کے بعد انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا، ساتھ ہی اسلام میں انسانی حقوق اور عورت کے مقام کو بھی جاننا شروع کیا، طویل مطالعہ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں۔ایواون ریڈلی جون2002ء میں کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام کے دائرے میں شامل ہو گئیں۔ جس کے بعد سے وہ مسلسل اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کر رہی ہیں، میڈیا پر ان کی توانا آ واز دنیا بھر میں سنائی دیتی اور محسوس کی جاتی ہے۔ ریڈلی نے گذشتہ روز فاران کلب کی تقریب میں مہمان خاص کی حیثیت سے شام کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں خطاب کیا، ایک خاتون نے ان کی تقریر سن کر شام کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لئے اپنی سونے کی چوڑیاں اتار کر دے دی، ایوان ریڈلی کہتی ہیں کہ مجھے اسلام دشمنی کے لیے افغانستان بھیجا گیا تھا، مجھے کیا پتہ تھا کہ اسلام میرے لیے آخری تمنا بن جائے گا اورمیری زندگی اسلام کے لیے وقف ہو جائے گی۔ ریڈلی نے ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام ہے (In the hands of taliban) ہے۔“ ایوان ریڈلی  لکھتی ہیں کہ ،،اگر کسی اور قوم کی قید میں ہوتی تو میرا حال گوانٹاناموبے او رابو غریب جیل کے قیدیوں جیسا ہوتا، مجھے اسلام کی دشمنی افغانستان لے گئی، مگر اسلام میری آخری تمنا بن گیا”  ایوان ریڈلی برطانوی صحافی خاتون ہیں جو 28 ستمبر2000ء کو خفیہ طور پر افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے طالبان کی قید میں چلی گئی تھیں اور 10 دن تک طالبان کی قید میں رہیں۔ اسی قید نے انہیں کفر کی زندگی سے آزادی دلوائی۔
قید سے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور عیسائیت کو ترک کرکے اسلام قبول کر لیا۔ آج کل وہ اسلام اورامت مسلمہ کے مسائل کی انتہائی سرگرم ترجمان ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں چاہتی ہوں جدھر بھی جاؤں اسلام کی روشنی پھیلا دوں اور اسلام کے لیے لوگوں نے جو تعصب کی آ گ پھیلا دی ہے اسے بجھادوں۔ ون ریڈلی لندن کے اخبار”سنڈے ٹائمز“ میں ایک صحافی کی حیثیت سے کام کرتی تھیں۔ جب امریکی وبرطانوی فوج کی طرف سے افغانستان پر حملہ ہونے والا تھا تو رپورٹنگ کے لیے انہوں نے اپنے اخبار کو افغانستان جانے کی پیش کش کی۔ پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے افغانستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ملی، لیکن انہوں نے افغانستان جانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا، اس لیے ایک افغانی کی مدد سے جعلی شناختی کارڈ بنواکر وہ افغانستان میں داخل ہوگئیں۔ ان کا گائیڈ جب ان کو اپنے گاؤں لے کر گیا تو وہاں کے لوگوں نے بڑی محبت سے ون ریڈلی کا استقبال کیا۔ گاؤں والوں کو جب یہ پتا چلا کہ ریڈلی ایک مغربی عورت ہے تو وہ ڈر گئے، کیوں کہ وہاں بلا اجازت غیر ملکیوں سے رابطہ رکھنا جرم تھا لیکن اپنی روایتی میزبانی نے ان کو ریڈلی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی میزبانی سے فارغ ہو کر ریڈلی اپنے گائیڈ کے ساتھ وہاں سے آگے روانہ ہو گئیں۔ کچھ دور وہ دونوں پیدل چلے، اس کے بعد گائیڈ نے ون ریڈلی کو خچر پر سفرکرنے کو کہا۔ ریڈلی نے سوچا پہاڑی راستے پر چلنے سے بہتر ہے کہ وہ خچر پر بیٹھ جائیں۔ ان کے خچر پر بیٹھتےہی وہ بد کا اور اس نے دوڑ لگا دی اورکچھ دور جاکر رک گیا۔
ریڈلی نے دیکھا کہ وہاں مقامی لباس میں ملبوس ایک مسلح شخص کھڑا ہے، وہ ایک خوب صورت نوجوان تھا، جس کے چہرے پر داڑھی تھی ، وہ  ریڈلی کے گلے میں جھولتے کیمرے کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ ایک صحافی ہیں۔ اور یوں  وہ گرفتار ہوگئیں۔ طالب کی قید سے رہائی اور پھر قبولیت اسلام کی دولت پاکر وہ جہاں مسلمانوں کے لئے ایک نجات دہندہ کے طور پر سامنے آئی ہیں وہاں مغربی میڈیا اب ان کا دشمن ہے، انھوں نے سب سے پہلے عافیہ کی امریکی قید کا نکشاف کیا تھا،