جمعرات، 29 ستمبر، 2011

روٹھ جانے والے یہ شہزادے اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے



 عطا محمد تبسم 

لگ بھگ پنتیس برس گزر گئے۔ لیکن یہ حادثہ آج بھی دل پر اسی طرح رقم ہے۔ جب بھی کبھی وہ منظر یاد آتا ہے۔ دل کانپ اٹھتا ہے۔ ایک ساتھ چون لاشیں اور ان کے جنازے حیدرآباد ایئر پورٹ پر رکھے ہوئے تھے۔ جدھر نظر اٹھتی لوگوں کا ایک جم غفیر تھا، آہیں اور سسکیاں تھی کہ رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ ایک ساتھ اتنی ساری اموات ، وہ بھی سٹی کالج حیدرآباد کے جواں سال طالب علموں کی، جو سالانہ ٹور پر مری گئے تھے۔ ان کی بھری بس نتھیا گلی سے گہری کھائی میں جا گری تھی۔ یہ لاشیں اسلام آباد ایئرپورٹ سے حیدرآباد کے ایئرپورٹ پر ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ لائی گئی تھیں۔سب لاشوںپر سندھی اجرکیں پڑی تھیں۔ ایدھی نے کفن کا انتظام کیا تھا۔حیدرآباد کا یہ سانحہ ایسا دردناک تھا کہ کسی پل چین نہ تھا۔ یہ سب میرے کالج کے شہزادے ، میرے دوست، روز کے ملنے والے ہر وقت چہلیں کرنے والے تھے۔کئی دن تک نیند آنکھوں سے روٹھی رہی۔ آنکھیں جلتی تھیں، اور گرم سیال آنسو بن بن کر ان سے بہتا تھا۔ میرا ایک کزن رفیق بھی اس حادثے میں دور جابسا تھا۔ اب بھی یاد آتا ہے تو دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ فیصل آباد میں بھی کم و بیش یہی مناظر ہیں۔ وہاں بھی صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ مائیں تڑپ رہی ہیں۔ اور باپ غم سے نڈھال ہیں۔ ۵۳ برس پہلے یہ حادثہ مری میں ہوا تھا۔ اب کلہر کہار میں ہوا ہے۔ عجب اتفاق یہ ہے کہ اس وقت بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، اور آج بھی اتنے برسوں بعد پیپلز پارٹی ہی کی حکومت ہے۔ یہ حادثے اب تو حرز جاں ہوچکے ہیں۔ پوری قوم جنازوں کو کندھا دیتے دیتے تھک گئی ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم بحیثیت ایک قوم اللہ کے مجرم ہیں۔ ہم نے تخلیق پاکستان کے وقت اپنے رب حقیقی سے جو وعدہ کیا تھا۔اس کو فراموش کربیٹھے ہیں۔ اور آل موسی کی طرح ایک عزاب میں گرفتار ہیں۔ ورنہ پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ زلزلے، سیلاب، ڈینگی، حادثات، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور سربریدہ لاشیں، چلو یہ مان بھی لیا جائے کہ خودکش دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے، اغوا، قتل ،لوٹ مار،دہشت گردی کے واقعات ہمارے دشمنوں کی چالیں اور سازش ہیں۔ تو پھر یہ زلزلے، سیلاب، بارشیں، حاثات کیا ہیں۔ کیا اس پر ہم غور فکر نہیں کرتے، جس کے لئے رب کریم نے بار بار کہا ہے۔ ہم پھر اس پر شور کرتے رہیں گے کہ بس کا حادثے جس کی غفلت کے نیتجے میں ہوا۔ اور اتنا بڑا جانی نقصان ہوا ان سب کو سرعام پھانسی پر لٹکا دو۔سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ اس حادثے کا سوموٹو ایکشن لے اور اس مقدمے کو دہشت گردی والی عدالت میں چلائے تا کہ جلد سے جلد مجرموں کو سزا دی جا سکے۔ لیکن اپنے اعمال پر توجہ کرنے پر تیار نہیں۔ ظلم کے اس نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ ان چوروں اور رشوت خوروں کو نہیں پکڑتے جنہوں س نے بس کو تکنیکی سرٹیفکیٹ دیا، جس نے پرانی بس کو موٹر وے پر چلنے کی اجازت دی ۔ لیکن یہ ایک واقعہ تھوڑی ہے۔ روزانہ ایسے واقعات ہر شہر میں ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی ایسا حادثہ ہو جس میں اجتمائی طور پر جانیں ضائع ہوں تو چیخ پڑتے ہیں۔ لیکن اپنے رب سے معافی کی درخواست نہیں کرتے۔ ان معصوم بچوں کو جنہوں نے ابھی زندگی کی کتنی بہاریں دیکھنا تھیں۔ اس ملک کے مستقبل کے پھول چلے گئے۔ ایک لمحے میں اتنے سارے پھول جیسے جسموں کا لقمہ اجل ہو جانے کا تصور ہی دل دہلا دیتا ہے۔ رنج و غم کو بے پناہ کرب میں بدل دینے والا پہلو یہ ہے کہ موت کی آغوش میں چلے جانے والوں کی اکثریت نوخیز طلباء پر مشتمل تھی۔ میرے سٹی کالج کے شہزادوں کی طرح۔ان نوعمر بچوں کی موت نے کلیجہ چھلنی کر دیا ہے۔ میں رات میں ٹی وی پر یہ منا ظر دیکھنے کی تاب نہ لاسکا۔نیند آنکھوں سے دور ہے۔ آنکھ سے گرم سیل بہتا ہے۔ اور رات میں اپنے رب کے آگے سربسجود ہوکر معافی کے لئے روتا ہوں۔ بچوں کے ساتھ ان کے والدین، بھائیوں، بہنوں کے چہرے گھوم رہے ہیں۔ چند لمحوں کے اندر اندر سب کچھ بدل جاتا ہے۔ روٹھ جانے والے یہ شہزادے اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے؟ ہم نے یہ سرزمیں انگاروں سے بھر دی ہے اور اسی لئے یہ روٹھ کر چلے گئے ہیں۔ 

