منگل، 28 ستمبر، 2010

دراز رسی آہستہ آہستہ کھینچی جا رہی ہے۔

عطا محمد تبسم
این آر او ایک برا قانون ہے، این آر او کالعدم قانون ہے جس کا کوئی وجود نہیں عدالت عالیہ نے گزشتہ سال دسمبر میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ لیکن سننے والوں نے اسے اس طرح سنا جیسے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جیسے بہرے کان سننے سے معذور ہوتے ہیں۔ انھیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کہا گیا ہے اور کس سے کہا گیا ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ دس ماہ بعد عدالت نے دوبار اس کیس کو کھولا تو چاروں طرف ایک سراسیمگی پھیل گئی۔ کسی کو یقین نہ آرہا تھا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔یہ 17 رکنی بنچ کا فیصلہ تھا۔ جس کے لئے 14 درخواستیں دائر کی گئیں جن میں سے 12 درخواستیں سماعت کے لئے منظور کی گئیں تھیں۔ ان درخواست دہندگان میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد‘ سابق بیوروکریٹ روئےداد خان‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ شاہد اورکزئی اور 5 قیدیوں کی درخواستیں بھی شامل تھیں جبکہ اسفندیار ولی‘ انور سیف اللہ اور پنجاب کے و زیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی درخواستوں کو بھی سماعت کے لئے منظور کیا گیا تھا۔ مقدمہ کے دوران عدالت نے نیب‘ اٹارنی جنرل وفاق‘ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری صاحبان اور وزارت قانون کے سیکرٹری سمیت متعدد حکام کو نوٹس جاری کئے گئے تھے۔مقدمہ کی سماعت کے دوران سوئس مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھااور این آر او کے تحت فائدہ حاصل کرنے والوں کی فہرست بھی عدالت میں جمع کرائی گئی‘ سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری قانون نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کیسز ختم کرنے کی اصل فائل عدالت میں پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھاکہ فاروق نائیک نے کہا تھا کہ این آر او آگیا صدر زرداری پر مقدمات ختم کئے جائیں۔ جی ہاں وہی فاروق نائک جو اب سیڑھیاں چڑھ کر سینٹ کے چیئرمین ہیں۔ ایک مرحلے پر صدر کے پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی نے بتایا کہ فوج یا حکومت کے پاس ایسی کوئی فائل نہیں جبکہ سوئس کیسز کی فائل ایوان صدر میں بھی نہیں۔ (جی یاں یہ سلمان فاروقی ،اسٹیل مل کے سابق چیئرمین عثمان فاروقی ان کے بھائی ہیں، آج کل پھر لندن چلے گئے ہیں۔علاج کے بہانے) ایک بار پھر صدر کے بارے میں سوئس عدالتوں کو خط لکھنے پر رسہ کسی جاری ہے۔ تین بڑوں نے سرجوڑ کر مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ عدالت نے بھی دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ جس کے بعد این آر او سے فائدہ اٹھانے والے ۸۳ افراد کی فہرست عدالت میں جمع کرادی گئی ہے۔ گویا سو جوتے اور پیاز کھانے کے مصداق پھر عدالتی احکام پر سر جھکا دیا گیا ہے۔ قومی مفاہمت کے جس قانون کو این آر او کا نام دیا گیا۔ اس ے ملک میں سیاسی مفاہمت کو عمل تو شروع نہیں ہوا۔ ہاں کرپشن کرنے والوں کو ضرور آزادی مل گئی۔بلوچستان، سرحد، میں سیاسی مفاہمت ہوتی تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔ این آر او کے زریعے قاتلوں نے ریلیف حاصل کیا، عام معافی صرف سیاسی نوعیت کے مقدمات میں دی جاسکتی ہے۔ لیکن یہاں تو لوٹ مار کی حد کردی گئی۔ دو ہفتے میں اب وقت ہی کیا بچا ہے۔ وقت کی گردش جاری ہے۔ مہلت ختم ہورہی ہے اور دراز رسی آہستہ آہستہ کھینچی جا رہی ہے۔

