پیر، 7 فروری، 2011

یہ ذلت کے مارے لوگ


                                                                                                                                              عطا محمدتبسم

لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فہیم شمشاد کی پچیس سالہ بیوہ نے خودکشی کرلی۔اس کی خودکشی سے قبل کی جانے والی گفتگو میڈیا کے چینل پر نشر ہوئی۔ لیکن اس بے حس قوم میں کوئی ذلزلہ بپا نہیں ہوا۔ پچیس سالہ بیوہ شمائلہ کی خود کشی کا ذمہ دار کون ہے۔ ریمنڈ ڈیوس، امریکہ، صدر زرداری، الطاف حسین، جماعت اسلامی، یا میڈیا ؟
اس کا تعین کون کرے گا۔ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے مقتولین کے ورثا اور اہل خانہ بھی کہ رہے ہیں کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو سزا نہ دی گئی تو تمام اہل خانہ خود کشی کرلیں گے۔ تو کیا ہم خودکشیاں کرنے کے لئے ہی رہ گئے ہیں۔ فہیم کی بیوہ کے قتل کی ذمہ داری میڈیا کو قبول کرنی چاہیئے۔ یہ قاتل میڈیا ہے۔ جو بلا سوچے سمجھے ہر بات کو اسقدر اچھالتا ہے کہ ذہن پرگندہ ہوجاتے ہیں۔ کیا پاکستان میں انصاف ایسا ہی ہے کہ فوری فیصلے ہوجاتے ہیں۔اگر ہم ملکی سطح پر ہونےوالے قتل و غارت کے واقعات کے فیصلے نہیں کرتے تو اس مقدمے کا فیصلہ کیسے اتنی جلد کرلیں گے۔ کراچی میں برسوں سے موت کا کھیل جاری نہے۔ ہزاروں لوگ قتل ہوچکے ہیں۔ ان کا مقدمہ اور فیصلہ کون کرے گا۔ امریکی اہلکار کے بارے میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ”فرضی نام“ سے بلیک واٹر تنظیم کیلئے کام کر رہا تھا۔ اس کا نام ”ریمنڈ ڈیوس“ نہیں ہے۔ اس کے پاس مذکورہ تنظیم کے بارے میں بھی کافی تحریری تفصیلات موجود ہیں۔ اس سے بلیک واٹر کیلئے کام کرنے کے عوض بھاری معاوضے کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ اس کا ایک دن کا معاوضہ 870 ڈالر جبکہ چھ ماہ کا معاوضہ دو لاکھ ڈالر تک لکھا ہوا ہے۔ اس کی گاڑی سے برآمد ہونے والی قیمتی اشیاء، جدید ترین اسلحہ، سینکڑوں ڈالر اور دیگر جدید آلات سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ ڈپلومیٹ نہیں بلکہ امریکی جاسوس تنظیم کا سرگرم رکن ہو سکتا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ کسی سے مذکورہ تنظیم کیلئے کام کرنے کے سلسلہ میں معاوضہ طے کرنے جا رہا تھا۔ اس کی گاڑی سے جدید ساختہ جو پستول برآمد ہوا ہے وہ سپیریئر ترین میٹل کا ہے اور بلاک نامی کمپنی کا ہے جس کی رینج کے علاوہ نشانہ بھی ایکوریٹ ہے اور اس پستول میں گولی کی رفتار اور Velosity بڑھنے کی بھی صلاحیت ہے اور نشانے کے خطا ہونے کے بھی امکانات کم ہیں۔ 70 گولیاں اور بھری ہوئی چار میگزین کے علاوہ ٹیلی فونک کیمرہ کے اندر اہم تنصیبات کی معلومات اور دیگر نقشہ جات کی تصاویر سے بھی یہ بات واضح نظر آ رہی ہے کہ وہ سفارتکار نہیں بلکہ فرنٹ محاذ پر لڑنے والا کسی بین الاقوامی تنظیم کا متحرک اور سرگرم رکن ہے۔ اور یہ ایک امریکی نہیں ہے۔ ایسے قاتل پاکستان میں چہار جانب گھوم رہے ہیں۔ ان قاتلوں کو ویزہ دینے والے بھی بڑے مجرم ہیں۔ ان کے بارے میں بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ان کو یہاں آنے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری کس نے اٹھا رکھی ہے۔ تیونس میں ایک بے روزگار فرد کی خودکشی سے انقلاب آگیا۔ مصر والے اب بھی تحریر چوک میں بستر بوریا لئے بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں انقلاب کا نعرہ لگانے والے بزدل اور غیرت سے بہت دور ہیں۔ ان میں جان دینے اور جان لینے کا حوصلہ نہیں ہے۔ اس جذبے کے بغیر انقلاب نہیں آتا۔ اس سے اچھے اور سچے تو وہ طالبان ہیں۔ جو اپنے جھوٹے سچے نظریات کے لئے موت کو گلے لگاتے ہیں۔ ان کی فکر راستہ اور طریقہ کار غلط ہوسکتا ہے۔ لیکن ان کے انقلابی ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔مذہب کے نام دہشت گردی کا انہوں نے جو انداز اختیار کیا وہ قابل مذمت کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کے حوصلے جرات اور جہد مسلسل کی داد دینی چاہیئے۔ اب پاکستان میں انقلاب لانے کا نعرہ لگانے والوں کو بھی طالبان سے انقلابیت کا درس لینا چاہیئے۔ ۔ یہاں کے ترقی پسند دانشور عوام کو شوگر کوٹیڈ گولی دے رہے ہین کہ ،،پاکستان میں ایک سنجیدہ اور اہم تبدیلی آرہی ہے ، انقلاب آتا ہوا نظر نہیں آرہا ، کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ ایک موومنٹ بنے اور اس میں الطاف بھائی کا بہت اہم رول ہوگا ،، نجم سیٹھی جیو نیوز کے پروگرام ”آپس کی بات“ میںکس کو خوش کر رہے ہیں۔کراچی کے مجبور اور بے بس عوام کو دیکھنا ہے تو بسوں کی چھتوں، پائیدان سے لٹکے ہوئے، اور منی بسوں میں مرغے بنے ہوئے ذلت میں لپٹے ہوئے دیکھئے۔یہ روزانہ بھتہ دیتے ہیں، پرس اور موبائیل ، موٹرسائیکل،سے محروم ہوتے ہیں۔ اور اف بھی نہیں کرتے۔ کیا انقلاب لانے والے ایسے ذلت کے مارے ہوتے ہیں