منگل، 24 ستمبر، 2013

القاعدہ ہو یا الشباب بین الاقوامی ڈراموں کی تخلیق

 القاعدہ ہو یا الشباب بین الاقوامی ڈراموں کی تخلیق عموما سی آئی اے کی زیر نگرانی ہوتی ہے۔
عطا محمد تبسم

دنیا میں ابھی القاعدہ کی بازگشت ختم نہیں ہوئی ہے کہ اب الشباب کے چرچے ہونے لگے ہیں۔ الشباب ہے کیا؟ ہے بھی یا نہیں ، یا یہ بھی کیسی تخلیق کار کا تیار کیا ہوا ڈرامہ ہے۔ ایسے بین الاقوامی ڈراموں کی تخلیق عموما سی آئی اے کی زیر نگرانی ہوتی ہے۔کینیا کے ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر اور پشاور میں چرچ میں ہونیوالی دہشت گردی ایک ہی ڈرامے کی کڑی ہو بھی سکتی ہیں۔کینیا کی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹر پر حملہ کرنے والوں میں ’ایک برطانوی اور دو سے تین امریکی‘ بھی تھے۔ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر میں دہشت گردی سے باسٹھ افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے ہیں۔پشاور میں اکیاسی جنازے اٹھے، زخمیوں کا شمار ابھی نہیں کیا جاسکتا، جانے کتنے زخموں کی تاب نہ لاکر اس جہاں سے گذر جائیں۔ کینیا ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس محاصرے کے نتیجے میں تریسٹھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔پی بی ایس نیوز آور کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حملہ آوروں کی عمریں 18 یا 19 سال تھی اور وہ مینیوسوٹا اور ایک اور جگہ کے رہائشی تھے۔ برطانوی حملہ آور کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خاتون تھی اور وہ پہلے بھی اس قسم کی کارروائیوں میں حصہ لے چکی تھی۔صومالیہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کم و بیش ایک ناکام ریاست ہے۔ یہاں بیس برس سے کوئی حکومت مستحکم نہیں اور اس دوران ملک مسلسل لڑائی کی زد پر رہا ہے۔ ایسے حالات الشباب ، طالبان، یا ایسی ہی مسلح دہشت گرد تنظیموں کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔ جب پہلی بار یہ تنظیم سامنے آئی تو اس نے عوام کو تحفظ دینے کی بات کی تو ان کہ خوب واہ واہ ہوئی۔لیکن جب 2011 میں قحط کے دوران اس نے مغربی امداد قبول کرنے سے انکار کیا تو اس کی عوامی مقبولیت دھری رہ گئی۔ عربی زبان میں ’الشباب‘ کا مطلب جوان افراد ہے۔ یہ گروپ 2006 میں اب غیر فعال تنظیم یونین آف اسلامک کورٹس کے سخت گیر یوتھ ونگ کے طور پر سامنے آیا تھا اور اس نے صومالیہ کی کمزور عبوری حکومت کی مدد کے لیے ملک میں آنے والی ایتھوپیائی افواج کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ غیر ملکی جنگجو الشباب کا ساتھ دینے کے لیے صومالیہ گئے ہیں۔الشباب اب بھی اکثر موغادیشو اور دیگر علاقوں میں خودکش حملے کرتی رہتی ہے۔الشباب نے اپنے زیرِ اثر علاقے میں سخت گیر شرعی قوانین نافذ کیے ہیں جن میں خواتین کو بدکاری پر سنگسار کرنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں شامل ہیں۔الشباب کے رہنمااحمد عبدی غودان اس گروپ کے قائد ہیں۔ انہیں مختار ابوزبیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور ان کا تعلق شمالی علاقے صومالی لینڈ سے ہے۔الشباب میں جنوبی صومالیہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوو ¿ں کی اکثریت ہے اور ان کی تعداد اندازاً سات سے نو ہزار کے درمیان ہے۔مختار ابو زبیر 2008 میں اپنے پیشرو معلم عدن حاشی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اب شاذونادر ہی منظرِ عام پر آتے ہیں۔الشباب میں جنوبی صومالیہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوو ¿ں کی اکثریت ہے۔ مغربی ذرائع کہتے ہیں کہ الشباب نے فروری 2012 میں القاعدہ کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا۔ ایک مشترکہ ویڈیو میں مختار ابو زبیر نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ’فرمانبرداری‘ کرنے کا عہد کیا تھا۔اس کے بعد سے یہ دونوں تنظیمیں مل کر کام کر رہی ہیں اور القاعدہ کے غیرملکی جنگجو صومالی شدت پسندوں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔گزشتہ برس الشباب نے ارکان نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کے دعویدار امریکی شہر ابو عبداللہ المہاجر کے ہمراہ اپنے زیرِ اثر قحط سے متاثرہ علاقوں میں امداد بھی تقسیم کی تھی۔ الشباب والے بھی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ٹوئیٹر اکاونٹ بند ہوتا ہے تو وہ پھر کسی اور نام سے آجاتے ہیں۔ جیسے ہمارے طالبان کسی بھی واقعے کی ذمہ داری کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہفتے کو اکاو ¿نٹ کی منسوخی کے بعد، شدت پسند گروپ ’الشباب‘ پھر سے سماجی رابطے کی سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر نمودار ہوا۔ٹوئٹر نے ان کا اکاو ¿نٹ ا ±س وقت بند کیا جب الشباب نے نیروبی کےشاپنگ مال پر ہونے والے مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔لیکن یہ شدت پسند گروپ کچھ ہی دیر میں سائٹ پر واپس آگیا۔ اِس بار، ا ±س نے کچھ مختلف نام درج کیا ۔الشباب کو تیسری بار ٹوئٹر سے خارج کیا گیا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد افغانستان اور پاکستان سے بھاگنے والے القاعدہ کے جنگجو صومالیہ میں پناہ لے رہے ہیں۔الشباب نے یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں 2010 کے فٹبال ورلڈ کپ کا میچ دیکھنے والے شائقین کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں 76 افراد مارے گئے تھے۔اس حملے کی وجہ یوگنڈا کی جانب سے افریقی یونین کی فوج میں شمولیت کے لیے اپنی افواج بھیجنا بتائی گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ الشباب وہابی اسلام کا پرچار کرتی ہے۔ صومالیہ میں صوفی عقائد والے زیادہ ہیں۔ عراق میں سنی شیعہ کو لڑایا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی مختیلف عقیدے اور فرقوں کو صف آرا کیا جاتا ہے۔ جیسے پاکستان میں مسجد، مدرسہ،مزار،گرجا، محفوظ نہیں ایسے ہی الشباب کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ اس نے بہت سے صوفیاء کے مزارات تباہ کیے ہیں ۔ کچھ عرصے سے حالات تبدیل ہوئے تھے۔ ملک میں امید کی نئی کرن چمکی تھی، بہت سے صومالی جلاوطنی ختم کر کے ملک واپس آئے ہیں اور امکان پیدا ہوا ہے کہ دو دہائیوں کے بعد صومالیہ ایک بار پھر ابھرے گا۔ لیکن پاکستان کی طرح یہ خواب ٹوٹ گیا، طالبان یا لڑائی کرنے والوں سے مزاکرات کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان میں دہشت گردی کہ نئی لہر آئی ہے۔ جس پر ہر ایک کو ایسا ہی غم و غصہ ہے، جیسے سوات کی ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو دیکھ ہوا تھا۔ پھر کیا ہوا تھا، وہ ایک جعلی ویڈیو فلم نکلی۔ کس کس واقعے کا ذکر کیا جائے، کس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ کون جانے

بدھ، 4 ستمبر، 2013

بھاری مینڈیٹ اور ہلکے لوگ


عطا محمد تبسم
 میاں نواز شریف بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد دوسری بار کراچی آئے ہیں۔ کراچی اب پہلے والا کراچی نہیں رہا، پلوں کے نیچے سے ہی نہیں یہاں کے ندی نالوں سے بھی بہت سا پانی بہہ گیا ہے۔ کراچی ایک آتش فشاں بن چکا ہے۔ ایک ایسا آتش فشاں جو جب چاہے آگ اگلنے لگے۔آگ بھی ایسی جو ہر چیز بھسم کرکے رکھ دے۔ یہ آگ کراچی کے ہر شہری اور ہر گلی کوچے میں لگی ہے۔ اس کو بجھانے والا کوئی نہیں ہے۔ الیکشن کے بعد نواز شریف پہلی بار کراچی آئے تو ہر شخص انتظار میں تھا کہ وہ کوئی جادو کا چراغ لے کر آئیں گے۔ اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ رک جائےگی۔ بھتہ خور بھاگ جائیں گے۔ روشنیوں کا شہر جگمگا اٹھے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، نواز شریف تو اپنے ہی زخم سہلاتے رہے۔ مشرف دور میں اے ٹی سی کورٹ میں بکتر بند گاڑی میں پہلی بار معزولی کے بعد آنا۔ انھیں اب بھی وہی یا د تھا۔ وہ اسی یاد کا ذکر کرکے چلے گئے۔ سب کو مایوسی ہوئی۔کراچی پھر سے اندھیروں میں ڈوب گیا۔ نواز شریف ایک بار پہلے بھی کراچی آئے تھے۔ تیرانوے میں غیر معمولی مینڈیٹ کے بعد جب ان کی حکومت ختم کردی گئی تھی۔ کراچی کے عوام ان کے ساتھ تھے۔ آواری ٹاورز ہوٹل میں عوام کا جم غفیر تھا۔ وہ اپنے شیر سے کچھ سننا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت بھی نواز شریف نے کراچی والوں کو مایوس ہی کیا تھا۔ وہ ایک ایسی بے جان تقریر کرکے چلے گئے۔ جس نے مایوسی کو مزید گہرا کر دیا تھا۔ کراچی اب دو کروڑ کا شہر ہے۔نواز شریف کو کراچی کیا پورے صوبے میں بس پاﺅں رکھنے ہی کی جگہ ملی ہے۔ بھائی نے انھیں جاگ پنجابی جاگ کا طعنہ دے کر مبارکباد دی تھی۔نواز شریف بھی دو کروڑ کراچی والوں کے مقابلے میں دس کروڑ پنجاب والوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ وہ ان کا بیس کیمپ ہے۔ اس کی مضبوطی اور طاقت ضروری ہے۔ کراچی تو ٹیکس حاصل کرنے کے لئے، کمائی کرنے کے لئے، اپنے پسندیدہ افسران کی پوسٹنگ کے لئے، اور کبھی کبھی سیر و تفریح کے لئے اچھا ہے۔ میاں صاحب کو ان دو دن میں جن اجلاسوں میں جانا پڑا۔ انھیں خوب سننے کو ملیں۔ بے بھاﺅ کی، یہاں تک کہ کچھ یار لوگ تو گورنر اور وزیر اعلی سندھ دونوں کو ہٹانے کا مطالبہ کر بیٹھے۔ اب آگے کیا ہو۔ یہاں بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ نے سارے شہر کو ویران کر دیا ہے۔ اس پر ایڈیشنل آئی جی کی دیدہ دلیری دیکھیئے کہ وزیر اعظم کی شہر مین موجودگی میں پریس کانفرینس میں ، اعلانیہ کہا کہ کراچی میں چند لوگوں کا مرنا بڑی بات نہیں ہے۔ دو کروڑ کے شہر میں ٹارگٹ کلنگ تو ہوتی رہتی ہے۔ جب سیاں بنے کوتوال تو پھر ڈر کس کا ، وزیراعظم کو بھی دکھا دیا کہ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ان کی موجودگی میں چودہ ہلاکتیں ہوئیں،رینجرز اور نیوی اہلکار، انٹیلیجنس آفیسر سب مرنے والوں میں شامل ہیں۔ افسر شاہی بھاری مینڈیٹ والوں سے کھیل رہی ہے۔ افسر شاہی محض اس وقت ہی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ جب اس پر حکم چلانے والے ،، کانے،، نہ ہوں۔ اس حکومت میں تو ،، کانے،، کیا اندھے لولے لنگڑے سب ہی موجود ہیں۔ جس ملک کے بائیس اہم اداروں،کارپوریشن، کے سربراہ نہ لگائے جاسکے ہوں، وہاں اندھیر نگری چوپٹ راج نہ ہوگا تو کیا ہوگا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی کچن کیبنٹ، تخت لاہور، تاجر اور صنعتکار برادری اگر اپنی منافع خوری، دولت کی ہوس کو حد میں رکھے، ملک میں امن وامان قائم کرنے، پیداوار بڑھانے، بے روزگاری کے خاتمے، اپنے ذمہ عائد ٹیکسوں کو ادا کرنے پر آمادہ ہوجائے تو یہ حکومت پانچ سال تو کیا آئیندہ پانچ سال بھی قائم رہ سکتی ہے۔ لیکن یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ ابھی تو حکومت کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ زرداری حکومت کا زوال،کرپشن، مہنگائی، بےروزگاری، لوٹ مار،حکمران ٹولے کی اقربا پروری اور ناقابل برداشت،غرور تھا۔ جسے عوام نے اپنے ووٹوں سے خاک میں ملا دیا۔ میاں صاحب کراچی والے، مشکل میں ہیں، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہے۔ ہارون رشید کی طرح بھیس بدل کر نکلیں کراچی میں کیا ہورہا ہے۔ سب پتہ چل جائے گا۔ورنہ سرشام ویران سڑکوں اوربدحال لوگ کو دیکھ کر اندازہ کرلیجئے گا۔ جو بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔ روز لٹ پٹ کر گھر جاتے ہیں۔ بھاری مینڈیٹ والوں نے بھاری آزمائش میں کراچی کا ساتھ نہ دیا تو پھر یہاں بھاری بوٹ کی چاپ نہیں گونج سنائی دے گی۔