پیر، 27 ستمبر، 2010

قیوم جتوئی کس کی زبان بول رہے ہیں۔


میاں نواز شریف کے دور میں جس دن چن زیب نے وزیر اعظم کی رہائش گا ہ کے باہر خودکشی کے لئے اپنے آپ کو آگ لاگا لی تھی۔ اسی دن سے میاں صاحب کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ اب جب سے ایک اور مفلوک الحال بے روز گار شخص نے سید زادے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر خود سوزی کی ہے۔ میں ڈر رہا ہوں کہ موجودہ حکومت کے دن بھی پورے ہوگئے ہیں۔ جانے والے اپنی حماقتوں سے جاتے ہیں، اور ان کے کرتوت ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں رات دن بوٹوں کی دھمک سنائی دیتی ہے۔ محاذ آرائی کون کررہا ہے اور نئے محاذ کون کھول رہا ہے۔ سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ہوش و حواس سے بیگانے ہوکر ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں ۔ جو بدنامی ہی کا سبب نہیں بنتی بلکہ منڈیٹ کا بھی جنازہ نکال دیتی ہیں، پیپلزپارٹی کی قیادت میں وفاقی حکومت کی عدلیہ سے محاذ آرائی کے بعد سیاسی تبدیلی کی باتیں زوروں پر ہیں،حکومت کا کیا بنتا ہے، یہ سب کو سامنے نظر آ رہا ہے۔ سابق وفاقی وزیر مملکت برائے دفاعی پیدوار عبدالقیوم جتوئی سے پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف اور کرپشن کے حق میں جن ارشادات عالیہ کا اظہار کیا ہے، وہ ایک فرد کی رائے نہیں بلکہ اس طبقہ اشرافیہ کے مجموعی کردار کی زبان ہے، استعفیٰ لینے سے نہ تو اس خیال کی نفی ہوتی ہے۔ اور نہ ہی کہنے والوں کو اس پر شر مندگی ہے۔ قیوم جتوئی تو اس وقت بھی شرمسار نہیں ہوئے تھے، جب اسلام آباد میں وہ ایک قبحہ خانے سے رسیوں میں جکھڑے ہوئے پولیس کی وین میں ڈالے جارہے تھے۔ سیلاب میں گھرے ہوئے مظفر گڑھ سے جو شاہکار جمہوریت برآمد ہوئے ہیں۔ ان میں حنا ربانی کھر ، جمشید دستی، اور قیوم جتوئی ہیں، جو ہزار بار بھی جعلی ڈگری، جعل سازی، فحاشی کریں تو اسی طرح عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہوتے رہیں گے۔پاکستان میں اب یہی کلچر ہے جس کا فروغ کیا جارہا ہے۔ عبدالقیوم جتوئی نے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نیوز کانفرنس میں پاک فوج اور چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف جس گل افشانی کا مظاہرہ کیا ہے، پورے ملک میں اسی کلچر کو پیدا کیا جارہا ہے۔ سر شام اقتدار کے ایوانوں میں جو میکدے سجتے ہیں۔ ان سے رخصت ہونے کو کس کافر کا دل چاہے گا۔ یہ ترپ کے پتے ہیں جو ایک ایک کرکے استعمال کئے جارہے ہیں، مسٹر جتوئی اسلام آباد میں وزیر اعظم گیلانی سے ملاقات میں انہیں مطمئن کرنے میں ناکام نہیں رہے بلکہ ان کی اس اداکاری کو سراہا گیا ہے کہ ان کو جو اسکرپٹ پڑھنے کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کو کمال مہارت سے پڑھا ہی نہیں بلکہ جن حلقوں تک بات پہنچانی مقصود تھی ۔ اور جن کو مطعون کرنا تھا، وہ کام کمال خوبی سے انجام پایا۔سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی جماعت کے اہم رکن اور وزیر مملکت نے ملک کے دو اہم اداروں کے خلاف جو اظہار کیا گیا ہے۔اب اس پر ڈبیٹ ہورہی ہے، کہا جارہا ہے کہ اس میں غلط کیا ہے۔ اس وقت ملک کو لوٹنے اور کھوکھلا کر نے والا گروہ ڈھٹائی پر تلہ ہوا ہے۔ قوم پرستی کی بنیاد پر اب برائیاں بھی اچھائیا ں بناکر پیش کی جارہی ہیں۔ ''کرپشن کو مساوات کا درجہ دے دینا چاہیے، سندھی، پشتون، بلوچ، سرائیکی اور پنجابیوں کو مشترکہ طور پر کرپشن میں حصہ دینا چاہیے''۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور جنوبی پنجاب کو کیا اسی لئے الگ الگ بولی کی بنا پر اپنی ایک الگ پہچان کرا ئی جارہی ہے۔ پاک فوج ،عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف جو توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے اور پوری دنیا پر میڈیا پر یہ بات سامنے آئی۔ اس کا ذمہ دار ایک فرد نہیں حکومت ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس کی ذات کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔ جب عدالت عالیہ میں اٹھارویں ترمیم اور این آر او پر اہم فیصلے ہونے ہیں۔ چیف پر ایک وفاقی وزیر کی جانب سے جعلی ڈومی سائل کا الزام کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ جب کہ سب کو یہ بات معلوم ہے کہ چیف جسٹس اپنے بچپن ہی سے کوئٹہ میں مقیم چلے آ رہے ہیں۔ مشرف نے جو کچھ کیا اس کو ،،ہم پاک آرمی کو اس لیے وردی اور بوٹ مہیا نہیں کرتے کہ وہ اپنے ہی ہم وطنوں کو قتل کرتی پھرے''۔ کا الزام دے کر پوری فوج کو بدنام کرنا بھی ایک سازش ہے۔ اب قیوم جتوئی یہ کہ دینا کہ انہوں نے پاک فوج اور چیف جسٹس کے خلاف بیان اپنی ذاتی حیثیت میں دیا تھا اور ان کا مقصد کسی ادارے پر تنقید کرنا ہرگز نہیں تھا۔ ایک فیس سیونگ والی بات ہے۔ وہ میڈیا سے خطابت کے جوش میں یہ بھول گئے تھے کہ وہ وفاقی وزیر بھی ہیں لیکن ان کے بیان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی عہدے داروں میں حکمران جماعت کی قیادت کی بدعنوانیوں کو طشت ازبام کرنے اور خاص طور پر صدرآصف علی زرداری کے خلاف ماضی کے ادوار کی مبینہ کرپشن کے کیس دوبارہ کھولنے پر اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سخت غصہ پایا جا رہا ہے اور اب وہ کرپشن ہی کو جائز قرار دینے کے مطالبے کرنے لگے ہیں۔دیکھئے اب اور کونسا نیا مطالبہ جمہوریت کے ایوانوں سے سامنے آتا ہے۔