لیبلز:

اتوار، 11 ستمبر، 2011

کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹہری


افغامستان میں بی بی سی کے نامہ نگار امریکی فوجی کی گولی سے ہلاک ہوئے۔

عطا محمد تبسم

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے لاکھوں نے گناہ اور معصوم انسانوں کو قتل کیا ۔ نائیں الیون کے بعد اب ساری دنیا کے سامنے یہ حقیقت آچکی ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی ڈرامہ تھا۔ جس کا واحد مقصد امریکہ کی جانب سے افغانستان،عراق، ایران،پاکستان جیسے ممالک پر قبضہ کرنا اور مصر، لیبیا، مراکش، سوڈان،سعودی عرب، اردن، جیسے اسلامی ممالک میں اپنے پٹھو حکمران کو برسراقتدار لانا تھا۔ امریکہ اپنی اس جارحیت میں اپنا کردار اب بھی ادا کر رہا ہے۔ اور بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ امریکی فوجیوں نے درندگی اور وحشیانہ پن کی انتہاءکرتے ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لاکھوں عورتوں، بچوں، بوڑھے اور نوجوانوں کا قتل عام کیا ہے۔ جس پر امریکہ کو انسانیت کبھی معاف نہیں کرے گی۔ایک دن یوم حساب ہوگا۔ اور اس میں شامل ہر کردار کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ معصوم انسانوں کی ہلاکت کے بہت سے واقعات میں امریکیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت مل چکے ہیں۔ جس کے بعد وہ ان واقعات کو انسانی غلطی، فرینڈلی فائر، غلط فہمی، جیسے الفاظ کا سہارا لےکر بنی نوع انسانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس جنگ میں افغانستان اور عراق اور پاکستان میں بہت سے صحافی بھی ہلاک کیے گئے۔ جن کی تشدد زدہ لاشیں پھینک دی گئی۔ جن کے بارے میں آج تک نہ پتہ چل سکا کہ وہ کن حالات میں مارے گئے۔ حال ہی میں افغانستان میں ہلاک ہونےوالے پچیس سالہ بی بی سی کے نمائندے بھی امریکی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ جس کے بارے میں افغانستان میں نیٹو کی کمان میں تعینات کثیرالمکی فوج ایساف نے اعتراف کیا ہے کہ اس سال جولائی میں بی بی سی کا نامہ نگار احمد امید خپل واک اس کی غلطی سے ہلاک ہو گئے تھے۔ایساف کے مطابق ایک امریکی فوجی نے پشتو بولنے والے اس صحافی کو صوبہ ارزگان کے قصبے ترین کوٹ میں خود کش حملہ آوور سمجھ کر ہلاک کر دیا تھا۔امریکی فوج کی اس کارروائی میں انیس افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں احمد امید خپل واک بھی شامل تھے۔نیٹو نے ان کی ہلاکت کے بعد بی بی سی کے مطالبے پر ایک انکوئری شروع کی تھی۔ جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خپل واک ایساف فوج کے حملے کے وقت غسل خانے میں چھپ گئے تھے۔انکوئری رپورٹ کے مطابق خپل واک کو جس وقت ہلاک کیا گیا اس وقت ان کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس امریکی فوجی خود کش دھماکے کرنے کا بٹن یا ٹریگر سمجھا۔بی بی سی گلوبل نیوز کے ڈائریکٹر پیٹر ہورکس نے ایک بیان میں احمد امید واک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ صحافیوں کا ہر ممکن طریقے سے تحفظ ہونا چاہیے تاکہ دنیا ان کی خبریں سن سکیں۔ احمد امید خپل واک اس سال جولائی کے مہینے میں طالبان کے ایک حملے کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت یہ پروپیگنڈہ کیا گیا تھا کہ وہ شدت پسندوں کی گولی سے ہلاک ہوئے۔خپل واک کی ہلاکت کے بعد متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں جس وجہ سے بی بی سی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ احمد امید کن حالات میں مارے گئے۔بی بی سی نے ایک بیان میں افغانستان میں نیٹو کی کمان کے تحت تعینات بین الاقوامی افواج سے کہا تھا کہ وہ احمد کی ہلاکت کی تحقیقات کرے اور اس کے نتائج بی بی سی اور احمد کے لواحقین کو بتائے۔پچیس سالہ احمد امید اس وقت ہلاک ہوئے جب ارزگان صوبے کے قصبے ترین کوٹ میں ایک ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ اس حملہ میں کئی دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے۔طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے احمد امید کو ہلاک نہیں کیا۔ انہوں نے احمد کی ہلاکت کا الزام حکومتی افواج پر عائد کیا تھا جبکہ ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ احمد امید کو امریکی فوجیوں نے ہلاک کر دیا۔احمد کے بھائی کا کہنا ہے کہ احمد نے انہیں دو ٹیکسٹ مسیج بھیجے تھے۔ ایک میں لکھا تھا کہ ’میں چھپا ہوا ہوں، موت آچکی ہے‘ اور دوسرے میں لکھا تھا کہ ’اگر میں مر جاو ¿ں تو میرے لیے دعا کرنا‘۔احمد سنہ دو ہزار آٹھ سے بی بی سی کے ساتھ وابستہ تھے۔

لیبلز: