اتوار، 17 اکتوبر، 2010

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے،

عطا محمد تبسم

محبت تمھیں بلائے اس کے پیچھے پیچھے چلے جاﺅ۔ گو اس کی راہیں سخت اور دشوار ہوں اور جب اس کے بازو تمھیں سمیٹیں تب ایسا ہونے دو گو اس کے پنکھوں میں پوشیدہ تلوار تمیں زخمی کردے۔ اور جب وہ تم سے کچھ کہے تو اس کا یقین کرلو۔گو اس کی آواز تمارے خوابوں کو منتشر کردے، جس طرح باد شمال باغ کو برباد کردیتی ہے۔ اس لئے کہ جس طرح محبت تمارے سر پر تاج رکھتی ہے۔اسی طرح وہ تمھیں مصلوب بھی کرتی ہے۔محبت اگر تمارے بڑھنے میں مددگار ہوتی ہے تو وہ تماری کانٹ چھانٹ بھی کرتی ہے۔ جس طرح وہ تماری بلندیوں پر چڑھ کر تماری سب سے نازک شاخوں کو پیار کرتی ہے۔ جو دھوپ میں تھرتھراتی ہیں۔ اس طرح وہ تماری جڑوں تک بھی اتر جاتی ہیں، اور اس سے لگی ہوئی جڑوں کو ہلا دیتی ہیں۔کنک کی بالیوں کی طرح وہ تمھیں اپنے میں اکھٹا کر لیتی ہیں۔ محبت قبضہ نہیں کرتی نہ اس پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے محبت کے لئے محبت ہی کافی ہوتی ہے۔،، خلیل جبران کا فلسفہ محبت ایک بہتے دریا کی طرح ہے۔ مدھر جھرنے کی طرح جس کے بہاﺅ میں ایک کاٹ بھی ہے اور تیزی بھی۔ اس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے۔ درد کی دوا پائی ۔ درد لا دوا پایا۔۔دل کے بارے میں کہا گیا کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔ لیکن اب انسان کو کیا ہوتا جارہا ہے۔انسانی لہو جس کی حرمت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ کیسے بہہ رہا ہے۔کوں بہا رہا ہے۔کراچی تو محبت کا دریا تھا۔ جس سے ہر ایک فیضیاب ہوا۔ جس کے چشمے تو خشک نہ ہوتے تھے۔لیکن یہ آگ اور خون کیوں اس شہر میں اتر آیا ہے۔ نہ مساجد ، نہ خانقاہیں، نہ بازار نہ گلیاں، نہ محلے، نہ مکان کچھ بھی تو محفوظ نہیں۔محبت کہاں گئی،ایسی نفرت ایسا زہر، ایسی آگ کے ایک ہی شب میں بیسیوں افراد ہلاگ کردئیے جائیں۔ کیا یہی جمہوریت ہے، کیا جمہور کا خون اتنا ہی ارزاں ہے۔ سائنس دان بھی کیا کیا تحقیق کرتے ہیں۔ اب انہوں نے تحقیق کی ہے کہ درد کم کرنے کی سب سے زیادہ طاقتور دوا محبت ہے۔تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ محبوبہ کی تصویر ہی اس کے عاشق کے دماغ کے اس مخصوص حصے کو متحرک کرسکتی ہے جو دوا کے طور پر عمل کرتا ہے،محبت کسی بھی ممکنہ اثرات کے بغیر درد کو کم کرنے میں فوری کام کرتی ہے۔امریکی اخبارلاس اینجلس ٹائمز کے مطابق جلد یا بدیر محبت کا انجام ہمیشہ دکھ اور درد پر ہی ہوتا ہے لیکن اس محبت میں کچھ راحت کا پہلو بھی ہے اور خاص کر جسمانی نکتہ نظر سے اس کا فائدہ بھی ہے۔ایک امریکی جریدے میں شائع محبت پر ایک تحقیقی اور نفسیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذہنی انتشار کے شکار فرد کے سامنے محبوب کی تصویر اس کے درد کو کم کردیتی ہے۔تصویر نظروں کے سامنے آنے سے اس کے دماغ کے ایک خاص حصے کے فنکشن کرنے سے 36سے45فی صد درد میں کمی ہوجاتی ہے۔اس عمل کے دوران سائنس دانوں نے دماغ کا مطالعہ کیا تو اس میں ایسا عمل ہوتا دیکھا گیا جو اس درد کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوا۔محبت تو ایک جادو ہے، جو سرچڑھ کر بولتا ہے۔ ہم اس محبت سے کیوں محروم ہوتے جارہے ہیں، معاشرے میں محبت نہ رہی تو یہ جہنم سے برا معاشرہ ہوگا،نفرتوں کے شعلوں میں محبت ہی تریاق ہوسکتی ہے، کیا ہم محبت کا یہ پیغام لوگوں میں عام نہیں کرسکتے، محبت فاتح عالم ہے۔ ہمیں دلوں کو محبت سے مسخر کرنا ہوگا، ورنہ یہ آگ کے شعلے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیں گے۔ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے،