ہفتہ، 26 مارچ، 2011

SahaneChamman صحن چمن کی باتیں: مسخروں کی حکومت

SahaneChamman صحن چمن کی باتیں: مسخروں کی حکومت: "عطا محمد تبسم ہم نے بھی کیسے کیسے مسخروں کو حکومت دے دی ہے،جو ایک جوکر کی طرح رنگ برنگی ٹائیاں پہن کر میڈیا کے سامنے بڑھکیں مارتے ہیں،او..."

مسخروں کی حکومت


عطا محمد تبسم



ہم نے بھی کیسے کیسے مسخروں کو حکومت دے دی ہے،جو ایک جوکر کی طرح رنگ برنگی ٹائیاں پہن کر میڈیا کے سامنے بڑھکیں مارتے ہیں،اور ایسی تقریر کرتے ہیں، جو اگر کوئی سرکاری پرٹوکول سے با ہر کرے تو عوام اسے لتر رسید کریں۔لیکن اب ہمارے میڈیا کی مجبوری ہے یا منافقت کے وہ ان لا یعنی فضول باتوں کو بھی شہ سرخیوں میں جگہ دیتا ہے۔ اگر اس ملک میں صحافت میں قابل جوہر ہوتے تو یہ بیانات اور باتیں مراسلوں میں بھی شائع نہ کرتے۔ کل حافظ آباد میں ہمارے وزیر داخلہ نے جو جھک ماری ہے وہ اخبار والوں نے چھاپ کر پھر اپنے دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں،،

وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ توہین قرآن کا مرتکب امریکی پادری ٹیری جونز لقاعدہ اور طالبان کا ایجنٹ ہے،ڈرون حملے پاکستان نہیں بلکہ امریکاکروارہاہے،ان حملوں کو روکنا ہمارے بس میں ہے نہ ہی 66ہزارفٹ کی بلندی پراڑنے والے ڈرون مارگرانے کی ٹیکنالوجی ہے داخلہ نے کہا کہ قرآن پاک کی توہین کرنے والا امریکی پادری دہشت گرد ہے، اس ناپاک جسارت پر عالم اسلام میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے،رحمن ملک نے منور حسن، عمران خان، فل الرحمن، مولانا تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور دیگر مذہبی و سیاسی قائدین سے کہا کہ وہ ہڑتالوں کی بجائے اسلام آباد آئیں میں خود ان کے ساتھ مل کر پادری کے خلاف جلوس کی قیادت کروں گا۔ یو این او اور اٹلی میں پوپ کے سامنے مظاہرہ کروں گا۔ یہ ہر چیز اس طرح پاکستان سے ڈالرز کی طرح باہر لے جاتے ہیں۔ بے نظیر کا قتل بھی اقوام متحد میں لے گئے اور سو جوتے اور پیاز کے مصداق لاکھوں ڈالر بھی گنوائے اور پھر فیصلے اب ملکی عدالتوں ہی کے تحت ہورہے ہیں۔ ان کی لئے ہر چیز کو ذمہ دار طالبان اور القا عدہ ہیں۔ اب جب امریکہ بھی طالبان اور القاعدہ سے پلٹ رہا ہے اور طالبان سے مذاکرات کررہا ہے تو انھیں توہین قران کرنے والے معلون پادری بھی القاعدہ اور طالبان نظر آرہے ہیں۔ پاکستان عوام کب تک ان مسخروں کے ان لطائف کو برداشت کرتے رہیں گے۔ اٹھو پاکستان ۔۔۔۔۔۔ مسخروں سے نجات حاصل کرو

لیبلز:

جنرل موٹرز کا دیوالیہ

جنرل موٹرز کسی زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی موٹر ساز کمپنی تھی ۔لیکن زمانے نے اس کمپنی کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ امریکہ میں بے راوزگاری کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ جنرل موٹرز کا شمار ٹیوٹا کے بعد دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کے طور پر ہو تا تھا۔ ۱۰۱ سال سے موٹر سازی کے کاروبار میں اس کی اجارہ داری تھی۔یہ کمپنی ۳۴ ملکوں میں ٹرک اور کاریں بناتی تھی۔پوری دنیا میں اس کے ملازمین کی تعداد۰۰۹۴ ۳ سے زائد تھی۔ دنیا کے ۰۴۱ ملکوں میں اس کے سیلز کے مراکز تھے۔شیورلیٹ، کیڈی لیک،بیوک،اپیل،واکس ہیل ہولڈمین، پونیٹیاک، سیب، سٹیم، والنگ سب اسی کمپنی کی گاڑیاں تھیں۔دنیا بھر کے حکمرانوں اور امیر آدمیوں کے لئے ایک صدی تک ساماں عیش و عشرت فراہم کر نے والی یہ کمپنی اب دیوالیہ ہوگئی ہے۔ جس کے اثرات سے بچنے کے لئے امریکہ ہاتھ پاوئں مار رہا ہے۔ ۷۲ ستمبر ۸۰۹۱ کو یہ ہولڈنگ کمپنی موشی گن میں قائم ہوئی تھی۔ ۰۸ا۹ تک یہ دنیا کی بہترین کمپنی تھی۔ دنا بھر میں اس کے ۰۵۱ اسمبلنگ پلانٹ تھے۔اس اس کے ۲۹ ہزار ملازمین اور ۵ لاکھ رٹائرڈ ملازمین کا مستقبل خطرے میں ہے۔حال ہی میں


جنرل موٹرز ا نے پنی مشہور گاڑی کے ماڈل ہمر کو ستمبر کے آخر تک فروخت کرنے کا معاہدہ ایک چینی ادارے سے کیا ہے۔دیوالیہ پن کا شکار ہونے والے امریکی کار ساز ادارے جنرل موٹرز نے اپنی Hummer برانڈ کار سازی کی ٹیکنالوجی کو چینی صنعتی ادارے Sichuan Tengzhong کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔ اِس سلسلے میں طے پائے جانے والے سمجھوتے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ چینی کمپنی کو انتظامیہ کے علاوہ کار کی ساخت کے حقوق حاصل ہو ں گے۔ معاہدے کے ساتھ ہی چینی ادارے کو اِس برانڈ کی کار کے موجودہ ڈیلرز کے ساتھ رابطوں کا اختیار مل گیا ہے۔ اس معاہدے سے تین ہزار امریکی بیروزگاری سے بچ جائیں گے۔ جنرل موٹرز کے دیوالیہ پن سے تحفظ کی درخواست دائر کر نے سے یہ امریکی تاریخ میں دیوالیہ ہونے والی سب سے بڑی کمپنی ہوگی۔ ابتدا میں اس بات کو چھپا یا گیا کہ ہمر سپورٹس گاڑی کو کون خرید رہا ہے، لیکن یہ کہا گیا کہ اس اقدام سے امریکا میں ہمر کی خرید وفروخت کے مراکز میں ملازمتوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اس کے پرزوں کی تیاری اور انجنیئرنگ سے منسلک تین ہزار سے زیادہ افراد کے روزگار بچائے جاسکیں گے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ خریدار ادارہ ہمر برانڈ بنانے کے آئندہ کے پروگراموں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔ہمر کی فروخت کا اعلان اس کے ایک ر وز بعد سامنے آیا ہے جب جنرل موٹرز نے کمپنی کی تنظیمِ نو سے متعلق حکومت کی قیادت کے منصوبے کے سلسلے میں اپنے دیوالیہ ہونے کی درخواست دائر کی تھی۔ امریکی حکومت نے جنرل موٹرز کو 30 ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے جب کہ وہ پہلے ہی امریکی خزانے سے 20 ارب ڈالر قرض لے چکی ہے۔ جنرل موٹرز نے اپنی 12سے زیادہ فیکٹریاں اور کچھ دوسری تنصیبات بند کر نے کا اعلان کردیا ہے۔جرمنی، کینیڈا کی حکومتیں اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو نے بھی جنرل موٹرز کی مدد کے لیے اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ جنرل موٹرز کا دیوالیہ ہونا ایک تکلیف دہ امر ہے لیکن یہ اس عظیم امریکی موٹر ساز کمپنی کی بحالی کی جانب ایک ضروری قدم ہے۔جنرل موٹرز کسی زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی موٹر ساز کمپنی تھی لیکن یہ اپنی مصنوعات کی فروخت میں نمایاں کمی اور بڑے بڑے خساروں کے باعث مسائل میں مبتلا ہوچکی ہے۔ گذشتہ سال اس کمپنی کی گاڑی ہمر ایس یو وی کی فروخت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 51 فی صد تک کم ہوگئی تھی۔ اپریل کا مہینہ امریکہ کی بڑی کارساز کمپنیوں کے لیے بہت دشوار ثابت ہوا۔ اِس کا موازنہ پچھلے سال اِسی مہینے سے کیا جائے تو متعدد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ا ±ن کے کاروبار میں 30فی صد یا اِس بھی زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔فورڈموٹر گاڑیوں کی فروخت میں 32فی صد کی کمی، جنرل موٹرز میں تقریباٍ ً 34فی صد، نسِان میں 38 فی صد، ٹویوٹا میں 42فی صد ، جب کہ کرائسلر کی فروخت میں 48فی صد کی کمی دیکھنے میں آئی۔کاروں کی فروخت میں کمی کا باعث کساد بازاری اور ممکنہ خریداروں کو سرمائے کا انتظام کرنے میں درپیش مشکلات بتایا گیا ۔فروخت کی ابتر حالت کی خبریں ا ±س وقت سامنے آئیں تھیں۔جب امریکی کارساز کمپنی کرائسلر نے نیویاک میںکو عدالت میں سماعت کے پہلے ہی روز دیوالیہ پن کے شکار ہونے کا اعلان کیا۔کرائسلر نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ دیوالیہ پن کے باعث ا ±سے قرض داروں سے تحفظ دیا جائے، کیوں کہ کچھ قرضہ داروں کے ساتھ معاملہ طے کرنے سے متعلق ا ±س کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔کمپنی پ ±ر ا ±مید تھی کہ اٹلی کی کارساز کمپنی، فیئٹ سے ٹیکنالوجی میں شراکت سے ا ±س کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ چھوٹی اورکم ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیاں بنا ئی جائیں جن کی فروخت کے امکانات بہتر ہوں۔امریکی حکومت نے جنرل موٹرز کو بحران سے نکالنے کے لیے بیس ارب ڈالر کا سرمایہ لگایا لیکن کمپنی کے حالات دن بدن خراب ہو تے رہے۔ امریکی حکومت نے مزید تیس ارب ڈالر جنرل موٹرز میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے اس طرح کمپنی کے ستر فیصد شیرز حکومت کی ملکیت میں ہوں گے۔توقع ۔ امریکی مالی بحران کے سبب جی ایم موٹرز کی فروخت میں زبردست کمی آئی ہے اور حکومت کی جانب سے کمپنی کو بیس بلین ڈالر کی امداد بھی حکومتی ساکھ بچانے کی ایک کوسش کہی جا سکتی ہے۔

جی ایم کا یورپی حصہ جو ’واکس ہال‘ اور ’اوپل‘ برانڈ کی کاریں بناتا ہے دیوالیہ ہونے سے بچ جائے گا کیونکہ ایک کنیڈین کمپنی نے جی ایم کے یورپی کاروبار کو خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔تاہم ٹریڈ یونینوں کا خدشہ ہے کہ برطانیہ میں واکس ہال پلانٹ میں لوگوں کی ملازمتوں کو خطرہ ہے۔اس کے علاوہ بیلجیم، پولینڈ اور سپین میں بھی ملازمتیں جانے کا خطرہ ہے۔

امریکی کار کمپنیوں کو مشکل حالات کا سامنا ہے کرائسلر، فورڈ اور جنرل موٹرز نے امریکی کانگرس کے سامنے اربوں ڈالر کے قرضوں کی تجاویز رکھی ہیں تاکہ یہ کمپنیاں بچائی جا سکیں۔ ’ڈیٹروئٹ تھری‘ کہلانے والی کاریں بنانے والی ان کمپنیوں نے کل 34 ارب روپے کے قرضوں کی درخواست کی ہے۔ان تجاویز میں خرچے اور قرضے کم کرنے اور ایسی ٹیکنالوجی پر جو ماحولیات کے لیے مضر نہ ہو سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔فورڈ اور جی ایم کے چیف ایگزیکیوٹیوز نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر کانگرس ہنگامی امداد منظور کر لیتی ہے تو وہ پورے ایک سال صرف ایک ڈالر پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فورڈ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ خرچے کم کرنے کے لیے اپنے پانچ کارپوریٹ جہاز اور دیگر کاروبار بیچ دے گی جس میں ولوو جیسی کمپنی بھی شامل ہے۔ ان تینوں کار کمپنیوں کو اس وقت انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے، کیونکہ امریکیوں نے بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال کے پیشِ نظر خرچ کرنا کم کر دیا ہے۔ فورڈ نے اس سال نومبر میں گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہلکی گاڑیاں بیچی ہیں۔ جنرل موٹرز نے اس ماہ 41 فیصد کم گاڑیاں بیچی جبکہ کرائسلر کو سب سے زیادہ نقصان ہوا اور اس نے 47 فیصد کم گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ امریکہ میں نو گیارہ کے بعد مالیاتی بحران ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی تباہی کے بعد

امریکی مالیاتی بحران سے حصص بازاروں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ٹھیک ایک سال پہلے ڈاو ¿ جونز چودہ ہزار پوائنٹ پر پہنچا تھا ۔ لیکن اب روز بروز اس میں کمی ہورہی ہے۔ڈاو ¿ جون انڈکس گزشتہ پانچ برس میں پہلی مرتبہ نو ہزار پوائنٹ سے نیچے چلی گئی۔مختلف حکومتوں کی طرف سے موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باوجود سرمایہ کار اس خوف میں مبتلا ہیں کہ یہ مالیاتی بحران پوری دنیا میں کساد بازاری کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹھیک ایک سال پہلے ڈاو ¿ جونز اپنی بلند ترین سطح چودہ ہزار پوائنٹ پر بند ہوا تھا۔یورپ کے حصص بازاروں میں ابتداءمیں کاروبار میں بہتری دکھائی دی لیکن بعد میں لندن کی سٹاک مارکیٹ فٹسی ہنڈرڈ انڈکس ایک اعشاریہ دو فیصد کی کمی پر بند ہوا جبکہ فرانس کے حصص بازار میں ایک اعشاریہ پانچ پانچ فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ کاروبار کے آخری لمحات میں حصص کی فروخت زور پکڑ گئی۔ لاس انجلس میں حصص بازار میں کاروبار کرنے والی ایک کمپنی کے اہلکار کرس اونڈرف نے کہا کہ یہ صریحاً گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ امریکہ کی گاڑیاں بنانے والے کمپنی جرنل موٹرز کے حصص کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اکتیس فیصد کی کمی ہوئی۔ اس کی وجہ سرمایہ کاروں میں پائے جانے والے یہ خدشات ہیں کہ عالمی سطح پر کساد بازاری کی صورت میں گاڑیوں کی فروخت میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ توانائی کی کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی واقع ہوئی اور تیل کی قیمت پچاسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالیاتی بحران کا اثر صرف مالیاتی اداروں اور بینکوں کے حصص تک محدود نہیں رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مالیا تی بحران جارج بش کے دور صدارت ہی میں چل نکلا تھا۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی نے اس بحران کو مزید بڑھا دیا تھا۔ جس کے بعد تنظیم اوپیک کے رکن ممالک کا ایک اہم اجلاس اٹھارہ نومبر کو ویانا میں ہو ا۔ جس میں مالیاتی بحران کے تیل کی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور اسی دوران عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف بھی امریکی معشیت کو بچانے کے لئے میدان میں آگیا۔عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے ایک ہنگامی طریقہ کار وضع کیا۔ جس سے ان ملکوں کی مدد کر نے کا فیصلہ کیا گیا جو مالیاتی بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی دنیا میںعالمی اقتصادی بحران بدستور جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جنگ عظیم کے بعد سے موجود صورت حال زیادہ خراب ہے عالمی مالیاتی بینک نے کہا ہے کہ سن دو ہزار نو میں دنیا کی معیشت میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ ایک اعشاریہ تین فیصد کی شرح سے مزید کمی واقع ہو گی۔جنوری میں عالمی مالیاتی بینک نے پیشن گوئی کی تھی کہ سن دو ہزار نو میں دنیا کی معیشت صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھے گی۔بینک نے برطانیہ کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ برطانیہ کی معیشت سن دو ہزار نو میں چار اعشاریہ ایک فیصد کی شرح سے کم ہو گی جبکہ سن دو ہزار دس میں اس میں مزید اعشاریہ چار فیصد کی کمی ہو گی۔سن دو ہزار دس میں دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں سے بھی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا رہی ہیں اور اجتماعی طور پر معاشی ترقی کی رفتار صفر رہنے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال دوسری جنگ عظیم کے بعد سے زیادہ سنگین ہے۔دنیا کے امیر ملکوں میں پیداوار سات اعشاریہ پانچ فیصد کی غیر معمولی سالانہ شرح سے کم ہو رہی ہے اور آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی پیداوار میں اسی رفتار سے کمی ہو گی۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ ترقی پذیر معیشتوں میں اقتصادی بحالی سے دنیا کی اقتصادی صورت حال سن دو ہزار دس میں بہتر ہو سکتی ہے گو کہ ترقی کی رفتار صرف ایک اعشاریہ نو فیصد تک ہی رہے گی۔آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق سن دو ہزار نو میں عالمی تجارت میں بھی کوئی بہتری کی توقع نہیں ہے۔ بینک نے کہا ہے کہ عالمی تجارت اس سال گیارہ فیصد کی شرح سے کم ہو گی اور سن دو ہزار دس میں اس میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو گا۔ساٹھ سال تک عالمی اقتصادی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ رہنے کے بعد اب عالمی تجارت میں کمی سے برآمدات کرنے والے بڑے ملکوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ برطانیہ میں کساد بازاری سب سے زیادہ شدید ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہاں جائیدار کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور اس کے مالیاتی اداروں بحران کا شکار ہیں۔ آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق برطانیہ میں بے روز گاری سن دو ہزار دس کے آخر تک نو اعشاریہ دو فیصد سے بڑھے جائےگی جو کہ اس وقت چھ اعشاریہ سات فیصد پر ہے۔’امریکی معیشت کے بارے میں ببس کے نامہ نگارگریگ ووڈ نے اپنے ایک تجزئے میں کہا ہے کہ امریکی عوام اب نتائج چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اوباما کے معاشی منصوبے کو متفقہ منظوری نہ مل سکی جہاں تک معاشی پالیسی کی بات ہے آپ صدر اوباما پر اسے نظرانداز کرنے کا الزام تو نہیں لگا سکتے تاہم یہ ضرور ہے کہ ان کی معاشی پالیسی کی افادیت ضرور زیرِ بحث لائی جا سکتی ہے۔ان کے دورِ اقتدار کے ابتدائی سو دن میں کم از کم ایک قابلِ ذکر کارنامہ سات سو ستاسی ارب ڈالر کا معاشی منصوبہ ہے۔ براک اوباما نے ‘امریکن ریکوری اینڈ ری انویسٹمنٹ ایکٹ‘ کے نام سے پہچانے جانے والے اس بل پر صدارت کا حلف اٹھانے کے ایک ماہ کے اندر ہی دستخط کر دیے تھے۔یہ زما نہ امن میں امریکہ کا اب تک سب سے بڑا اخراجاتی منصوبہ ہے جسے ایک ریکارڈ مختصر وقت میں منظور کیا گیا۔ لیکن صدر اوباما کا یہ معاشی منصوبہ ان کی توقعات کے برعکس کانگریس میں دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا اور حزب مخالف کی رپبلکن جماعت کی مخالفت مہم کا ایک حصہ بن گیا۔اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور اس کے تحت سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ رقم سرکاری ملازمتوں خاص طور پر پولیس کے محکمے میں ملازمتیں بچانے کے لیے صرف کی گئی ہے۔ تاہم جس تبدیلی

کے دعوے کیے جا رہے ہیں اس کا ثبوت دیکھنے کو نہیں مل رہا۔اوباما انتظامیہ کو اپنے ابتدائی سو دنوں میں جس بڑے سیاسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا وہ اے آئی جی انشورنس سمیت دیگر انشورنس اور مالیاتی اداروں کے اعلٰی افسران کو دیے جانے والے بونس تھے۔درحقیقت ایک مختصر مدت میں یہ بل کساد بازاری کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس منصوبے سے صرف بڑھتی ہوئی بےروزگاری کو کچھ حد تک کم کیا جا سکتا ہے یا پھر مستقبل میں ہونے والی ترقی کے لیے بنیاد تیار کی جا سکتی ہے۔۔اس معاشی ایکٹ کا بہت بڑا منفی پہلو بھی سامنے آنے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ منصوبہ امریکہ کے اس بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے میں مزید اضافہ کرے گا جس کے بارے میں یہ پیشنگوئی کی جا رہی کہ اس مالی سال میں اس کا حجم پو نے دو کھرب ڈالر ہوگا۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ موجودہ معاشی بحران کے خاتمے کے بعد بجٹ خسارے کا خاتمہ کر دے گی لیکن اس کے باوجود ریکارڈ خسارہ ایک ایسی چیز نہیں جسے صدر اوباما اپنے دورِ صدارت کے پہلے برس کے اہم نکات میں شامل کرنا چاہیں گے۔معاشی منصوبے سے کہیں زیادہ پیچیدہ چیز ’وال سٹریٹ بیل آو ¿ٹ پلان‘ یا ’ٹربلڈ ایسیٹ ریلیف پروگرام‘ کے تئیں اوباما انتظامیہ کا رویہ ہے۔ بش انتظامیہ کی جانب سے اس منصوبے کے لیے مختص رقم کے استعمال کے حوالے سے ہچکچاہٹ کے بعد مالیاتی ادارے اس ضمن میں فیصلہ کن رویہ چاہتے ہیں۔ لیکن اوبامہ انتظامیہ کے وزیرِ خرانہ ٹموتھی گھتنر نے کانگریس کے سامنے جو ابتدائی منصوبہ پیش کیا تو اس سے بھی نہ صرف ہچکچاہٹ عیاں تھی بلکہ اس خاکے میں کوئی تفصیل بھی نہیں دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وزارت کے ابتدائی ایام میں ہی ان کی ساکھ اس حد تک بگڑی کہ ان سے استعفٰی لیے جانے کی باتیں ہونے لگیں۔اوباما انتظامیہ کو اپنے ابتدائی سو دنوں میں جس بڑے سیاسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا وہ اے آئی جی انشورنس سمیت دیگر انشورنس اور مالیاتی اداروں کے اعلٰی افسران کو دیے جانے والے بونس تھے۔ انتظامیہ نے ان بونسوں کی ادائیگی رکوانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا اعلان کیا لیکن اس معاملے پر وزارتِ خزانہ کا موقف مختلف نکلا اور اس وجہ سے ڈیموکریٹ جماعت کے ہی متعدد ارکان خفا ہوگئے۔

اقتصادی پالیسی کے حوالے سے براک اوباما کے ابتدائی سو دن ملے جلے رہے اور اس دوران ایک ہی قابلِ ذکر کام سامنے آیا جو’امریکن ریکوری اینڈ ری انویسٹمنٹ ایکٹ‘ کی منظوری تھا۔ لیکن صدر براک اوباما کے پہلے سو دن کے بعد ان کے لیے پیغام بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ عوام بہتر نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ان سب مسائل کے پس منظر میں اصل امریکی معیشت کی زوال پذیری بھی جاری رہی۔ اوباما انتظامیہ کے ابتدائی چند ماہ میں امریکہ میں بےزورگار افراد کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اس کا ذمہ دار صدر اوباما کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ موجودہ معاشی بحران کی وجوہات کا تعلق گذشتہ دور حکومت سے ہے اور نئی حکومت نے بیروزگاری میں کمی لانے اور کم آمدن والے طبقے کی مدد کے لیے بیاسی ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔اقتصادی پالیسی کے حوالے سے براک اوباما کے ابتدائی سو دن ملے جلے رہے اور اس دوران ایک ہی قابلِ ذکر کام سامنے آیا جو’امریکن ریکوری اینڈ ری انویسٹمنٹ ایکٹ‘ کی منظوری تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دس امریکی بینک اب بھی دباو ¿ میں ہیں۔امریکی سیکریٹری خزانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کمزور بینک مطلوبہ کیش کا انتظام نہ کر سکے تو شاید ایک مرتبہ پھر انہیں ٹیکس گزاروں کا پیسہ دینا پڑے ۔امریکہ میں انیس بڑے بینکوں میں سے دس بینک ابھی تک خطرے کی حد سے باہر نہیں نکلے اور ان بینکوں کو مزید چوہتر اعشاریہ چھ بلین ڈالر کیش کی ضرورت ہے۔ ان بینکوں میں بینک آف امیریکہ اور ویلز فارگو بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بینک بھی ’دباو ¿ کے ٹیسٹ‘ میں پورے نہیں اتر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی کساد بازاری ابھی مزید بڑھے گی۔ یہ ٹیسٹ بینکوں کی ’صحت‘

دیکھنے کے لیے کیے گئے تھے تا کہ معلوم ہو سکے کہ آیا ان کے پاس اتنی رقم ہے کہ وہ عالمی کساد بازاری میں اضافے کی صورت میں حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ ٹیسٹ کے مطابق بینک آف امیریکہ سب سے زیادہ کمزر ہے اور اسے اضافی تینتیس اعشاریہ نو بلین ڈالر چاہیئں۔سٹی گروپ کو پانچ اعشاریہ پانچ جبکہ مورگن سٹینلے کو ایک اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔امریکہ میں سیکریٹری خزانہکا کہنا ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ آج کے اقدام سے بینک ایک مرتبہ پھراپنے اصل کام یعنی بینکنگ کی طرف واپس ہو جائیں گے۔کچھ بینکوں نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ مطلوبہ رقوم کس طرح حاصل کریں گے اور ان طریقوں میں حکومت سے مزید قرض حاصل کرنے کی بجائے اثاثوں کی فروخت پر زور دیا جائے گا۔ جن بینکوں کو اضافی رقم درکار ہے انہیں آٹھ جون تک کی مہلت دی گئی ہے تا کہ وہ اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دی لیں اور ریگیولیٹرز سے انہیں منظور کرا لیں۔ سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بہت سے بینک اضافی رقم کا بندوبست کر لیں گے تاہم اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو شاید انہیں ٹیکس گزاروں کا پیسہ پھر سے دینا پڑ جائے۔ اس ا قتصادی بحران کے اثرات مغرب سے نکل کر مشرق کی طرف آرہے ہیں۔اور خطہ کی مظبوط معیشت چین بھی اس کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ اب چینی فیکٹریوں کے ایکسپورٹ کے آرڈر بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہوےءہیں۔چین کی اقتصادی ترقی کی شرح لگاتار تیسری سہمائی میں کم ہوئی ہے۔اور ایسے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ معاشی صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔اعدادو شمار کے قومی بیورو کا کہنا ہے کہ ستمبر تک تین ماہ میں معیشت نے نو فیصد کی شرح سے فروغ پایا تھا جبکہ پچھلے برس اس عشرے میں یہ شرح دس اعشاریہ ایک فیصد کی تھی۔ بیورو کے ترجمان لی زیاچاو ¿ کا کہنا ہے کہ چین پر عالمی مالی بحران کے اثرات حکومت کے اندازے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہواہے۔مسٹر لی کا کہنا ہے عالمی اقتصادی ترقی کی شرح نمایاں طور پر سست ہوئی ہے ۔ عالمی اقتصادی ماحول میں کئی غیر یقینی پہلو ہیں اور تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یہی پہلو چین کی معیشت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیںحکومت کے مطابق گزشتہ ہفتے ملک میں کھلونے بنانے والی آدھی کمپنیوں کا کاروبار ختم ہو گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اقتصادی شرح میں کمی سے نمٹنے اور عالمی مالی بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے بر وقت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ان اقدامات میں میعشت اور افراطِ زر کو قابو میں رکھنے پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔افسران کا کہنا ہے کہ اس اختتامِ ہفتہ کوحکومت ٹیکس میں کٹوتی اور بنیادی ڈھانچوں میں سرمایہ کاری کے اضافے کے اعلان کی تیاریاں کر رہی تھی۔





کامیابی کا جشن، ہوائی فائرنگ،

عطامحمد تبسم

سر شام سے ہی ہر طرف ایک جوش خروش کی کیفیت تھی۔ جگہ جگہ نوجوانوں نے بڑی اسکرین لگائی ہوئی تھی۔ کرکٹ کے متوالے ورلڈ کپ دیکھنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ہر تقریب میں یہی موضوع بحث تھا۔پاکستان ورلڈ کپ جیت جائے، ہر دل میں یہ آرزو تھی۔اور ہر لب پہ یہ دعا تھی۔ فائنل میچ کو دیکھنے کا موقع کوئی بھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہتا تھا۔ تقریبات تاخیر کا شکار ہورہی تھیں کہ لوگ میچ دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ایک دن پہلے مختار عاقل کے صاحبزادے فرحان عاقل کے ولیمے میں ضیا زبیری نے پاکستان کے جیتنے کی پیشن گوئی کر تے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو جیتنا چاہئے کہ اس سے پوری قوم کو خوشی ملے گی۔ اتوار کو سڑکوں پر فائنل کے آغاز سے قبل سر شام ہی سناٹا چھا گیا اور ٹریفک کم ہوگیا تھا۔ شادی، سالگرہ اور ولیمہ وغیرہ کی تقریبات سے زیادہ لوگوں کی میچ میں دلچسپی تھی۔ مہمان کافی تاخیر سے پہنچ رہے تھے۔ رات کو جب یہ مرادیں پوری ہوئی تو پوری قوم کا جوش خروش یہ کہہ رہا تھا کہ ہم ایک قوم ہیں ۔ہمارا ایک ہی پرچم ہے، ایک ہی کلمہ،ایک قرآن،ہے۔گزشتہ رات جو جشن شروع ہو اتھا۔اس میں خوشیوں کے اظہار کے جدا جدا انداز تھے۔ کہیں خوشی کے اظہار میں ہوائی فائرنگ ہورہی تھی تو کوئی سجدہ شکر بجا لا رہا تھا۔کہیںمٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں تو کہیں بغلگیر ہوکر ایک دوسرے کو مبارکباد د ی جا رہی تھی۔فائنل میچ میںشاہد آفریدی کے وننگ شارٹ کھیلتے ہی کراچی ہوائی فائرنگ آواز سے گونج اٹھا۔ نوجوانوں کی ٹولیاں مختلف علاقوں میں قومی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل آئیں۔ جنہوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے، مختلف مقامات پر آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ نوجوانوں سڑکوں پر آکر موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ کا مظاہرے کرتے نظر آئے۔ جام ہوگیا۔ جبکہ بعض علاقوں میں مٹھایاں بھی تقسیم کی گئیں۔جس کے باعث تقریبات رات گئے تک جاری رہیں۔ حیدرآباد میں بھی خوشی و مسرت کااظہار کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی گئی‘ آتش بازی کامظاہرہ بھی کیاگیا اورمٹھائیاں تقسیم کی گئیں، لوگوں نے ایک دوسرے سے بغل گیرہوکر مبارکباد دی، موٹرسائیکل سوار نوجوان ٹولیوں کی شکل میں سڑک پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔ میچ ختم ہوتے ہی ایک دوسرے کو ایس ایم ایس اور ٹیلی فون کے ذریعے مبارکباد دی جا رہی تھی۔مختلف مقامات پر آتش بازی اور ڈھول کی تھاپ پر فائرنگ بھی ک جاری تھی ۔لارڈز کے میدان پر ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں پاکستان کی سری لنکا پر آٹھ وکٹوں سے شاندار فتح کے بعد کپتان یونس خان نے بین الاقوامی کرکٹ برادری پر زور دیا کہہ پاکستان کو اس کے سیاسی حالات کی وجہ سے تنہا نہ چھوڑا جائے۔”ہمارے تمام ہی مداحوں کی یہ خواہش تھی کہ ٹیم کو ایسی جیت نصیب ہو، ورلڈ کپ میں فتح، ٹونئٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں یہ جیت ہماری پوری قوم کے لئے ایک بڑا شاندار تحفہ ہے۔“

یونس خان کے جذبات سے پر الفاظ میں دنیا میں کر کٹ کے متوالو سے کہا کہ ”اب ہم چیمپئنز ہیں۔ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ پاکستان کا دورہ کریں۔ ہمارے نوجوان کرکٹرز کے لئے ہمیں ’ہوم‘ سیریز کی اشد ضرورت ہے۔“لاہور میں مہمان کرکٹ ٹیم سری لنکا کے کھلاڑیوں کی بس پرحملے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل ICC نے سیکیورٹی وجوہات کے باعث پاکستان سے 2011ئ ورلڈ کپ کرکٹ کی شریک میزبانی بھی چھین لی ہے ۔ جو ایک بہت بڑی نا انصافی ہے۔اور اس طرح پاکستان کو دنیائے کرکٹ سے علیحدہ کیا جا رہا ہے۔لارڈز کے میدان پر ایک اہم ٹورنامنٹ کے فائنل میں جیت سے پاکستان نے دنیا پر ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان اور کرکٹ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یونس خان کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں عام پاکستانیوں کو کوئی قصور نہیں ہے۔”ملک میں جو حالات ہیں اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ کھیل کو سیاست سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ کھیل کو سیاست کی ضرورت نہیں۔ سری لنکا، بھارت اور بنگلہ دیش نے پاکستان کی ورلڈ کپ کی میزبانی کی مخالفت کی ہے۔ وہ ایک افسوس ناک امر ہے۔ اس بار دفاعی چیمپئن بھارت سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ سری لنکا کو سوچنا چاہئے کہ ہم نے جان پر کھیل کر ان کے کھلاڑیوں کی جانیں بچائی ہیں۔ اور بنگلہ دیش کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ وہ ہمارے وجود ہی سے تخلیق ہوا ہے۔جشن خوشیوں کا ضرور منانا چاہئے لیکن اس میں فائرینگ اور اندھی گولیوں سے چار افراد جن میںمعصوم بچے،شامل ہیں اور ۰۳،۵۳ افرد کے ذخمی ہونے کے واقعات تکلیف دہ ہیں۔ ان پر ہمیں سوچنا چاہئے۔ خوشیوں کا یہ اظہار کسی گھر میں تاریکی لے آئے یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے۔



Leave a Comment







June 25, 2009, 6:28 am

Filed under: Uncategorized



خواتین کے ساتھ بدسلوکی

(Ata Muhammed Tabussum, Karachi)

کورنگی کے صنعتی علاقے میں واقع مہران ٹاؤن میں گزشتہ دنوں نامعلوم مسلح افراد نے چالیس سالہ محمد امین بلیدی اور ان کی اہلیہ زرینہ بلیدی کو گولیاں مار کر قتل کردیا ۔ ان کا پانچ سالہ بیٹا اسد عباس محفوظ رہا۔ مقتولین کا تعلق بلوچستان کی سرحد کے قریب واقع ضلع جیکب آباد سے ہے۔ قتل کا یہ واقعہ چھ سال پہلے پسند کی شادی کرنے کا شاخسانہ تھا۔ مقتولین کے ورثا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کاروکاری کی رسم کا نتیجہ ہے۔ ہمارے یہاں غیرت کے نام پر قتل روزمرہ ہونے والے جرائم میں شامل ہے۔ کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پچھلے سال ایک ہزار دو سو دس خواتین کو قتل کیا گیا جن میں چھ سو بارہ خواتین کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ کمیشن کے مطابق گزشتہ سال غیرت سمیت دوسری وجوہات کی بنا پرایک سو چودہ بچے بھی قتل ہوئے۔ پاکستان میں غربت، مہنگائی کے بعد گھریلو تشدد کے واقعات میں خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک عورت نے چار بچوں سمیت شوہر کے تشدد اور جان سے مار دینے کی دھمکی سے خوف زدہ ہو کر ایدھی ہوم میں پناہ حاصل کی ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کے شوہر نے منشیات کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ بعد میں اکثر ان پر تشدد کیا جانے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ شوہر کے مظالم اس قدر بڑھ چکے تھے کہ ایک بار سر پر زخم آنے کی وجہ سے آٹھ ٹانکے لگوانے پڑے تھے۔ اس کے علاوہ منشیات خریدنے کے لیے گھر کا سارا سامان فروخت ہو گیا تھا۔ ’نوبت یہاں تک آ گئی تھی میرے شوہر نے بچوں کو بیچنے کی بات شروع کی دی تھی۔‘ ایدھی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں گھریلو تشدد سے تنگ آ کر پناہ لینے والی خواتین میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پہلے ایسی خواتین کو ان کے والدین یا کوئی قریبی رشتہ دار اپنے ہاں پناہ دے دیتا تھا لیکن اب معاشی پریشانیوں کی وجہ سے ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظم عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستان میں خواتین پر تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے پہلے نو ماہ میں ملک بھر سے خواتین کے خلاف تشدد کے پانچ ہزار چھ سو سے زائد واقعات کی رپورٹ موصول ہوئی ہیں۔ صوبہ سندھ میں حالیہ دنوں عورتوں کے خلاف مختلف نوعیت کے تشدد میں اضافہ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔



گزشتہ دنوں میں عورتوں کے خلاف مختلف مقامات پر تشدد کے چار واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے دو عورتیں کارو کاری رسم کے تحت قتل کر دی گئیں۔ ایک عورت کے شوہر نے چاقو سے بیوی کا ناک کاٹ دیا اور ایک عورت نے اپنے والدین کے گھر سے پولیس کی مدد سے پناہ حاصل کی ہے۔ اس طرح تیزاب کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد زخموں سے جانبر نہ ہو سکنے والی پچیس سالہ ماریہ شاہ کا معاملہ بھی خواتین کے ساتھ تشدد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ماریہ شاہ پر تیزاب حملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ سندھ میں جنوری2005 سے لے کر اپریل 2008 تک تین سال کے عرصہ میں خواتین کے ساتھ گھریلو بد سلوکی اور خوفزدہ کرنے کے۵۷۷ واقعات پیش آئے۔ اس قسم کے سب سے زیادہ واقعات کراچی اور دادو میں رونما ہوئے جن کی تعداد فی شہر۶۴۱ کے لگ بھگ ہے۔ سندھ اسمبلی میں گزشتہ دنوں حمیرہ علوانی کے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملہ میں ضلع میر پورخاص دوسرے نمبر پر ہے۔ جہاں گھریلو خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں دہشت زدہ کرنے کے۳ ۹ واقعات پیش آئے تھے۔ سنہ 2005 سے لے کر سنہ 2008 کے عرصہ میں صوبہ سندھ میں اجتماعی زیادتیوں اور قتل کے ۴۰۱ واقعات ہوئے، جن میں سے۴۵ واقعات کراچی میں، حیدرآباد میں، اور ۱۴ سکھر میں ہوئے۔ خواتین پر تشدد کے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے حکومت کو اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل تشکیل دینا چاہئے تاکہ ایسے واقعات میں کمی آسکے۔ ساتھ ہی پولیس کو ان واقعات کی بھرپور طور پر تفتیش کرنی چاہئے اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا فیصلہ ہونا چاہئے تاکہ معاشرہ میں عدل کا نظام قائم ہوسکےسوات کے بے گھر افراد اور انسانی حقوق کی صورتحال

(Ata Muhammed Tabussum, Karachi)

میر ا ای میل باکس سوات وادی اور بے گھر افراد کی امداد کی اپیلوں اور وہاں پیش آنے والے واقعات اور تصاویر سے بھرا پڑا ہے۔ پاکستان کی وادی سوات فوج اور طالبان کے درمیان جاری شدہ جنگ نے علاقے کے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کردیا ہے۔ ان بے گھر افراد کی حالت بہت ابتر ہے۔ کھانے پینے اور دواؤں کی قلت ہے۔ سوات کے مہاجرین کی افسوس ناک حالت کا سوچ کر دل دہل جاتا ہے۔ بعض اوقات آدھی رات کو میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ میں ان مصیبت زدہ انسانوں کی کس طرح مدد کرسکتا ہوں۔“خوراک ختم ہو چکی ہے۔ انہیں بیماریوں نے گھیر رکھا ہے، لوگ پریشان ہیں اور اب ان کی اس مصیبت پر سیاست ہورہی ہے۔ متاثرہ علاقے کے لوگ چاہتے ہیں کہ کرفیو میں اتنی نرمی کی جائے کہ وہ وہاں سے نکل سکیں۔ مردان، کشمیر اور ہزارہ سے تعلق رکھنے والی طالبات بھی محصور ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق دیر سے گیارہ روزہ آپریشن کے دوران ایک لاکھ تیس ہزار لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان تنظیموں کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے مردان، چارسدہ، درگئی، چکدرہ میں ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں جب کہ ہزاروں لوگ رشتہ داروں کے ہاں ٹھیرے ہیں۔ اسی طرح بونیر سے نقل مکانی کر نے والوں کی تعداد بھی لاکھوں سے سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان لوگوں کے لیے مردان اور صوابی میں کیمپ قائم کئے گئے ہیں تاہم کئی خاندان آسمان تلے رات گزارتے ہیں۔ پاکستان کے داخلی مہاجر پچھلے سال اگست سے، بعد تک ۰۱ لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں اور اب یہ تعداد ۳۳ لاکھ ہوچکی ہے۔ اس قدر بڑی تعداد کے بے گھر ہونے کا مشاہدہ ایک ہولناک تجربہ ہے۔ صرف دس فیصد بے گھر افراد کو خیمے دستیاب ہیں، جبکہ کھلے آسمان تلے، سورج کی تپش میں لاکھوں افرادپناہ لئے ہوئے ہیں۔ متاثرین کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جن میں پینے کے صاف پانی کی کم دستیابی سرفہرست ہے۔ پاکستان میں ہونے والی لڑائی کا اثر براہ راست افغانستان پر پڑ رہا ہے۔ مشترکہ سرحد کے دونوں اطراف پشتون آباد ہیں اور انہی سے طالبان نے جنم لیا تھا۔ امریکہ خوش ہے کہ افغانستان کی لڑائی اب پاکستان کی سرحدوں کے اندر در آئی ہے۔ دوسری جانب مرکزی حکومت نے متاثرین کے لیے پچاس کروڑ اسی لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ صوبہ سرحد میں قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ متاثرین کے لیے گیارہ ریلیف کیمپ بنائے گئے ہیں۔ ادھر ریڈ کراس تنظیم کے مطابق مالاکنڈ میں شدید انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ ریلیف کمشنر جاوید امجد کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں مزید متاثرین رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بونیر اور دیر کے آپریشن کی وجہ مردان اور صوابی کیمپوں میں چار ہزار سے زیادہ خاندان رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ مردان، صوابی میں کیمپوں سے باہر بھی تین ہزار سے زیادہ خاندان آئے ہیں۔ پہلے گیارہ کیمپوں میں جگہ نہیں ہے صرف جلوزئی میں ایک ہزار خاندانوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔



امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے فروری میں ہونے والے حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر شدید تنقید کی تھی اور ان کا مؤقف ہے کہ اس سے طالبان کو منظّم اور مضبوط ہونے کا موقع ملا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی صدر آصف زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات میں القاعدہ اور طالبان کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ طالبان کو شکست دی جائے گی چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ادھر انٹرنیشنل ریڈ کراس نے مالاکنڈ آپریشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگی قوانین کی پاسداری کریں۔ طالبان کے ظلم اور ان کی کاروائیوں کے ویڈیو کلپ جو ای میل کئے جا رہے ہیں وہ ہولناک ہیں۔ جو کچھ ہورہا ہے وہ افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ طالبان اور فوج کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں لاکھوں افراد مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ان بچوں اور عورتوں کا کیا قصور ہے جو اپنے ہی وطن میں بے گھر اور بے در ہوگئے ہیں۔ دیگر شہروں میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ مخیر حضرات نے مہاجرت کا شکار ہونے والے لاکھوں افراد کی مالی امداد، اشیائے خوردو نوش اور اور دوسرے سامان کی فراہمی کے لئے کوششیں شروع کر رکھی ہیں مالاکنڈ آپریشن، پاکستانی ذرائع ابلاغ میں آپریشن کے بارے میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اخبارات کے اداریوں سے لے کر ٹی وی چینلوں کے اشتہارات تک جگہ جگہ ملٹری آپریشن کی حمایت جاری ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کےلئے لڑی جانے والی “میڈیا وار” میں کامیاب کون ہوگا۔ لیکن یہ طے ہے کہ اس کا نقصان اس ملک اور اسی قوم کو اٹھانا ہوگا۔

۔



تیس مار خان

(Ata Muhammed Tabussum, Karachi)

ہم نے اپنے بچپن میں تیس مار خاں کی کہانی پڑھی تھی۔ جس میں لوگ تیس مار خاں کے نام سے تھرتھراتے تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ تیس مار خاں نے تیس بندوں کو کھڑ کھڑا دیا ہے۔ یوں لوگ اس کی ہیبت سے کانپتے تھے۔ پھر یوں ہو ا کہ ایک دن تیس مار خاں کو سیر کا سوا سیر مل گیا۔ انہوں نے تیس مار خاں سے کہا کہ اب بتا تو کہاں کا تیس مار خاں ہے۔ اور تونے کتنے بندے پھڑکھائے ہیں۔ یہ سن کر تیس مار خاں رونے لگا اور کہنے لگا کہ میں نے تو آج تک ایک بندہ نہیں مارا۔ تیس آدمی کہاں اور ان کو مارنا کہاں۔ اصل کہانی یہ ہے کہ میں گھر بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا۔ جب تیس مکھیاں مار لی تو میں نے اپنے آپ کو تیس مار خاں کا خطاب دے لیا۔ اپنے اس خود ساختہ خطاب کے نتیجے میں لوگ مجھے تیس مار خاں سمجھنے لگے۔ اب جہاں لوگوں کو ضرورت پڑتی وہ مجھے تیس مار خاں کہہ کر لے جاتے۔ لوگوں کا کام نکل جاتا اور میری روزی روٹی چل نکلی۔ یہ ہے میری کہانی۔ مجھے تیس مار خاں کی کہانی اس لئے یاد آئی کہ امریکی صدر کو بھی تیس مار خاں بنے کا شوق چرایا ہے۔ بش نے تو عراق افغانستان پاکستان کو مقتل گاہ بنا کر چل دئے ہیں۔ اب بارک اوباما کی باری ہے۔ جو ایران پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایران میں جلاﺅ گھیراﺅ تو شروع کرا دیا ہے اور وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مسلسل بیان بازی کر رہے ہیں۔ اگر امریکی صدر یہ نہ کرے تو کیا مکھیاں مارے گا۔



اس کی ابتد ا انہوں نے گزشتہ دنوں کر دی ہے۔ جب دنیا کا طاقتور ترین شخص قرار دیئے جانے والے صدر امریکہ نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایک مکھی کو مار کر اپنی مہارت کو ثبوت دیا۔ صدر باراک اوباما کو ایک مکھی نے پریشان کر رکھا تھا۔ وہ وائٹ ہاؤس میں ایک انٹرویو دے رہے تھے۔اس دوران جب صدر اوباما انتہائی سنجیدگی اوراخلاص کے ساتھ اپنے میزبان کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے کہ نہ جانے کہاں سے ایک مکھی انکے درمیان مخل ہوگئی۔ صدر نے مکھی کو ہاتھ سے اڑانے کی بہت کوشش کی گویا خبردار کررہے ہوں کہ بھاگ جا، ورنہ جان سے جائے گی۔ تاہم مکھی ان کے گرد چکر لگاتے ہوئے انکے اختیار کو مسلسل چیلنج کرتی رہی۔ صدر اوباما مناسب موقع کی تلاش میں تھے اور جوں ہی مکھی نے انکے بائیں ہاتھ پر بیٹھنے کی کوشس کی انھہں نے کسی کراٹے چمپئن کر طرح چاروں طرف منڈلاتی ہوئی مکھی کو ڈھیر کر کے اپنی طاقت اور پھرتی کا عملی ثبوت پیش کر ڈالا۔ دربار فرعون میں ایک مچھر نمرود کی تباہی کا باعث بن گیا تھا۔ کیا عجب کہ کوئی ایسی ہی معمولی مخلوق امریکہ کی تباہی کو باعث بن جائے۔ ایڈز، اور دوسری بیماریاں ننھے ننھے جراثیم ہی سے پھیلتی

لیبلز:

دہشت گردی کا عالمی منظر نامہ


نائین الیون کو ا مریکی شہر نیو یارک کا ورلڈ ٹریڈ مرکز دہشت گردی کا نشانہ کیا بنا اس کے بعد سے ساری دنیا ہی تبدیل ہو گئی ۔ دنیا کی اس کا یا پلٹ میں امریکہ، برطانیہ ، اور اس کے اتحادی ملک شامل ہیں ۔ باوجود اس کے کہ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اب تک دہشت گردی کی کسی متفقہ تعریف پر متفق نہیں ہوئے ۔ اس کے با وجود ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف مہم جاری ہے۔عالمی سطح پر دہشت گردی کے انسداد کے سلسلے میں مختلف حکومتیں اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یورپ امریکہ برطانیہ جرمنی اسرائیل، بھارت بھی اپنے شہروں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے حوالے سے سخت سے سخت قوانین متعارف کروانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی اب ایک علاقے تک محدود نہیں رہی۔ ستمبر گیارہ کے بعد یہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکی ہے۔ اِس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی جس انداز میں مختلف جہتوں میں افزائش پا رہی ہے وہ حیران کن ہونے کے ساتھ انتہائی پریشان ک ±ن بھی ہے۔ اس کے سدِ باب کے لئے دنیا بھر کے مختلف حصوں میں قائم حکومتیں مزید سخت سے سخت قوانین کو متعارف کروانے میں مصروف ہیں۔ اِس مناسبت سے یورپی ملک اٹلی کے دارالحکومت روم میں گروپ ایٹ کے وزرائے داخلہ کی دو روزہ کانفرنس بھی اہمیت کی حامل ہے جہاں شرکاءاپنے ملکوں کے اہم شہروں کو مزید محفوظ بنانے کے امکانات پر غور و خوص کے لئے مل بیٹھے۔ ان کی تجاویز کو جولائی میں جی ایٹ کے سربراہ اجلاس میں عملی شکل دینے پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مہم کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں مزہب کے نام پر مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امریکہ سمیت یورپی ملکوں کی جانب سے مسلسل مشرقی وسطیٰ بشمول سعودی عرب اور یمن ، عراق،پاکستان افغانستان کے مسلمانوں کو انتہاپسند قرار دیا جارہا ہے۔ افعانستان میں سابقہ سوویت یونین کی فوج کشی کے بعد امر یکہ نے مسلمانوں کو انتہاپسندی کا نشانہ نبایا ہے۔ اس انتہاپسندی کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان اور دنیا کے مسلمان ملکوں کے مذہبی مدرسوں مسلح شدت پسندوں کی نرسریوں کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے علاوہ افریقی ملکوں صومالیہ اور الجزائر میں بھی انتہاپسندوں کی کارروائیوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس بات کا بھی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ صومالیہ میں الشباب اور حزب الاسلامی کی حکومت کے خلاف مسلح تحریک کے حوالے سے بین الاقوامی طور پر ایسے اندیشے سامنے آئے ہیں کہ پاکستان، افغانستان اور عراق سے مسلمان شدت پسند صومالیہ کو نیا گڑھ بنا سکتے ہیں۔مریکہ پر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی ابتداءکے بعد سے اب تک واشنگٹن کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات بداعتمادی سے عبارت رہے ہیں۔ صدر اوباما ان تعلقات میں ایک نئے آغاز کے خواہش ک ا اظہا کیا تھا۔باراک اوباما اپنے دور صدارت کے پہلے دن سے یہ چاہتے ہیں کہ مغربی دنیا، خاص کر امریکہ کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں پہلے جیسا دو طرفہ اعتماد دیکھنے میں آئے اور مشرق وسطیٰ کا عشروں سے حل طلب مسئلہ بھی اب حل ہوجانا چاہئے۔واشنگٹن کے دنیا بھر کے ایک بلین سے زائد مسلمانوں کے ساتھ عمومی تعلقات میں بہتری کی یہ شعوری کوشش صدر اوباما کی طرف سے اس وعدے کی تکمیل ہو سکتی تھی ۔ جس میں اس سال کے شروع میں اپنی صدارتی حلف برداری کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسلم دنیا کے ساتھ مل کر باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے کی طرف بڑھنے کے لئے ایک نئے مشترکہ راستے کے متلاشی ہیں۔واشنگٹن کے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے امریکی صدر اوباما کی کوششوں سے متعلق اپنے تجزیاتی جائزوں میں میڈیا نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ باراک اوباما نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں یہ امید پیدا کی ہے کہ امریکہ ان کی رنجشوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔لیکن اس پر پیش رفت نہ ہو سکی اور امریکی ان تک صدر بش کی مرتب کردہ انتہا پسند پالیسوں پر گامزن ہے ۔

اامریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر اوباما کے جنگی مد کے لئے مختص خصوصی ایکسٹرا فنڈکے لئے تقریباً ستانوے ارب ڈالرکی کی منظوری دی ہے ۔ اس بل کے حق میں تین سو اڑسٹھ ووٹ ڈالے گئے جب کہ مخالفت میں صرف ساٹھ ووٹ ڈالے گئے۔ایوانِ نمائندگان میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے ایک جنگ مخالف ر ±کن Dennis Kucinich نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ب ±ش دور میں بھی غلط تھا اور اوبامہ کا ایسا کرنا بھی غلط ہے۔ ایوانِ نمائندگان سے منظور ہونے والے بل میں عراق سے اگلے سال کے وسط تک امریکی فوجوں کے انخلاء کے لئے بھی رقم شامل ہے۔ اِس کے علاوہ افغانستان کے لئے اوباما کی نئی حکمتِ عملی کے تحت اکیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی اور افغان فوجیوں کی تربیت کے لئے بھی خصوصی فنڈ رکھا گیا ہے جب کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کو ک ±چلنے کی خاطر مقامی سیکیورٹی اہلکاروں کی خصوصی تربیت کے لئے چار سو ملین ڈالر تجویز کئے گئے ہیںحال ہی میں جرمنی کی وفاقی پارلیمنٹ نے اپوزیشن کی لبرل اور بائیں بازو کی جماعتوں اور گری پارٹی کی مخالفت کے باوجود دہشت گردی میں ملوث ہونے والوں کے خلاف ایک سخت تر قانون منظور کرلیا ہے۔اس کے مطابق اب دہشت گردی کے کسی کیمپ میں قیام ہی طویل قید کی سزا کے لئے کافی ہوگا۔جرمنی میں حکام کا خیال ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین سے منظم دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ اِس نئے قانون کے تحت جرمنی میں مشتبہ دہشت گردوں کی نگرانی کو مزید سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جا نا بھی مقصود ہے۔۔ پشاور، لاہور، میں ہونے والے خودکش حملوں اور ملک میں مخدوش حالات بھی دہشت گر دی کے خلاف مہم کا حصہ ہیں۔اکتوبر2001 میں دہشت گردی کے خلاف متنازعہ جنگ کے آغاز نے پاکستان کو رفتہ رفتہ جن حالات سے دوچار کیا وہ اب ملک کی سلامتی اور اقتصادی بقاء کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ان برسوں کے دوران نہ تو جنرل پرویز مشرف اور نہ ہی نئی حکومت ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے کوئی مربوط پالیسی اختیار کرسکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں نہ تو قومی دفاعی پالیسی اور نہ ہی کوئی قومی سلامتی پالیسی کا وجود ہے۔مشیر داخلہ رحمان ملک کا البتہ دعویٰ ہے کہ جلد ہی اہم اداروں کے تعاون سے ایسی قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی جائے گی جس کی مدد سے ملک میں بتدریج پھیلتی انتہاءپسندی اور قبائلی علاقوں میں موجود 10,000 ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ تربیت یافتہ اور منظم دہشت گردوں کے حملوں کی وجہ سے پولیس کی تربیتی سہولتوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جبکہ سیکیورٹی خطرات میں کئی گنا اضافے کے باوجود ملک بھر میں پولیس کی تعداد میں ایک گنا اضافہ بھی نہیں ہوا اور آج بھی سترہ کروڑ سے زائد کی آبادی کے ملک میں پولیس فورس کی تعداد چار لاکھ سے بھی کم ہے۔ موجودہ صورتحال میں واحد خوش کن امر صوبہ سندھ کے بعد صوبہ سرحد میں اور پنجاب میں پولیس کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا تازہ ترین اعلان ہے علاوہ ازیں امریکی امداد سے نیم فوجی فرنٹیئرکور جوکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے، کے تقریباً 57 ونگز کی تنخواہوں میں بھی اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیتی سہولتوں کو بھی بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خیال رہے کہ نیم فوجی اور پولیس فورس کی تنخواہوں اور ان کی شرائط کار کو بہتر بنانے کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ اور بعض دوسرے مغربی ممالک نے کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ بہتر حالات کار کے بعد سیکورٹی فورسز کو مربوط اور مو ¿ثر انداز میں استعمال کرنے کے لئے قومی سلامتی پالیسی کے ساتھ ساتھ قومی دفاعی پالیسی کب تک تشکیل پاتی ہے۔بھارت میں بھی وزرات داخلہ نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے 100 دنوں کاایک ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر تیار کئے گئے ا س ایکشن پلان پر یکم جون سے عمل درآمد شروع ہو گا۔اس ایکشن پلان کے تحت بائیں بازو کے انتہاپسند نکسلیوں اور فرقہ وارانہ تشددجیسی لعنت سے سختی کے ساتھ نمٹنے اور ممبئی، کولکتہ، حیدرآباد اور چینئی میں نیشنل سیکورٹی گارڈ کے مراکز کھولنے کے فیصلے پرعملدرآمد شروع کردیا جائے گاتاکہ ان چار بڑے شہروں میں خصوصی کمانڈوز کو تعینات کیا جاسکے۔اس کے علاوہ اگلے 100 دنوں میں قومی تفتیشی ایجنسی یعنی این آئی اے کے لئے افسران اور دیگر اہلکاروں کی تقرری کا کام بھی شروع کردیا جائے گا۔ تاہم مشہور سیکیورٹی ایکسپرٹ کیپٹن سی ادے بھاسکر کہتے ہیں کہ حکومت کو نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے بجائے نیشنل پریویشن ایجنسی بنانی چاہئے۔ ایسی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ممبئی جیسے واقعات نہ ہوں ۔ نئی حکومت سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لئے انتہائی جدید ترین سسٹم، اعلیٰ تربیت یافتہ افراد اور جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کر ے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا بحر الکاہل کے خطے کے لئے ڈائریکٹر سیم ظریفی نے اپنے ایک انٹرویو میں انتہا پسندی کے بارے میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں پر تنقید کر تے ہوئے کہا ہے کہ ”پاکستان نے انسانی حقوق کے معاملے میں خود کو بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز بننے سے بچانے کے لئے اب تک کافی جارحانہ نوعیت کی پالیسی اپنائی ہے۔‘بھارت کے بارے میں ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی کے سلسلے میں نئی دہلی کا رویہ ویسا نہیں رہا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا۔ ”بھارت کی طرف سے اب تک غلط سمت میں علاقائیت پسندی کی سوچ کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت نئی دہلی کی سوچ یہ ہے کہ شاید ایسے معاملات میں بھی ترقی پذیر دنیا کے چند ملکوں کے بظاہر متنازعہ اقدامات کی حمایت کرنا بہتر ہو گا، جن کے بارے میں داخلی طور پر خود بھارت کی اپنی سوچ قدرے مختلف ہے۔ یہ پالیسی بہت ناامید کردینے والی ہے۔“ایمنسٹی کی اسی رپورٹ میں بھارت میں انسداد دہشت گردی کے نئے لیکن متنازعہ قوانین پر بھی زبردست تنقید کی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے اس تنظیم نے کہا ہے کہ گذشتہ برس نومبر میں ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے 70 کے قریب ایسے مشتبہ افراد ابھی تک زیر حراست ہیں جن کے خلاف تاحال کوئی باقاعدہ الزامات عائد نہیں کئے گئے

برطانیہ میں بارہ مشتبہ شدت پسند گرفتار طانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ امریکہ کے صدر جارج واکر بش کا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ یا وارآن ٹیرر کا نقطہ نظرگمراہ کن تھا اور غلط حکمت عملی نے دنیا بھرمیں انتہا پسندوں کو مغرب کے خلاف متحد ہونے کا موقع فراہم کردیا۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھارت کے دورے کے آخری دن اور پاکستان روانہ ہونے سے قبل ممبئی میں یہ بیان دے کر ہلچل مچا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا جواب انسانی حقوق کی بالادستی سے دیا جانا چاہئے۔ دوسری طرف جموںو کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان پر بھی بھارت نے شدید اعتراض کیا ہے۔ڈیوڈ ملی بینڈ نے ممبئی حملوں میں دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں دہشت گردی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کا صحیح اور مناسب طریقہ قانونی اورانسانی حقوق کی بالادستی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد وار آن ٹیرریا دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اصطلاح نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے اصول تو طے کردیئے لیکن صحیح مقصد ہونے کے باوجود یہ خیال غلط فہمی پیدا کرنے والا ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے مورخین ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کہیں اس اصطلاح سے فائدہ سے زیادہ نقصان تو نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس اصطلاح نے اس تصور کو جنم دیا کہ دہشت گردی کا جواب فوجی طاقت کا استعمال ہے یعنی دہشت گردوں کا پتہ لگا کر انہیں ہلاک کرنا لیکن اس سے مسئلے کو حل کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملی اس لئے فوجی کارروائی کے بجائے کثیر جہتی اپروچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربات نے ثابت کردیا کہ دہشت گردی کو فوجی کارروائی کے ذریعہ نہیں روکا جاسکتا اور اب وقت آگیا ہے کہ حقوق انسانی اور شہری آزادی کا بول بالا ہو۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہی ہیں جب پہلی مرتبہ وار آن ٹیرر کی اصطلاح دینے والے امریکی صدرجارج واکر بش پانچ دن بعد عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کوئی ادارہ ہا نقطہ نظر نہہں ہے۔ ہہ اہک مہلک طرہقہ اور منصوبہ ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف دہشت گرد گروپوں کو مختلف مقاصد کے لئے کام کرنے والے الگ الگ گروپ سمجھا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ یہ جنگ اعتدال پسند اور انتہاپسندی یا اچھائی اور برائی جیسی دو طاقتوں کے درمیان نہیں ہے کیوں کہ ایسا سمجھنا ایک غلطی ہے۔ ملی بینڈ نے بھارت پاکستان تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا چاہئے اور کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے تاکہ اس خطے کے لوگوں کو اسلحہ اٹھانے کا موقع نہیں مل سکے اور پاکستان بھی اپنی مغربی سرحدوں کی حفاظت بہتر ڈھنگ سے کرسکے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈیوڈ ملی بینڈ کے بیان پرشدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بن مانگے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملی بینڈ کا ذاتی بیان ہے اور ایک آزاد معاشرے میں لوگو ں کو اپنے رائے کے اظہار کا حق ہے تاہم بھارت کے اندرونی معاملات بالخصوص جموں و کشمیر کے سلسلے میں اسے کسی دوسرے کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔بھارت میں سب سے بڑی اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ڈیوڈ ملی بینڈ کے بیان پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان پر دباو بنانے کی بھارت کی حکومت کی کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں کیوں کہ کانگریس پارٹی کی قیادت والی حکومت برطانیہ اور امریکہ کے آگے جھک گئی ہے۔اس دوران سول سوسائٹی کی تنظیموں نے ممبئی حملوں کے پس منظر میں آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی طرف سے دیئے گئے بیان پر نکتہ چینی کی ہے۔ جنرل کپور نے کہا کہ ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ بھارت کے صبر و تحمل کا امتحان تھا اور بھارتی فوج دہشت گردی سے پیدا شدہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ وہ اپنی سرزمین اورعوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ممکنہ راستےاب متبادل کا استعمال کرسکتی ہے۔ سول لبرٹیز کے مشہور کارکن جسٹس راجند سچر نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ” کوئی سیاسی لیڈر تواس طرح کا بیان دے سکتا ہے لیکن آرمی چیف کو اس طرح کے بیان دینے کا حق نہیں ہے اور موجودہ ماحول میں تواسے کسی بھی طرح سے مناسب نہیں کہا جاسکتا “۔جسٹس راجندر سچر نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے متعلق

بھارت کی طرف سے پیش کردہ ثبوتوں کو نظر اندازکررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے بہر حال کسی نہ کسی طرح اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ان حملوں میں زندہ گرفتار ہونے والا واحد دہشت گرد عامر اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے اس کے علاوہ اس نے کئی لوگوں کو گرفتارکیا ہے اس لئے ایک دوست اور پڑوسی ہونے کے ناطے ہمیں اس پر اعتماد کرنا چاہئے



Leave a Comment







برطانوی پولیس کی پاکستانی طلبہ پر چڑھائی

July 8, 2009, 5:30 am

Filed under: Uncategorized

برطانوی پولیس کی پاکستانی طلبہ پر چڑھائی

عطا محمد تبسم

گزشتہ دنوں برطانوی پولیس نے انسداد دہشت گردی کی کی ایک نام نہاد کاروائی میں دس پاکستانی طلبہ کو گرفتار کرکے ساری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا کہ انھوں نے بڑے دہشت گرد پکڑے ہیں۔ طویل تفتیش کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ سب جھوٹ تھا۔ لیکن اب برطاوی پولیس اپنی خفت مٹانے کے لئے ان طلبہ کو رہا کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ان طلبہ کے والدین نے پاکستان آکر اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ ان طلبہ کو رہا کیا جائے۔ اور اس سلسلے مینں حکومت پاکستان سخت اودام کرے۔ ان طلبہ کا اس کے علاوہ کو ئی جرم نہیں تھا کہ وہ با جماعت مسجد میں نماز کے لئے جاتے تھے۔ اور ہوٹلوں میں تفریح کے لئے جاتے تھے۔ برطانوی پولیس نے انسداد دہشت گردی کی اس کارروائی کی بڑے پیمانے پر تہشیر کی اور پاکستانیوں کو بدنام کیا۔ شمال مغربی انگلینڈ سے گرفتار کئے جانے والے دس پاکستانی طالب علم کے بارے میں کیا جا تا ہے کہ وہ سٹوڈنٹ ویزاز پر برطانیہ میں رہ رہے تھے۔ پولیس نے لیورپول اور مانچیسٹر میں مختلف چھاپوں کے دوران یہ گرفتاریاں کی تھیں۔برطانوی ہوم سیکرٹری Jacqui Smith نے پولیس کو اس ”کامیاب“ آپریشن کے لئے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تھا کہ برطانیہ کو شدت پسندوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب برطانوی پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کے سربراہ کو سکیورٹی کے معاملے میں غفلت برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ایک اعلی برطانوی پولیس افسر کی غلطی آپریشن کی وجہ بن گئی ۔ا سکاٹ لینڈ یارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر بوب کوئیکسکاٹ لینڈ یارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر بوب کوئیک کی غلطی کے باعث حساس دستاویز کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کیاجب کہ کوئیک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ منظور بھی کر لیا گیا ۔ برطانوی میڈیا کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت چھاپوں کا منصوبہ بہت پہلے بنایاگیاتھا مگر اعلیٰ برطانوی پولیس افسر Bob Quick کی غلطی کی وجہ سے آپریشن سے متعلق حساس دستاویزات کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد گریٹر مانچسٹر اورلنکاشائر پولیس کوفوری کارروائی کرنا پڑی۔برطانیہ میں لگاتار چھاپوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ان کی تصاویر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک حساس دستاویز کے ساتھ شائع ہو گئیں۔اس تصویر میں واضح طور پر درج تھا ” آپریشن پاتھ وے“ جس کے نیچے لکھا تھا ” برطانیہ میں القاعدہ کے ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کے خلاف سیکیورٹی سروس کی قیادت میں آپریشن“اس دستاویز پر یہ بھی درج تھا ”خفیہ“۔ باب کوئیک کی یہ تصویر وزیر اعظم گورڈ ن براو ¿ن کے دفتر کے قریب لی گئی تھی۔ تصویر چھپنے کے فورا بعد پولیس نے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیادریں اثناءاسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان اس غلطی کا اعتراف کر تے ہوئے کہا گیا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر کوئیک اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں نے ایک خفیہ اور حساس دستاویز کو اس طرح ہاتھ میں اٹھا کر باہر نکلنا نہیں چاہئے تھا کہ اس پر درج کوائف پڑھے جا سکتے۔ برطانوی وزیر داخلہ جیکی اسمتھ نے حساس دستاویزات کے حوالے سے پولیس افسر کی غلطی پر کوئی بیان دینے سے گر یز کیا ۔شمال مغربی برطانیہ میں انسداد دہشت گردی یونٹ کے سربراہ ٹونی پورٹر نے بتایا کہ پولیس نے خفیہ اداروں کی جانب سے دے گئی معلومات پر چھاپے مارے۔ ان کا کہنا تھا مانچسٹر، لیور پول اور لنکا شائر میں آٹھ

جگہوں پر چھاپے مار کر بارہ افراد گرفتار کئے گئے تھے۔ بعد میں یہ سب جھوٹ ثابت ہو ا۔ اب اس جھوٹ کو چھپانے کے لئے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔ برطانیہ میں پاکستانوں کی کثیر تعداد آباد ہے۔ جو اس جھوٹ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ دوسرے یہ بھہ حقیقت ہے کہ ہر سال ہزاروں طلبہ برطاینہ پڑھنے کے لئے جاتے ہیں۔ اگر بر طانیہ میں پاکستنی مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک کیا گیا تو یہ برطانیہ کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوگا اور پاکستا نی طلبہ کو تعلیم کے لئے دوسرے ملکوں کی جانب دیکھنا ہوگا۔



Leave a Comment







مجرموں کو پھانسی دی جائے۔

July 7, 2009, 10:26 am

Filed under: Uncategorized

مجرموں کو پھانسی دی جائے۔

عطا محمد تبسم



کراچی میں اغوا،قتل،اور تاوان کی وصولی کے واقعات اس تیزی سے ہورہے ہیں کہ اخبارات میں ابھی ایک واقعہ کی بازگشت ختم نہیں ہوتی ہے کہ شہ سرخیوں میں ایک نیا واقعہ سامنے آجاتا ہے۔ زمان ٹاو ¿ن کے علاقے میں تین سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش گٹر میں پھینکنے کا واقعہ شقی القلبی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔اس بارے میں شک اور شبہے کی گنجائش اس لئے باقی نہیں رہ جاتی کہ مجرموں نے خود اس گٹر کی نشاندہی کی جس سے اس بچی کی لاش ملی ہے۔یہ اتنا بڑا ثبوت ہے کہ اس کے بعد کسی مقدمے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔میرے نزدیک ان ظالم اور سفاک مجرموں کو فوری پھانسی پر لٹکا دینا چاہیئے۔چند ہفتوں قبل بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ جس میں طارق روڈ سے ایک تاجر طارق عادل کے جواں سال بچے کو تاواں کے لئے اغوا کیا گیا تھا۔ پھر تاوان لے کربھی ظالموں نہ صرف اس کو قتل کرکے گندے نالے میں اس کی لاش ڈال دی تھی۔ بلکہ مزید رقم کے لالچ میں مجرم بعد میں بھی والدین سے اس کی بازیابی کے لئے سودے بازی میں مصروف رہے اور بالاآخر پکڑے گئے۔ پولیس اور سی پی ایل سی نے ان مجرموں کو گرفتار کراکے قانون کے حوالے کر دیا ہے اور اب مقدمہ چل رہا ہے۔جانے یہ مقدمہ کب تک چلے گا۔ اور مجرموں کو سزا بھی ہوسکے گی یا نہیں۔کراچی میں۰۹۹۱ سے ۹۰۰۲ تک اغوا اور اغوا برئے تاوان کے ۱۱۶ کیسسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن میں سے صرف ۳۵۳ یعنی ۳۵ فیصد کے لگ بھگ کیسسز حل ہوسکے ۔ اور ۸۵۲ کیسسز کا پتہ نہ چل سکا۔ کراچی میں ۶۰۰۲ سے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ۶۰۰۲ میں ایسی وارداتوں کی تعداد ۲۹۶ تھی جو ۷۰۰۲ میں ۸۲۱ فیصد بڑھ گئی اور ایسے واقعات کی تعداد ۰۲۸ ہوگئی۔۸۰۰۲ میںیہ تعداد ۱۰۴ ہوگئی ہے۔ لیکن اس تعداد میں کمی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اپنے عزیز و اقارب کی جان کے خطرے کے پیش نظر اب ایسے کیسسز کے بارے میں پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کی جاتی ہے۔ زماں ٹاﺅن والے کیس میں گرفتار ٹریفک پولیس اہلکاروں ہیڈکانسٹیبل بشیر احمد اور پولیس کانسٹیبل نور محمد جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ سماعت کے دوران مقتولہ کے عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیاہے۔ معاشرہ کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے مظاہرین کا یہ مطالبہ برحق ہے۔ ۰۸ کی دہائی میں فیڈرل بی ایریا میں ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔ جس میں بے بی ترنم ناز کو قتل کردیا گیا تھا۔ جنرل ضیاالحق نے مجرموں کو پھانسی دے دی اور کراچی کیا پورا ملک ایک عرصے تک جرئم سے پاک ہوگیا،گزشتہ عرصے میں عدالتوں سے بہت سے ملزماں جو اغوا اور تاوان کے مقدمات میں ملوث تھے۔ عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردئیے گئے ہیں۔ جس سے ان مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی شہر میں ۸۸ا سے زائد گینگ اغوا کے دھندے میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن ہماری پولیس اور قانون کے رکھوالوں کی ساری توجہ کا مرکز موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ہے ۔اور ہم نے اسی کو جرائم کے سدباب کی قلید سمجھا ہوا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مشیر عالم اور مسٹر جسٹس کے کے آغا پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے حکومت سندھ کو جوہدایت کی ہے کہ وہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے قبل اور بعد میں ہونے والے جرائم کا تقابلی ریکارڈ پیش کرے وہ بالکل صحیح اقدام ہے۔ ۔ ڈبل سواری پر پابندی کے خلاف ہیومن رائٹس کے انتخاب عالم سوری نے درخواست دی ہے۔شہر میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے، جرائم پیشہ افراد متحرک ا ور فعال ہیں، اس لئے وزیر داخلہ کو بھی بیوکریسی کے چنگل سے نکلنا چاہئے۔اور اغوا کی وارداتوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی ایسے مقدمات کا ملک بھر سے ریکارڈ طلب کر کے تحقیقات کرنا چائہے کہ کیا عدالتیں ان مقدمات میں واقعی انصاف کررہی ہیں یا یہ اغوا کی وارداتیں بااثر افراد کی کمائی کا ذریعہ بن گئی ہیں



Leave a Comment







بجلی کے مارے عوام پر فتوے کی مار

July 6, 2009, 7:40 am

Filed under: Uncategorized

بجلی کے مارے عوام پر فتوے کی مار

عطامحمد تبسم



بجلی کے مارے عوام کو کے ایس سی نے بھی مذہب اور اسلامی شریعت کی مار مارنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے پہلے مرحلے پر کے ای ایس سی نے ۲۱ علماءاکرام سے فتوی حاصل کیا ہے کہ بجلی کی چوری حرام ہے۔پہلے مرحلے پر اس بارے میں خبر شائع کی گئی ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں اخبارات اور میڈیا پر اشتہارات بھی شائع ہوں گے۔امید کی جاسکتی ہے کہ کے ای ایس سی کی اس بجلی بچاﺅ نفاد شریعت مہم سے کراچی والوں کی ایک بڑی تعداد بجلی چوری سے بعض آجائے گی۔اور جہنم میں جانے سے بچنے کے لئے اپنی موجودہ زندگی کو جہنم بنانے پر شاکر رہے گی۔فتوی لینے کا یہ ناد ر خیال نہ جانے کے ای ایس سی والوں کیوں آیا ہے۔ جب کہ لوڈ شیڈنگ کے سبب نہ تو کراچی میں نائٹ میچ ہورہے ہیں ۔ اور نہ ہی چراغاں۔ ہاں البتہ سڑکوں بجلی کے فراق لوگ ٹائر جلا کر دل جلانے جتنی روشنی کرلیتے ہیں۔اس بار لوڈ شیڈنگ کے مارے لوگوں پر جو بجلی نہ آنے کا بل آیا ہے اس سے بھی لوگ بلبلائے ہوئے ہیں۔اخبارات نے کے ای ایس سی کے فتوے کا توڑ کرنے کے لئے علماءکرام سے کے ای ایس سی کی زائد بلنگ کے بارے میں بھی فتوی لیا ہے۔ جس میں ایسی ناجائز بلنگ کو جو عوام سے زبردستی وصول کی جائے اسے حرام قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے فتوی کا جواب فتوی ہی سے دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے دوست جمیل علوی گو مفتی نہیں ہیں اور ان سے کسی نے فتوی بھی نہیں مانگا تھا لیکن انہوں نے زبردستی فتوی دیا ہے۔ اور اس بارے میں ان کی دللیل لاجواب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص ان کے گھر میں گھس جائے یا راہ میں پکڑکر ان سے زبردستی رقم چھین لے۔اور پھر اس رقم سے گلچھرے اڑائے اور نشے میں بدمست کہیں راہ میں پڑا ہوا مل جائے ۔اس کے جیب میں اس رقم کو کچھ بچا کھچا حصہ بھی ہو تو کیا مجھے اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ میں وہ رقم اس کی جیب سے نکال لوں۔سب نے اس بات سے اتفاق کیا اور علوی صاحب نے اسے ہی جواز بنایا ۔ان کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی والوں نے ۰۴ فیصد لائین لاسسز،بجلی کی چوری ، کنڈا مافیا،کے ای ایس سی کی نااہلی اورناجائز ٹیکسوںکی مد میں،غلط بلنگ کی صورت میں اہل کراچی کو نچوڑ لیا ہے۔عوام بجلی کے ناجائز بل بھرتے بھرتے تنگ آچکے ہیں ۔لوڈ شیڈنگ کے باوجود بجلی نہ استعمال کرنے کا بھی بل ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ایسی صورت میں عوام کیا کریں۔ہمیں کے ای ایس سی کے حکام سے یہ گلہ ہے کہ انھوں نے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے کراچی میں طالبان کی آمد سے پہلے شریعت اور فتوے کا سہارا نہیں لینا چاہئے تھا۔ اب انھوں نے مقطع میں سخن گستران بات ڈال دی ہے تو ان فتووں پر عمل درآمد کے لئے انھیں طالبان کی آمد کا انتظار کرنا چاہئے



Leave a Comment







ڈالروں کی آس میں

July 6, 2009, 6:09 am

Filed under: Uncategorized

ڈالروں کی آس میں

عطامحمد تبسم



نہ جانے ہمارے حکمرانوں کو کیا ہوگیا ہے۔ امریکہ ہم سے جتنا زیادہ مطالبہ کرتا ہے۔ ہم اسقدر اس سے ڈالروں کی فرمائش کرتے جاتے ہیں۔ ڈالروں کی اس جنگ میں ہم نے اسقدر لوگوںکو آگ اور خون کے سمندر میں دکھیل دیا ہے کہ اب روزانہ گنتی ہورہی ہے۔جن لوگوں کو راہ نجات اور راہ راست پر لانے کے لئے یہ ہورہا ہے۔ان میں سے ۰۴ لاکھ سے زیادہ گھروں سے بے گھر کیمپوں میں پڑے ہیں۔اور جو راہ راست پر آنے کو تیار نہیں ہیں وہ پہاڑوں پر چڑھے ہوئے ہیں۔ہماری اس کامیابی کی سند بھی ہمیں امریکہ ہی سے مل رہی ہے۔وہ بھی امریکی انٹیلی جنس سے۔گزشتہ دنوں امریکہ کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ڈینس بلیئر اورپاکستان و افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے رچرڈہالبروک یہ سند دیتے ہوئے ہماری پیٹھ تھپکی دی ہے اور کہاہے کہ پاکستانی عوام میں سوات آپریشن کی حمایت مستحکم ہورہی ہے ۔ ڈینس بلیئرنے واشنگٹن میں انٹیلی جنس ماہرین کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پہلی مرتبہ دنیا کے اس حصے (سوات )میں پاک فوج کے آپریشن کو حکومت اورعوام کی حمایت حاصل ہے۔ یہ ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف صورتحال ہے جب فوجی آپریشنوں کو بہت کم حمایت حاصل ہوتی تھی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نواز شریف بھی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں جو آگے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ امریکہ نے ہمیں اس کام کے لئے 30کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیاجبکہ باقی دنیاسے صرف 20کروڑ ڈالر مل سکے ہیں۔اقبال یہ کہ کر غیرت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے ، تیموری شہزادیوں کی غیرت اور حمیت کا ماتم کیا تھا۔ لیکن دنیا میں ایسی قومیں بھی ابھی زندہ ہیں جنہوں نے اس دور میں قومی غیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران اب بھی ایک غیرت مند قوم کی طرح امریکہ کے مقابل ہے۔ ویت نام نے بھی امریکہ کی بالاستی کو قبول نہیں کیا۔اور برسہا برس ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ویت نام میںہوچی منہ کی جنگجو یا نہ کارروائیوں نے فرانس کو 1954ءوہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اس عرصہ میں جنوبی ویت نام امریکہ اور اتحادیوں کے قبضہ میں جا چکا تھا ہوچی منہ کی زیرقیادت شمالی ویت نام سے جنوبی ویت نام پر حملے شروع ہوئے اس کے جواب میں1964ء میں امریکی فضائیہ نے شمالی ویت نام پر بمباری شروع کردی اور جنوبی ویت نام میں پانچ لاکھ 43 ہزار فوجی داخل کردیئے۔ امریکی فضائیہ نے مسلسل 14 برس1976ءتک شمالی ویت نام پر اتنی بمباری کی کہ ایک ویت نامی لیڈر کے بقول شمالی ویت نام کے کھیتوں میں اناج کی بجائے ہر طرف لوہے کی فصل آگ آئی تھی۔ خود امریکی ترجمانوں کے مطابق ویت نام کی پوری سرزمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں بچی تھی جس پر کارپٹ بمباری نہ کی گئی ہو۔ کارپٹ بمباری یعنی بموں کے قالین بچھا دینے کی اصطلاح انہی دنوں ایجاد ہوئی تھی۔ بالآخر شمالی ویت نام نے کامیابی حاصل کی اور جنوبی ویت نام پر قبضہ کرلیا اور دوجولائی1976ئکو دونوں حصے مل کر ویت نام پھر ایک ملک بن گیا مگر اس کامیابی کے پس منظر میں ہولناک خون فشانی کی تاریخ رقم ہو ئی ہے۔1945ء سے 1976ء تک کے32طویل برسوں میں ویت نام کے مجموعی طورپر12 لاکھ شہری ہلاک ’65لاکھ گھر بدر ہوگئے جب کہ امریکہ کے58ہزار سے زائد اور اس کی اتحادی فوجوں کے پانچ ہزار225 فوجی ہلاک ہوئے۔ لیکن یہ ایک آزاد اور خود مختا ر قوم کی جنگ تھی۔جس نے لڑنے کا تہیہ کیا۔ڈالر نہیں مانگے۔ ویت نام نے لاکھوں افراد کے ہلاک اور65لاکھ کے گھر بدر ہونے کے باوجود امریکہ اور فرانس جیسی سپر طاقتوں کی بالادستی قبول نہیں کی۔ اس قوم کی سر زمین کا چپہ چپہ لاکھوں امریکی بموں کے لوہے سے ڈھک گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے ویت نام میں فولاد کی صنعت کے لیے لاکھوں بموں کا اتنا لوہادے دیا کہ آئندہ کئی برسوں تک فولاد سازی کے لیے باہر سے لوہا منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس ہولناک تباہی کے باوجود ویت نام نے امریکہ کی غلامی قبول نہیں کی۔ لیکن ہم ہیں کہ ڈالروں کی آس میں بھیک مانگ رہے ہیں۔ اگر یہ ہماری جنگ ہے تو ڈالروں کی دھائی کس لئے ۔



Leave a Comment







برقعہ پوش خواتین

July 3, 2009, 6:10 am

Filed under: Uncategorized

تحریر: عطا محمد تبسم



فرانسیسی صدر سرکوزی نے قومی اسمبلی میں یہ اعلان کرکے مسلم دنیا کے جذبات میں ایک بار پھر طلا طم پیدا کردیا ہے کہ برقعہ فرانس میں قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ خواتین کوقیدی بنا دیتا ہے۔ فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی نے برقعے کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برقعہ کوئی مذہبی علامت نہیں ہے بلکہ یہ خدمت گزاری کی ایک علامت ہے جو فرانس کی اقدار کے خلاف ہے۔یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد فرانس میں آباد ہے۔ فرانس میں مسلمان خواتین کی بہت ہی معمولی تعداد برقعہ اوڑھتی ہے۔جس کے بعد فرانسیسی پارلیمنٹ نے ایک کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو برقعہ اوڑھنے والی مسلمان خواتین کے بارے ایک مطالعاتی جائزے کا اہتمام کرے گا۔ مسٹر سرکوزی کی تقریر 136 سال میں کسی فرانسیسی صدر کی ورسائلس پیلس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پہلا خطاب تھا۔ فرانسیسی قانون میں اس سے قبل اختیارات کی تقسیم کے تحفظ کے پیش نظر صدر پرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب پرپابندی تھی۔صدرکا خطاب اس آئینی ترمیم کے باعث ممکن ہوا جسے مسٹر سرکوزی کے گذشتہ سال متعارف کرایا تھا۔مغرب خصوصا یورپی ممالک میں گزشتہ کئی برسوں سے حجاب،برقعہ،پردہ جو مسلمانوں کی مذہبی اقدار کا ایک حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ایک منظم فکر کے ساتھ استہزا،پابندی، کا سامنا ہے۔مغربی ممالک میں نقاب کا معاملہ بار بار اٹھایا جارہا ہے ۔ گذشتہ عرصے میں کینیڈا کی ایک سو پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان خواتین کے برقعہ یا نقاب پہن کر ووٹ ڈالنے کے مسئلہ پر بحث کی گئی۔صوبہ انٹاریو میں صوبائی انتخابات سے قبل نقاب کے مسئلے کو چھیڑا گیا ۔ کینیڈا میں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ کثرت میں ہیں ۔کینڈا کے وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا تھا کہ یہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ الیکشن کمیشن کو برقعہ پوش خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی کیا ضرورت تھی۔اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کے سربراہ مارک میرانڈ نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت کوئی پابندی حائل نہیں کرسکتی کیونکہ جب پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن آف کینیڈا نے کچھ عرصہ قبل سفارشات طلب کی تھی تو اس وقت پارلیمنٹ نے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی۔ کینیڈا سے مسلم کینیڈین کانگریس کی رہنما فرزانہ حسن نے کہا ہے کہ برقعہ اور نقاب کو اسلامی ملبوس کے طور پر پیش کرنا ایک ’بےہودہ مذاق‘ ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن کمشنر مارک میرانڈ نے باپردہ مسلم خواتین کی شناخت کے مسئلے پر کسی قسم کے حکومتی دباو ¿ اور پارلیمنٹ کمیٹی کا مشورہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی مسلمان شہری خواتین پردے میں رہتے ہوئے ووٹ ڈال سکتی ہیں کیونکہ کینیڈا میں انتخابی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔ان قوانین کے مطابق ووٹر اپنی شناخت باتصویر سرکاری دستاویزات پیش کر کے کر سکتا ہے اور اگر اس کے پاس تصویری شناخت نہیں ہے تو پھر بھی وہ اپنے پتہ کی تصدیق کرتے ہوئے بیان حلفی اور ایک ضامن کے حلفی بیان دینے پر ووٹ ڈالنے کا مجاز ہے۔ الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ گنجائش اس لئے رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی شہری ووٹ کے حق سے محروم نہ رہے۔ اس کے علاوہ پریمئیر نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اونٹاریو کے انتخابات میں انکے لئے نقاب یا پردہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور انہیں کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی وہ یہ شرط رکھیں گے کہ خواتین اپنے نقاب الٹ کر چہرہ دکھائیں۔ نقاب کا م مسئلہ انتخابات ہی میں نہیں بلکہ بچوں کے کھلونوں میں بھی زیر بحث رہا ۔ باپردہ گڑیا ’باربی‘ کے متعارف کرانے سے ایک اور بحث چل نکلی۔بہت سے تاجروں کا کہنا تھا کہ با پردہ باربی گڑیا کوعرب ممالک میں بہترین رسپانس ملا۔ مصر کے کھلونوں کے بازار میں ’باربی‘ کے انداز سے ہٹ کرپردے والی گڑیا نے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔اس کے خالق نے اس گڑیا کو ’اسلامی اقدار‘ کی حامل قرار دیا ہے۔اس گڑیا کا نام ’فلا‘ رکھا گیا تھا۔یہ گڑیا ایک روایتی اسلامی سکارف اور برقعے میں ملبوس ہے۔ اس کے پاس اس کا اپنا گلابی رنگ کا جائے نماز بھی ہے۔جو والدین اپنے بچوں کو باربی لے کر دینا نہیں چاہتے انھوں نے بھی ’فلا‘ کو ترجیح دینا شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تما م مسلم دنیا میں مقبول ہوگئی ۔ اسے اسلامی اقدار کے مطابق بنایا گیا تھا۔قاہرہ کے ایک بڑے سٹور کے چیف سیلزمین طارق محمود کا کہنا تھا کہ ’فلا کی مانگ زیادہ ہے کیونکہ یہ ہماری عرب ثقافت کے قریب ہے، یہ کبھی اپنا بازو یا ٹانگ ننگی نہیں کرتی‘۔مسلمان خواتین میں سکارف پہننے کے نئے جذبے کے ابھرنے کے ساتھ ہی مسلمان پچیوں کے لیے مخصوص کھلونے بنانے کا رواج کو بھی فروغ ملا ۔برطانیہ میںایک مسلمان طالبہ کے نقاب کے مقدمے نے بھی بڑی شہرت پائی۔ ۔ بارہ سالہ طالبہ نے بکنگھم شائر سکول میں نقاب سے پورے چہرے کو ڈھانپنے پر عائد پابندی کو کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم جج نے سماعت کے بعد مقدمے کو خارج کر دیا۔لڑکی کے وکیل اور والد کا کہنا ہے کہ نقاب پر پابندی ہر اسلامی اور انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے لڑکی اور ان کے خاندان والوں کو ’شدید مایوسی‘ ہوئی ہے۔ کینیڈا میں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ کثرت میں ہیں کینیڈا میں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ کثرت میں ہیں اب لڑکی کو گھر پر ہی تعلیم حاصل کرنا ہو گی۔کیونکہ سکول کی یونیفارم پر اس تنازعے کے بعد اس کے لیے سکول میں تعلیم حاصل کرنا دشوار ہو گا۔اسکول میں تیرہ سو طالب ِعلموں میں ایک سو بیس م ±سلمان طالبات ہیں اور ان میں سے آدھی حجاب لیتی ہیں ۔ سابق برطانوی وزیر خارجہ اور دارالعوام کے قائد جیک سٹرا نے اپنے ایک مضمون میں مسلم خواتین کی طرف سے چہرے کو نقاب سے مکمل طور پر چھپانے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مختلف ’برطانوی کیمیونٹیز‘ کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات میں مشکل پیش آرہی ہے۔اخبار ’لنکا شائر ایوننگ ٹیلی گراف ‘ میں جیک سٹرا لکھتے ہیں کہ چہرہ چھپانا ’خود کو علیحدہ اور مختلف دکھانے کا ایک نمایاں عمل ہے‘۔وہ کہتے ہیں کہ خواتین جب انہیں دفتر میں ملنے آتی ہیں تو وہ انہیں نقاب اتارنے کا کہتے ہیں تاکہ ’واقعی منہ در منہ بات ہو سکے۔ میرے خدشات بے جا بھی ہوسکتے ہیں لیکن بہر حال یہ ایک مسئلہ ہے‘۔جیک سٹرا بلیک برن کے علاقے سے منتخب ہوتے ہیں جہاں ایک چوتھائی آبادی مسلمان ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’ فون کال اور خط کے مقابلے میں ایک ملاقات کی اہمیت یہ ہے کہ آپ مخاطب کو صرف سن نہیں رہے ہوتے بلکہ اسے دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں کہ حقیقت میں وہ کہنا کیا چاہ رہا ہے برطانیہ کے مسلمانوں میںان بیانات کے بارے میںشدید رد عمل ہوا تھا۔ جیک سٹرا کے بیانات ان کے حلقے بلیک برن کے ایک دکاندار نسیم صدیقی کے لیے خوش خبری ثابت ہوئے ۔ان کا کہناتھا کہ ان بیانات کے وجہ سے ان کی دکان پر نقابوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے اس سے پہلے اِتنی تعداد میں نقاب کبھی فروخت نہیں کیے۔مسٹر صدیقی کی دکان علاقے میں سب سے زیادہ نقاب فروخت کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’پہلے میں ہفتے میں صرف دو یا تین نقاب بیچتا تھا لیکن اب میں ہفتے میں پانچ یا چھ فروخت کرتا ہوں۔ میری زیادہ تر خریدار نوجوان برطانوی مسلمان لڑکیاں ہیں۔ یہ لڑکیاں نقاب پہننے کا تجربہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ا ±ن کی مائیں پردہ نہیں کرتی ہیں لیکن وہ پردہ کرنا چاہتی ہیں۔‘ یقیناً جیک سٹرا اپنے بیان کے اس ردِ عمل کی تو قع نہیں رکھتے۔ انہوں نے ایک مقامی اخبارمیں مضمون لکھا تھا کہ ان کو مسلمان خواتین سے بات کرتے ہوئے دشواری ہوتی ہے جو میں نقاب پہن کر ان کے دفتر آتی ہیں۔ برطانیہ کی مسلم کمیونٹی نے جیک سٹرا کے بیانات کی مذمت کی تھی ۔ زیادہ تر برطانوی مسلمان اس نظریے کو قبول نہیں کرتے ہیں کہ نقاب سے برطانیہ میں بسنے والی مختلف برادریوں کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں اور اِس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں۔بلکہ مسلمان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں جان ب ±وجھ کر خطرے کے نظر سے دیکھا جارہا ہے اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ایک برطانوی ناول نگار نائما بی رابرٹس نقاب کے بارے میں تجربات پر مبنی اپنی کتاب ’میری بہن کے ہونٹوں سے‘ میں کہتی ہیں کہ ’مجھے ڈر ہے کے نقاب کی بحث برطانیہ کوتبدیل کر دے گی اور برطانیہ فرانس کے طرح بن جائے گا جس نے حجاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وہ عورت جو پردہ کرتی ہے معاشرے کی سب سے بے ضرر فرد ہے۔ وہ شراب نہیں پیتی، سگریٹ نہیں پیتی اور معاشرے میں کسی دشواری کا باعث نہیں بنتی۔ندیم صدیقی بتاتے ہیں کہ ان کی دکان پر کچھ دن پہلے ایک آٹھ سالہ لڑکی آئی تھی۔ وہ ایک نقاب خریدنا چاہتی تھی۔ وہ مجھ سے پندرہ منٹ تک بحث کرتی رہی۔ میں نے ا ±سے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ آخر کار ہم نے ا ±سے حجاب پر راضی کر لیا۔ لڑکی کی والدہ حجاب بھی نہیں پہنتیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ تین دن سے اپنی بیٹی کو سمجھا رہی تھیں کے ا ±سے نقاب کی ضرورت نہیں ہے۔جیک سٹرا کے بیانات کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ حوصلہ شکنی ہونے کی بجا ئے نقاب پہننے کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں نقاب پہننے والی عورتوں کی تعداد برطانیہ میں کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو جائے گی۔امریکہ میں ایک مسلم خاتون سلطانہ فری مین کا ڈرائیونگ لائیسنس اس بنا پر منسوخ کر دیا گیا کہ انہوں نے لائیسنس پر لگی تصویر میں نقاب اوڑھ رکھا ہے۔مسز فری مین نے امریکی حکام کے اسی نقطہِ نظر کو بنیاد بنا کر کہ ڈرائیونگ لائیسنس پر لگی تصویر نقاب کے بغیر ہونی چاہیے، مقدمہ دائر کر دیا۔انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی ان کے مذہبی حقوق کی آئینی آزادی کی سراسر خلاف ورزی ہے۔امریکی حکام نے عدالت سے سلطانہ فری مین کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کو مسترد کرنے کی درخواست کی۔ریاست فلوریڈا کے حکام کا موقف تھا کہ تصویر میں چہرے پر نقاب پہننے کے باعث عوامی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔لیکن عدالت نے حکام کی اس اپیل کو خارج کر دیا اور مسزفری مین کو عدالتی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی۔مسز فری مین امریکی شہری ہیں اور انہوں نے پانچ برس قبل اسلام قبول کیا تھا۔ان کے وکیل ہاورڈ مارکس نے بتایا کہ گزشتہ برس اِلی نائے سے فلوریڈا منتقل ہونے کے بعد جب مسز فری مین نے نقاب والی تصویر کے ساتھ لائیسنس کی درخواست جمع کرائی تو انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔مسٹر ہاورڈ نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد فلوریڈا میں موٹر گاڑیوں کے ادارے نے لائسنس پر لگی تصویر تبدیل کرنے کو کہا تھا۔وکیل کا کہنا ہے کہ مسز فری مین کے آزادیِ اظہار کے حق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔گذشتہ دنوںلندن میں ایک مباحثہ ہوا جس میں یہی موضوع تھا۔ یعنی نقاب لیا جائے یا نہ لیا جائے۔ اس بحث میںلندن میں مقیم ایک استانی عمرانہ نے کہا ہے کہ ان کے علم کے مطابق اسلام میں نقاب لینا لازمی نہیں لیکن پھر بھی وہ ایسا نقاب لیتی ہیں جس سے ان کی آنکھیں تک چھ ±پ جاتی ہیں؟ ان کے محلے لیٹن میں ستّر سال سے مقیم جِین کہتی ہیں کہ جب ’میں نے کافی سال قبل جب یہاں پہلی بار نقاب والی لڑکی دیکھی تو دنگ رہ گئی تھی۔ میں نے سوچا میرے ملک میں یہ کیسے لوگ آ گئے ہیں؟‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ لڑکیاں رنگ برنگے نقاب کیوں نہیں لیتی، کالا رنگ تو افسردگی کی علامت ہے؟ اسی علاقے کے ایک گرجا گھر میں تعینات ایک پادری کا کہنا ہے کہ ’میں نے نقاب پہننے کے جواز سن کر بحیثیت مرد بے عزتی محسوس کی، کیا مجھے یہ بتایا جا رہا ہے کہ میں عورت کی شکل دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتا؟‘ عمرانہ نے اپنا مو ¿قف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھ سال پہلے حج پر گئی تھیں جہاں انہوں نے نقاب پہننے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نمازیں اور روضے فرض سے زیادہ رکھے جا سکتے ہیں تومیں نے پردے کا اہتمام جتنا کرنے کا حکم ہے اس سے بڑھ کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سےمکمل تحفظ رہتا ہے اور کسی مرد کی طرف سے تعلقات بنانے کے لیے بات کرنے کا امکان ک ±لی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ان کے کپڑے کا ایک ٹکڑا منہ پر لینے سے کیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسی نے عریاں پھرنے والوں پر سوال کیوں نہیں اٹھایا؟ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ نقاب میں پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ نقاب پہنے ہوئے ایک لڑکی فاطمہ نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ کسی واقف کار کو نقاب میں پہچانا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے محلے داروں سے گھر میں یا باہر بات کرتی ہیں۔ بچوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ معصوم ہوتےہیں اور ان کے تعصبات بھی نہیں ہوتے انہیں کسی کے نقاب پہننے یا نہ پہننے سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر پارک جاتی ہیں جہاں بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ انہوں نے کہ سائنسی طور پر ثابت ہو چکا ہے کسی کو پہچاننے میں آواز کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی برقعہ اور حجاب کے مسئلہ پر اکثر بحث ہوتی ہے۔ اکثر ترقی پسند اور مغرب کی دلدادہ خواتین پردے نقاب اور حجاب کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پریشان ہیں۔ گذشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر نے اپنا رونا روتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کی پچاس فیصد سے زیادہ طالبات خوفناک قسم کے برقعے اور حجاب پہن کر کلاسوں میں آرہی ہیں۔ خودکش حملوں کے خطرے کے پیش نظر حکومت ان برقعہ پوش خواتین سے خوفزادہ رہتی تھی۔ قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں میں تینتیس فیصد اضافے کو پاکستان کے مردانہ برتری کے دعویدار معاشرے میں خوش آئندہ اقدام قرار دیا گیا تھا لیکن حجاب پہنے والی ارکان قومی اسمبلی کی وجہ سے پارلیمان کی حفاظت کے سلسلے میں مشکلات کا رونا رویا جاتا تھا۔ سیکورٹی والوں کو خطرہ تھا کہ کوئی اجنبی خاتون کسی بھی وقت کسی خاتون قومی اسمبلی کی جگہ ایوان میں داخل ہو سکتی ہے۔ قومی اسمبلی اور پارلیمان کی حفاظت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ اس خدشہ کے پیش نظر کہ حجاب پارلیمان کی حفاظت پر اثر انداز نہ ہو، ضروری اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ حکام قومی اسمبلی میں برقعہ اوڑھنے والی خواتین کو آواز سے پہچاننے کے ماہرین موجود ہیں۔ جبکہ داخلے کے تمام دروازوں پر خواتین عملہ بھی متعین کیا گیا ہے۔ جو بوقت ضرورت کسی بھی خاتون کو روک کر شناخت کر سکتا ہے۔ ایم ایم اے سے تعلق رکھنے والی ایک رکن قومی اسمبلی نے نام یہ ظاہر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ سے بات چیت کے بعد خواتین اراکین نے نقاب کے بغیر تصاویر بنوا کر اسمبلی کے حکام کے حوالے کی ہیں تاکہ حفاظتی اقدامات سے متعلق مشکلات دور ہو سکیں۔ حجاب اور پردہ کا یہ معاملہ آج بھی پوری دنیا زیر بحث ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مغرب اور مشرق تہذیبوں کی یہ جنگ کہاں جا کر ختم ہو تی ہیں۔







Leave a Comment







بغیر جیب کی پتلونیں

July 1, 2009, 8:13 am

Filed under: Uncategorized

بغیر جیب کی پتلونیں

عطامحمد تبسم

مغرب والوں کو جہاں اور بہت سے شوق ہیں ۔وہاں یہ بھی ہے کہ وہ ہر بات کی گریڈنگ کرتے ہیں۔ دنیا میںکون سب سے زیادہ امیر ہے۔ کون سب سے زیادہ غریب ہے۔کون سب سے زیادہ خوش لباس ہے۔کون سب سے زیادہ بےہودہ لباس پہنتاہے۔کون سب سے زیادہ کرپٹ ہے،کون سب سے زیادہ بااثر ہے،یہ گریڈنگ افراد،ملکوں،کے بارے میں کی جاتی ہیں ۔ خیر سے پاکستان اور پاکستان والوں کو کہیں نہ کہیں ذکر آہی جاتا ہے۔ ورلڈ کپ میں نمبر ون پوزیشن والے پاکستان کے خلاف امریکی میڈیا کے ذریعے زہر آلود مہم چلائی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں دنیا بھر کے ملکوں میں کرپشن پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ایک سروے جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں گذشتہ تین سالوں میں کرپشن میں سوا چار سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔پاکستان دنیا کے ایک سو اسّی ممالک میں پینتالیسواں کرپٹ ملک ہے ۔ اس سروے میں بتایا گیا کہ مشرف دور میں 2006 کرائے گئے نیشنل کرپشن سروے میں پینتالیس ارب روپے رشوت کی نذر ہوئے تھے جو 2009 میں بڑھ کر ایک سو پچانوے ارب روپے تک جا پہنچے ہیں جو تین سالوں میں چار سو تیس فیصد زیادہ ہے۔ کرپشن میں پولیس اور توانائی کے اداروں نے سب سے زیادہ کرپٹ ہونے کی پہلی اور دوسری پوزیشن برقرار رکھی ہے ۔ اب امریکی جریدے فارن پالیسی کی جانب سے دنیا کی ساٹھ ناکام ریاستوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔فہرست کی تیاری میں معاشی بحران، انسانی حقوق، بیرونی مداخلت، نقل مکانی اور مہاجرین، حکومت کی کمزور عملداری، داخلی سلامتی، قدرتی آفات اور عوامی خدمات کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ۔ دنیا کی ناکام ریاستوں میں پاکستان کو دس نمبری بتایا گیاہے۔پہلی پوزیشن پر صومالیہ ہے جبکہ ساٹھ مالک کی اس فہرست میں زیمبیا آخری پوزیشن پر ہے۔ رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی بحران نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا جو اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے سہارے زندہ ہے۔ناکام ریاستوں کی فہرست میں افغانستان ساتویں نمبر پر، سری لنکا بائیسویں اور بنگلہ دیش انیسویں نمبر پر ہے۔کرپشن اور رشوت ایک عالمی مسئلہ ہے۔ خود امریکہ امداد،فوجی معاہدوں میں جو کرپشن کرتا ہے ۔اس کا جائزہ کہاں لیا جاتا ہے۔کرپشن کے مسلئے سے دوچار نیپالی حکومت نے ایک نئی راہ نکالی ہے ۔ جس کی ہمیں بھی تقلید کرنی چاہئے۔.نیپال کی سول ایوی ایشن کی وزارت نے رشوت روکنے کی کوشش کے سلسلے میں نیپال کے بڑے ایئرپورٹ پر فرائض ادا کرنے والے عملے کو ایسی پتلونیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔جن کی جیبیں نہیں ہوں گی۔نیپال میں انسدادِ رشوت ستانی کے محکمے کا کہنا ہے کہ کھٹمنڈو کے ہوائی اڈے پر رشوت کی شکایات بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں ۔یہ اقدام نیپال کے وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ کرپشن کی وجہ سے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچ رہاہے۔ اب ایئرپورٹ پر عملے کو پہننے کے لیے ایسی پتلونیں دی جائیں جن کی جیبیں نہ ہوں۔ہمیں معلوم نہیں ہے کہ نیپال کے ایرپورٹ کے عملے کی وردی میں ٹوپی،جوتے،اور انڈر گارمنٹ کا رواج ہے یا نہیں۔ ہمارے یہاں تو ان کا ایسے کاموں کے لئے استعمال زمانہ قدیم سے ہے۔اگر پھر بھی انھیں مشکلات کا سامنا ہے تو انھیں اپنے فرنٹ مین سے مدد لینی چاہئے۔ہم نے تو اس کاروبار کو بام عروج تک پہنچا دیا ہے۔دس پرسنٹ سے سو پرسنٹ اور اس سے بھی اوپر ریٹ جارہے ہیں۔نیپال والوں کو ہم پر اعتماد کرنا چاہئے۔آخر مصیبت میں دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔



Leave a Comment







June 30, 2009, 9:23 am

Filed under: Uncategorized

وزیر تعلیم کی کھر ی کھری باتیں

عطامحمد تبسم

سینئر صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق ایک اچھے اسپورٹس مین ہیں۔ حیدرآباد کے گورنمنٹ ہائی اسکول(پیلے اسکول کے پڑھے ہوئے وزیر تعلیم اس اسکول پر آج بھی فخر کرتے ہیں۔ وہ بے تکلفی سے حقیقتوں کا اعتراف کر تے ہیں۔ کراچی میٹرک بورڈ کے امتحان میں اس بار ساری پوزیشن ماما پارسی اسکول کے طلبہ وطالبات نے حاصل کی ہیں۔ پرائیوٹ اسکول کے خالد شاہ اس کو پرائیوٹ اسکولوں کے لئے وجہ افتخار سمجھتے ہیں۔ لیکن پیر مظہر کا کہنا ہے کہ اب بھی سرکاری اسکولوں میں اچھی تعلیم دی جاتی ہے۔ اصل امتحان ماں باپ کا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کتنی توجہ دیتے ہیں۔پوزیشن ہو لڈر طلبہ کے اعزاز میں تقریب کراچی پریس کلب والوںکی تھی۔علاوالدین خانزادہ اور امتیاز فاران کی جوڑی نے کراچی پریس کلب کو کئی خوبصورت پروگرام دئے ہیں۔ یہ پروگرام بھی ان میں سے ایک تھا ۔ پیر مظہر الحق ذرا لیٹ پہنچے تھے۔ لیکن اس کا بھی سبب تھا۔ وہ گورنر ہاوئس کے اجلاس سے آرہے تھے۔ جہاں سندھ اسمبلی کی پرانی عمارت کے عقب میں ایک نئی سندھ اسمبلی کی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میٹرک میں اول آنے والی طالبہ نے بتایا کہ اس نے کبھی ٹیوشن نہیں پڑھی۔اسکول میں اساتذہ نے اتنی اچھی طرح پڑھایا کہ رٹا لگانے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔پیر صاحب نے بتایا کہ انھوں نے ورلڈ بنک والوں سے پوچھا کہ وہ سندھ میں اساتذہ کی بھرتی کے وقت ان کا ٹیسٹ لینے کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں ۔ جس پر ان کو بتایا گیا کہ سندھ کا امتحانی نظام پر کسی کو اعتماد نہیں رہا اوریہ انتہائی ناقص ہو چکا ہے۔ عالمی بینک کو بھی سندھ کے امتحانی نظام پر اعتماد نہیں یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اساتذہ بغیر ٹیسٹ کے بھرتی ہو رہے ہیں جبکہ سندھ کے اساتذہ کیلئے ٹیسٹ لازمی ہے۔ سندھ وزیر تعلیم نے ابھی چند دن پہلے فلور پر یہ بیان دیا تھا کہ سندھ میں ایک ہزار سے 1500 تک اسکول اوطاق بنے ہوئے ہیں اور انھیں خالی کرانے کی کوشس کی جارہی ہے۔پیپلز پارٹی جیسی حکومت اب تک ان اسکولوں کو خالی نہ کراسکی توآنے والے دور میں سندھ میں تعلیم کا کیا معیارکیا ہوگا۔ پریس کلب کے سینئر صحافی عبدالحمیدچھاپرا نے پیرمظہرالحق سے کہا کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کوئی انعام دیں۔ پیر صاحب گویا ہوئے کہ سب لوگ وزیر کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بہت رقم ہوتی ہے۔ مجھے جب ڈاکو اغوا کرکے لے گئے تو انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ روپیہ منگا کر دو۔ میں نے کہا کہاں سے ایک کروڑ دوں۔ میرے پاس کو ئی سونے کی کان نہیں ہے۔ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم وزیر ہو۔ بے شک میں وزیر ہوں۔ لیکن بھائی ہم وزیر پیپلز پارٹی کے ہیں۔ پیر مظہرالحق نے اس موقع پر بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ،۰۳ہزار، ۰۲ ہزار، ۰۱ہزار،بالترتیب اول، دوئم، سوئم روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ صدر زرداری نے کہا تھا کہ پریس کلب والوں نے میری اسیری کے ایام میں میرا ساتھ دیا۔ اس لئے ان کے لئے کچھ کرنا ہے۔ انھوں نے حکم دیا کہ پریس کلب کی عمارت پریس کلب والوں کو دلوانا ہے۔ہم نے اس پر کام کیا ہے۔ اب کلب والوں کو چاہئے کہ وہ خاموش نہ بیٹھ جائیں ۔ جب تک پٹواری سے اپنے نام نہ کرالیں۔ اس وقت تک خاموش نہ بٹھیں۔میں آپ کا وکیل بنے کو تیار ہوں۔میٹرک بورڈ پر ریٹائر لوگوں کی حکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ تو ہماری بھی نہیں سنتا۔ ریٹائر آدمی کو تبادلے کا خوف نہیں ہوتا وہ کنٹریکٹ پر آتا ہے جبکہ حاضر سروس افسر کو تبادلے کا ڈر ہوتا ہے۔ گورنر سندھ سے اس کی شکایات بھی کی ہے جس پر گورنر نے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں حاضر سروس افسران لگانے کیلئے نام مانگے اور محکمہ تعلیم نے وہ نام بھیج بھی دیے۔



Leave a Comment







June 30, 2009, 9:11 am

Filed under: Uncategorized

بچے دو ہی اچھے



عطا محمد تبسم

عجیب بات ہے جوں جوں میڈیا پر بہبود آبادی کے اشتہار بڑھ رہے ہیں ۔ ملک کی آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پہلے محکمے کانام خاندانی منصوبہ بندی تھا۔ منصوبہ بندی ہماری کمزوری ہے۔ چاہے پانچ سالہ منصوبہ بندی ہو، یا دس سالہ منصوبہ بندی ہو۔ یا محبوب الحق کا منصوبہ بندی کمیشن یا کالاباغ ڈیم کا منصوبہ ہم نے کسی منصوبہ بندی کو قبول نہیں کیا۔سو ہم نے محکمے کا نام بدل دیا۔بہبود آبادی کا نام شوگر کوٹیڈ ہے۔ اس سے کام کا پتہ نہیں چلتا۔ پھر ہم نے کم آبادی خوش حال گھرانہ کو شلوگن اپنایا۔۱۷ میں مشرقی پاکستان جدا ہوا تو ملک کی آبادی کا اندازہ ۶ کروڑ تھا۔ کم آبادی خوش حال گھرانے کی جستجو میں ہم نے اپنی آبادی میں دن دگنا ہی اضافہ کیا۔اسو قت خیال تھا کہ شاید لوگوں کو کم آبادی کی تعریف میں دھوکہ ہوا ہے۔ پہلے گھروں پوری کرکٹ ٹیم ہوا کرتی تھی۔میچ کھیلنے کے لئے لوگ گھروں میں خود کفیل تھے۔ جب چاہا میچ رکھ لیا۔ اماں ابا ریفری کے فرائض انجام دے لیا کرتے تھے۔اب سوچا گیا کہ کیوں نا بچوں کی تعداد مقرر کردی جائے۔ اس لئے بچے دوہی اچھے۔کاشلوگن وجود میں لایا گیا۔ دو اچھے بچوں کی جستجو اور محنت میں آبادی اتنی بڑھی کہ اب ہم اس پیداوار میں خود کفالت سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ اب ہم بچے اسمگل بھی کرتے ہیں۔ بچے فروخت بھی کرتے ہیں۔بچوں سے مزدوری بھی کراتے ہیں۔ بچوں کو اونٹ کی دوڑ میںحصہ لینے کے لئے اسے پاس پڑوس کے ملکوں کو بھی بھیج دیتے ہیں۔اور جو بچے فالتو بچ جاتے ہیں ان کو آبادی کم کرنے کے جدید طریقوں میں یعنی خودکش بمبارمیں استعمال کرتے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک نے یہ جدید ٹیکنالوجی مسلمان ملکوں کے لئے ایجاد کی ہے۔وہ خود تو شادی کے بندھن سے آزاد ہوگئے ہیں۔ ہم جنسیت کہاں سے آبادی پیداکرے گی۔حرامی بچوں کی جو فوج تیار ہوئی ہے۔ وہ دنیا بھر میں جنگ و جدل میں مصروف ہے۔اب امریکہ کو خیال آیا ہے کہ کیوں نہ پاکستان میں بچوں کی پیدائس پر ہی پابندی لگادی جائے ۔ اس لئے قومی اسمبلی میں زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے وفاقی وزیر بہبود آبادی فردوس عاشق اعوان بہت دور کی کوڈی لائی ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا عنصر دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ لہذا پارلیمنٹ زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے پالیسی بنائے حکومت اسے نافذ کرنے کو تیار ہے۔ کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ غربت اور ناخواندگی کی وجہ سے لوگ ایسے عناصر کے ساتھ مل جاتے ہیں جو انہیں منفی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس عائد کرنا ہے تو اس کا آغاز ارکان پارلیمنٹ سے کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت آبادی پر کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے وہ اپنی کوتاہی کو قبول کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بحیثیت قوم ہم سب کو اپنی اپنی کوہتاہی کو قبول کرنا چاہئے۔یہ وہ کوہتایاں ہیں ،جو آپ کے گھروں کی رونق،خوشیوں کا منبع،گلشن کے پھول،اور مستقبل کا عکس ہیں۔ان پھولوں کو انگاروں میں تبدیل کیا ہے ۔تو اس میں قصور کس کا ہے۔ ان پھولوںکو کیا ہم نے مفت تعلیم،روٹی،سر چھپانے کی جگہ دی ہے۔پھر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ تو اس دنیا میں آکر خوب مزے لوٹیں۔اور آنے والے بچوں پر پابندی لگادیں کہ وہ اس دنیا میں نہ آئیں۔ یہ نظام قدرت ہے۔ اس میں فرعون نے بھی مداخلت کرنے کی کوسش کی تھی۔ لیکن وہ موسی کی آمد کو نا روک سکا۔پارلیمنٹ بھی یہ کوسش کرکے دیکھ لے۔



Leave a Comment







June 26, 2009, 5:01 am

Filed under: Uncategorized

پیدل جام ان حیدرآباد

عطا محمد تبسم

اس با ر عید کی چھٹیاں کچھ اس ترتیب سے آئیں کہ پورے ہفتے کی چھٹیا ں مل گئیں۔سو عید کی گہماگہمی سے پہلے ہی اپنے آبائی شہر کا رخ کیا ۔حیدرآباد کا شمار گو اس طرح آبائی شہر میں نہیں ہوتا لیکن جس شہر میں آپ کے والدین ہوں،بھائی بہن ہوں،عزیز دوست ہوں،اس شہر میں عید منانے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔گزشتہ ۲۳ برسوں سے یہی معمول رہا ہے۔ہر عید اور بقر عید کو ہم حیددآباد ہوتے ہیں۔اس لئے کراچی کے دوستوں اور احباب سے فون پر رابطہ ہوتا ہے۔اس بار عید کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ ۶۲ اگست کو والد محترم کے انتقال کے بعد پہلی عید تھی۔اس لئے گھر پر آنے والے دوستوں،احباب، رشتہ داروں کا تانتا بندھا رہا۔رمضان المبارک کے آخری عشرے کی تراویح،اور طاق راتوں کی سعادت بھی اپنے شہر میں ملیں۔ کرچی کی برق رفتار مصروفیت کے بعد حیدرآباد شہر میں پہنچ کر یوں محسوس ہوتا ہے۔ جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے سایہ عافیت میں آکر پرسکون ہوجائے۔ہر چیز میں شانتی ،امن،اورسکون محسوس ہوتا ہے۔

ختم القران کی تقریب مسجد عبداللہ نزد ٹیچرز ٹرینگ کالج میں شرکت کا موقع ملا۔ یہاں حافظ عبداللہ تراویح پڑھاتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کو وہ لحن ا ور سوز دیا ہے کہ قران سننے کے لئے دور دور سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ختم القران کی تقریب میں بھی شمع رسالت کے پروانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے انتظامات بھی قابل رشک تھے۔اس روح پرور اجتماع، میں حافظ تنویر کی شرکت اور تقریر نے بھی ایک سماں باندھ دیا۔حافظ تنویر صاحب ایک حادثے میں زخمی ہونے کے باوجود ختم شریف میں شریک ہوئے۔اور روح پرور خطاب بھی کیا۔لوگوں کو نیکی کی چھوٹی ، چھوٹی باتیں بتاتے ہیں۔ با عمل آدمی ہیں۔ہر سال تراویح پڑھاتے ہیں۔اسی سال سے زائد عمر ہے۔ لیکن آواز میں وہی بانکپن ہے،۔اللہ ،اللہ، جو اللہ کی کتاب سے حکمت کے موتی چن چن کر لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں۔اللہ ان کی حفاظت بھی خوب کرتا ہے۔لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔جو ان نیکیوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔گزشتہ ۰۵ برس سے مسجد عبداللہ کا رستہ ٹیچرز ٹرینگ کالج کی راہداری سے گزرتا ہے۔ لیکن رمضان میں نہ جانے کالج کے پرنسپل کے دل میں کیا بات آئی کہ انھوں نے گیٹ پر تالے ڈلوادئے۔نمازیوں نے کئی نماز سڑک پر ادا کی۔ختم شریف کی تقریب سے متعلق بھی انھوں نے ایک انہتائی نامناسب بیان اخبار میں شائع کرایا ہے۔محکمہ تعلیم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ۔حیدرآباد میں ٹریفک کی مارا ماری اس قدر ہوگئی ہے کہ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر پر بھی کراچی کے اثرات آتے جا رہے ہیں۔چاند رات کو شاہی بازار،چاندنی چوک،سرے گھاٹ،قلعہ چوک،پریٹ آباد، سٹی کالج کے اطراف میں جو افراتفری مچی ہے۔اس کا کیا ذکر، قبرستان جانے اور آنے میں لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔عید کے موقع پر بھی شہر میںموٹر سائیکلوں نے گلیوں میں لوگوں کا چلنا دوبھر کردیا ہے۔ اب حیدرآباد کے سرے گھاٹ،چھوٹکی گٹی،فقیر کا پڑ، حیدرچوک اور دیگر جگہوں پر کراچی جیسا ٹریفک جام ہوتا ہے۔فرق اتنا ہے کہ کراچی میں یہ ٹریفک جام گاڑیوں کے لئے ہوتا ہے۔ حیدرآباد میں اس میں موٹر سائیکل اور پیدل چلنے والے جام ہوجاتے ہیں۔ اس لئ پاسبان مل گئے ۔۔۔۔۔

عطا محمدتبسم



یہ صدی واقعی انہونے واقعات کی صدی ہے۔ آگ اور پانی کا ملاپ ہو رہا ہے اور کل کے دشمن آج پھر دوستی کے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ کعبہ کو صنم خانے سے پاسبان مل رہے ہیں۔ سب سے پہلی انہونی تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں نظام شریعت کے نفاذ کا مطالبہ مان لیا ہے اور صوفی محمد اور انکے ساتھیوں سے معاہدہ کر لیا ہے ۔گو حکومت کی جانب سے اس معاہدے کو 1994کے نظام عدل کی تجدید قرار دیا جا رہا ہے۔ پشاور میں امن جرگہ ختم ہوگیا ہے اور سرحد کی اے این پی کی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے درمیان ملاکنڈ میں نظام عدل کا معاہدہ طے پاگیا ہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمن کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے پہلے امن قائم کرو کی شرط عائد کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ صدرآصف علی زرداری نے کسی نظام عدل کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ہم بھی حیران تھے کہ صدر زرداری کیسے کسی نظام عدل کے معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ وہ تو سرے سے معاہدوں کی پاسداری ہی کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا تو کہنا ہے کہ معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔یہ بھی انہونی ہے کہ اے این پی جو اپنے اشتراکی نظریات کا پرچار کرتی تھی۔ اور اسکے رہنما سرخ سویرا کی بات کرتے تھے۔ اور سرخ پوش کہلاتے تھے۔ انکے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے اعلان کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویڑن اور کوہستان میں قرآن و حدیث کے منافی قوانین ختم کر دیے گئے ،نظر ثانی کی اپیلوں پر شرعی بینچ قائم کیا جائے گا۔ دوسری حیران کن خبر یہ ہے کہ چینی حکمران پارٹی اور جماعت اسلامی نے باہم مفاہمت کی دستاویزپر دستخط کےے ہیں۔ جماعت اسلامی کو چین کی حکومت میں سرکاری طور پر دعوت دی تھی جس کے بعد جماعت اسلامی کا وفدامیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کی قیادت میں ، نائب امراءلیاقت بلوچ،پروفیسر محمد ابراہیم،امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد سراج الحق، ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان عبدالغفار عزیز،آصف لقمان قاضی کے ہمراہ چین گیا تھا۔ چین کے ایک ہفتے کے دورے کے اختتام پر جماعت اسلامی پاکستان نے چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ(CPC)کے ساتھ ہمہ پہلو تعاون کی جامع مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ مفاہمتی دستاویز میں برابری‘ آزادی،باہم احترام اور ایک دوسرے کے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے 4 اصولوں پر اتفاق کیاہے۔ مفاہمتی دستاویز پر حکمران پارٹی سی پی سی کے سیکرٹری امور خارجہ لیوہونگ سائی (Lio Hong Sai)اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل سید منورحسن نے دستخط کےے ہیں۔تیسری انہونی یہ ہے کہ دس برس کے بعد میاں صاحبان نے ایک بار پھرقبلہ بدل لیا ہے اور انہوں نے ایم کیو ایم سے دوستی کی جانب ہاتھ بڑھائے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف خود بنفس نفیس الطاف حسین کو سلام کرنے کیلئے کراچی آئے ہیں۔ دس برس کے بعد مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کی جانب دست تعاون دراز کیا ہے۔ اور پنجاب کے عوام کی جانب سے سندھ کے عوام کو 50 ہزار ٹن گندم کا تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ میاں صاحب کے تعاون کی کراچی نے ماضی میں بڑی بھاری قیمت چکائی ہے۔ وکلاءبھی حیران ہیں کہ میاں صاحب کے کس وعدے اور کس یقین دہانی پر اعتبار کریں۔ وکلاءجومیاں نواز شریف کے ایماءپر لانگ مارچ میں دھرنا دےنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ وہ اب سوچ رہے ہیں کہ میں ہائے دل پکاریں کہ چلائیں ہائے جان۔۔۔ واقعی صدر زرداری حیران کر دینے کی صلاحتیں رکھتے ہیں۔ ان ہونے واقعات سے ہی ان کی صدارت نے جنم لیاہے۔ اور ابھی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔E-mail: tahakn@gmail.com¥ اسے آپ پیدل جام کہ سکتے ہیں۔



صد افتخار قوم کو افتخار مل گیا

عطا محمد تبسم



کیوبا کے فٹبالر ایرک ہرنانڈیز نے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک فٹبال کو اپنے گھٹنوں پر نچا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ جبکہ ایون صدر کی مقتدر قوتوں نے پوری پاکستانی قوم کو ۶۹ گھنٹوں تک انگلیوں پر نچانے کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے وہ بھی اس قابل ہے کہ اسے ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔۲۱ مارچ کو کراچی میں مزار قائد کے اطراف جب پولیس ،خفیہ پولیس ، اور میڈیا کے کیمرا مینوں کی بڑی تعداد دیکھی تھی تو میرے دل میں بہت سے خدشات تھے ۔لیکن وکلاءاور سیاسی کارکنوں نے جس حوصلے اور ذمہ داری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ اس قابل ہے کہ اس پر جماعت اسلامی، تحریک انصاف، اور وکلاءبرادری کو شاندار خراج تحسین پیش کیا جائے۔اتوار کو لاہور میں وکلاءبرادری سول سوسائٹی ، سیاسی کارکنوں نے جس حوصلے سے جبر اور تشدد کا مقابلہ کیا وہ بھی حیران کن ہے۔ ۹ اپریل ۷۷۹۱ کو بھی پنجاب میں ایسی ہی صورتحال تھی۔ جب فوج نے عوام گولی چلانے سے انکار کردیا تھا۔ جوں عوامی جذبات میں شدت بڑھ رہی تھی۔ پولیس پسپا ہورہی تھی۔ پھر لیاقت بلوچ اپنے کارواں کو لے کر نکلے تو جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ سب سے بڑھ کر میاں نواز شریف کی جی داری تھی۔ مسلم لیگ نون کی جارحانہ ریلی نے خود لاہور والوں کو حیران کرکے رکھ دیا ۔پندرہ برس پہلے تحریک نجات کے دوران بھی نواز شریف نے لاہور میں ایک بڑا جلوس نکالا تھا لیکن اس زمانے میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ریاستی تشدد کے ایسے ہتھکنڈے استعمال نہیں کیے تھے جن کا مسلم لیگ نون آج کل سامنا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں لاہور بھٹو کے پرستار دیوانوں کا شہر بھی ہے لیکن صرف ایک برس پہلے جب مرحومہ بے نظیر بھٹو کو لانگ مارچ سے روکنے کے لیے مشرف حکومت نے ڈیفنس میں نظر بند کیا تھا تو ان کے جیالے اپنے بل بوتے پر انہیں ایک چوراہا بھی پار نہیں کرواسکے تھے۔اس اتوار کو نواز شریف کے حامیوں نے وہ کام کردکھایا ہے جس کی ان سے کبھی توقع نہیں کی گ گئی نواز شریف جب پہلی رکاوٹ توڑ کرنکلے تو لوگوں کو دیوانہ وار ان کی جانب بھاگتے دیکھا۔ ماڈل ٹاو ¿ن کی گلیاں نعرے مارتے کارکنوں کو ایسے اگلنے لگیں جیسے کلاشنکوف کی نالی سے گولیاں نکلتی ہیں۔ صرف دس منٹ کے اندر تعداد تین سو سے بڑھ کر ہزاروں ہوچکی تھی اور اگلے ایک گھنٹے کے اندر یہ لاکھوں کا ایک سیل روں تھا۔شام کو اہلیان لاہور نے نواز شریف کو وہ قوت دے دی تھی جو چاہتی تو پورے پنجاب میں آگ لگا سکتی تھی۔لاہور کے شہریوں نے گزشتہ بارہ چودہ برس کے دوران ایسی پرتصادم اتنی بڑی ریلی نہیں دیکھی تھی اور اس بار لانگ مارچ کچلنے کے لیے جتنے سخت اقدامات کیے گئے تھے اس کی مشرف کے فوجی دور میں بھی نظیر نہیں ملتی۔ ایسے حالات میں اتنی بڑی ریلی کو خود مسلم لیگی حلقے معجزہ قرار دے رہے ہیں۔’میں نے قدم بڑھا دیا ہے اپنا وعدہ پورا کرو میرے ساتھ آو ¿ ہم اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ نواز شریف کی تقریر کے الفاظ میڈیا براہ راست دکھائی اور سنائی دے رہے تھے۔ مسلح پولیس میں محصور نواز شریف کی آٹھ منٹ کی جذباتی تقریر نے لاہور میں آگ سی لگا دی تھی۔ کارکن انتہائی جذباتی ہوگئے۔ ۔نظربندی کے ریاستی پروانے ردی کے ٹکڑوں سے حقیر ہوگئے تھے ، پابندیوں کی خاردار تاریں موم بن کر پگھل گئیں اور رکاوٹوں کے کنٹینر آبی بخارات بن ہوا میں تحلیل ہوگئے۔ پولیس اہلکارعوام میں شامل وردیوں میں ناچ رہے تھے۔لاہور کی سڑکیں پنجاب پولیس زندہ باد کے عجیب نعروں سے گونجنے لگیں۔پولیس پسپا ہونے کے مناظر کے ساتھ یہ حیرت انگیزمنظر دیکھنے میں آیا کہ عورتیں اپنے بچے اٹھائے جلوس میں شامل تھیں۔۔ مال روڈ پر جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ کارکنوں نے پولیس فورس کو نا کوں چنے چبوادئے۔ نواز شریف کا قافلہ اسلام آباد کی طرف روں تھا۔ اور اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ رات کے پچھلے پہر بلا آخر ا عصاب شکن اس جنگ کے خاتمے کے آثار نظر اآئے۔ اور صبح سویرے میرے عزیز ہم وطنوں کے بجائے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے علی الصبح قوم سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے عہدے پر بحال کرنے کا اعلان کیاتو پورے ملک میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی انھوں نے یہ کہ کر کہ میری قائد شہید بی بی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس اپنے عہدے پر بحال کریں گی ۔ پیپلز پارٹی اس جیلے کارکن کو بھی خوشیوں سے ہمکنار کرادیا جو شہید بی بی کے وعدے کے ایفا نہ ہونے پر شرمندہ تھا۔ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین فیصلے کے بعد جہاں ملک بھرمیں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں خوشگواری کا پہلو اجاگر ہوگیا ہے وہیں ملک کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی آج ابتداء سے ہی تیزی کا رجحان غالب ہے۔ امریکا نے جسٹس افتخار کی بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔۔پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکا کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہال بروک نے پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے اس ڈیڈ لاک کے ختم ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے جس پامردی سے اور صبر و تحمل سے اس تحریک کی قیادت کی ہے وہ بھی مثالی ہے۔۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے قوم کو خوش خبری دی ہے۔کہ اب ملک کی تقدیر بدلے گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ اگر چیف جسٹس کے عہدے کے میعاد کم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے جمہوریت کو نقصان ہوگا۔ بلا شبہ وکلا تحریک میں میڈیا کا رول ناقابل فراموش ہے۔ ریاست کے چوتھے ستون نے اپنی قوت کا ادراک کرتے ہوئے جو لازوال کر دار ادا کیا ہے۔وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔شیری رحمان نے اصولوں کے خاطر استعفی دے کر پیپلز پارٹی کے اس اصول پرست گروپ کی قدرومنزلت میں اضافہ کردیا ہے۔ جس میں اعتزاز احسن، صفدر عباسی،ناہید خان، رضا ربانی،عبدالحئی گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل جسے رہنما ہیں۔یہ بھی پہلی بار ہوا کہ پیپلز پارٹی کے بہترین اور تجربہ کار رہنما اور وزیر پارٹی موقف کا دفاع کر نے میں ناکام رہے۔پورے دن کے دوران نہ تو کسی ٹی وی چینل نے ان کی پراعتماد مسکراہٹ کی جھلک دکھائی اور نہ ہی منظور وٹو سمیت ان پانچ وفاقی وزیروں کی کوئی آواز سنائی دی جنہیں آصف زرداری نے لانگ مارچ کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب بھیجا تھا۔۔ بڑھ سکی اور سندھ کی سرحد اس کے لیے سات سمندر بن چکی تھی۔ملتان سے چھ سو کارکنوں کا جو جلوس نکلا تھا وہ چھ کلومیٹر بعد ہی کہیں گم ہوگیا۔ریاستی تشدد نے تحریک کےحامیوں کے چہروں میں مایوسی کے بادل لہرا دیئے تھے لیکن اہل لاہور نے امیدوں کے ایسے دیے روشن کردیئے ہیں جن میں سورج کی سی تپش دینے کے صلاحیت موجودہے۔تقریر سے پہلے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان طویل ملاقات ہوئی۔پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلی عدالتوں کے دیگر معزول ججوں کو بحال کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں وہ 22 مارچ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔ موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر 21 مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اعلی عدالتوں کے معزول ججوں کو بھی ا ±ن کے عہدے پر بحال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی نااہلی کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔پیر کی صبح قوم سے خطاب کے دوران وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد کی رہائی کے احکامات بھی جاری کیے جنہیں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے افتخار محمد چودھری کو بطور چیف جسٹس بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی تو ا ±س وقت عبدالحمید ڈوگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے اس لیے ا ±نہیں عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا تھا۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ چیف جسٹس اور دیگر وکلائ کی بحالی کے بارے میں نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔ اس تقریر سے پہلے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان تین گھنٹے تک طویل ملاقات ہوئی جس میں ملک میں موجودہ ملکی سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔ صدر اور وزیر اعظم نے ان فیصلوں کے متعلق حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی اور ا ±نہیں ان اقدامات کے بارے میں ا ±نہیں اعتماد میں لیا۔ ان قائدین میں عوامی نیشل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی جمعت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین شامل ہیں۔وزیر اعظم یوسف گیلانی کی طر ف سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد وکلائ کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھرپر پہنچ گئی اس کے علاوہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں بالخصوص ججز کالونی کے باہر تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئیں ہیں۔ججز کالونی میں ایک جشن کا سا سماں ہے اور وکلائ اور سول سوسائٹی کے ارکان ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے اور اس موقع پر مھٹائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔وزیر اعظم کی تقریر کے بعد معزول ججوں کی بحالی کے اعلان کے بعد راولپنڈی میں بھی متعدد مقامات پر رکاوٹیں ہٹا دی گئیں اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ازاد عدلیہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔واضح رہے کہ گذشتہ برس سید یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم بنے تھے تو انہوں نے پہلے ہی خطاب کے ا ±ن تمام معزول ججوں کو رہا کرنے کے احکامات دیئے تھے جنہیں سابق ملڑی ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ججز کالونی میں نظر بند کردیا تھا۔وکلائ کی تحریک دو سال تک جاری رہی اور اسی تحریک کی ہی بدولت جمہوریت پسند قوتیں اقتدار میں آئیں اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی اسی تحریک میں شامل رہی ہے اور اس تحریک کے دوران جتنے خودکش اور بم دھماکے ہوئے ا ±س میں سب سے ذیادہ جانی تقصان پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوا بعدازاں حکومت میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت اس تحریک سے نہ صرف علیحدہ ہوگئی بلکہ حکومت میں شامل وزرائ کی طرف سے یہ بیان بھی آتے رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سیاسی ہوگئے ہیں اس لیے ا ±نہیں اب خود ہی اس عہدے سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔صدر آصف علی زرداری نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ تحریری معاہدے بھی کیے تھے بعدازاں ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا جس پر پاکستان مسلم لیگ نون حکومت سے علیحدہ ہوگئی تھی۔حکمراں جماعت کا کہنا تھا کہ ملک میں تین نومبر ملک میں ایمرجنسی کے بعد جن ججوں کو معزول کیا گیا تھا ا ±ن میں سے 95 فیصد ججوں نے حلف ا ±ٹھالیا ہے اور اگر افتخار محمد چودھری بحال ہونا چاہتے ہیں تو ا ±نہیں دوبارہ حلف لینا ہوگا تاہم ا ±نہیں چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کرنے کے بارے میں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

سابق وزیر قانون اور سیینٹ کے نومنتخب چیئرمین فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آئین میں ججوں کی دوبارہ تعیناتی کا قانون تو موجود ہے بحالی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔اس وقت افتخار محمد چودھری کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار ججوں کو بحال کیا گیا ہے ان میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس راجہ محمد فیاض، جسٹس محمد اعجاز چودھری اور جسٹس فلک شیر شامل ہیں۔جسٹس جاوید اقبال نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا تاہم جب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے جن معزول ججوں کی نظر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تو انہوں نے اپنےعہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ وہ افتخار محمد چودھری اور جسٹس رانا بھگوان داس کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سنئیر جج تھے۔سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اس ماہ کی اکیس تاریخ کو ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرجسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق پیر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔واضح رہے کہ افتخار محمد چودھری کو نیویارک بار ایسوسی ایشن کی تاحیات اعزازی رکنیت دینے کے علاوہ ا ±نہیں مختلف اعزازات سے بھی نوازا گیا۔حکوحکومت نے شریف برادران کو تحریری طور پر بتایا کہ انکی جان خطرے میں ہے۔ وکیلوں کو خبردار کیا کہ لانگ مارچ کے دوران خودکش حملے اور ممبئی سٹائل کی وارداتیں ہوسکتی ہیں۔اچنانچہ بڑے خطرے سے بچانے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی اور پٹائی وغیرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔حکومت نے کراچی سے اسلام آباد تک پانچ ہزار کنٹینر تمام اہم سڑکوں پر کچھ اس طرح رکھ دیے کہ عام آدمی تو رہا ایک طرف دھشت گرد بھی ان کنٹینروں کے آرپار نہیں جا سکتے۔ انسانی حقوق کی ایک کارکن مسرت ہلالی کی ٹانگ، طاہرہ عبداللہ کا چشمہ اور بہت سے سیاسی کارکنوں اور وکیلوں کے دروازے اور سر ٹوٹ گئے ۔نوجوان ملک اور قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور حکومت دھشت گردوں کے ہاتھوں یہ مستقبل تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔چنانچہ اس مستقبل کو آدھی رات گئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے یونیورسٹی ہاسٹلوں سے نکال کر سڑک پر کھڑا کردیا گیا۔ تاکہ یہ نوجوان طلبا و طالبات اپنی مرضی سے جہاں بھی خود کو محفوظ سمجھیں پیدل چلے جائیں۔



لیبلز:

جمعہ، 25 مارچ، 2011

کراچی کیوں آتش فشاں ہے

عطامحمدتبسم


بجلی کی قیمت میں غیر معمولی اضافے ‘ مسلسل لوڈ شیڈنگ ،پانی کی قلت نے ، عوام میں شدید بے چینی‘اور ایسے احتجاجی رویہ کو جنم دیا ہے۔جو ملک کو انارکی اور بدترین تشدد کی جانب لے جارہا ہے۔ بد ترین اقتصادی بحران میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔ عوام بے روزگاری کا شکار ہیں ۔ بجلی کے بلوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس پر کوئی وزیر یہ کہے بجلی کے بحران کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں کوئی بھی بجلی کا بل ادا نہیں کرتا۔تو یہ ایک ایسا پیٹرول بم ہے۔جو آئندہ ایسے دھماکے کرے گا کہ لوگ خود کش حملوں کو بھول جائیں گے۔وزیر موصوف نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ملک کو سردیوں میں گیس کی کمی کا بھی سامنا ہو گا اور گیس کی بھی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی ،انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سندھ میں42فیصد بجلی چوری ہوتی ہے۔ عوام کے غیض وغضب کا ایک ہلکا سا مظاہرہ تو گزشتہ روز نظر آگیا۔ جب پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت صوبے کے قصبوں، شہروں اور دیہاتوں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف تاجر تنظیموں کی کال پر شٹر ڈاﺅن ہڑتال، پرتشدد مظاہرے، واپڈا، لیسکو،فیسکوکے دفاتر سمیت کئی سرکاری دفاتر اور پولیس موبائلوں پرحملے ، اورمشتعل افراد کی جانب سے ساندل ایکسپریس کی 4 بوگیوں کو نذر آتش کردیاگیا۔پنجاب کے متعدد شہروں میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔جھنگ شہر میں روزانہ 18 گھنٹے سے 20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ سے پریشان عوام سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سرگودھا سے ملتان جانے والی ٹرینوں کو روک کر مسافروں کو اتار لیا اورساندل ایکسپریس کی 3 بوگیوں کو نذر آتش کر دیا۔ شہری ٹرین کی چھتوں پر چڑھ گئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ اس سے قبل صبح سویرے واپڈا ہاﺅس کو بھی آگ لگا دی گئی‘ مظاہرین نے پولیس کی بھی 2 گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔لاہور روڈ پر واپڈا فیسکو آفس پر دھاوا بول دیا۔ وہاں موجود اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ریکارڈ پھاڑ کر اسے آگ لگا دی۔ یہ حالات ملک کے سب سے بڑے صوبے کے ہیں۔ جہاںروٹی دو روپے کی ملتی ہے،آٹا کراچی کے مقابلے میں آدھی قیمت پر دستیاب ہے۔پانی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کراچی کی نسبتا کم ہیں۔ صوبائی حکومت عوام کی امنگوں کی ترجمان کہی جاتی ہے۔گذشتہ دنوں حیدرآباد پریس کلب میں دعوت چائے کے موقع پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر حیسکو حبیب اللہ خلجی نے عوام کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ بجلی پر سبسڈی ختم کی گئی تونرخ فی یونٹ12روپے تک پہنچ جائیں گے ۔ اس وقت مجموعی طورپر بجلی کی قیمت 5روپے 71پیسے فی یونٹ ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتا یا کہہ اس وقت دیہی علاقوں میں 8اور شہری علاقوں میں 6گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔جبکہ دیہاتوں میں میٹرریڈنگ بھی نہیں ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت حیسکو کے مختلف اداروں پر 15ارب روپے کے بقایا جات ہیں ۔ بجلی بحران کے پیش نظر اور بقایا جات کی وصولی کے لیے پاکستان الیکٹرک سپلائی کمپنی نے حال ہی میںملک بھر میں ایک ہی جگہ پر بجلی کے دو یا اس سے زائد کنکشن لگانے پر فوری طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ واپڈا کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بجلی کے 2 کنکشنز کے موجودگی کے سبب بجلی چوری میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ ایسے کنکشن کے حامل صارفین سے واجب الادا رقم کے حصول میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔ پچھلے دنوں کے سخت موسم میں پانی و بجلی کے و فاقی وزیر راجاپرویز اشرف نے کراچی میں کئی خوبصورت باتیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ (۱)کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے معاملات درست نہ کیے تو حکومت کو انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے انتظامی امور واپس لینے پڑیں گے۔(۲) آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق جولائی سے بجلی پر ایک روپے کی بھی سبسڈی نہیں دی جا سکتی جس کے باعث بجلی کے نرخوں میں 35فیصد تک اضافہ کرنا ہوگاجس میں سے فوری طور پر 15 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔۔(۳) بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے (۴) پیپکو کے واجبات میں اضافے کی بڑی وجہ بجلی کی چوری ہے ، (۵) قائمہ کمیٹی اور سیاسی قیادت کنڈا سسٹم کے خاتمے کیلئے ہماری مدد کریں (۶) کراچی کے دوستوں کو بجلی کی قیمت میں اضافے کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ آپ قیمت بڑھادیں ہم کنڈوں کی تعداد بڑھا دیں گے۔اس موقع پر ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت چیمہ نےیہ بھی بتایا تھا کہ کچے کے علاقے میں ایک ہزار غیر قانونی ٹیوب ویلز چل رہے تھے جن کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے 30 ٹرانسفامرز اتار کر ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کرا دی گئی ہیں ۔ ایم ڈی پیپکو نے مزید بتایا تھا کہ 31مارچ 2009ءتک پیپکو کی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی سے قابل وصول رقم 80.1ارب، فاٹا 81.8ارب، حکومت سندھ 14.7ارب، آزاد کشمیر 1.8ارب، بلوچستان میں ٹیوب ویلز کیلئے مرکزی حکومت اور بلوچستان حکومت سے 4.7ارب جبکہ نجی شعبہ سے 73.4ارب روپے ہے۔ دوسری جانب پیپکو کے ذمہ آئی پی پیز کی 70.5ارب روپی، گیس سپلائرز 14.1ارب، آئل کمپنیوں کے 7.3 ارب، واپڈا 39.2ارب اور دیگر کی 5.8ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے۔ بجلی کی کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے حکومت نے بنکوں سے 5.8ارب روپے کے قرضے حاصل کیے اور 2009-10ءکیلئے 92.2ارب روپے کے ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس کا اجراءکیا گیا۔بجلی چوری میں غریب لوگوں کے مقابلے میںامیر اور باثر لوگوں کا کتنا حصہ ہے ۔اس کا اندازہ معاصر اخبار کی اس خبر سے ہوجاتا ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈیفینس اور کلفٹن کے علاقوں میں بااثر لوگوں کے گھروں میں کیسے دھڑلے سے بجلی چوری ہورہی ہے۔ اور کوئی مائی کا لال ان کے کنکشن کاٹنے کی جرات نہیں کرتا۔ ان علاقوں میں کے ای ایس سی کو صرف بجلی کی فراہمی کی مد میں 72کروڑ روپے ماہانہ نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔کے ای ایس سی ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں بجلی چوری میں کے ای ایس سی کے 16سینٹرز کے منیجرز اور دیگر افسران براہ راست ملوث ہیں جو اپنے سینٹرز کی حدود میں ماہانہ 20سے25لاکھ روپے رشوت وصول کر رہے ہیں۔کے ای ایس سی کے اعداد و شمار کے مطابق ڈیفنس اور کلفٹن میں ایک ہزار مربع گز کے بنگلہ میں 3ہزار سے10ہزار کلو واٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ ماہانہ اوسط بل 4ہزار ہونا چاہیے تاہم کے ای ایس سی کو ماہانہ اوسط 4ہزار روپے فی گھر کے حساب سے 80کروڑ روپے وصول ہونے کے بجائے 4سوروپے فی گھر کے حساب سے صرف 8کروڑ روپے مل رہے ہیں۔ان دونوں علاقوں میں بجلی چوری ہونے کی وجہ سے کے ای ایس سی کو سالانہ8ارب64کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔رپورٹر نے ان صارفین کے میٹر نمبر بھی دئے ہیں جو ان سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور دیگر لاکھوں صارفین کا بھی یہی معاملہ ہے۔ کے ای ایس سی کی سابق اور موجودہ انتظامیہ ڈیفنس ، کلفٹن اور شہر کے دیگر علاقوں میں ماہانہ کروڑوں روپے کی بجلی چوری کے بارے میں آگاہی کے باوجود ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کررہی ہے اور اس اہم مسئلے پر پر اسرار خاموشی اختیار کرلی۔کے ای ایس سی کی شیئرز ہولڈرزایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری چوہدری مظہر نے بتایاکہ انتظامیہ بجلی چوری کی روک تھام میں سنجیدہ نہیں ہے اور اس اہم معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔یہ ہے بجلی کی چوری کی صورتحال ،اس معاملے میں نہ حکومت سنجیدہ ہے نہ کے ای ایس سی، نواز شریف کے زمانے میں جن لوگوں کو لاکر واجبات وصول کرنے کے لئے بٹھایا گیا تھا۔ اس وقت لائن لاسسز ۴۲ فیصد تھے۔ان کے جانے کے وقت یہ لائن لاسسز ۰۴ فیصد ہوگئے۔ انھوں نے واجبات کی وصولی پر کمیشن بھی حاصل کئے۔کے ای ایس سی کس کی ملکیت ہے یہ بھی ایک سوال ہے۔کون ہے جو پردے میں چھپا بیٹھا ہے۔کون ہے جو صرف ریکوری پر نظر گاڑھے بیٹھا ہے۔ کے ای ایس سی کی زمینوں،عمارتوں،پر دانت گاڑھے ہوئے۔ ۸۱ ماہ سے کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ بجلی کی صورتحال بہتر کیسے ہوگی۔اب بھی وقت ہے کراچی کے عوام کو سہولت دی جائے۔نئے منصوبے جنگی بنیادوں پر شروع کیئے جائیں۔ سستی بجلی دی جائے۔ آئی ایم ایفکے چنگل سے نکلا جائے۔ ورنہ کراچی یونہی آتش فشاں بنا رہے گا



Leave a Comment







ایک مظلوم مسلمان عورت کی پکار

July 17, 2009, 9:23 am

Filed under: Uncategorized

ایک مظلوم مسلمان عورت کی پکار

عطا محمد تبسم

حقوق انسانی کی دہائی دینے والے،اور آزادی صحافت کی آواز بلند کرنے والے معاشرے میں عدالتی کاروائی ایسی ہوتی ہیں۔ اور انصاف کا خون اس طرح کیا جاتا ہے۔اس بارے میں سوچ کر شرم آتی ہے۔ ایک حافظ قران،اعلی تعلیم یافتہ با پردہ خاتون کی ایسی بے حرمتی۔یہ سب ایک پاکستانی بیٹی کے،ایک ماں کے، ایک محب وطن خاتوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ عقوبت خانے میںقران کی بے حرمتی کی جارہی ہے اور ہم خاموش ہیں۔انوسٹیگیشن کے نام پر اسے برہنہ کرکے اس کی وڈیوز بنائی جاتی ہیں۔امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی یہ ستم ڈھائے جارہے ہیں اور ہم خاموش ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ پر امریکوں نے جو مقدمہ بنایا ہے اس کو دیکھ کر ظہور الہی مرحوم پر بھینس چوری اور ارباب غلام رحیم کی جانب سے آصف زرداری کے خلاف بکری چوری کا مقدمہ بنانے کی د ھمکی یاد آجاتی ہے۔ عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میںچھ امریکی فوجیوں کی موجودگی میںایک امریکی فوجی سے ایم فور رائفل چھین لی اور اس کا سیفٹی گیج کھینچ کر امریکی فوجی پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ گویا امریکی فوجی چوڑیاں پہن کربیٹھے تھے ۔ کس کے بعد ایک امریکی فوجی نے اس پر نزدیک سے گولی چلائی ۔ جس میں سے ایک گولی نے اس کا گردہ ناکارہ کردیا اور دوسری گولی اس کے دل سے ایک سنٹی میٹر نیچے سے گزر گئی ۔ عافیہ نے نیویارک میں سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر نہ تو گولی نہیں چلائی اور نہ ہی وہ امریکہ کے خلاف ہیں بلکہ وہ امن کی حامی اور جنگ کے خلاف ہیں۔ نیویارک کی وفاقی عدالت یو ایس کورٹ صدرن ڈسٹرکٹ میں جج رچرڈ ایم بریمین کے سامنے جب خاتون پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جیل سے مبینہ طور زبردستی پیش کیا گیا ۔سات گھنٹوں کی عدالتی کارروائی کے دوران ڈاکٹر عافیہ مختلف مواقع پر اٹھ کر جج کو مخاطب کرتی رہی ۔ انہوں نے خود پر جیل میں تشدد ہونے اور جیل کے محافظوں کی طرف سے مبینہ طور پر قرآن کو ان کے پاو ¿ں میں رکھنے کے بھی الزامات لگائے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو تقریباً دس ماہ کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔جج رچرڈ بریمن کے سامنے عدالت کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی اٹھ کر کھڑی ہوئی اور جج سے مخاطب ہوکر کہا: ’میں بےگناہ ہوں۔ میں نے کوئی گولی نہیں چلائی۔ نہ میرے پاس بندوق ہے۔ میں امریکہ کے خلاف نہیں ہوں‘۔ جج نے اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ کو عدالتی کارروائی میں مخل نہ ہونے اور بیٹھ جانے کو کہا۔استغاثہ کی جانب سے غیرجانبدار نفسیاتی ماہر ڈاکٹر تھامس کوچارکی اور گریگوری بی سیتھاف نے وکلاءاور عدالت کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نفسیاتی طور پر مقدمہ چلائے جانے کی اہل ہیں۔دوسری جانب وکیل استغاثہ کا موقف تھا کہ ڈاکٹر صدیقی نفیسیاتی طور پر بالکل ٹھیک ہیں اور وہ مقدمے سے بچنے کے لیے بہانے کر رہی ہیں۔جبکہ ان کی وکیل صفائی ڈان کارڈی نے استغاثہ کی طرف سے مقرر کردہ ماہر نفسیات کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ اذہنی اور نفسیاتی دباو ¿ کا شکار ہیں۔سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ نے ایک موقع پر اپنا رخ کمرا عدالت میں موجود عام لوگوں اور صحافیوں کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاکر دنیا کو بتائیں کہ ’میں بے قصور ہوں اور مجھ پر ظلم ڈھائے گئے ہیں اور سازش کی گئی ہے‘۔جب جج نے انہیں خاموش رہنے اور بیٹھ جانے کو کہا تو انہوں نے براہ راست جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ان پر تشدد کیا جارہا ہے اور جسم برہنہ کرکے تلاشی لی جاتی ہے اور اس کی وڈیو بنائی جاتی ہے اور یہ سب کچھ ان کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ اس پر جج نے کہا کہ وہ جیل حکام کو صرف قواعد کے مطابق تلاشی کی مزاحمت کرنے والوں پر سختی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ ’اگر کسی کی برہنہ کر کے تلاشی لی جائے تو کیا وہ مزاحمت بھی نہ کرے!‘- انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اپنے بچوں سے ملوایا جائے اور ان کے ساتھ پانچ سال سے ہونے والے ظلم و تشدد کا حساب بھی لیا جائے ۔ عافیہ پر اب تک کوئی جرم ثاب نہیں ہوسکا۔گزشتہ چھ سال سے پورا مغربی میڈیا اس پر الزامات لگا رہا ہے۔ لیکن اب تک کوئی جرم چابت نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کا چارٹر بھی یہ کہتا ہے کہ غیرقانونی حراست میں رکھے جانے والے کسی شخص پر کسی قسم کا الزام ثابت نہیں کیا جاسکتا۔یہ کنونشس یہ بھی کہتا ہے کہ خاتون کا تقدس ہر حال میں مقدم رکھا جائے خواہ اس پر کوئی الزام ہو ۔ لیکن آج قانوں بنانے والے ہی اسے پائمال کر رہے ہیں۔ اور ہمارے سفیر اور وزراء امریکہ کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہیں،عافیہ کی پکار ایک مظلوم مسلمان عورت کی پکار ہے۔ لیکن اب کوئی محمد بن قاسم نہیں ہے۔ جو اس پکار پر لبیک کہے۔



Leave a Comment







سوات کا نوحہ

July 16, 2009, 9:24 am

Filed under: Uncategorized

سوات کا نوحہ

عطا محمد تبسم

گھر جانے کی بیقراری کیسی ہے۔ یہ کوئی ان سے پوچھے جن کو ان کی جنت سے تن کے کپڑوں میں گھروں سے نکال دیا گیا ہو آج ان کی واپسی کا دن ہے ان کی آنکھوں میں گھروں پر جانے کے خواب ہیں لیکن وہاں گھر ہی نہ ہوا تو کیا ہوگا۔بے گھر ہونے والے افراد میں بعض ایسے بھی ہیں جنہیں سوات میں حالات کی درست ہوجانے کا اعتبار اور کسی کے دعوو ¿ں پر اعتماد نہیں ہے۔ سوات اور ملاکنڈ ڈویڑن میں ا مئی کے پہلے ہفتے میں طالبان کےخلاف شروع کی گئی فوجی کاروائی کے بعد حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تین ملین سے زیادہ افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے ۔لیکن ان ب بے گھر افراد کی صیح تعداد کسی کو معلوم نہیں ہے۔ حکومت زیادہ سے زیادہ عالمی امداد کی حصول کی خاطر بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کے بقول ایک محتاط اندازے کے مطابق ملاکنڈ ڈویڑن سے دو ملین کے قریب لوگ بے گھر ہوئے ہوں گے۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویڑن کے بےگھر افراد کی باقاعدہ واپسی پیر سے شروع ہوگی مگر کیمپوں میں کام کرنے والے غیر سرکاری امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران تیس ہزار سے زائد افراد پہلے ہی سوات پہنچ چکے ہیں۔صوبہ سرحد کی حکومت کی جانب سے لوگوں کی واپسی کےحوالے سے جاری ہونے والے نظام اوقات کے مطابق کیمپوں اور باہر رہنے والے تمام افراد کی واپسی کا عمل تین مرحلوں میں پینتیس دنوں کے دوران مکمل ہوگا۔اس سلسلے کا پہلا مرحلہ پیر تیرہ جولائی سے شروع ہوگا تاہم کیمپوں میں کام کرنے والے سوات کے چار غیر سرکاری امدادی اداروں کے اتحاد ’ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم‘ کا کہنا ہے کہ حکومتی شیڈول کے اعلان سے پہلے ہی لوگوں نے واپسی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔’ ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار سے زائد افراد پیدل چلتے ہوئےمختلف پہاڑی اور دیگر دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے سوات پہنچ چکے ہیں۔مینگورہ اور مضافات میں امن و امان کی صورتحال سکیورٹی فورسز کی گرفت میں ہے تاہم شہر میں کرفیو بدستور برقرار ہے۔کہا گیا تھا کہ ان بے خانماں لوگوں کو امداد دی جائے گی۔ اس امداد کے چیکوں وہی حال ہے جو اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ یعنی اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔ جنہیں نقد رقم کی ضرورت ہو وہ تو جو انھیں مل جائے وہ لے لیتے ہیں۔ایسے امدادی چیکوں کیش کرانے والے کمیشن ایجنٹوں کے وارے نیارے ہورہے ہیں۔ ان افراد کی بے گھری پر ہم ان ایک بار پھر کشکول اٹھایا تھا، ساری دنیا کے سامنے دہائی دی ، اقوام متحدہ کو کھڑا کیا۔ لیکن رقم ملی تو بھی کتنی صرف 230 ملین ڈالر ۔اقوام متحدہ نے بین الاقوامی امدادی اداروں اور ممالک سے مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کے لیے پانچ سو چالیس ملین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا جس میں اب تک صرف دو سو تیس ملین ڈالر وصول ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر آئی ڈی پیز پر خرچ ہو چکے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ زلزلہ زدگان کے لیے جو امداد عالمی برادری نے دی تھی ۔ اس مرتبہ بین الاقوامی امدادی اداروں اور ممالک نے پہلے کی طرح امداد نہیں دی ہے ۔ اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق اس وقت کوئی تین ہزار سکولوں کی عمارتوں میں آئی ڈی پیز رہائش پذیر ہیں اور ستمبر میں سکول کھلنے سے قبل ان آئی ڈی پیز کے حوالے سے کچھ کرنا ہوگا۔ کئی علاقوں میں موسم خوشگوار ہے جبکہ نچلے علاقوں میں گرمی بہت ہے۔ شدت پسندوں کی واپسی کا خوف بھی ہے لیکن گھروں سے دور مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ لوگ واپسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ہمارے دوست احمد فواد نے سوات پر ایک نظم لکھی ہے۔

دھواں بن کر اڑ رہا ہے سب وہ پھولوں کا دیار

گھاٹیاں فردوس صورت وادیاں جنت مثال

سوات زخموں سے نڈھال

ہنتی گاتی بستیاں ،سب چپ ہیں مرگھٹ کی طرح،

ایک گھنا جنگل ہے جس میں رات دن مبحوس ہیں

آشنا مانوس چہرے سارے نامانوس ہیں

زندہ بچنے والے اک اک سانس سے مایوس ہیں

سرکٹی لاشوں نے ان چوکوں کا ماضی کھا لیا

گولیوں کی تڑتڑاہٹ اسمانوں تک گئی

کو چہ کوچہ گھوم کر موت کے قدموں نے

سارے شہر کو اپنا کیا

دوستوں کا دشمنوں کا جاننا ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد فواد کی یہ طویل نظم رلادینے والی ہے۔یہ وادی سوات کا نوحہ ہے۔ اب اس نوحہ پر مزید کیا لکھا جائے۔



Leave a Comment







روشنیوں کے شہر میں اندھیرے اور سائے

July 16, 2009, 9:17 am

Filed under: Uncategorized

روشنیوں کے شہر میں اندھیرے اور سائے

عطا محمد تبسم

روشنیوں کے شہر میں روز بروز اندھیرے اور سائے بڑھہ رہے ہیں، قانون اور ضابطہ شاید ہی کہیں نظر نہیں آتا ہو اور ہمدردی اور رواداری کا قحط سنگیں ہو چلا ہے۔ لوگوں میں عدم تحفط کا احسا س تیزی سے بڑھ رہا ہے۔۔کراچی میں مختلف گروہوں کے مفادات بڑھ گئے ہیں، ان مفادات کے آپس میں ٹکراو ¿ اور گروہوں کے آپس میں نت نئے روابط اور صف بندیوں نے صورتحال کو کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ انیس سو نوے کی دہائی میں اور ۹۰۰۲ میں فرق اتنا ہے کہ پہلے جب سیاسی طور پر غیریقینی کی فضا تھی اس وقت اس قسم کے واقعات میں جن لوگوں کی اموات ہوتی تھیں ان کی بوری بند لاشیں ملا کرتی تھیں اور آج دن دھاڑے کسی بھی مقام پر قاتل اپنا وار کرجاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات کے پیچھے سیاسی ہاتھ اور سازش تلاش کی جاتی ہے لیکن قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ پہلے کورنگی، لانڈھی، ملیر، اور لیاری علاقوں میں یہ وارداتیں ہوتی تھیں۔اب لیاقت آباد، ملیر، لانڈھی، شاہ فیصل، سعیدآباد، رامسوامی، جیسے علاقوں میں یہ وارداتیں ہوتی ہیں۔وزیر داخلہ کے کراچی میں آنے اور ان کی جانب سے ان واقعات پر سخت ایکشن کا سن کر میں تو کانپ اٹھا تھا۔ کیوں کہ ان کہ کہنا تھا کہ اب کوئی قتل ہوا تو دیکھنا کیا ہوتا ہے۔کچھ دن پہلے کراچی والے صدرآصف علی زرداری کی آمد پر بہت خوش ہوئے تھے۔ کیوں کہ ان کی کراچی آمد کے بعد لوڈ شیڈنگ بند ہوگئی تھی۔ رحمان ملک صاحب کی آمد پر بھی کراچی والے خوش تھے کہ اب یہ قتل وغارت گری کا سلسلہ اب بند ہوجائے گا۔ کیوں کہ انھوں نے کہہ دیا تھا کہ اب جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ میں یہاں سے نہیں جاﺅں گا۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ سارے خواب سچے ہوں ۔ا ٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر حملے اور ایک سو چالیس افراد کی ہلاکت کے واقعے ، نشتر پارک بم دھماکے اور بارہ مئی جیسے بڑے واقعات پرانے تو ہوگئے ہیں لیکن ان واقعات سے دہشت زدہ ہو کر عام شہری کر سہم کر رہ گیا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور صنعتی شہر کراچی ہے ۔ایک کروڑ سے زائد آبادی کے اس شہر میں روزانہ ہونے والی،ہلاکتوں، دہشتگردی اور خوں ریزی کے تمام واقعات کے لوگوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں۔جو لوگ اخبار نہیں پڑھتے وہ ٹی وی پر بریکنگ نیوز سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ یہ علاقے میں لوگوں سے یہ خبر سنتے ہیں۔ ان میں غصے، خوف،دہشت کی کیفیت پیدا ہوتی ہیں۔ شہریوں میں ڈپریشن اور بے خوابی کی شکایت بڑھ رہی ہیں۔رویہ میں بھی چڑ چڑا پن آگیا ہے۔بظاہر ان واقعات کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا ہے ۔ مگر ایسے کئی لوگ ہیں۔جن کے ذہنوں پر ہلاکتوں، دہشتگردی اور خوں ریزی کے ان واقعات نے منفی اور مضر اثرات ڈالے ہیں۔ فوری طور پر ان کی شدت ظاہر نہیں ہوتی لیکن یہ زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔کراچی میں گزشتہ ایک دہائی سے بم دھماکوں اور خون ریزی کے واقعات اور عدم تحفظ کے احساس سے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کا حافظہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ یہ ڈر اورخوف ہے اسے ہم نے اپنے اندر دبا دیا ہے، بظاہر بہادری کے ساتھ آ جا رہے ہیں مگر یہ ڈر اورخوف یادداشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب بہت ساری پریشانیاں لاشعور میں چل رہے ہوں تو وہ صحیح طور پر ریکارڈ نہیں ہوتیں، اور جب اسے پلے کرتے ہیں تو صحیح پلے نہیں ہوتی اور بھول جاتے ہیں۔‘ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہوا مگر ہر تخریب کاری اور خونریزی کے واقعات کے بعد عدم تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ہر کوئی پریشان رہتا ہے کہ میرا بچہ، میرا خاوند، میری بیوی، بچی گھر سے باہر گئے ہیں، پتہ نہیں وہ واپس آئیں گے یا نہیں؟ کوئی دشواری تو نہیں ہوگی؟ کراچی میں موبائیل ٹیلیفون کی اتنی خریداری ہوئی ہے اس کی۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے رابطہ قائم رہے سکے۔ پہلے کراچی کے لوگوں کے مسائل میں بیروزگاری اور رہائش کا تھا۔ سکیورٹی کا تو کوئی ذکر ہی نہیں کرتا تھا، مگر اب آپ کوئی بھی سروے کریں اس میں سکیورٹی سب سے اہم ایشو کے طور پر سامنے آتا ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کراچی میں تقریباً ایک سو سیاسی کارکن قتل ہوئے ۔ جون میں ۷۴ ہلاکتیں ہوئیں۔ جبکہ جولائی میں اب تک ۲۳ سیاسی کارکن قتل ہوچکے ہیں۔جبکہ 2008ء میں 74 سیاسی کارکن قتل ہوئے تھے۔ یہ بات ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ چیئر کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے گزشتہ سال کے 74 سیاسی کارکنوں کے قتل کے مقابلے میں رواں سال میں 100 سیاسی کارکن قتل ہوئے جن میں سے مہاجر قومی موومنٹ کے 38، متحدہ قومی موومنٹ کے 28، پیپلز پارٹی کے 11، عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے 10، سندھ ترقی پسند پارٹی کے 4، تحریک طالبان کے 2، پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے 2، جماعت اسلامی کے 2 اور پاکستان مسلم لیگ ( فنکشنل )، جئے سندھ قومی محاذ اور پنجابی پختون اتحاد کے ایک ایک کارکن شامل تھے۔سیاسی کارکنوں کا قتل یوں بھی کراچی کے لئے تباہی کا باعث ہورہاہے کہ اب لوگ سیاست سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ جو شعبہ کبھی خدمت، ایثار،سے عبارت تھا وہ اب لہو رنگ ہے۔اور کراچی جو کبھی ملک کی سیاست کو لیڈ کرتا تھا۔ اب یہاں دور دور تک کوئی ملک گیر بڑا سیاسی لیڈر نظر نہیں آتا۔کراچی ایسا تہی دامن تو بھی بھی نہیں رہا تھا۔



Leave a Comment







کوئی انقلاب نہیں آئے گ

July 10, 2009, 9:25 am

Filed under: Uncategorized

کوئی انقلاب نہیں آئے گا

عطا محمد تبسم



فیصل آباد کے رہائشی علاقہ پرتاب نگر میں 4 بچوں کے بیروزگار باپ صفدر نے بجلی کا بل زیادہ آنے پر اہل خانہ سے جھگڑ کر خود کو آگ لگا لی۔ ا س کے جسم کا 80 فیصد حصہ جل گیا ہے۔ اور وہ موت و حیات کی کشمکش میںہے۔میہڑ کی حسنہ جونیجو نے گاو ¿ں گھاڑی میں غربت کی وجہ سے زہریلی دوا پی کرخودکشی کرلی۔ اس کے آٹھ بچے بھوک سے تڑپ رہے تھے ۔غربت کی وجہ سے گھرمیں ایک روٹی کاآٹابھی نہیں تھا۔ماں بچوں کوروٹی پکانے کادلاسادیتی رہی۔بھوک کی وجہ سے بچے روتے رہے۔بچوں کوروتے ہوئے دیکھ کر ماں مسماة حسنہ جونیجونے خودکشی کرلی۔عوامی دور میں عوام کا کیا حال ہے۔ راتوں کو بھیس بدل کر عوام کے دکھ درد کا راز جاننے کا نہ یہ زمانہ ہے اور نہ کسی کو اس کی فکر ہے۔ فکر ہے تو بس یہ ہے کہ آج کا بنک بیلنس کیا ہے۔ اور کتنی رقم آج اکاونٹ میں آچکی ہے۔ 2001 سے سنہ 2009 کے مارچ کے مہینے تک پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کی مد میںغریب عوام سے حکومت نے 10 کھرب، 23 ارب 64 کروڑ روپے کمائے تھے۔ اس رقم کے بریک اپ میں سیلز ٹیکس کی مد میں 548954 ملین ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 33381 ملین روپے، کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 79771 ملین روپے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 281364 اور انکم ٹیکس کی مد میں 80171 ملین کمائے ہیں۔ اس کے بعد تیل کی چار بڑی کمپنیوںکا منافع ا ہے۔اٹک ائل کمپنی نے 6918 ملین ۶ ارب ۱۹ کروڑ ۰۸ لاکھ روپے، پاکستان سٹیٹ آئل نے۵۴ ارب ۵۳ کروڑ ۰۵ لاکھ روپے، شیل پاکستان نے۵ا ارب ۸۲ کروڑ ۰۶لاکھ روپے،لین اور شیوران ( کالٹیکس) نے۷ ارب ۳۷ کروڑ ۰۸ لاکھ روپے کا منافع کمایا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور حکومتی اداروں کی اس لوٹ مار سے ہی غریب صفحہ ہستی سے مٹتے جارہے ہیں۔ اوگرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قمیتوں کے بریک اپ میں سب سے زیادہ اضافہ ایکس ریفائنری پر کیا گیا تھا جو چار روپے سے لیکر چھ روپے ہے۔ نئے مالی سال کو شروع ہوئے ابھی ہفتہ ہی گزرا ہے کہ پٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کے بم گرا دئیے ہیں۔ حکمران تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں ‘اب ہر ماہ مٹی کے تیل ‘پٹرول اور گیس کی قیمت میں اضافہ کیا جائیگا۔پاکستان کی 62سالہ تاریخ میں یکم جولائی سے ڈیزل کی قیمت پیٹرول سے بھی بڑھادی گئی ہے جبکہ ماضی میں یہ 5سے10فیصد کم ہواکرتی تھی۔ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافے کے باجود پٹرول ڈیلرز نے اپنے طور پر بھی پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔پیٹرول کی فی لیٹر قیمت پر ڈیلرز کمیشن 2 روپے ہونے کے باوجود صارفین سے 18 پیسے فی لیٹر اضافی وصول کیے جارہے ہیں۔ گو مدت ہوئی اب پیشوں کا کوئی لین دیں نہیں رہا۔ لیکن باٹا کمپنی کی طرح وزارت پیٹرولیم نے فی لیٹر پیٹرول 62 روپے13 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کیلئے 62 روپے 65 پیسے فی لیٹر قیمت مقرر کی ہے، پمپ مالکان کی جانب سے پیٹرول پر فی لیٹر 18پیسے جبکہ ڈیزل پر 19پیسے زاائد وصول کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام کو عدالت عظمی سے کوئی ریلیف ملا تھا ۴۲ گھنٹوں میں صدراتی آرڈینینس نے یہ کہانی ختم کردی ۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے 5 ارب ڈالر کی امداد حاصل کرنے کے لیے یہ آرڈیننس جاری کیا ہے حکومت قرضہ دینے والے اداروں کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ حکومت عوام سے پیٹرولیم پر ٹیکسز کی مد میں سالانہ122 ارب روپے کا ہدف حاصل کرے گی۔ 17 کروڑ عوام اب صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہی نہیں بلکہ ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوں گےا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دیگر طریقوں سے معاشی قتل کرنے کے بعد عوام زندہ درگورہوگئی ہے۔سابق حکومت نے یوٹلیٹی اسٹور کے ذریعہ غریبوں سستا آٹا ،دال فراہم کرنے کا نسخہ تجویز کیا تھا۔ اب سب سے پہلے۔یوٹیلٹی سٹورز پر فروخت کئے جانے والی دالوں کی قیمتوں میں ایک روپے سے دس روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ حال ہی میں یوٹیلٹی سٹورز پر فروخت کئے جانے والے تمام اشیاء کی قیمتوں میں تین روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پرانا سٹاک بھی نئی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کی جانب سے دالوں کی قیمت میں ایک روپے سے دس روپے تک اضافہ کے اعلامیہ کے بعد مونگ کی قیمت 46روپے سے بڑھ کر47روپے فی کلو گرام ، دال ماش 78روپے سے بڑھ کر 83روپے فی کلو گرام ، سفید چنا 78روپے سے بڑھ کر 88روپے فی کلو گرام تک ہو گیا ہے۔گوشت دودھ کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ جاری ہے اس کو لگام دینے والا کوئی نہیں ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان نے بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی شرط پوری کرنے کیلئے مزید چھ ماہ کی مہلت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔لوگ کہتے ہیں اب خونی انقلاب آئے گا،میں کہتا ہوں۔یہاں کوئی انقلاب نہیں آئے گا۔انقلاب غیرتمندقوم،اور جرات مند لیڈر لاتے ہیں۔یہاں ایسا کوئی نہیں ہے۔عوام یوں سسکتے، بلکتے،جلتے،مرتے رہیں گے۔



Leave a Comment







اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں

July 10, 2009, 6:58 am

Filed under: Uncategorized

اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں



عطا محمد تبسم



اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیںاحمد فراز کا یہ مصرعہ اردو شاعری میں امر ہوچکا ہے۔ احمد فراز کے بچھڑنے کی خبر کے بعد ان کا یہ مصرعہ زبا ن زد عام ہے۔اردو شاعری یوں بھی آہستہ آہستہ تہی دامن ہورہی ہے۔تابش دہلوی ،جون ایلیا،ضمیرنیازی،حبیب جالب ، حفیظ جالندھری،اقبال عظیم، ، صوفی تبسم، دیکھتے ہی دیکھتے اس بزم فانی سے اٹھ کر رخصت ہوگئے۔ احمد فراز نوجوانوں کے شاعر ہیں۔ اور گزشتہ دنوں امریکہ کے ایک مقامی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے یا آئی سی یو میں داخل تھے۔ڈاکٹروں کی ٹیم انکا علاج کررہی تھی ۔ان کے معالج ڈاکٹر مرتضی کے مطابق احمد فراز کو گردوں کے عارضے سمیت کئی امراض تھے ۔یں لیکن انکا فشار خون، اور دل کی حرکت کام کررہی تھی ۔ ان کی صحت یابی کی امید ہو چلی تھی۔کہ ان کے ڑخصت ہو نے کی خبر ٓاگئی۔گزشتہ دنوں ان کی حالت تشویشناک ہے رہی ۔ پاکستان سے انکے صاحبزادے شبلی فراز بھی انکی دیکھ بھال کیلیے شکاگو پہنچے ۔پی ٹی وی سے احمد فراز کے انتقال کی خبر نشر کی گئی تھی جسے بعد میں کچھ پاکستانی نجی چینلوں نے بھی چلایا تھا جو غلط ثابت ہوئی۔ احمد فراز امریکہ میں پاکستانی نڑاد ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ کے سالانہ کنونشن میں مشاعرے میں شرکت کے لیے واشنگٹن ڈی سی آئے تھے جہاں وہ گر پڑے تھے اور انکے گھٹنوں پر چوٹیں آئی تھیں۔ ان چوٹوں سے انہیں ابتدائی طور انفیکشن ہوگیا تھا اور پھرانھیں شکاگو کے ایک ہسپتال میں انکو گردوں کے عارضے کیوجہ ڈائلیسس مشین پر رکھا گیا۔فراز صاحب کی رحلت کی خبر نے مجھے ان سے ہونے والی ایک ملاقات یاد دلادی ۔ آواری ٹاورز ہوٹل کی سوئمنگ پول کی سائڈ پر ہونے والی ایک تقریب کے بعد چند دوستو کے ساتھ بزم آرائی میں اس دن احمد فراز خوب موڈ میں تھے۔ انھوں نے خوبصورت اشعار سنائے۔ اور حال دل کہا۔ ملکی حالات پر میں نے انھیں دلگرفتہ پایا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان اور بلوچتان میں ظلم ہورہا ہے۔ خود احمد فراز کا تعلق وزیرستان سے ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیریوں نے کشمیر کا وہ حصہ پاکستان کو لے کر دیا ہے جو اس وقت پاکستان میں شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر با ر یہ سمجھے کی بہار آئی ہے۔ضیا دور کے بارے میں کہا اس وقت حالات ایسے تھے کہ ملک سے باہر جانا پڑا۔ میری نظمیں اور شاعری ٹی وی، ریڈیو، اور اخبارات پر پابندی کی وجہ عوام سے دور تھی۔میری شاعری عوام کی لیے ہے۔ یہ گڑھے میں ڈالنے کے لئے تو نہ تھی۔

اس دوران انھوں نے تازہ اشعار سنائے۔

قتل عشاق میں اب دیر ہے کیا بسم اللہ۔سب گناہگار ہیں راضی یہ رضا بسم اللہ

میکدے کے ادب آداب سب ہی جانتے ہیں۔جام ٹکرائے تو واعظ نے کہا بسم اللہ

ہم نے کی رنجش بے جا کی شکایت تم سے۔اب تمھیں بھی ہے گلہ تو بسم اللہ



چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا۔تو آگیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی

ہم آگئے ہیں تہہ دام تو نصیب اپنا۔وگرنہ اس نے پھینکا تھا جال ویسے ہی

جب ہر اک شہر بلاﺅں کا تھکانہ بن جائے۔کیا خبر کب کون کس کا نشانہ بن جائے

ہم نے ایک دوست کی چاہت ہیںجو لکھی ہے غزل۔کیا خبر اہل محبت کا ترانہ بن جائے



احمد فراز نے بین الاقوامی شہرت اپنی شاعری سے حاصل کی۔ان کی شاعری پاکستان میں احتجاج کی شاعری کا استعارہ ہے۔ لیکن اب ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں احتجاجی شاعری ا ور تحریکیں دم توڑ چکی ہیں۔اس کے برعکس ہندوستان میں مضبوط جمہوری نظام ہونے کے سبب وہاںاحتجاجی شاعری کے علاوہ مضبوط تحریکیں ہر دور میں جاری رہی ہیں ۔ پاکستان میں احتجاجی شاعری جنرل ایوب کے زمانے تک خوب ہوتی رہی۔ ایک لحاظ سے جنرل ضیاالحق کے دور میں بھی شاعروں کے پروٹسٹ کا جذبہ ان کی تخلیقوں میں نمایاں تھا لیکن اب یہاں کے شاعر تھک ہا ر کر بیٹھ گئے۔ کچھ تو اسی نظام میں گھل مل گئے اور جو باقی بچے وہ جیلوں میں یا تو گل سڑ گئے یا وطن بدری کے شکار ہوئے۔ پروٹسٹ کی شاعری کے لیے ہی فیض نے جیل کاٹی۔ ہمیں بھی فوجی ظلم کا شکار بنایا جاتا رہا۔ احمدفراز کو نئی نسل سے محبت ہے ۔ اس لئے نئی نسل کے شاعروں کے نام ان کا پیغام ہے کہ نوجوانوں مطالعہ کرو۔ دنیا کو باریکی سے سمجھو۔ ایک دور تھا کہ سماج و سیاست کے کم شعور رکھنے والے ہی شاعری کرتے تھے لیکن اب تو نئی نسل کودنیا کے حالات کے متعلق گہرائی سے جانکاری رکھنے کی ضرورت ہے لیکن مجھے دکھ ہے کہ اب ایسا کوئی سکول نہیں ہے۔ ہم پہلے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور سیکھتے تھے۔اب ایسا ماحول بننے ہی نہیں دیاجاتا۔ مجھے دکھ ہے ہمارے یہ بچے کہاں جائیں۔احمد فراز نے ساری عمر لیکچرارشپ،ریڈیو،لوک ورثہ، اکیڈمی ادبیات،اور دیگر اداروں میں ملازمت کی۔ حکو مت نے احمد فراز کو پاکستان نیشنل ب ±ک فاو ¿نڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور ان کی جگہ افتخار عارف کو پاکستان نشنل بک فاو ¿نڈیشن کا ایم ڈی مقرر کیاتھا۔تہتر سال احمد فراز کو انیس سو چورانوے میں ا ±س وقت کی وزیر اعظم بینظر بھٹو نے احمد فراز کی تقرری نیشنل ب ±ک فاو ¿نڈیشن کے ایم ڈی کے طور پرکی تھی لیکن جب ان کی معیاد ختم ہوئی تو اس وقت کے نگران وزیر اعظم معراج خالد ان کی ’تاحکم ثانی‘ تقرری کر دی۔وزات تعلیم کے ترجمان مبشر حسن نے احمد فراز کو ہٹائے جانے کے بارے میں کہا کہ احمد فراز کی عمر کافی ہو چکی تھی اور وہ بیمار رہتے تھے جس کی وجہ سے ا ±ن کو ہٹایا گیا تھا۔



احمد فراز گیارہ سال تک اپنے اس عہدے پر برقرار رہے ۔ احمد فراز نے اپنے اس عہدے سے ہٹائے جانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تھاکہ ’میں نے کچھ دن پہلے نجی ٹیلی وڑن چینلز کو بعض انٹرویو دیے جس میں نے کہا کہ فوج کا ایک حد تک کردار ہے کیونکہ میں اس بات کی حمایت نہیں کرتا کہ فوج ایک خاص رول سے باہر بھی کام کرے اور شاید یہی وجہ بنی مجھ ہٹانے کی‘۔ ان کی ملازمت کے دوران نیشنل ب ±ک فاو ¿نڈیشن نے دو سو ملین روپے کمائے جو ایک ریکارڈ ہے۔احمد فراز کو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ان کو ستارہ امتیاز بھی مل چ ±کا تھا۔گزشتہ دور حکومت میںاحمد فراز کی سرکاری رہائش گاہ سے ان کا سامان نکال کر سڑک پر پھینک دیا اور زبردستی مکان خالی کرالیا گیا تھا۔یہ مکان ان کی بیگم ریحانہ گل کے نام تھا جو دو برس قبل ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوچکی ہیں اور نوٹس ملنے کے باوجود بھی مقررہ مدت تک مکان خالی نہیں کیا تھا۔ قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بھی ملازم چھ ماہ تک مکان رکھنے کا مجاز ہوتا ہے۔احمد فراز ان دنوں برطانیہ میں تھے ۔ جب بی بی سی نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ خود سرکاری ملازم ہیں اور ایک ادارے’نیشنل بک فاو ¿نڈیشن، کے سربراہ ہیں اور ان کا حق بنتا ہے کہ اگر بیوی ریٹائر ہوں تو مکان انہیں الاٹ کیا جائے۔لیکن شائد یہ اس ابتلاءکا نکتہ آغاز تھا۔انہوں نے کہا کہ تین ہفتے پہلے انہیں وزیراعظم شوکت عزیز نے رات کو گیارہ بجے فون کیا اور کہا کہ ’مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ آپ سے زبردستی مکان خالی کرانا چاہتے ہیں، لیکن میں نے انہیں روک دیا ہے‘۔ احمد فراز کے مطابق جب وزیراعظم نے انہیں تسلی دی تو وہ برطانیہ آگئے اور جب وزیراعظم ملک سے باہر دورے پر گئے تو وزیر کے حکم پر اچانک ان کا سامان گھر سے نکال کر سڑک پر پھینک دیا گیا اور زبردستی اہل خانہ کو گھر سے بے دخل کرکے قبضہ کر لیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد احمد فراز کے اہل خانہ نے ایک’گیسٹ ہاو ¿س، میں رات گزاری جبکہ گھر کا پورا سامان نیشنل بک فاو ¿نڈیشن کے دفتر منتقل کردیا گیا۔احمد فراز نے کہا کہ حکومت کے ایسے عمل سے انہیں صدمہ پہنچا ہے اور بالخصوص جب وہ ملک سے باہر ہیں اور سخت بیمار بھی،۔اس اقدام کے بعد احمد فراز نے حکومت پر آئین کا تقدس پامال کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاجاً اعلیٰ شہری اعزاز ’ہلال امتیاز‘ واپس کردیا ہے۔ادب کے شعبے میں ملنے والا یہ ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کابینہ ڈویڑن کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا ہے کہ سن دو ہزار چار میں یہ اعزاز انہوں نے اس لیئے قبول کیا تھا کہ انہیں امید تھی کہ انسانی حقوق کی صورتحال بہتر ہوگی۔ اس بارے میں انھوں نے ایک خط تحریر کیا جس میں انہوں نے لکھا کہہ وہ اس امید پر تھے کہ حالات سن انیس اکہتر جیسے نہیں ہوں گے جب ملک ٹوٹ گیا تھا اور بنگلہ دیش بن گیا۔ احمد فراز نے بلوچستان اور وزیرستان کی صورتحال کا اپنے خط میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بدقسمتی سے آئینی اور جمہوری اقدار کو بوٹوں تلے روندا جارہا ہے۔ حکومت افواج پاکستان کو اپنے ہی لوگوں سے لڑا رہی ہے اور ان کا خون بہا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ حکمرانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا‘۔انہوں نے کہا کہ ہلال امتیاز ایک بڑا اعزاز ضرور ہے لیکن ان کے بقول جب وہ اپنی فکری آنکھ سے دیکھتے ہیں تو انہیں یہ اعزاز ایک کلنک کا ٹیکہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جو انہیں محبت اور پیار اور عزت دی ہے وہ موجودہ غیر جمہوری، غیر نمائندہ اور ظالم حکمرانوں کے دیئے گئے اعزاز سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے قوم سے کیئے گئے خطاب پر افسوس اورمایوسی کا اظہار کیا تھا۔احمد فراز نے کہا کہ وہ جانتے ہیں ک ان کی واحد آواز سے شاید کچھ زیادہ فرق نہ پڑے لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ ان جیسی اور آوازیں بھی بلند ہوں گی۔ لیکن ان کے بقول ایسے میں وہ اپنے اندر سے آنے والی آواز کو دبا بھی نہیں سکتے تھے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک بھر سے ان جیسی لاکھوں آوازیں اٹھیں گی اور ملک میں آئین اور قانون کی حکرانی قائم ہوگی اور متلق العنانیت کا خاتمہ ہوگا۔ صدر مشرف کے استعفی کی خبر انھوں نے بستر علالت پر سنی ۔ مر تے دم انھیں جموریت کی بحالی کی خوشی ہوئی ہوگی۔حساس شاعر ہم سے جدا ہوگیا ہے۔ اور اب اس کی شاعری ہمیشہ اس کی یاد دلاتی رہے گی۔



Leave a Comment







نائین الیون کا واقعہ

July 10, 2009, 6:50 am

Filed under: Uncategorized

امریکا میں رونما ہونے والا نائین الیون کا واقعہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کے ردعمل نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دہشت گردی کے خلاف ایک نہ ختم ہو نے والی جنگ کا آغاز کردیا گیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جہاں افغانستان اور عراق کو جنگ کے کھلے میدان میں تبدیل کیا وہا ں پاکستان کو بھی شدید جانی مالی نقصان پہنچا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ ان ملکوں میں بھی دہشت گردی شروع کردی ہے جو اس کا ساتھ دے رہے تھے۔آج پاکستان اور ایران جیسے ملک اس آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ اس واقعہ کو گزرے ہوئے سات سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے ردعمل کی باز گشت آج بھی دنیا بھر میں گونج رہی ہے۔

نائن الیون

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی عمارت اور نیو یارک میں تجارتی مرکز ورلڈٹریڈ سینٹر سے ہائی جیک کئے جانے والے تین طیارے ٹکرا دیئے گئے اور محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ) کے باہر کار بم دھماکاہوا۔ امریکا میں ہو نے والے ان خود کش حملوں کے باعث 2974افراد لاپتہ ہوگئے۔ مرنے والوں میں دنیا کے 90ملکوں کے تمام شہری شامل تھے۔ہزاروں افراد ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جب کہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کرد یئے گئے اور وائٹ ہاو ¿س سمیت اہم سرکاری عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔

گیارہ ستمبر بروز2001 منگل کی صبح نیو یارک میں جس وقت ہزاروں لوگ دفاتر جانے کے لئے اپنے گھروں سے نکل رہے تھے کہ ایک بوئنگ 767طیارہ ورلڈٹریڈ ٹاور کی 110منزلہ عمارت کے پہلے ٹاور سے ٹکرا یا۔ اس حادثے کے ٹھیک اٹھارہ منٹ بعد بوئنگ 757طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے 110منزلہ دوسرے ٹاور سے ٹکرا یا۔ ان دونوں حادثات کے ٹھیک ایک گھنٹے بعدیو نائیٹڈ ائیر لائنز کا ایک اور بوئنگ 757طیارہ واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی عمارت پر گر گیا جس سے پینٹا گون کا صدر دفتر جزوی طور پر تباہ ہو گیا جب کہ عمارت کے دوسرے حصے میں آگ لگ گئی۔ ان حملوں کے بعد واشنگٹن میں ہی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل کے نزدیک طاقتور بم دھماکا ہوا اور فوراً ہی واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے قریب ہی ایک اورطا قتور بم دھماکا ہوا۔ ان حملوں کے بعد ریاست پنسلوانیا میں ہی ایک بوئنگ 757 طیارہ بھی گر کر تباہ ہو گیا جس سے اس میں سوار 145افراد ہلاک ہو گئے۔نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے والے دونوں طیارے ہائی جیک کئے گئے تھے۔بوئنگ767طیارے کو بوسٹن سے لاس اینجلس جاتے ہوئے جب کہ دوسرے طیارے کو ڈلاس سے لاس اینجلس جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ ان دونوں طیاروں میں کل 156افراد سوار تھے جو اس حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ان دونوں طیا روں کا تعلق امریکی ائیر لائنز نامی ایجنسی سے تھا جب کہ پینٹاگون پر گرنے والے طیارے میں 47افراد سوارتھے جو تمام ہلاک ہو گئے۔اس طیارے کا تعلق بھی یو نائیٹڈ ائیر لائن نامی کمپنی سے تھا۔یہ دونوں طیارے بھی راستے سے ہی ہائی جیک کر لئے گئے تھے۔ورلڈٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور ز ان حملوں کے بعد زمیں بوس ہو گئے۔

“حملے کے بعد“

ان حملوں کے بعد امریکا میں زبردست خوف وہراس پھیل گیا۔نیو یارک اور واشنگٹن سے لوگ پناہ کی تلاش میں فرار ہو نے لگے اور امریکا میں آنے والی تمام پروازوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کینیڈا میں اتریں۔ امریکا میں ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی۔امریکا میں تمام پلوں اور سرنگوں کی بھی ناکہ بندی کردی گئی اور ایف بی آئی نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ امریکی حکام نے ورلڈٹریڈسینٹر پر دہشت گردی کے واقعہ میں چھ حملہ آور وں کے ہلاک ہو نے کا دعوی کیا تاہم ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں نہ ہی ان کی شناخت بتائی گئی۔

حملہ کس نے کیا؟

امریکی ٹی وی سی ،این، این نے با وثوق ذرائع کے حوالے بتایا کہ ان حملوں میں ان لو گوں کا ہاتھ ہے جن کا تعلق اسامہ بن لادن کی تنظیم سے ہے۔دنیا میں ایسی دہشت گرد تنظیمیں بہت کم ہیں جن کے پاس اتنے مالی وسائل اور جدید نیٹ ورک ہے جو اس طرح کے بڑے اور مربوط حملے کر سکتی ہیں۔

ایک مبصر کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردی کے اگرچہ مٹھی بھر لوگ ذمہ دار ہیں جنہوں نے طیارے اغوا کئے یا چلا کر عمارتوں سے ٹکرا دیئے مگر ان کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈبھی موجود ہے۔اب تک تو صرف دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہی زیر بحث رہے مگر یہ بلند عمارتیں بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن گئیں جن سے صرف طیارے ہی ٹکرائے اب لوگوں کی توجہ ضرور اس جانب بھی جائے گی۔

وائس آف امریکا کے مطابق حملوں کے باعث امریکا کو عشروں میں بد ترین بحران کا سامنا کرنا پڑا۔لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے۔بعض حلقے اس کا الزام اسامہ بن لادن پر عائد کرتے ہیں اور اس کی کڑیاں چند ماہ بعد ملنے والے اس ویڈیو بیان سے ملاتے ہیں جو حادثاتی طور پر ظاہر ہوئے تھے جن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے لئے کہا گیا تھا۔

ایشیا سے ایک مبصر نے کہا کہ حملے کے لئے جس پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی ہے یہ اسا مہ بن لادن کے بس کی بات نہیں ہے۔اسامہ ان دنوں افغانستان میں مقیم تھے اور ان کی تمام تر سر گرمیوں پر پا بندی عائد تھی اور بیرونی دنیا سے ان کا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔جتنے بڑے پیمانے پر یہ کام ہوا ہے اس سے ظاہر ہے کہ یہ اسامہ بن لادن کا کام نہیں ہے۔مشرق وسطی کے ایک مبصر کا کہنا تھاکہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملے میں کون ملوث ہے۔اوکلو ہو ما بم دھماکے میں پہلے مسلمانوں کو ذمہ دارٹھہرایاا گیا تھا مگر بعد میں امریکی ہی اس کے ذمہ دار پائے گئے تھے تاہم توقع ہے کہ اس بار ایسا نہیں ہو گا۔مسلمان تنظیموں کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا جائے گا۔ایک فلسطینی مبصر نے کہا کہ حملے اور دھماکے کی ذمہ داری عرب دنیا پر عائد ہو گی۔ایک امریکی مبصر کا کہنا تھا اس سلسلے میں اسامہ پر شک کیا جا سکتا ہے۔

اسامہ بن لادن جس پر الزامات عائد کیے گئے۔ 1979ءمیں امریکہ کی مدد کے لیے افغانستان پہنچے تھے۔ اور جہاں اس کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا۔ 1996ئ میں انہوں نے پہلا قتویٰ جاری کیا تھا کہ امریکی فوجی سعودی عرب سے نکل جائیں۔ میں بن لادن نے امریکہ کی اسرائیل کے بارے میں خارجہ پالیسی اعتراضات کیے تھے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر اورپنٹاگون میں دہشت گردی کے گیارہ ستمبر کے واقعات پر امریکا کے سرکاری اداروں میں بڑی لے دے ہو ئی۔ دنیا کی منظم ترین اور ترقی یافتہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہر جگہ موضوع بحث بنی رہی۔ان حملوں کے دو دن بعد ایف بی آئی نے 19مشتبہ افراد کی فہرست جاری کی جن کا تعلق اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ سے جوڑا گیا۔ ان مشتبہ افراد کی فہرست اور تصویروں کی اشاعت کے بعد یہ حقائق بھی منظر عام پر آگئے کہ ان میں سے بیشتر افراد حادثے کے وقت امریکا سے ہزاروں میل دور تھے۔ جس سے ایف بی آئی کے لئے مزید جگ ہنسائی کا اہتمام ہو۔

1۔محمد عطا

تیتنس سالہ محمد عطا کا تعلق مصر سے ہے۔ مصر کے دیہی علاقے کفر الشیخ میں اس کی پیدائش ہوئی۔ بعد ازاں اس کے والد نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ قاہرہ میں سکونت اختیار کر لی۔ 1985 میں اس نے قائرہ یونیورسٹی میں سول انجینئر نگ کی تعلیم حاصل کی۔ 90ئمیں ایک سول انجینئر نگ کمپنی کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 97ءکے وسط میں وہ انسٹی ٹیوٹ سے پندرہ ماہ کیلئے غائب ہو گیا۔ اکتوبر 98ئ میں واپس آیا تو گھنی ڈارھی رکھی ہوئی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ میں اس نے ایک جماعت بنائی۔وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتا تھا۔ امریکا میں وہ نیو یارک میں رہنے لگا اور ایک سال کے اندر اندر اس نے ہوا بازی کی ٹرننگ حاصل کر لی۔ گیارہ ستمبر سے دو دن پہلے وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ “ان میں سے ایک مرون الشیحی، جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دوسری عمارت سے ٹکرانے والے جہاز پر سوار تھا۔”ایک فٹنس کلب میں دیکھا گیا جہاں انہوں نے تین گھنٹے گزارے اور وڈیو گیم سے لطف اندوز ہوئے۔ تفتیشی اداروں کا گمان ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرانے والے جہاز کے پائلٹ کو سیٹ سے ہٹا کر محمد عطا نے پائلٹ کی سیٹ سنبھال لی تھی۔

عربی اخبار الشرق الاوسط کے نمائندے نے محمد عطا کے والد سے ملاقات کی تو اس کا دعوی تھا کہ ورلڈ ٹریڈسینٹر کے دھماکے کے بعد محمد عطا نے اسے فون کیا اور اس سے مختصر گفتگو کی۔ والد کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران محمد عطا کی آواز نارمل نہیں تھی اور اسے اندیشہ ہے کہ اس کے بیٹے کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ محمد عطا ہوا بازی کی الف ب سے بھی نابلد ہے۔ اسے ہوائی سفر سے چکر آتے ہیں۔ اسرائیل کی انٹیلی جنس “موساد”نے محمد عطا کو اغوا کر کے اسے قتل کیا ہو گا اور اس کے پاسپورٹ کو اس غرض کے لئے استعمال کیا ہو گا۔



مروان الشیحی

امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے جو مبینہ ہاکی جیکرز کی فہرست جاری کی تھی اس میں دوسراے ہاکی جیکرکا نام مروان الشیحی بتایا گیا ہے۔ تیئس سالہ مروان یوسف الشیخی کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔ تفتیشی اداروں کا خیال ہے کہ ٹریڈ سینٹر پر دوسرے طیارے کو ٹکرانے کے لئے مروان الشیحی اسے کنٹرول کر رہا تھا۔ گمان کیا جاتا ہے کہ مروان کی محمد عطا سے گہری دوستی تھی۔

گیارہ ستمبر سے قبل وہ اور اس کے دو ساتھی ہائی اسکول کے بعد 1998ئ میں مروان متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج میں شامل ہو گیا۔ 1999ئ میں مسلح افواج نے اسے تعلیم کے لئے جرمنی بھیجا جہاں مختصر قیام کے بعد وہ امارات واپس آگیااور شادی کی۔ امارات میں 25دن گزارنے کے بعد واپس جرمن چلا گیا جہاں اس نے اپنے پاسپورٹ کی گمشدگی ظاہر کی اور نیا پاسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تفتیشی اداروں کے مطابق پرانے پاسپورٹ میں افغانستان کا ویزہ تھا جہاں وہ جہاد میں شرکت کرنے گیا تھا۔ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد وہ امریکا روانہ ہو گیا۔ امریکا جانے کے بعد اس کی کوئی خبر نہ ملی۔ ہیمبرگ میں وہ اپنی مصری والدہ کے رشتہ دار محمد عطا کے ساتھ رہتا تھا۔ مروان کے اچانک لاپتہ ہونے پر اس کے گھر والے پریشان ہو گئے تھے۔ اس کے بڑے بھائی نے امارات میں سرکاری اداروں سے رجوع کیا جنہوں نے جرمنی میں اسے تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ اس کا بھائی خود جرمنی گیا جہاں اسے معلوم ہوا کہ وہ امریکا گیا ہوا ہے۔ بعد میں مروان نے امارات میں اپنے گھر والوں سے فون پر رابطہ کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دی لیکن اس نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں ہے۔

زیاد سمیر الضراح

زیاد سمیر الضراح کا تعلق بیروت سے 75کلومیٹر دور ایک گاو ¿ں المرج سے ہے۔ امریکا کے تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ پنسلوانیا کے قریب گرنے والے جہاز کے ہائی جیکروں میں شامل تھا۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ جہاز کے پائلٹ کی سیٹ زیاد نے ہی سنبھالی تھی۔ شہری ہوابازی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہ پانچ سال پہلے ہیمبرگ گیا تھا۔اس دوران وہ ہر سال اپنے گھر والوں سے ملنے بیروت آتا رہا۔ آٹھ ماہ قبل اس کے والد کا بائی پاس آپریشن ہوا تو وہ اسے دیکھنے آیا تھا۔

زیاد کا والد اپنے بیٹے کو 1500ڈلر ماہانہ روانہ کرتا تھاجس سے وہ اپنی تعلیم اور ضروریات کا خرچہ چلاتا۔زیاد کے والد کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملوں سے چار گھنٹے پہلے اسے زیاد کا فون آیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اسے یونیورسٹی کی طرف سے بوئنگ767کی تربیت کی لئے اسکالرشپ مل گیاہے اور وہ فلوریڈا جا رہا ہے۔

زیاد کے چچا جمال الجراح نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ زیاد خوش مزاج نوجوان تھا اور وہ انتہا پسند تھا اور نہ اسلامی تعلیمات کا پابند۔ جرمنی میں وہ اپنی ترک گرل فرینڈ کے ساتھ رہتا تھا۔ واضح رہے کہ زیاد کی فیملی نے اس کی وہ تصویر بھی اخبارات کو جاری کی ہے جس میں زیاد کسی تقریب میں لڑکی کے ساتھ ڈانس کر رہا ہے۔ترک گرل فرینڈ نے اخباری نمائندون سے بات چیت کرنے ہوئے کہا کہ زیاد کا مذکورہ دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے والے محمد عطا نامی مشتبہ شخص سے اس کا کوئی تعلق رہا ہے۔

عبدالعزیز العمری

ایف بی آئی کی فہرست میں مبینہ ایک اور ہاکی جیکر کا نام عبدالعزیز العمری بتایا گیا ہے۔ وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاورسے ٹکرائے جانے والے طیارے میں سوار تھا۔گمان ہے کہ وہ خود بھی پائلٹ تھا۔وہ ریاض میں 24دسمبر 1972کو پیدا ہوا۔ ایف بی آئی کے مطابق عبدالعزیز العمری فلوریڈا میں مقیم تھا۔مشتبہ افراد کی فہرست میں عبدالعزیز العمری کا نام بھی شامل ہے لیکن اس نے دھماکے کے تیسرے دن ریاض میں اخباری نمائندوں سے ملاقات میں کہا کہ دھماکے کے دوران وہ ریاض میں ڈیوٹی پر تھا۔

وہ 1993ئ میں وہ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کے لئے امریکا کے شہر کو لوراڈو گیا جہاں قیام کے دوران (1995ئ ) میں اس کے فلیٹ میں چوری ہو گئی جس میں اس کا پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات بھی غائب ہو گئے۔ چوری کے واقعے کی اس نے پولیس کے اطلاع دے دی۔

31دسمبر 1995ئ میں اس نے نیا پاسپورٹ بنوایا۔ 11 جنوری 1996ئ کو وہ نئے پاسپورٹ پر دوبارہ امریکا گیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپریل 2000ئ کو وطن واپس آگیا۔ عبد العزیز نے کہا کہ وہ شہری ہوا بازی سے قطعی واقف نہیں اور نہ ہی کسی انتہا پسند تنظیم سے اس کی وابستگی ہے۔

پنسلوانیا کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں مشتبہ احمد النعمی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فلوریڈا میں مقیم تھا اور وہیں ہوا بازی کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد النعمی نامی یہ 23سالہ نوجوان سعودی عرب کے شہر عسیر میں مقیم تھاجہاں سے پندرہ ماہ پہلے وہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے روانہ ہوا اور واپس نہیں آیا۔

احمد النعمی

امریکا کے تفتیشی اداروں کو ریاض میں مقیم احمد النعمی ایک پائلٹ کا بھی پتہ چلا ہے۔ مذکورہ جہاز میں سوار احمد النعمی فلوریڈا میں مقیم تھا۔ ایف بی آئی نے احمد النعمی کی تصویر بھی میڈیا کو جاری کی جسے دیکھنے کے بعد احمد حیدر النعمی نامی سعودی ائیر لائن کا کارکن مقامی اخبار کے دفتر گیا اور مذکورہ حملوں سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کیا۔

33سالہ احمد النعمی نے بتایا کہ وہ ایئر لائن میں ہوائی جہاز کے عملے کا نگران ہے۔ وہ سعودی عرب کے شہر جیران میں پیدا ہوا۔ 1998ئ میں وہ پہلی بار امریکا گیا۔ گزشتہ اکتوبر میں دوسری بار اور جولائی میں وہ آخری بار امریکا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ تینوں بار اس نے اپنا کوئی سرکاری کاغذنہیں کھویا۔ انہوں نے اعلی تعلیم بھی جدہ میں حاصل کی۔ احمد النعمی گزشتہ 14سال سے سعودی ایئر لائن سے وابستہ ہے۔ امریکا میں مختص قیام کے دوران اس نے ہوٹل کے سوائ کہیں اور اپنا پاسپورٹ نہیں دکھایا نہ ہی امریکا میں اس نے کرائے پر گاڑی لی۔

احمد النعمی نے کہا کہ ایف بی آئی کی جاری کردہ فہرست میں مشتبہ افراد کی کثیر تعداد سعودی ایئر لائنز سے وابستہ ہے جن کی اکثریت 11ستمبر کے حملوں کے دوران امریکا میں نہیں تھی۔ ان کا نام مشتبہ افراد میں شامل کر کے ہمیں صدمہ پہنچا یا ۔ دنیا کی منظم ترین اور ترقی یافتہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہر جگہ موضوع بحث بنی رہی۔ان حملوں کے دو دن بعد ایف بی آئی نے 19مشتبہ افراد کی فہرست جاری کی جن کا تعلق اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ سے جوڑا گیا۔ ان مشتبہ افراد کی فہرست اور تصویروں کی اشاعت کے بعد یہ حقائق بھی منظر عام پر آگئے کہ ان میں سے بیشتر افراد حادثے کے وقت امریکا سے ہزاروں میل دور تھے۔ جس سے ایف بی آئی کے لئے مزید جگ ہنسائی کا اہتمام ہو۔ اسامہ بن لادن نے 16ستمبر2001ءکو امریکہ میں رونما ہونے والے واقعات سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اس کا بیان الجزیرہ سے نشرہوا۔ جس میں اس نے کہا تھا کہ یہ انفرادی کاروائی ہے اور ان لوگوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم بعد میں ڈرامائی طور پر اسامہ بن لادن کے ٹیپ منظر عام لائے گئے۔ امریکی صدراتی انتخاب 2004ءکے موقع پر اسامہ بن لادن کا ایک ایسا ٹیپ منظر عام پر لایا گیا۔ جس میں اس نے امریکہ پر القاعدہ کے حملوں کا اعتراف کیا۔ اسامہ بن لادن کا انسانوی کردار کے بارے میں اب عوامی حلقوں کی یہ رائے ہے کہ یہ ایک خیالی پیکر ہے۔ اب اسامہ بن لادن زندہ نہیں ہے۔ اور اس خیالی پیکر میں امریکہ سی آئی اے اپنے پسندیدہ رنگ بھرتی رہتی ہے۔ امریکہ نے خالد شیخ کو ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ بتایا ہے۔ جسے پاکستان سے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔خالد شیخ نے پہلے اعتراف اور پھر ان الزامات سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ اسے پہلے اعتراف اور پھر ان الزامات سے انکار کردیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اسے ایک ہی بار موت سے ہمکنار کردیا جائے۔ کیونکہ وہ تشدد کے برتاﺅ سے تنگ آچکا ہے۔ نائین الیون کے واقعات کے پس پردہ مقاصد کے بارے میں دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ صدر بش کی ہوس ملک گیر اور مسلم دنیا کے خلاف کاروائی تھی۔ جس کے نتیجے میں دنیا کے دو آزاد مسلمان ملک عراق اور افغانستان پر امریکہ نے قبضہ کر لیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے ایک ماہر رچرڈ اے کلاوک نے اپنی کتاب Against all enimiesمیں لکھا ہے کہ امریکہ کی روس کے خلاف کاروائی اور افغانستان میں آمد اور جنوب میں اسرائیل کو مضبوط کرنے کی پالیسی نے ہی القاعدہ کو جنم دیا ہے۔ ایک اور نامہ نگار پیٹربرجین نے لکھا کہ ”یہ حملے اس منصوبے کا حصے تھے جس کے تحت امریکہ کو مشرقی وسطیٰ میں اپنی فوجی اور ثقافتی موجودگی میں اضافے کا موقع ملا۔ امریکہ نے نائین الیون کے بعد ناٹو کونسل کے ذریعہ یہ اعلان کرادیا کہ امریکہ پر ہونیوالے یہ حملے ناٹو اقوام پر حملے تصور کیے جائیں گے۔ اور امریکی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا یہ آغاز کیا اور کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو عدالت کے کہٹرے میں لائیں گے۔ گو اقوام متحدہ دہشت گردی کے کسی متفقہ تعریف پر متفق نہیں ہو سکی لیکن اس کے باوجود امریکہ نے دہشت گرد کو ٹھکانہ دینے والے ملکوں کے خلاف معاشی اور فوجی پابندیوں حفاظتی اور اطلاعاتی انٹیلجنس میں شرکت کی ذمہ داری ڈال دی۔ اور اس کا پہلا نشانہ افغانستان اور پھر عراق کو بنایا گیا۔ یہ دونوں آزاد جمہوی ملک تھے۔ جن پر آج بھی امریکی فوجیں اور ناٹو فوجیں موجود ہیں۔ عر۱ق پر امریکہ کے غاضبانہ قبضے پر آج ساری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ یہ حملے عراق کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

عراق کی جنگ میں امریکیوں کی ہلاکت ترجمان

عراق کی جنگ میں 3ہزار سے زیادہ امریکی فوجی ہلا ک ہو چکے ہیں، اس سے 10گنا زیادہ زخمی ہو ئے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب فوجی عراق کی جنگ میں کچھ کردار ادا کرنے کے باعث ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں جس سے پوری امریکی فوج کا ذہنی اور اخلاقی توازن درہم برہم ہے۔ مالی اعتبار سے 450ارب ڈالر کے بلاواسطہ مصارف کے علاوہ جو بوجھ امریکی معیشت پر پڑا پے، اس کا اندازہ چوٹی کے امریکی معاشی ماہرین کے خیال میں 2ٹریلین(2ہزارارب)ڈالر سے زیادہے اور باقی دنیا کی معیشت پر اس کے علاوہ کم از کم ایک ٹریلین (ایک ہزار ارب) ڈالر کا بوجھ پڑا ہے۔ جہاں بانی اور اسرائیل کو محفوظ کرنے کے لیے ہزاروں بلین ڈالر جنگ کی آگ میں جھونک دیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ دو سال میں 32امریکی فوجی کاروائیوں کے ذریعے ہماری سرزمین کو ہماری آزادی اور حاکمیت کا مزاق اڑاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن میں سیکڑوں افراد بشمول معصوم بچے، بوڑھے اور خواتین شہیدہوئے ہیں۔ ان میں سے 10حملے 3نومبر2007ءاور 18فروری2008ءکے درمیان ہوئے۔ دینے کے لیے کونڈو لیزرائس نے کمال شفقت سے فوج کو سیاسی قیادت کے تحت کارفرما دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ (Undr civilian control The need for Pakistan’s military to be placed ) اور امریکی سینیٹرز اور سفارت کاروں نے معاشی اور فنی امداد میں تین گنا اضافے کی بات کی۔ کانگرس نے اگلے پانچ سال کے لیے7ارب ڈالر کی امداد کے پیکچ کا دلاسہ دیا ہے۔ لیکن گاجر مولی والی اس سیاست کے ساتھ ڈنڈے اور لاٹھی والی بات کا بھی بھرپور اظہار کیا جارہا ہے۔ جو اس حکمت عملی کا دوسرا اور زیادہ خوف ناک ستون ہے۔ اگر مجھے کسی اسی جگہ کا انتخاب کرنا پڑے جہاں سے اگلا حملہ ہونے والا ہے تو یہ وہ جگہ ہے جسے میں یقینا منتخب کروں گا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں القاعدہ ہے، جہاں ان کی قیادت ہے اور ہمیں اس چیلنچ کو ختم کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اسی طرح سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہے ڈن(Michael Hayden)کا ارشاد ہے: القاعدہ قبائلی علاقے میں دوبارہ مجتمع ہو گئی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ امریکا پر کسی دوسرے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ایک اور جاسوسی ایجنسی ایف بی آئی اے کے ڈائریکٹر روبرٹ موئیلر(Mueller (Robert کا ارشاد گرامی ہے کہ القاعدہ کے کارندے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں اور © ©”وہ راتوں رات خاموشی سے غائب نہیں ہو جائیں گے۔“ اس کورس میں جس بات کا سب سے زیادہ تذکرہ ہے، وہ یہ ہے کہ نائن الیون کے حملے کی منصوبہ بندی عراق میں نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ افغانستان میں ہوئی تھی۔ پانچ سال تک عراق کو تاراج کڑنے کے بعد اب یہ راگ الاپا جارہا ہے کہ اصل خطرہ تو افغانستان اور پاکستان سے ہے اور ہم ناحق عراق میں پھنسے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن سے ایک اہم رپورٹ کے مطابق: گذشتہ 10دنوں میں خطرے کے نئے احساس یعنی فاٹا میں القاعدہ قائدین کا دوسرے نائن الیون کا منصوبہ بنانے پر واشنگٹن میں درجنوں اجتماعات میں گفتگو ہو چکی ہے۔(ڈان، 21اپریل2008)90 ہزار فوجی قبائلی علاقوں میں برسر پیکار ہیں اور گذشتہ تین سال میں 1200سے زائد فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی طرح جنھیں دہشت گردکہا جاتا ہے ان کا جانی نقصان بھی اس سے کسی طرح کم نہیں۔ ینز3ہزار سے زیادہ عام شہری جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں۔ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ پورے علاقے میں انتشار ، افراتفری اورخون خرابہ ہے۔ آبادی کے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو نائن الیون کے بعد امریکا کے حواری بننے کی بڑی بھاری معاشی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ امریکا تو یہی طعنہ دیتا ہے کہ ہم نے 11ارب ڈالر کی امدادی ہے مگر حقیقت یہ کہ اس میں سے2ارب ڈالر فوجی خدمات کے معاوضے میں دی گئی ہیں۔ اور اصل معاشی امداد جس کا اقیک حصة قرض کی شکل میں ہے صرف 5ارب ہے ، جب کہ پاکستان کو ملک اور بیرونی محاذ پر جو معاشی نقصان اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے ہوا ہے، اس کا صحیح تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ 2002ءمیں صرف پانچ سال کی بنیاد پر خود امریکا کی نارتھ کمانڈ کی ویب سائٹ پر یہ نقصان 10سے 12ارب ڈالر قرار دیا گیا تھا۔ آزاد ذرائع کے مطابق گذشتہ سات سال میں یہ نقصان 12سے 15ارب ڈالر کا ہے جس کی کوئی تلافی نہیں کی گئی اور نہ اس کا کوئی مطالبہ مشرف حکومت نے کیا، بلکہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ نائین الیون کے واقعات کے بعد امریکہ برطانیہ مسلمانوں اور عربوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی اور مسلمانوں سے مشابہت کی بنا پر سکھوں کو بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بیل اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ان حملوں کا سب سے زیادہ شکار مسلمان، عرب اور مشرقی وسطیٰ کے باشندوں کو بنایا گیاہے۔ 80ہزار عرب اور مسلمان باشندوںکے4فنگر پرنٹ لے گئے۔ انٹرویو اور تفتیش کی گئی۔ 5ہزار غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کے نام پر ہزاروں افرادکی ایر پورٹ پر تلاشی اور گرفتاری اور بے دخلی کی گئی۔ پاکستان نے امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں روز اول سے معاونت فراہم کی۔ امریکہ حملوں کی وجہ سے پاکستان میں ایک بار پھر افغانستان مہاجرین کی آزادی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت پاکستان امریکیوں کو فوجی اڈﺅں کی سہولیات ایندھ اور دیگر اشیاءکی فراہمی میں مدد دی اور القاعدہ کے شہبے میں 600افراد کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا۔ جنہیں بدنام زمانہ گوانتا بے (کیوبا) میں لے جا کر بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ نے نائین الیون کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بھی بنایا۔ لیکن اس کمیشن پر عوامی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید دیکھنے میں آئی۔ اس کے ممبران بش حکومت نے نامزد کیے جو آزاد کمیشن کی خفی کرتے ہیں۔ صدر بش نے اس کمیشن کی رپورٹ کو 2002ءیہ کہ کر روکنے کی کوشش بھی کی کہ اس میں حساس معلومات ہیں۔ نائین الیون کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کا دعوٰی تھا کہ کمیشن انٹیلجنس ادارے FBI, CIA کی ناکامی کے بارے میں تحقیقات کرنے میں ناکام رہا۔ ابتدائی طور پر کمیشن کے سربراہ کے لیے سنہری کینجرکا نام سامنے آیا۔ جو سابقہ حکومتوں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالتے رہے ہیں۔ ان کے خاندان کے بن لادن سے تعلقات بھی زیر بحث آئے۔ صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی نے کمیشن کے سامنے کئی شرائط کے بعد پیش ہونا منظور کیا۔ اور یہ شرط عائد کی کہ ان کے بیان کو تحریری یا تصویری ریکارڈ نہیں کیاجائے گا۔ اور نہ ہی اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا



Leave a Comment







July 10, 2009, 6:40 am

Filed under: Uncategorized

کام نکل جا نے کے بعد



عطا محمد تبسم



امریکہ ہمیشہ اپنے محسنوں کو کام نکل جا نے کے بعد ڈس لیتا ہے۔کسی بھی مسئلہ پر امریکی تھنک ٹینک پہلے رائے عامہ ہموار کر تے ہیں اور اس کے بعد بے رحمی سے فیصلہ کرتے ہیں۔ ضیاالحق کو امریکہ نے جس بے رحمی سے منظر سے ہٹا یا اس کے مقابلے میں پرویز مشرف پر امریکہ نے بے حد نرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھیں نہ صرف مواخزے اور محاسبے سے بچا لیا گیا ہے۔بلکہ انھیں محفوظ راستے بھی دیا جا رہا ہے۔ وہ ملک میں رہیں گے یا نہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کچھ عرصے قبل جنوبی ایشیا امور کے ماہر ڈاکٹر مارون وائن بام نے اس امید کا اظہارکیا تھا کہ امریکہ پاکستان کے حالات میں براہِ راست دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی فوج کو مشور ہ دے گا کہ وہ جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑی ہواورآئینی عمل کا ساتھ دے۔ان کاکہنا کہ اگر جمہوری حکومت کو فوج نے مشرف کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ختم کردیا تو یہ بڑا دھچکا ہوگا۔‘واشنگٹن میں ہی امریکی فارن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر جیف اسمتھ بھی اس رائے سے اتفاق کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی حکمتِ عملی کا اِس صورتِ حال سے گہرا تعلق ہے۔ڈاکٹر اسمتھ کا کہنا تھا کہہ امریکہ کو چاہیئے کہ جمہوری قوتیں جو بھی فیصلہ کریں وہ اِس کا ساتھ دے۔ شا ید یہی وجہ تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف نے بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں صدر مشرف ملک کے موجودہ حالات میں صدر مشرف 58-2-B کا اختیار استعمال کرنے کی غلطی نہیں کر سکتے۔مذاکرات کے بعد حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں صدر پرویز مشرف کو ہٹانے اور ججوں کو بحال کرنے کے فیصلوں کا اعلان کیاتھا۔آصف علی زرداری نے اس پریس کانفرینس میں اس بات کا بھی اظہا ر کیا تھا کہہ صدر کے مواخذے کے فوراً بعد ا ±ن تمام ججوں کو فوری طور پر مری معاہدے کے تحت بحال کر دیا جائے گا، جِنہیں صدر مشرف نے غیر آئینی طور پر اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا تھا۔اِس کے علاوہ حکمراں اتحاد نے آئین میں کی گئی سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جِس کے تحت 1999ءکی صدر مشرف کی فوجی بغاوت اور ا ±س کے بعد کیے گئے ا ±ن کے اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ا ±نہیں حکومت برطرف کرنے کا اختیار بھی 58-2Bکے ذریعے دیا جا چکا ہے۔مشرف کے میدان سے ہٹ جا نے کے بعد حکمران اتحاد کی بڑی جماعت کے سربراہ آصف زرداری نے جس طرح اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی ججوں کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں خاصا وقت لگے گا۔ دوسری جانب مشرف کے جانے کے تین دن کے اندر ہونے والے تین خودکش حملوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اب نئی سیاسی محاذ آرائی کے لئے نئی صف بندیاں ہورہی ہیں۔ عوام کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوچکا ہے۔ مہنگائی، افراط زر پیٹرول کی قیمت میں اضافے نے پوری معیشت کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔پیپلز پارٹی کو عوامی جماعت ہونے کے ناطے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اگر اس نے بھت جلد عوام کو ریلیف نہ دیا تو یہ عوامی قوت ہی اس کے زوال کا سبب بن جائے گی۔



ایٹمی قوت



پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ ڈاکٹر قدیر پر عائد پابندیوں میں کی جانئے والی حالیہ نرمی مستقل ہے یا عارضی۔ جوہری پتھیاروں کی تیکنالوجی کئی ممالک کو غیر قانونی طور پر فراہم کرنے کے الزام میں گزشتہ چار برسوں سے اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر پابندیاں نر م کردی گئی ہیں۔ البتہ ڈاکٹر قدیر کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم ہے کہ اس نرمی کی وجہ حکومت کی تبدیلی ہے اور آیا انہیں صرف ایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی یا یہ مستقل سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ سے جب اس نرمی کے بارے میں حکومت کو موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا موقف تھا کہ نہ تو انہوں نے کوئی پابندی لگائی ہے اور نہ اٹھائی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق یہ معاملہ ان کے دائر اختیار میں نہیں آتا لہذا اس کے کے لیے وزارت خارجہ یا داخلہ سے رابطہ موزوں رہے گا۔ سنہ دو ہزار چار میں ڈاکٹر قدیر نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ایٹمی راز منتقل کرنا ان کا ذاتی فعل تھا اور اس میں حکومت یا اس کا کوئی ادارہ ملوث نہیں تھا۔ اس کے بعد سے اسیر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آز ادانہ نقل وحمل اور میل جول پر گزشتہ چار برس سے عائد پابندیوں میں کوئی خاص نرمی نہیں کی گئی بلکہ گزشتہ دنوں صحافیوں کو دیے گئے یکے بعد دیگرے دو انٹرویوز کے بعد سرکاری مشینری نے ڈاکٹر خان اور ان سے منسلک لوگوں کی نگرانی مزید سخت کردی تھی۔ سابق سودیت یونین کے ایک شہر چر نوبل کے ایٹمی مرکز میں فنی خرابی پیدا ہونے سے ۶۸۹۱ءمیں دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد وہاں سے ایٹمی تابکاری پھیلنے کا عمل شروع ہوا۔ اس کے تباہ کن اثرات اب تیک رونما ہورہے ہے۔ چرنوبل کے ایمٹی ری ایکٹر کے چاروں طرف ایک وسیع علاقہ (جو انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے مشترکہ رقبہ کے برابر ہے) ایسی تباہی سے دو چار ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چرنوبل کا نام اس سزا کی علامت بن چکا ہے جو ترقی (پروگریس) کی بے قید خواہش کا لازمی نتیجہ ہے۔ اندازہ ہے کہ ۶۸۹۱ءکے اس حادثہ سے اب تک ۰۹لاکھ انسان متاثر ہو چکے ہیں۔ بابکاری سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں پر ابھی تک تباہ کن اثرات کا عمل جاری ہے۔ چرنوبل کے قریب کے علاقے سے چار لاکھ افراد کو ان کے گھروں سے نکلا گیا اور اگلے۰۳ برس تک یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو نہیں گئے۔ اس امر کی واضح شہادتیں موجود ہیں کہ بیلور شیاراور یوکرائن کے لوگوں کو ایٹمی بابکاری کے نتیجہ میں خطر ناک بیماریاںلاحق ہوگئی جن میںمختلف اقسام کے کینسر بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائنس کی دنیا میں اس صورت حال کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی (جاپان کے وہ شہر جن پر امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹم بم پھینکے تھے) کے سلسلہ میں جو تجربات حاصل ہوئے تھے وہ اس تابکاری کے معاملہ میں کسی کام کے نہیں ہے۔ ناگا ساکی اور ہیرو شیما میں ہونے والے دھماکوں کے دوران ایک مختصر گھڑی میں تابکاری کی بہت بڑی مقدار خارج ہوئی تھی، جبکہ چرنوبل کے حادثہ میں خارج ہونے والی تابکاری کی کل مقدار ان دو ایٹم بموں کی تابکاری کی مقدار سے بہت زیادہ ہے۔ اور اس کا اخراج آہستہ آہستہ اور بتدریج ہوا بچوں پر اس تابکاری کے اثرات بہت زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ ان میں Thyroidکینسر کی بیماری میں ڈرامائی اضافہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ان میں سے بہت سے لوگوں کا کوئی سراخ نہ مل سکا۔ بہر حال جو اعداد و شمار معلوم ہوسکے ہیں۔ ان کے مطابق صرف رشیا (سودیت یونین کی ایک ریاست میں جن لوگوں کی موجودگی کا پتہ چل سکا ہے۔ ان میں سے حادثہ کے بعد ۰۰۰۷مر چکے ہیں اور ۸۳فی صد اسیے لوگ ہیں جو کسی نہ کسی خطر ناک مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سوویت یونین کے سابق اکائیاں ، بیلور شیا، رشیا اور یوکرائین اس حادثہ کے سبب پیدا ہونے والے مسائل اپنے محدود وسائل کی وجہ سے حل نہیں کر سکتے۔ بیلور شیامیں چرنوبل کے اس حادثہ کے سبب جو اقتصادی اور صحت کے مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر اس ریاست کے سالانہ بجٹ کا پانچواں حصہ خرچ ہورہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین کا بہت بڑا رقبہ کسی کام کا نہیں رہا۔ وہاں کھیتی باڑی ہو سکتی ہے۔ اور نہ ہی مکانات تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ یہود ونصاری کی روائتی اسلام دشمنی کے پس منظر میں پاکستان کے بارے میں جمہوریت کے عزائم بالکل واضح رہے ہیں۔ اسرائیل کے بانی وزیراعظم ڈیوڈبن گوریاں نے 1967ءمیں سوربون یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ اسرائیل کے نزدیک پاکستان عربوں سے بھی خطرناک ہے اور ہم اس صرف نظر نہیں کرسکتے۔ چنانچہ ہمیں پاکستان کابھی خیال رکھنا پڑے گا۔ یہ تقریر 9اگست 1967ءکے جیوش کرانیکل ، لندن میں شائع ہونے والے یہود کے باقاعدہ ترجمان میں شائع ہوئی تھی۔ بن گوریان نے مزید کہا کہ پاکستان دفاعی حیثیت سے ایک بڑی طاقت عمل تشکیل دی ہے۔ اسکا باقاعدہ مظاہر ہ سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر مغربی ذرائع ابلاغ اور بنگلا دیش کے قیام کے لیے انکی تنظیموں وغیرہ کی کارکردگی سے ہوچکا ہے۔ یہاں تک حیوش کرانیکل نے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے والے جنرل جیکب کے یہودی ہونے کی اطلاع اپنے پرچے کے ذریعے دنیا کو دی اور اس کے اسرائیل سے تعلقات کے بارے میں آگاہ کیا۔ 73ءمیں پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں جس طرح عربوں کی اور خصرصیت سے شام کی فضائیہ کی انتہائی نازک موقع پر عملی طورپر مدد کی تحقی اسکی یاد شام کے ائر پورٹوں پر لگی ہمارے شہید پائلٹوں کی تصاویر سے اب تک تازہ کی جا سکتی ہے۔ اسرائیل کو اپنے خدشے کی مزید تائید اس صورت میں حاصل ہو گئی تھی۔ پھر شام کے علاوہ اردن اور سعودی عرب میں ہمارے فوجی میشنوں کی موجودگی فلسطینوں کی ترتیب سے ہمارا تعلق بہت واضح ہو گئی تھی۔ یہ بھی یقینا اسرائیل بہت اچھی طرح جانتا ہے چنانچہ اس نے بعض جملوں کے ذریعے پاکستان کے بارے میں محض اظہار پر اکتفا نہیں کی بلکہ عملا اپنی حکمت عملی کا ہد ف ہمیں بنایا۔ اس نے ہمارے دشمن انڈیا سے خصوسی تعلقات قائم کیے اور یہود وہنود کی مشترکہ حکمت عملی کے لیے کام کیا۔ ان تعلقات پر جو اہر لال نرویونیورسٹی (دہلی) میں ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھا گیا ہے۔ پاکستان نقطہ نظر سے ایک کتاب THE UNHOLY ALLIANCE (عالم اسلام کیخلاف ہنداسرائیلی تعاون پر ) محمد حامد صاحب کی لکھی ہوئی جون 1978ءمیں شائع ہوئی۔ اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی کے ریسر چ مصباح الاسلام فاروقی مرحوم نے جہونیت کے عالم اسلام کے خلاف اس کے عزائم کو واضح کرنے کیلئے عالم اسلام میں پہلی مرتبہ کام کیا اور اسے ایک کتاب کی شکل دی۔ jewish conspiracyاس کا اردو میں ترجمہ بھی شائع ہوا تھا۔ بدقسمتی سے ایوب خان کے دور میںاس پر پابندی عائد کردی گئی۔ بعد میں شدید دباﺅ کے تحت ہی یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ فری میسن لاج پر جو عالمی جہموریت کا ایک حصہ ہے۔ پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی ۔ 1974ءکی تحریک ختم نبوت کے دوران جب قادیانی خلیفہ مرزاناصرقومی اسمبلی کی کمیٹی میںپیش ہوا تو اس الزام سے انکار کیا کہ قادیانیوں کا کوئی مشن اسرائیل میںہے۔ لیکن 1971ءمیں اسرائیلی مذاہب کے بارے میں ایک کتاب اسرائیل سے شائع ہوئی۔ جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل میں اسوقت 600پاکستانی قادیا نی موجود ہیں۔ اور انہیں مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ بھی واضح طور پر تحریر تھا کہ قادیانی اسرائیلی افواج میں شامل ہو سکتے ہیں۔ (جبکہ اسرائیل میں موجود عرب مسلمانوں کو اسرائیلی فوج میں داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔ )



ڈان کراچی (17اگست 1970ئ) میں تحریر کیا۔

پچھلے پانچ سال سے بین الاقوامی جمہوریت پاکستان کے ایٹمی تحقیق کے پروگرام کو شک اورتشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اسرائیلی لابی کے لوگوں نے مغربی ڈپلومیٹس کو یہ باور کرانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ کہ مسلم ممالک میں پاکستان ہی ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔ رچرڈبرٹ کا مضمون جو یہود نواز اخبار ”نیو یارک ٹائمز“ میں 11اگست کو شائع ہوا۔ اسمیں واضح کیا گیا کر امریکی حکومت نے پاکستان کے ایٹمی ترقی کے پروگرام اکو تباہ کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ برٹ ایک نہایت باخبر رپوٹر ہے جس کے واشگٹن میں اعلیٰ سطح پررابطہ ہیں۔ برصغیرکی سیاست کے بارے میں انکشاف 1975ءکے ایسا لگتا ہے کہ 11، اگست کی اشاعت میں دراصل نیو یارک ٹائمز نے پاکستان کیخلاف اسرائیل، انڈیا اور روس تک کو اکسایا ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ابتدائی سطح پر ہی رو ک دیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں اسرائیل نوا ز حلقوں نے پاکستان کے خلاف اتنی ہی تیزی سے مہم شروع کر رکھی ہے۔ جتنی شدت سے پاکستان ایٹمی راسنگ پلانٹ کی تیاری سے انکار ظاہر کر رہا ہے۔ امریکہ نے 176ءہی میں پاکستان پر دباﺅ ڈالا کہ وہ اس معاملے میں معاملے میں پاکستان کی مد دنہ نہ کرے۔ کارٹر انتظامیہ نے کسنجر کی لائن پر چلتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی امداد بند کردی صرف اس بات کی سز ا دینے کیلئے کہ پاکستان کیوں فرانس سے ری پرسسنگ پلانٹ لے رہا ہے۔

بین الاقوامی جہوریت کی پاکستا نی کے ایمٹی پروگرام کے خلاف مہم سات برس قبل شروع کی گئی تھی جب کرا چی کا ایمٹی بجلی گھر استعمال میں لایا گیا۔ پاکستان واحد ملک ہے جو درمیا نے درجے کی ایٹمی بنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور اس کا یہ سلسلہ کامیابی سے کئی برسوں سے جاری ہے اس نے اب جوہری سائنسدانوں کی باقاعدہ ٹیم تیار کرلی ہے۔ جبکہ اسرائیل پہلے ہی خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔



بوڑھے حکمران جو اب بھی اقتدار پر قابض ہیں



عطا محمد تبسم



پاکستان کا شمار دنیا کے ان مما لک میں ہونے لگا ہے جہاں ملک کا نظام ایسے بیوکریٹ یا سیاستدان چلارہے ہیں جو رٹائرمنٹ کی عمر پوری کرچکے ہیں۔ملک کے بیشتر سیاستدان اور بیوکریٹ کے اس بڑھتے ہوئے عمل دخل سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھنے لگی ہے۔ جبکہ اداروں میں نچلی سطح پر کام کرنے والوں میں بے چینی پیدا ہورہی ہے۔ ملک کے بیشتر اداروں میں ان لوگوں کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ جو ۵۹۹۱ میں برسراقتدار تھے۔ حالات کی جبر کے سبب ۸۱ سال بعد اقتدار کی دیوی ان کے ساتھیوں پر مہربان ہوئی ہے تو نہ صرف انھیں ملک میں آنے کا موقع ملا ہے بلکہ انھیں دوبارہ سے وہ مناسب بھی مل گئے ہیں۔ جس کی اہلیت کی مدت عمر طبعی ۰۶ سال ہونے کی وجہ سے وہ اس پر پورے نہیں اترتے ہیں۔صدر پرویز مشرف کا شمار گو ان سربراہان مملکت میں تو نہیں ہوتا ہے۔لیکن سرکاری ملازمت کے لئے ۰۶ سال کی عمر پوری کرنے کے لحاظ سے وہ رٹائرمنٹ کی عمر پوری کرچکے ہیں۔ ان کی تاریخ پیدائس ۱۱ اگست ۳۴۹۱ ہے۔ اس لحاظ سے ان کا شمار دنیا کے بوڑھے حکمرنوں کے مقابلے میں جوان حکمران کے طور پر کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب دنیا میں بھی ایسے حکمرانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جو اپنی اوسط عمر گزار چکے ہیں۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اس وقت دس سربراہان مملکت اپنی اوسط طبی عمر پوری کرنے کے بعد بھی اپنے عہدوںپر براجمان ہیں اور 1930 کے عشرے میں پیدا ہونیوالے زیادہ تر سربراہان مملکت کی حکومتیں ناکامی سے دوچار ہیں اپنی مخصوص عادات کے باعث پہچانے جانیوالے یہ سربراہان موجودہ وقت میں سب سے سینئر ترین سربراہان مملکت شمار ہوتے ہیں حال ہی میں کئے گئے ایک امریکی ادارے کی رپوٹ کے مطابق دس بوڑھے ترین سربراہوںمیں اٹھائیس سال سے اقتدار میں رہنے والے رابرٹ موگابے چوراسی برس کے ہوگئے ہیں اور دنیا کی ناکام ترین ریاستوں کی فہرست میں زمبابوے کا شمار چوتھے نمبر پر ہے ۔زمبابوے میں بے روز گاری اور افراط زر عروج پر ہے۔اس وقت افراط ِزر کی شرح 22 لاکھ فی صد ہوگئی اس بارے میںزمبابوے کے بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہہ ملک میں افراط زر کی شرح برق رفتاری سے بڑھ کر22 لاکھ فی صد ہوگئی ہے جو کہ دنیا میں افراطِ زر کی سب سے اونچی شرح ہے۔ س سے قبل فروری میں زمبابوے کی حکومت کی جانب سے افراط زر کے بارے میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح ایک لاکھ 65 ہزار فی صد تھی۔ مرکزی بینک کے گورنر گیڈیون گونو نے کہنا ہے کہ نئے اعداد و شمار زمبابوے کے شماریات کے مرکزی دفتر کی جانب سے مہیا کیے گئے ہیں۔ زمبابوے میں بے روز گاری کی شرح بھی 80 فی صد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زمبابوے کے 30 لاکھ شہری ملک کی ابتر اقتصادی صورت حال کے باعث جنوبی افریقہ چلے گئے ہیں۔

سعودی عرب کے عبداللہ بن عبدالعزیز بھی چوراسی برس کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ گیریجا پرساد کوئرالہ 83 سال کے ہیں اور 1991 سے نیپال میں اقتدار کی غلام گردشوں میں ہیں ان کا ملک بھی ناکام ممالک کی فہرست میں 21 ویں پوزیشن پر ہیں

گیریجا پرساد کوئرالہ کی پیدائس ۵۲۹۱ کی ہے اور وہ نیپال کانگریس کے صدر ہیں۔ وہ ۰۶ سال سے سیاست میں ہیں۔اور نیپال کی لیبر موومنٹ کے سرخیل ہیں۔ ۹۵۹۱ میں وہ نیپال کے وزیر اعظم بنے تھے۔اس وقت ان کے بھائی کی کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی۔ سینیگال کے سربراہ مملکت ابدالے ویدے 82 سال کے پیٹے میں ہیں اور آٹھ سالوں سے اقتدار میں ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تاریخ پیدائس اس سے بھی پرانی ہے جو ان کے ریکارڈ میں درج ہے۔ وہ چار با صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ انھوں نے لاءاور اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔

ن کی مملکت ناکام ریاستوں کی فہرست میں 117 ویں پوزیشن پر ہیں ۔ مصر کے حسنی مبارک 80 سال کے پیٹے میں ہیں اور گذشتہ چھبیس سال سے مصر میں اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انھیں امریکہ کی آشیرباد حاصل ہے۔ مصر بھی ان مملک میں سر فہرست ہے جو ناکام ریاستوں میں شمار ہوتے ہیں مصر ناکام ممالک کی فہرست میں چھتیسویں نمبر پر ہے۔ کویت کے صباح الاحمد الجبار صباح زندگی کی 79 ویں بہاریںدیکھ چکے ہیں اور اب دل میں پیس میکر لگا کر زندگی گزار رہے ہیں وہ گزشتہ پانچ سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ان کا ملک ناکام مملکتوں کی فہرست میں 124 ویں پوزیشن پر ہیں ۔ فیڈرل کاسترو کے بھائی فیڈرل الجنڈرو کاسٹرواس وقت کیوبا کے سربراہ مملکت ہیں وہ ملک کے ۲۲ ویں صدر ہیں۔ انھوں نے فوجی انقلاب کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ ۱۳ جولائی ۶۰۰۲ کو اس وقت حکومت سنبھالی تھی جب ان کے بھائی فیڈرل کاسٹرو نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ۴۲ فروری کو نشنل اسمبلی نے انھیں کیوبا کا صدر منتخب کرلیا۔77 ویں کے پیٹے میں ہونے کے باوجود وہ گذشتہ دو سالوں سے اقتدار میں ہیں ان کاملک بھی ناکام ممالک کی فہرست میں 77 ویں نمبر پرہے۔ کینیا کے سربراہ مملکت موی کیباکی عمر بھی 77سال ہے۔ وہ بھی گذشتہ پانچ سالوں سے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں وہ بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور ان کا ملک ناکام ممالک کی فہرست میں 31 ویںنمبر پرہے۔ بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ بھی 76 برس کے ہو چکے ہیں وہ گذشتہ چار برس سے بھارت میں اقتدار کی سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے ہیں من موہن سنگھ کی حکومت پر منڈلاتے ہوئے خطرات کو ٹالنے کے لیے آخری کوششیں جاری ہیں اور حکمران یو۔پی۔اے کی چیر پرسن سونیا گاندھی نے اس مہم کی کمان سنبھال لی ہے اور انہوں نے حکومت میں شامل حلیف جماعتوں کے لیڈروں سے مذاکرات کیے تھے جو ناکام ہہوگئے ۔ بایئں بازو کی جماعتیں اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ اگر حکومت نے امریکہ کے ساتھ جوہری توانائی کے اپنے فیصلے کو تبدیل نہ کیا تو وہ حکومت کی حمایت سے دست کش ہو سکتے ہیں۔کیوں کہ بقول ان کے یہ معاہدہ ملکی مفادات، خود مختاری اور خارجہ پالیسی سے متصادم ہے۔ دوسری طرف بھاری وزر اعظم من موہن سنگھ بھی اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کیوں کہ انکے خیال میں یہ معاہدہ اگر نہ ہوا تو عالمی سطح پر ان کی ساکھ کو دھچکا لگے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حلیف جماعتوں نے سونیا گاندھی سے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کو اپنے موقف پر لچک پیدا کرنے کے لیے راضی کریں، کیوں کہ فی الوقت کوئی جماعت بھی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے۔دنیا کی ناکام ریاستوں میں بھارت کا شمار 110 نمبر پر کیا جاتا ہے۔ برما کے سٹیٹ اینڈ پیس ڈویلپمنٹ کونسل کے سربراہ تن شوے کی عمر 75 برس بتائی جاتی ہیں اور وہ گذشتہ سولہ سالوں سے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں وہ ذیابیطیس کے مرض کا شکار ہیں۔ ان کے ملک کا بھی ناکام ریاستوں کی فہرست میں چودھویںنمبرپر کیا جاتا ہے۔برما میں فوجی حکومت ہے جس نے جمہوریت کی تحریک چلانے والوں پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ حزبِ اختلاف کی زیرِ حراست راہنما آن سان سوچی اور دوسرے افراد ایک عرصے سے گرفتار ہیں برما جنوبی مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم کا اہم رکن ہے۔ دنیا کے ان بوڑھے حکمرانوں کو اس بارے میں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اب زندگی کی شام ہونے سے پہلے انھیں اقتدار کسی نوجواں حکمرں کے سپرد کردینا چاہیے تاکہ ان کی عوام کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے کچھ کر کے دکھا سکیں۔ شاید اسی لئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جوانوں کو پیرو کا استاد کر



دہشت گردی کی فصل



عطامحمد تبسم



پاکستانی پولیس کی دنیا میں شہرت ہے۔ جرائم کا سراغ لگانے اور مقدمہ بنانے میں کوئی اس کا ثانی نہیں ہے۔ بڑے بڑے مجرم پاکستانی پولیس کے ہتھے چڑ ھنے کے بعد اپنے جرائم کا ہوں فر فر اعتراف کرنے لگتے ہیں۔اپنے رٹے ہوئے بیان سے وہ ذرا بھر بھی ادھر نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنے بڑے بڑے مجرم پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیے ہیں ان میں دنیا کا کوئی بھی ملک ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ امریکہ ہی نہیں دنیا ہماری دہشت گردوں کی پروڈکیٹ سے حیران ہیں۔ اس فصل کی کاشت میں ہم نے جو مقام عالمی برادری میں حاصل کیا ہے۔ اس کا شاید ہی کوئی اور ملک مقابلہ کرپائے۔نائیں الیون کے بعد نہ صرف ہمارے یہاں دہشت گردوں کی فصل اچھی ہو ئی ہے۔ بلکہ ہم اس کی ایکسپورٹ میں بھی اعلی مقام رکھتے ہیں۔ ہم نے اس ایکسپورٹ سے نہ صرف ڈالرز کمائے ہیں۔ بلکہ امریکہ کی نظر میں بلند مقام بھی حاصل کیا ہے۔ڈو مور ڈو مور کا امریکی مطالبہ پورا کر تے کرتے اب ہم اس مقام پر آ گئے ہیں کہ ایمل کانسی کیس میں ایک امریکی وکیل کا یہ تبصرہ بھی ہمیں برا نہیں لگتا کہ ؛ یہ پاکستانی ڈالرز کے لیے اپنے ماﺅں کو بھی فروخت کرنے سے باز نہیں رہ سکتے۔پاکستانی پولیس کی چوہدری ظہور الہی کے خلاف بھینس چوری کرنے کے مقدمے سے انہڑ کیس میں آصف زرداری کے خلا ف سید مرتضی بخاری کی ٹانگ میں بم باندھ کر اسے لوٹنے کے مقدمے تک کی شہرت ایسی ہے کہ بین القوامی طور پر اسے سراہا جائے۔ امریکی پولیس اب پاکستانی پولیس کے نقش قدم پر چل پڑی ہے اور اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ پانچ برس سے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایف بی آئی کی حراست میں نیویارک پہنچا دیا گیا ہے جہاں انہیں امریکی فوجیوں اور اہلکاروں پر حملے کے الزام میں منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔نیویارک میں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ جولائی کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ اس ٹیم میں شامل ایک امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد کشمکش میں ڈاکٹر عافیہ زخمی ہو گئی تھیں۔ اس بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں۔ اس بیان میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق افغان پولیس کو شیشے کے مرتبانوں اور بوتلوں میں سے کچھ دستاویزات ملی تھیں جن میں بم بنانے کے طریقے درج تھے۔ امریکی ایف بی آئی نے اس بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ ایک کمرے میں بند تھیں۔ جب ان سے تفتیش کے لیے ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پہنچی تو انہوں نے پردے کے پیچھے سے ان پر دو گولیاں چلائیں لیکن وہ کسی کو نشانہ نہ بنا سکیں۔ چھتیس سالہ ڈاکٹر عافیہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں ۔سن دو ہزار تین میں کراچی سے ان کی گرفتاری اور بعد میں ان کی گمشدگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اور ان کے تین بچوں کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی افغانستان کے ایک امریکی فوجی مرکز میں ممکنہ موجودگی کی تحقیقات کرنے کے لپے اقوام متحدہ سے اپیل کی تھی ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حبس بے جا میں رکھنے کے الزامات پر وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا تھا۔ برطانوی صحافی رڈلی ایون نے گزشتہ دنوں یہ انکشاف کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ بگرام ایر بیس یکی جیل میں قید رکھا گیا ہے جہاں 650 نمبر کے نام سے مشہور اس قیدی کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس خاتون کو ’جیل میں قید ایک بھوت‘ سے تشبیہ دی تھی۔ جس کی کوئی شناخت نہیں ہے لیکن اسکی چیخیں ان لوگوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں جو انہیں ایک بار سننے کا تجربہ کر چکے ہوں۔ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ پر اس قدر تشدد کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس خاتون کو جیل کے عملے کی جانب سے مسلسل جنسی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اور قیدی نمبر چھ سو پچاس کے نام سے مشہور اس خاتون کو نہانے اور دیگر ضروریات کے لیے مردانہ غسل خانہ استعمال کرنا پڑتا ہے جس میں پردے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس بارے میں تردید بھی کر دی گئی تھی۔ لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے بڑھتے ہوئے دباو کا مقابلہ نہ کرنے پر امریکی پولیس بھی پاکستانیوں کے نقش قدم پر چل نکلی ہے۔ جس پر پاکستانی پولیس مبارکباد کے قابل ہے۔



مظاہرے



امریکی عدالت میں امریکی فوجیوں پر قاتلانہ حملے کے الزامات کا سامنا کرنے والی پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں ایک مظاہرہ ہوا جس سے بعض ارکان پارلیمنٹ اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ اسکے علاوہ ڈاکٹر فوزیہ کے معاملے کی بازگشت پاکستانی سینیٹ اور دفتر خارجہ میں بھی سنائی دی۔ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے بھی ایک بیان کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کی ضمانت پر رہائی اور امریکی کانگریس سے انکی پانچ سالہ پراسرار گمشدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں پارلیمنٹ ہاو ¿س کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں عام لوگوں، بعض سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران گاہے بگاہے جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جذباتی تقریروں کے دوران اپنے پیاروں کی تصاویر چوم چوم کر روتے رہے۔ اس مظاہرے کا اہتمام اسلام آباد کے ڈاکٹرز اور انجیئرز کی تنظیم نے کیا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ اس مظاہرے میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر کراچی سے آئیں تھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ انہیں کسی سے کوئی شکوہ نہیں کرنا کیونکہ وہ اپنی بہن کے معاملے کو اللہ کی عدالت میں لیجائیں گی اور وہاں ان لوگوں کا گریبان پکڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ اگر عافیہ امریکی تحویل میں ہیں تو میں مطمئن رہوں کہ کم از کم انکے ساتھ وہاں بدسلوکی تو نہ ہو گی لیکن دیکھو میری بہن کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے۔ ’ کون سی ایسی بدسلوکی ہے جو امریکی جیل میں ان کے ساتھ نہیں کی گئی۔‘ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ان کی بہن کے ساتھ بہت زیاتی ہوئی ہے ڈاکٹر فوزیہ کا پانچ سال سے لاپتہ اپنی بہن کے لیے کیا جانے والا یہ پہلا عوامی احتجاج تھا۔ اس اجتجاجی جلسے سے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور راولپنڈی بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے بھی خطاب کیا لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی جسٹس ر افتخار چیمہ نے اپنی تقریر میں بہت واضح مو ¿قف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ حاضرین میرے اس مطالبے کی حمایت کریں کہ صدر مشرف پر عافیہ صدیقی کو اغوا کرنے اور حبس بیجا میں رکھنے پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں پھانسی دی جائے۔ جسٹس ریٹائرڈ افتخار کے اس بیان پر پنڈال کافی دیر تک ’مشرف کو پھانسی دو‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اس سے قبل سینیٹ کے اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث رہا جب حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض سینیٹرز نے پاکستانی شہری کی گرفتاری اور امریکی عدالت میں اس پر مقدمے کے بارے میں حکومت سے جواب طلبی کی۔ قائد ایوان رضا ربانی نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی اور گرفتاری سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حکومت اس معاملے پر اپنی کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ اس بارے میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی بعد دوپہر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان سے گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری میں پاکستانی اداروں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم نے ایک بیان میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے حالات کی تحقیقات کرے اور اس دوران انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔امریکی عدالت میں امریکی فوجیوں پر قاتلانہ حملے کے الزامات کا سامنا کرنے والی پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں ایک مظاہرہ ہوا جس سے بعض ارکان پارلیمنٹ اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔

اسکے علاوہ ڈاکٹر فوزیہ کے معاملے کی بازگشت پاکستانی سینیٹ اور دفتر خارجہ میں بھی سنائی دی۔ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے بھی ایک بیان کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کی ضمانت پر رہائی اور امریکی کانگریس سے انکی پانچ سالہ پراسرار گمشدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں پارلیمنٹ ہاو ¿س کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں عام لوگوں، بعض سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران گاہے بگاہے جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جذباتی تقریروں کے دوران اپنے پیاروں کی تصاویر چوم چوم کر روتے رہے۔



ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ



عافیہ صدیقی کی پیدائش کراچی میں ہوئی، اعلی تعلیم انہوں نے امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی، اور تیس مارچ دو ہزار تین کو وہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔اگلے دن پاکستانی اخبارات میں خبر چھپی کے القاعدہ سے روابط کے الزام میں ایک عورت کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق پاکستان کی وزارت داخلہ نے کی، اور پھر وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے حوالے سے خبر چھپی کے عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ بعد میں حکومت پاکستان اور امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے صاف انکار کیا کہ عافیہ کے گم شدگی سے ان کا کوئی تعلق تھا۔ عافیہ کی والدہ کو دھمکی دی گئی۔ اگر میں اپنی بیٹی اور نواسی نواسوں کو دبارہ زندہ دیکھنا چاہتی ہوں، تو میں خاموش رہوں۔عافیہ صدیقی کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی کے غائب ہونے کے بعد ایک شخص موٹرسائیکل پر ان کے گھر آیا اور انہیں دھمکی دی کہ ’ اگر میں اپنی بیٹی اور نواسی نواسوں کو دبارہ زندہ دیکھنا چاہتی ہوں، تو میں خاموش رہوں۔‘ عافیہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور ان کے والد نے برطانیہ میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے ایک بھائی امریکہ میں آرکیٹیکٹ ہیں اور بڑی بہن فوزیہ دماغی امراض(نیورولوجی) کی ماہر ہیں اور پہلے نیو یارک میں کام کرتی تھیں۔ عافیہ نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور ایم آئی ٹی سے حیاتیات میں ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے اسلامی تنظیموں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کے ساتھ پڑھنےوالے ایک طالب علم ان کے بارے میں کہتے ہیں ’ ہلو برادر ٹائپ‘ کی خاتون تھیں۔حمزہ نامی اس طالب علم کے مطابق ’ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جو سر پر سکارف باندھتیں، اور ہم پر زور ڈالتیں کہ ہم تنظیم کے جلسوں میں شرکت کریں۔‘ ’وہ ایک پیاری سی لڑکی تھی، کبھی کبھی اس سے الجھن ہوتی، لیکن وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔ اکثر پمفلیٹ تقسیم کرتے آپ کو مل جاتی۔‘ ڈگری مکمل کرنے کے بعد عافیہ نے نوجوان پاکستانی ڈاکٹر محمد امجد خان سے شادی کر لی۔ بعد میں انہوں نے نیورولوجی میں ریسرچ شروع کی۔ عافیہ کی والدہ کے مطابق شادی کے بعد امجد سے ان کا جھگڑا اس بات پر تھا کہ بچوں کی پرورش امریکہ میں ہو یا پاکستان میں۔ عافیہ بچوں کو امریکہ میں ہی رکھنے کے حق میں تھیں۔ یکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ایف بی آئی نے امجد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا کیونکہ انہوں نے رات میں دیکھنے والی دور بین، زر بکتر اور عسکری موضوعات پر کتابیں خریدی تھیں۔ عافیہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی لیکن بعد میں دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ امجد کا موقف تھا کہ یہ سامان انہوں نے شکار کھیلنے کے لیے خریدا تھا۔ اس کے کچھ دن بعد وہ پاکستان لوٹ گئے کیونکہ ان کے خیال میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ میں پاکستانیوں کے خلاف امتیاڑ بڑھ رہا تھا۔ سن دو ہزار دو میں انکی طلاق ہوگئی، اس وقت عافیہ کے یہاں تیسرے بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔وہ کن حالات میں غائب ہوئیں، اس بارے میں کئی طرح کی کہانیں ہیں۔پہلے امریکی جریدے نیوز ویک میں خبر چھپی کہ وہ القاعدہ کے ’سلیپر سیل‘ کا حصہ تھیں۔ پھر امجد خان پر الزام لگا کہ انہوں نے امریکہ میں پیٹرول سٹیشنوں کو دھماکے سے اڑانے کامنصوبہ بنایا تھا۔ سن دو ہزار چار میں ایف بی آئی نے کہا کہ پوچھ گچھ کے لیے عافیہ اسے مطلوب ہیں۔ بعد میں کہا گیا کہ القاعدہ کے ایسے گروہ میں شامل تھیں جو لائبیریا سے ہیروں کی سمگلنگ کرتا تھا۔ نیوز ویک جیسے جریدوں کے مطابق سمگلنگ کا مقصد القاعدہ کے کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحے کے پروگرام کے لیے فنڈز اکھٹا کرنا تھا۔اس دوران یہ دعوے کیے جاتے رہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی قید میں ہیں۔اس سب کے بعد اب اچانک امریکہ نے اعلان کیا کہ انہیں افغانستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اب وہ امریکہ میں ہیں اور انہیں افغانستان میں حراست کےدوران امریکی فوجیوں کو قتل کرنےکی کوشش کے الزام کا سامنا ہے۔ ایف بی آئی ان کے خلاف پہلے سے عائد کردہ کوئی بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ماہرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر عافیہ دہشت گردی کے الزام میں قید میں ہیں تو ان کے شوہر کیسے آزاد ہیں؟اس کا جواب شاید اس بات سے مل سکتا ہے کہ عافیہ کی رشتہ داری خالد شیخ محمد سے ہے جنہوں نے مبینہ طور پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی سازش رچی تھی۔ کہا یہ جاتا ہے کہ طلاق کے بعد عافیہ نے خالد شیخ محمد کے ایک بھتیجے علی عبدالعزیز سے شادی کر لی تھی۔ اگرچہ ان کے اہل خانہ اس بات سے انکار کرتے ہیں، لیکن بی بی سی نے خالد شیخ کی فیملی سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ہو سکتا ہےکہ عافیہ کا ’جرم‘ صرف اتنا ہی ہو۔ لیکن امریکی اور پاکستانی انٹیلی جنس کے لیے شاید یہ ’جرم‘ شاید اتنا بڑا تھا کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔



’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘



رپورٹ کےمطابق ڈاکٹر عافیہ بگرام ائر بیس میں قید ہیں۔ حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی افغانستان کے ایک امریکی فوجی مرکز میں ممکنہ موجودگی کی تحقیقات کرنے کے لپے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانچ سال قبل اپنے بچوں سمیت کراچی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جنہوں نے امریکہ میں تربیت حاصل کی تھی، بگرام میں واقعہ امریکی جیل میں قید ہیں اور وہاں واحد خاتون قیدی ہونے کی وجہ سے اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ امریکی تحقیقاتی اداروں کو مطلوب ہیں اور ان پر القاعدہ کا رکن ہونے اور امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔



’کیا ہم غیر معینہ مدت تک انتظار کریں‘



گمشدگی کے فوراً بعد امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں نے انکی گرفتاری کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں سرکاری سطح پر لا علمی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر حقوق انسانی کی تنظیم نے قید خانے میں ڈاکٹر عافیہ کے شب و روز کی ہولناک تصویر کشی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ، اور لاپتہ افراد اور خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے قائم دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھیجی جانے والی یادداشت میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس بات کے کافی شواہد ملے ہیں کہ بگرام جیل کی قیدی نمبر چھ سو پچاس ڈاکٹر عافیہ ہی ہیں۔ جیل انتظامیہ بگرام جیل میں کسی خاتون قیدی کی موجودگی کی تردید کر چکی ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں اپنے ذرائع کے حوالے سے الزام لگایا گیا ہے کہ بگرام ائر بیس میں ڈاکٹر عافیہ پر اس قدر تشدد کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔رپورٹ میں برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس خاتون کو جیل کے عملے کی جانب سے مسلسل جنسی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اور قیدی نمبر چھ سو پچاس کے نام سے مشہور اس خاتون کو نہانے اور دیگر ضروریات کے لیے مردانہ غسل خانہ استعمال کرنا پڑتا ہے جس میں پردے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ رپورٹ میں ایک برطانوی صحافی وون ریڈلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس نے اس خاتون کو ’جیل میں قید ایک بھوت‘ سے تشبیہ دی ہے جس کی کوئی شناخت نہیں ہے لیکن اسکی چیخیں ان لوگوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں جو انہیں ایک بار سننے کا تجربہ کر چکے ہوں۔ ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بگرام جیل کی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی شناخت اور حالات کو منظر عام پر لانے کے لیے مداخلت کریں۔



حبس بے جا کی درخواست منظور



انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا الزام ہے کہ ڈاکٹر عافیہ بگرام ائر بیس میں قید ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے پانچ سال قبل کراچی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو، جو امریکہ سے لوٹ کر پاکستان آئی تھیں، حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔لیکن عدالت نے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عدالتی حکم کے باوجود رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقات کے لئے سہولیات فراہم نہ کرنے پر سیکرٹری داخلہ سمیت دیگر سرکاری افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ دونوں درخواستیں بیرسٹراقبال جعفری نے دائر کی تھیں۔ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں بیرسٹر جعفری نے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کے توسط سے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو اور امریکی سفارتخانے کے قانونی مشیر کے ذریعے امریکی انٹیلیجنس اداروں کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں انسانی حقوق کی تنظیم ایشیئن ہیومن رائٹس کونسل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے گرفتار کرنے کا اعتراف کیا تھا لیکن بعد میں اس سے لا تعلقی ظاہر کر دی گئی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ اپنے تین نو عمر بچوں کے ہمراہ کراچی سے پانچ برس قبل لاپتہ ہو گئیں تھیں۔ ان پر القاعدہ کی مدد کرنے کا الزام ہے اور پوچھ گچھ کے لیے وہ امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آیی کو مطلوب ہیں۔



بگرام میں امریکہ کا فوجی ٹھکانہ



انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں بگرام کے مقام پر قائم امریکی جیل میں قید رکھا گیا ہے جہاں وہ قیدی نمبر 650 کے نام سے مشہور ہیں۔ اس درخواست پر سماعت بدھ کے روز متوقع ہے۔ بیرسٹر جعفری نے ڈاکٹر قدیر خان کے کیس میں اپنی درخواست میں کہا تھا کہ مذکورہ افسران ڈاکٹر قدیر کی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات میں اکیس جولائی کے عدالتی حکم کے تحت سہولیات فراہم کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ پٹیشنر افتخار حسین کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس مقدمے کے بارے میں کسی اعتراض کے مجاز نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں صدر مملکت کو بھی فریق بنانے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ آئین کی دفعہ 246 کے تحت ایسا ممکن نہیں ہے۔



وزارت داخلہ کو نوٹس جاری



انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا الزام ہے کہ ڈاکٹر عافیہ بگرام ائر بیس میں قید ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حبس بے جا میں رکھنے کے الزامات پر وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔

بدھ کے روز وزارت کے سیکرٹری سید کمال شاہ کو بھیجےگئے ایک نوٹس میں چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل عدالت نے ان سے کہا کہ ہے کہ وہ بیرسٹر اقبال جعفری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیں جن میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ عدالت نے بیرسٹر اقبال جعفری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت کی کارروائی نو ستمبر تک ملتوی کر دی اور اس دوران سیکرٹری داخلہ سے کہا گیا ہے وہ پٹیشنٹر کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کے جواب دو ستمبر تک عدالت میں جمع کروائیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست میں بیرسٹر اقبال جعفری نے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کے توسط سے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو امریکی سفارتخانے کے قانونی مشیر کے ذریعے امریکی انٹیلیجنس اداروں کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں ایشین ہیومن رائٹس کونسل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو پاکستانی اور امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے گرفتار کرنے کا اعتراف کیا تھا لیکن بعد میں اس سے لا تعلقی ظاہر کر دی گئی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ اپنے تین نو عمر بچوں کے ہمراہ کراچی سے پانچ برس قبل لاپتہ ہو گئیں تھیں۔ ان پر القاعدہ کی مدد کرنے کا الزام ہے۔ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں بگرام کے مقام پر قائم امریکی جیل میں قید رکھا گیا ہے جہاں 650 نمبر کے نام سے مشہور اس قیدی کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔



’ڈاکٹر عافیہ امریکہ کی تحویل میں‘



ڈاکٹر عافیہ پانچ سال سے لاپتہ ہیں۔ امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ پانچ برس قبل کراچی سے لاپتہ ہونے والی پاکستانی نڑاد امریکی ڈاکٹر عافیہ صدیقی زندہ ہیں اور افغانستان میں ایک امریکی قید خانے میں موجود ہیں۔یہ بات صدیقی خاندان کی امریکی وکیل نے پاکستانی صحافیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں بتائی ہے۔

ایلنے وہائٹ فیلڈ نے اپنی ای میل میں انکشاف کیا ہے کہ جمعرات کے روز ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ ہیوسٹن میں مقیم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھائی کے گھر گیا اور انہیں بتایا کہ انکی بہن افغانستان میں قائم ایک امریکی قید خانے میں زخمی حالت میں موجود ہیں۔ امریکی وکیل کے مطابق صدیقی خاندان کو مقید عافیہ صدیقی کی صحت یا انکے بچوں بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ پانچ برس قبل کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے جب ڈاکٹر عافیہ لاپتہ ہوئیں تھیں تو انکے ہمراہ انکے تین کم سن بچے بھی تھے جن کی عمریں چھ ماہ اور نو سال کے درمیان تھیں۔ ان پانچ برسوں میں یہ پہلی بار ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں کوئی با ضابطہ اطلاع سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل انکے اغوا کے فوراً بعد امریکی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے انکے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں گرفتاری کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں اس سے لاتعلقی ظاہر کر دی گئی تھی۔ یہ تصویر اب بھی ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود ہے ایف بی آئی کی جانب سے یہ اطلاع انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم کی اس یادداشت کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے اپنا اثر و رسوخ استمعال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں بھی اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کو حبس بے جا میں رکھنے پر پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے پاکستانی وزارت داخلہ سے جواب بھی طلب کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے خاندانی کے ایک قریبی فرد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ تین روز سے وہ مختلف حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں کہیں سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس سے کئے گئے روابط بھی بیکار ثابت ہو رہے ہیں۔ البتہ اس ساری کارروائی کے جواب میں پاکستان میں مقیم ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کو دھمکیاں ملنے کا سلسہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے۔ان ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جب ایک وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کی بازیابی کے لئے اپنے طور پر اسلام آ?باد کی ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو اسکے بعد بھی بعص نامعلوم افراد کی جانب سے صدیقی خاندان کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئیں جس میں انہیں مقدمہ واپس لینے کا کہا گیا تھا۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر عافیہ زندہ ہیں تو کس حال میں ہیں اور انکے بچے کہاں ہیں۔ وہ ان اطلاعات کے بارے میں بھی تشویش کا شکار ہیں جن میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا تھا کہ بگرام میں قائم امریکی جیل میں قیدی نمبر 650 کے نام سے مشہور ڈاکٹر عافیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں



قیدی نمبر 650 کی رہائی کے لیےمظاہرہ



ڈاکٹر عافیہ کوامریکہ کے حوالے کا کیا جواز ہے: مظاہرین کا سوال

کراچی میں جماعت اسلامی کے شعبہ خواتین کی جانب سے افغانستان میں مبینہ طور پر قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے احتجاج کیا گیا ہے جس میں امریکہ کے ساتھ پاکستان حکومت پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔



ڈاکٹر عافیہ: کراچی میں مظاہرے



ڈاکٹر عافیہ اپنے تین نو عمر بچوں کے ہمراہ کراچی سے پانچ برس قبل لاپتہ ہو گئیں تھیں۔ان پر القاعدہ کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔کراچی پریس کلب کے باہر یہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ جو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ مظاہرین نے ایک بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر امریکی فوج کی درندگی کا شکار ڈاکٹر عافیہ اپنے پاکستانی بھائیوں کو پکار رہی ہے۔ مظاہرے میں شریک جماعت اسلامی کی شعبہ خواتین کی رہنما عائشہ منور نے حکومت سے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت ڈاکٹر عافیہ کو معصوم بچوں سمیت گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کس عدالت نے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی دہشتگرد ہیں، کس عدالت نے یہ حکم دیا کہ ان کے معصوم بچوں کو ماں سے جدا کردیا جائے۔ اگر وہ مجرم ہیں تو عدالت میں پیش کریں۔ عائشہ منور کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ جیسے انسانیت دشمن کی بات پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں وہ اس پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔پشاور سے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پریس کلب کے باہر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس پر بینر اور پوسٹر آویزاں تھے جن پر ان کی رہائی کے مطالبات تحریر تھے۔ یاد رہے کہ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں بگرام کے مقام پر قائم امریکی جیل میں قید رکھا گیا ہے جہاں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ان کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف پٹیشن زیر سماعت ہے۔



ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ



مظاہرین ڈاکٹر عافیہ کی فوری رہائی اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے

امریکی عدالت میں امریکی فوجیوں پر قاتلانہ حملے کے الزامات کا سامنا کرنے والی پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں ایک مظاہرہ ہوا جس سے بعض ارکان پارلیمنٹ اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔اسکے علاوہ ڈاکٹر فوزیہ کے معاملے کی بازگشت پاکستانی سینیٹ اور دفتر خارجہ میں بھی سنائی دی۔ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے بھی ایک بیان کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کی ضمانت پر رہائی اور امریکی کانگریس سے انکی پانچ سالہ پراسرار گمشدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں پارلیمنٹ ہاو ¿س کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں عام لوگوں، بعض سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران گاہے بگاہے جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جذباتی تقریروں کے دوران اپنے پیاروں کی تصاویر چوم چوم کر روتے رہے۔ اس مظاہرے کا اہتمام اسلام آباد کے ڈاکٹرز اور انجیئرز کی تنظیم نے کیا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ اس مظاہرے میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر کراچی سے آئیں تھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ انہیں کسی سے کوئی شکوہ نہیں کرنا کیونکہ وہ اپنی بہن کے معاملے کو اللہ کی عدالت میں لیجائیں گی اور وہاں ان لوگوں کا گریبان پکڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ اگر عافیہ امریکی تحویل میں ہیں تو میں مطمئن رہوں کہ کم از کم انکے ساتھ وہاں بدسلوکی تو نہ ہو گی لیکن دیکھو میری بہن کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے۔ ’ کون سی ایسی بدسلوکی ہے جو امریکی جیل میں ان کے ساتھ نہیں کی گئی۔‘ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ان کی بہن کے ساتھ بہت زیاتی ہوئی ہے ڈاکٹر فوزیہ کا پانچ سال سے لاپتہ اپنی بہن کے لیے کیا جانے والا یہ پہلا عوامی احتجاج تھا۔ اس اجتجاجی جلسے سے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور راولپنڈی بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے بھی خطاب کیا لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی جسٹس ر افتخار چیمہ نے اپنی تقریر میں بہت واضح مو ¿قف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ حاضرین میرے اس مطالبے کی حمایت کریں کہ صدر مشرف پر عافیہ صدیقی کو اغوا کرنے اور حبس بیجا میں رکھنے پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں پھانسی دی جائے۔ جسٹس ریٹائرڈ افتخار کے اس بیان پر پنڈال کافی دیر تک ’مشرف کو پھانسی دو‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اس سے قبل سینیٹ کے اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث رہا جب حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض سینیٹرز نے پاکستانی شہری کی گرفتاری اور امریکی عدالت میں اس پر مقدمے کے بارے میں حکومت سے جواب طلبی کی۔ قائد ایوان رضا ربانی نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی اور گرفتاری سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حکومت اس معاملے پر اپنی کوششیں کر رہی ہے۔



انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ اس بارے میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی بعد دوپہر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان سے گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری میں پاکستانی اداروں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم نے ایک بیان میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے حالات کی تحقیقات کرے اور اس دوران انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔



ڈاکٹر عافیہ پانچ سال سے لاپتہ ہیں۔

امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ پانچ برس قبل کراچی سے لاپتہ ہونے والی پاکستانی نڑاد امریکی ڈاکٹر عافیہ صدیقی زندہ ہیں اور افغانستان میں ایک امریکی قید خانے میں موجود ہیں۔ یہ بات صدیقی خاندان کی امریکی وکیل نے پاکستانی صحافیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں بتائی ہے۔ ایلنے وہائٹ فیلڈ نے اپنی ای میل میں انکشاف کیا ہے کہ جمعرات کے روز ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ ہیوسٹن میں مقیم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھائی کے گھر گیا اور انہیں بتایا کہ انکی بہن افغانستان میں قائم ایک امریکی قید خانے میں زخمی حالت میں موجود ہیں۔ امریکی وکیل کے مطابق صدیقی خاندان کو مقید عافیہ صدیقی کی صحت یا انکے بچوں بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ پانچ برس قبل کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے جب ڈاکٹر عافیہ لاپتہ ہوئیں تھیں تو انکے ہمراہ انکے تین کم سن بچے بھی تھے جن کی عمریں چھ ماہ اور نو سال کے درمیان تھیں۔ ان پانچ برسوں میں یہ پہلی بار ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں کوئی با ضابطہ اطلاع سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل انکے اغوا کے فوراً بعد امریکی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے انکے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں گرفتاری کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں اس سے لاتعلقی ظاہر کر دی گئی تھی۔



یہ تصویر اب بھی ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود ہے ایف بی آئی کی جانب سے یہ اطلاع انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم کی اس یادداشت کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے اپنا اثر و رسوخ استمعال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں بھی اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کو حبس بے جا میں رکھنے پر پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے پاکستانی وزارت داخلہ سے جواب بھی طلب کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے خاندانی کے ایک قریبی فرد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ تین روز سے وہ مختلف حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں کہیں سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس سے کئے گئے روابط بھی بیکار ثابت ہو رہے ہیں۔ البتہ اس ساری کارروائی کے جواب میں پاکستان میں مقیم ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کو دھمکیاں ملنے کا سلسہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جب ایک وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کی بازیابی کے لئے اپنے طور پر اسلام آ?باد کی ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو اسکے بعد بھی بعص نامعلوم افراد کی جانب سے صدیقی خاندان کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئیں جس میں انہیں مقدمہ واپس لینے کا کہا گیا تھا۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر عافیہ زندہ ہیں تو کس حال میں ہیں اور انکے بچے کہاں ہیں۔ وہ ان اطلاعات کے بارے میں بھی تشویش کا شکار ہیں جن میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا تھا کہ بگرام میں قائم امریکی جیل میں قیدی نمبر 650 کے نام سے مشہور ڈاکٹر عافیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔



یہ بین اقوامی قانون ہے کہ ہر وہ شخص بے قصور ہے جب تک اس پر جرم ثابت نہیں ہوجاتا: فوزیہ

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا اور وہ بچہ عافیہ کا بیٹا ہوسکتا ہے جسے رہا کیا جائے۔ یہ بات پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف جاری کردہ چارج شیٹ کی نقلیں صحافیوں میں بانٹیں۔ اس چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔ تاہم اس میں یہ نہیں واضح کیا گیا کہ وہ لڑکا بھی امریکی تحویل میں ہے یا نہیں۔ ادھر اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور سفارتخانے کے ذریعے ان



تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کا مختصر بیان امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کی موجودگی کی خبر سامنے آنے، اور انکے اہل خانہ کی جانب سے کراچی میں کی جانے والی پریس کانفرنس کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے پاکستانی شہریوں اور اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی بہن بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ’ان کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اسے انسانیت سوز قرار دے کر اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔‘



عافیہ کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے



پاکستان اور امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے بارے میں عدالتوں، سینیٹ، صدر اور وزیراعظم سے درخواست کی گئیں جو کارگر ثابت نہیں ہوسکیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ پاکستان میں میڈیا کا دباو ¿ بڑھنے کے بعد ان کے خاندان کو یہ اطلاع ملی کہ عافیہ کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ’یکم اگست کو ایف بی آئی کے ایجنٹ نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر عافیہ زخمی ہیں اور امریکی حراست میں ہیں۔ پانچ سال کی گمشدگی کے بعد اس کی گرفتاری ناقابل یقین ہے۔‘ ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر پانچ سال تک یہ درج رہا ہے کہ عافیہ سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ ان پر کسی تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام نہیں تھا۔



ڈاکٹر فوزیہ



امریکہ میں ملازمت کرنے والی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اب میں نے خاموشی توڑی دی ہے تاکہ آپ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کر سکوں۔ یہ بین اقوامی قانون ہے کہ ہر وہ شخص بے قصور ہے جس پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوجاتا۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ عافیہ کسی جرم میں شریک نہیں رہی ہیں۔ ’ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر پانچ سال تک یہ درج رہا ہے کہ عافیہ سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ ان پر کسی تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام نہیں تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی کے بعد سنہ دو ہزار تین میں ان کی والدہ عصمت صدیقی نے ہیوسٹن اور بوسٹن میں ایف بی آئی اے حکام سے ملاقات کی۔ ’انہوں نے میری والدہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عافیہ زندہ ہیں۔ اسی طرح اسسٹنٹ اٹارنی نے ملاقات میں کہا تھا کہ عافیہ پر دہشت گردی کا الزام نہیں عائد کیا جارہا ہے۔‘ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی نیورو بائلاجسٹ نہیں ہیں۔ ’ان کی مہارت اس میں تھی کہ کمزور ذہنی بچوں کی قوت یادداشت کیسے بڑہائی جائے۔ اس کا کیسمٹری، اور کیمیائی ہتھیاروں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔‘



میڈیا سے اپیل

اگر امریکہ کہتا ہے کہ عافیہ تخریب کار ہیں اور ان کے تخریب کاروں سے تعلقات ہیں تو اسے ایڈٹ کردیا جائے جب تک وہ اس کے شواہد نہیں دیکھ لیتے۔ وہ عافیہ کے بارے میں پانچ سال میں کچھ حاصل نہیں کرسکے اور یہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ

انہوں نے ایف بی آئی کے الزامات کو بھی رد کیا اور کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے لائبیریا میں ہیروں جواہرات کی کوئی ڈیل نہیں کی۔ ’جولائی دو ہزار ایک میں وہ بوسٹن میں بچوں کے ایک پروگرام اور شہر کو صاف کرنے کی مہم میں مصروف تھیں ان دنوں میں ان کی موجودگی لائبیریا میں ظاہر کی جا رہی ہے۔‘ انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ ان کا موقف بھی سامنے لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ’اگر امریکہ کہتا ہے کہ عافیہ تخریب کار ہیں اور اس کے تخریب کاروں سے تعلقات ہیں تو اسے ایڈٹ کردیا جائے جب تک کہ وہ خود اس کے شواہد نہیں دیکھ لیتے۔ وہ عافیہ کے بارے میں پانچ سال میں کچھ ثابت نہیں کرسکے اور یہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔‘ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ عافیہ کو اپنے ملک واپس لایا جائے جہاں سے اسے گرفتار کیا گیا۔ وہ پاکستانی شہری ہیں اور یہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر اٹھ کھڑے ہوں۔ اس موقع پر موجود انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر نے کہا کہ پانچ سال کے بعد ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔ امریکہ خود دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مہم چلائی جائے گی۔



Leave a Comment







July 10, 2009, 6:25 am

Filed under: Uncategorized

دو ارب ڈالر کا حساب؟

عطامحمد تبسم

امریکہ کی ڈیموکریٹ پارٹی کے سینئر سینیٹر اور امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے چیئرمین جوزف بائڈن نے گزشتہ دنوں یہ تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد میں تین گنا اضافہ کر دیا جائے جبکہ فوجی امداد کڑی شرائط کے تحت دی جائے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی مالی محتسب ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کئی طرح کی مالی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں اور جنوری سنہ دو ہزار چار سے جون دو ہزار سات کے دوران پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے دو ارب ڈالر کی رقم ایسی ہے جس کے خرچ کا مکمل حساب موجود نہیں ہے۔ پاکستانی عوام اب اس امداد کے ثمرات سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی مانگ اور پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے آنے والی کمی نے پوری قوم کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔قومی خزانے میں موجود زرمبادلہ کے ذخائر جن کا ذکر کرتے ہوئے شوکت عزیز کی زبان سوکھتی تھی۔اب بخارات بن کر اڑ گئے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ اس امداد کے بدلے میں ہمارے حکمرانوںنے اپنا قومی وقار، عزت، آزادی اور ضمیر رِہن رکھ د یا ہے۔اسی امداد کے کارن ہم نے مدد کرنے والوں کی بہت ساری ناجائز اور ناپسند خواہشات پوری کررہے ہیں۔ چونکہ حکمران اس امداد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی انا، عزت، وقار اور ضمیر داو ¿ پر لگاتے ہیں اس لئے لامحالہ اس کے تصرف کا سب سے پہلا حق ان کی ذات کا ہے۔ اس لئے پاکستان سے سرمایہ راتوں رات غائب ہورہا ہے۔ امریکہ نے جو ڈالر دئیے ۔ وہ سوئس بنکوں کے اکاﺅنٹ میں منتقل ہوچکے۔ لیکن پاکستان نے اس کے لئے کیا قیمت ادا کی ۔ ۔ امریکی مداخلت کی وجہ سے پاکستان بھر میں جو خود کش دھماکے ہوئے، ملک کا امن وامان برباد ہوا، معشیت تباہ ہوئی ۔ اس کا ازالہ اور حساب کتاب کون کرے گا۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وہ ہمیشہ امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا رہاہے۔ اور یہ اس غلطی کا تسلسل ہے جو پہلے وزریر اعظم پاکستان کے پہلے دورہ امریکہ کی صورت میں تھی۔ پاکستان کے حکمران ا ہمیشہ سے امریکہ کا دم بھرتے آئے ہیں۔آنے والے اور جانے والے ہمیشہ ہاتھوں میں کشکول لئے رکھتے ہیں۔ ´ہماری انکل سام سے درخواست ہے کہ ۔ دوستوں سے حساب کتاب کرنا کچھ اچھا نہیں لگتا ہے۔ یوں بھی حساب دوستان در دل ہوتا ہے۔



اس وقت کوئی بچانے والا نہ ہوگا

عطا محمد تبسم



یوم آزادی کا یہ جلسہ ایک روائیتی جلسہ تو نہ تھا۔ لیکن اس میں پورے ملک کی نمائیدگی ضرور تھی۔ خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے سارے کردار میرے سامنے تھے۔اس جلسے کے مقررین باقاعدہ مقرر بھی نہ تھے۔فرش پر بیٹھے ہوئے سارے لوگ باری باری اپنے تاثرات کا اظہار کررہے تھے۔جب وزیر کی باری آئی تو محسوس ہوا جیسے گرم گرم لاوا بہہ رہا ہے۔ اس کا سوال تھا کہ کیا آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ کیا اسی لئے پاکستان وجود میں آیا تھا۔ کیا یہ وہی صبح ہے جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا۔ کیا اس ملک کے غریب عوام اسی طرح آٹے اور روٹی کے لیئے ترستے ہوئے اپنی جانیں خودکشیوں کے ذریعے ختم کرتے رہیں گے۔ سندھ کی یہ آواز ابھی خاموش ہوئی تھی کہ بلوچستان کے اس بزرگ کی باری آگئی جس نے بچپن میں تحریک پاکستان کے نعرے لگائے تھے۔ وہ کہ رہے تھے کہ بلوچستان کے لوگوں کا کیا ± قصور ہے۔ کہ پورے پاکستان کو گیس مہیا کرنے والے اپنے گھروں میں گیس سے محروم ہیں ۔ نوکریوں سے محروم ہیں بلکہ ا پنے صوبے میں تعلیم کے بھی موقع سے بھی محروم ہیں۔سرحد ساتھی کہ رہا تھا کہ کل جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی اور کشمیر کا وہ حصہ لے کر دیا جو آج آزاد کشمیر کے نا م سے جانا جاتا ہے۔ آج ہم ان پر گولے برسارہے ہیں۔ان سر سبز وادیوں میں آگ برسارہے ہیں۔میرے پنجاب کے ساتھی بھی بے روزگاری ،افلاس ، اور بڑھتی ہوئی غربت سے شاکی تھے۔شہروں میں رہنے والے بھی آج کل بے روزگاری، ٹرانسپورٹ کے کرایوں،مہنگائی، لاقانونیت کے ہاتھوں زندگی عزاب ہونے کی داستاں سنارہے تھے۔لیکن یہ سارے لوگ اپنے اس دشمن سے ضرور آگاہ تھے۔ اور شکووں کے ساتھ ساتھ پر امید تھے۔ کہ آج کا یوم آزادی ان کی حقیقی آزادی کا پیغام لے کر آیا ہے۔ یہ ساری باتیں سنتے ہوئے ۔ میں سوچتا ہوں ۔قدرت نے تو ہمیں اپنی نعمتوں سے نوازا تھا۔ شائد ہم ہی نہ اہل نکلے جو اس نعمت کو نااہل افراد کے سپرد کردیا۔اگر آج پاکستان سے جائز اور ناجائز منافع کمانے والے اس دولت کو اس ملک میں رکھتے تو شائد ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ ناجائز منافع کمایا وہ ملک سے باہر چلا گیا اگر اس منافع سے ملک کے اندر کارخانے لگتے تو لوگوں کو روزگار ملتا اور خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا۔ مشرف کے دور میں نمبردو معیشت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ زرمبادلہ کے ذخائر مصنوعی تھے معیشت حقیقی معنوں میں مستحکم نہ تھی ۔

سب کچھ دھوکہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب شوکت عزیز اقتدار سے علیحدہ ہوئے تو معیشت زوال پذیر ہونے لگی ۔ آٹھ سالوں کے دوران معیشت مستحکم ہوتی اور ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوتی تو چار ماہ میں معیشت زوال کا شکار نہ ہوتی۔مہنگائی اور بے روزگاری کی ذمے داری بھی ان ہی عناصر پر ہے۔ اب یہ منتخب مخلوط حکومت کا فرض ہے کہ وہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرے۔ مہنگائی سے نجات کا مستقل حل یہ ہے کہ پاکستان کے عوام منظم ہو کر ایک نئے سماجی اور معاشی معاہدے کا مطالبہ کریں جو انصاف، عدل اور مساوات کے اصولوں پر ترتیب دیا جائے۔ ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کے خلاف ریاستی طاقت استعمال کی جائے۔ سرمایہ داروں ، تاجروں اور صنعت کاروں کو ملی بھگت کر کے ناجائز منافع خوری اور عوام کو لوٹنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کرپشن پر قابو پانے کے لئے احتساب کا منصفانہ نظام وضع کیا جائے کرپٹ عناصر کو کڑی سزائیں دی جائیں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بلیک اکانومی کا سائز سو بلین ڈالر ہے جسے وائٹ کرنے سے دس بلین ڈالر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ امیروں پر ٹیکس لگائے اور غریبوں کو ریلیف دے، بڑے سٹاک بروکر راتوں رات کروڑ پتی بن جاتے ہیں ان پر ٹیکس نہ لگانا ظلم اور ناانصافی ہے اسی طرح دولت ٹیکس اور کپیٹل گین ٹیکس بھی عائد کیا جانا چاہیے۔ حکومت غیر ترقیاتی اخراجات کم کرے اور زرعی انقلاب کی پالیسی وضع کرے تاکہ پیداوار میں اضافہ ہواور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہو سکیں۔موجودہ حکومت نے تھوڑے عرصے کے لئے مواخزے کے مطالبہ کے زریعے مہلت حاڈل کرلی ہے۔ لیکن اس کی بقا کا دارومدار مہنگائی کے خاتمے پر ہے لہٰذا یہ مسئلہ حکومت کی نمبرون ترجیح ہونا چاہیے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو مستقل بنیادوں پر کام کرے ۔اگر مہنگائی کے طوفان کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو اس طوفان کی لہریں پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی بھوکے ننگے مفلس عوام کوئی اور راستہ منتخب کرسکے ہیں۔ اور عوام کا رخ ان کی جانب ہوگا جو عوام کو اب تک لوٹتے رہے ہیں۔ پھر انہیں بچانے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔



Leave a Comment







محبت کا خزانہ

July 10, 2009, 6:08 am

Filed under: Uncategorized

محبت کا خزانہ

تحریر: عطا محمد تبسم

اس بحث میں پڑے بغیر کہ یہ کس نے لکھا ہے۔اور اس کا حقیقی رائٹر کون ہے ۔ہمیں اس خط کے مندرجات پر غور کرنا چائیے۔ اس نفسا نفسی کی دنیا میں جہاں انسان کی قدر ہر آنے والے دن میں گرتی جارہی ہے۔ جہاں ہر روز دولت کے حصول میں انصاف کا خون ہورہا ہے۔لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ قانون کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور حکومتیں انسانوں کو پھاڑ کھانے پر تلی ہوئی ہیں۔ عوام کو کسی طرح کا ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ ایک حکم پر عوام کے چہروں پر مسکراہٹ کھلنے بھی نہیں پاتی کہ راتوں رات ایک اور حکم کے ذریعہ عوام کے منہ سے نوالہ پھر چھین لیا جاتاہے۔جموریت کے بطن سے پھر آمریت طلوع ہورہی ہو۔فرعونیت کا لہجہ اختیار کیا جارہا ہو۔وہی حیلے پرویزی اور رزداروں کا وہی چلن ہو تو معاشرہ میں کس تبدیلی کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔دور پرویز اگر اس قدر برا تھا اور اس آمریت کے بطن سے یہ ہی جمہوریت طلوع ہونی تھی تو اس تو اچھا تھا کہ کچھ دن اور آمریت کے ستم سہہ لئے جاتے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ تاریخ میں جب ہمارے بارے میں لکھا جائے گا تو وہ کچھ یوں ہوگا۔ ، ہمارے پاس بلند بالا عمارتیں ہیں لیکن برداشت بالکل نہیں ہے۔وسیع شاہراہیں ہیں لیکن تنگ خیالات ہیں۔ ہمارے دور میں بہت خرچ کیا جاتا ہے۔لیکن ماحاصل کچھ بھی نہیں ہے۔ہم بہت کچھ خریدتے ہیں لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ہمارے زمانے کے لو گوں کا المیہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس بڑے بڑے مکانات ہیں لیکن ان میں مکین نہیں ہیں۔ہمارے پاس آشائش بے حساب اور وقت ناپید ہے۔ ہمارے عہد کے لوگوں کے پاس ڈگریاں بڑی بڑی ہیں لیکن دانش نہیں ہے۔معلومات بہت ہیں لیکن فیصلے کی طاقت نہیں ہے۔ماہرین کی فوج ہے لیکن مسائل پھر بھی کم نہیں ہوتے۔دواﺅں کی افراط ہے لیکن صحت پھر بھی نہیں ہے۔کھاتے پیتے بہت ہیں ۔ خرچ بہت کرتے ہیں لیکن ہنستے بہت کم ہیں۔گاڑیاں تیز بھگاتے ہیں،لیکن فاصلے پھر بھی کم نہیں ہوتے۔جلد غصے میں آجاتے ہیں۔رات تک جاگتے ہیںلیکن صبح بیدار ہوتے ہیں تو تھکاوٹ سے چور ہوتے ہیں۔ پڑھتے بہت کم ہیں۔ ٹی وی بہت دیکھتے ہیں،لیکن عبادت میں دل نہیں لگاتے ہم نے اپنے مسائل کو بڑھا لیا ہے لیکن اپنی قدر کھو بیٹھے ہیں ہم باتیں بہت کرتے ہیں لیکن محبت نہیں کرتے اور نفرتوں میں زندہ رہتے ہیںہم نے زندہ رہنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے لیکن زندگی بسر کرنا نہیں ہم نے چاند پر آنا جانا شروع کر دیا ہے لیکن سڑک پار کرکے پڑوسی سے ملنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہے ہم خلاءمیں جا رہے ہیں لیکن اپنے اندر جھانک نے کی فرصت نہیں ہم عظیم الشان چیزیں بناتے ہیں۔ لیکن ان میں پائیداری نہیں ہوتی ہم نے فضاءکو صاف کر دیا ہے لیکن روحوں کو آلودہ کر دیا ہے ہم نے ایٹم کو توڑ دیا ہے لیکن اپنے تعصبات کو نہیں توڑ سکے۔ ہم بہت لکھتے ہیں۔ لیکن بہت ہی کم سیکھتے ہیںہم بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کر پاتے ہم سیکھنے کے لئے بھاگتے پھرتے ہیں لیکن انتظار نہیں کرتے ہم نے معلومات کو بڑھانے کے لئے زیادہ کمپیوٹر تو بنا لیئے ہیں۔ لیکن ہمارا ابلاغ کم سے کم ہو رہا ہے یہ فاسٹ فوڈ کا زمانہ ہے لیکن ہم بہت کم ہضم کر پاتے ہیں، ہمارے دور کے بڑے آدمی ہیں لیکن ان کے کردار بہت چھوٹے ہیں، منافع کے لئے سرگردا ںرہتے ہیں لیکن رشتوں کا قتل کرتے ہیں، یہ بڑی آمدنیوں کا دور ہے، لیکن پھر بھی طلاق کی شرح زیادہ ہے،محلات اور بنگلے ہیں لیکن گھر نہیں ہے، تیز رفتار سفر ہے ڈسپوزبل ڈائیپرز ہیں ،اخلاقیات کی تباہی ہیں راتوں کو جاگتے ہیں، اوور ویٹ جسم ہیں، اور ہر طرح کی دوائیاں ۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں شوروم کی کھڑکیوں میں بہت کچھ ہیں لیکن اسٹاک خالی ہیں، یہ ٹیکنالوجی کا وہ دور ہے جس میں ایک لمحہ میں آپ کچھ پڑھنا چاہو تو پڑھ لو ورنہ ایک کلک کے ذریعے اسے مٹا دو ۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ کچھ وقت ان کو بھی دیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہیں گے، ان سے محبت کے چند جملے کہیں جو آپ کی طرف امید کی نظروں سے دیکھتے ہیں، کیونکہ کل یہ ننھے منے بچے جوان ہونگے انہیں خوشی سے گلے لگائیں، یہی آ پ کا مستبقل ہیں۔ کیونکہ یہ واحد خزانہ ہے جو آپ کے پاس ہے اور جس میں آپ کا کچھ خرچ بھی نہیں ہو رہا ،یاد رکھیںان لوگوں کا سہارا بنیے جو بوڑھے ہیں،ان سے محبت کیجئے ان سے بات کیجئے انہیں وقت دیجئے ۔ کیونکہ یہ سدا آپ کے ساتھ نہیں رہیں گئے۔