جمعہ، 24 ستمبر، 2010

کیسا مقدمہ ۔۔۔۔۔کیسی سزا

ا
بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی اندھیر نگری چوپٹ راجہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنانے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ ترقی کے اس دور میں بھی وہی اندھیر نگری ہے۔ عافیہ کو امریکہ کی عدالت سے دی جانے والی ۶۸ سال قید کی سزا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امریکہ میں پانچ سال میں پہلی بار کسی عورت کو انتہائی سزا دی گئی ہے۔ یہ سزا مسلمان نوجوانوں کو امریکہ کی جانب سے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اگر حریت فکر ، آزادی اظہار اور امریکہ کے دہرے معیار کے خلاف کوئی بات کریں گے تو انھیں درس عبرت بنادیا جائے گا۔ عافیہ ایک ایسی مظلوم عورت ہے۔ جس کی پکار پر کوئی ابن قاسم مدد کو نہ آیا۔ اس پر ظلم کرنے والے خود اس کی اپنی قوم کے حکمران افراد ہیں۔ جو کبھی غیر مسلموں پر ظلم کے خلاف کھڑے ہوجاتے تھے۔ آج ڈالروں کی جھنکار نے انھیں اپنی قوم کی اس بیٹی کی چیخوں سے بے نیاز کردیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور ایک مظلوم نہتی عورت سے خوفزدہ ہے۔ اس مظلوم عورت کے شیر خوار بچے کو اس سے چھین کرمار ڈالا گیا۔ اس کے دو بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا گیا۔ یہ مقدمہ ایک ڈھکوسلا ثابت ہوا۔ جس میں انصاف کا قتل کیا گیا ہے۔اس مقدمے پر ساری دنیا کی نظریں تھیں۔ دنیا یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ امریکہ جو حریت فکر، اظہار آزادی، معاشرتی انصاف کا درس دیتا ہے۔ کیا انہی اصولوں پر وہ انصاف بھی مہیا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے نائین الیون کے بعد امریکہ نے انصاف کے دہرے معیارات قائم کئے ہیں۔ امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ جنہوں نے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ امریکہ نے اس مقدمے میں انصاف کا خون کیا ہے۔اس مقدمہ دیکھنے کےلئے عدالت میں جو لوگ آتے تھے۔ ان میں برقعہ پوش اور حجاب پہنے عورتیں بھی تھیں، باریش نوجوان بھی، بچے بھی تو لبرل وضع قطع اور خیالات رکھنے والے مرد اور عورتیں بھی۔ عدالت میں جب پہلی بار عافیہ کو پیش کیا تو وہ شدید زخمی تھیں۔ اس وقت جج کو بتایا گیا کہ ،، ڈاکٹر عافیہ کے پیٹ میں زخم ہے اور آنتوں سے خون جاری ہے اور اب تک انہیں حکومت کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھا رہی‘۔ جج نے پوچھا کہ اب تک انہیں کسی ڈاکٹر یا لائسنس یافتہ فزیشن کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟‘ امریکی وکیل استغاثہ نے جواب دیا مدعاعلیہ اپنا طبی معائنہ کسی خاتون ڈاکٹر سے کروانا چاہتی ہے اور خاتون ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوسکیں‘۔ یہ ہے امریکہ کا انصاف۔ ایک اور جھلک ملاحظہ ہو۔۔۔۔ استغاثہ کی طرف سے پیش کئے گئے گواہ احمد گل نے، جو افغانستان میں امریکی افواج کے لیے مترجم تھے، عدالت کو اٹھارہ جولائی سن 2008 کے واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کمر اس پردے کی طرف تھی جس کے پیچھے ڈاکٹر صدیقی موجود تھیں۔ جب امریکی فوجی کیپٹن سنائیڈر نے چینخ کر کہا کہ ”اس کے پاس رائفل ہے” تو انہوں نے مڑ کر دیکھا کہ ڈاکٹر صدیقی بندوق اٹھائے پلنگ کے پاس کھڑی تھیں۔ مسٹر گل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر صدیقی کو رائفل سمیت دھکا دیا۔ اور جب امریکی چیف وارنٹ افسر نے ان کے پیٹ میں گولی ماری تب وہ بمشکل ان سے رائفل چھین پائے۔ اس دوران ان کے مطابق رائفل سے دو گولیاں چلیں۔ گزشتہ روز کیپٹین سنائیڈر نے بیان دیا تھا کہ ڈاکٹر صدیقی رائفل تانے پلنگ پر گھٹنوں کے بل بیٹھی تھیں۔ وکیل صفائی لنڈا مورینو کے پوچھنے پر مسٹر گل نے واضح طور پر کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر صدیقی کو پلنگ پر گھٹنوں کے بل بیٹھے نہیں دیکھا۔ وکلاءصفائی کی جرح پر مسٹر گل نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد وہ امریکی حکومت کے تعاون سے امریکہ منتقل ہو چکے ہیں اور امریکی شہریت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ہیں وہ خریدے ہوئے گواہ جن پر اس مقدمے کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک اور گواہ ملاحظہ کیجئے۔یہ گیری وڈ ورتھ ہیں، جو کہ رہی ہیں کہ میں نے بیس برس پہلے اس لڑکی کو بارہ گھنٹے کے نیشنل رائفل کے بنیادی کورس میں پسٹل شوٹنگ کارتے ہوئے دیکھا تھا،جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ہزاروں طلبہ میں سے اس طالبہ کو بیس برس بعد کیسے شناخت کرسکتی ہیں تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔اس لڑکی نے چار سو سے بارہ سو راونڈ چلائے تھے۔لیکن یہ پشٹل سے چلائے تھے۔ کسی رائفل سے نہیں چلائے تھے۔اس جواب نے ساری عدالت کو ششدر کردیا ´ ایک اور گواہ ایف بی آئی کے ایجنٹ بروس کیمرمین کا کہنا تھا کہ جولائی ۸۰۰۲ میں عافیہ نے انھیں بتایا تھا کہ میں نے یہ رائفل ڈرانے کے لئے اٹھائی تھی۔ تاکہ میں فرار ہوسکوں۔ میں نے اس بیان کے بارے میں اپنے اعلی حکام کو آگاہ کردیا تھا،لیکن جب دفاع کے وکیل ایلن شارپ نے اس ایف بی آئی کے ایجنٹ کو اس کے تحریر کردہ نوٹس دکھائے جس میں ایسی کسی رائیفل کا کوئی ذکر نہ تھا تو اس کی زبان گنگ رہ گئی۔ یہ ہیں عافیہ کے مقدمے کے گواہ جن کی بنیاد پر یہ انتہائی سزا سنائی گئی ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑا جا تا رہا۔ لیکن ان کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کا کوئی الزام نہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان کے صوبے غزنی کے ایک پولیس ہیڈ کوارٹر میں ان سے تفتیش کے لیے آنے والی امریکی ٹیم پر ایم فور رائفل سے حملہ کیا۔استغاثہ کے پیش کردہ ایف بی آئی کے ماہرین نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر صدیقی کی انگلیوں کے نشان ان کاغذات پر سے تو ملے ہیں جو مبینہ طور پر حراست کے وقت ان کے پاس سے دستیاب ہوئے تھے لیکن اس رائفل پر نہیں ملے جس سے انہوں نے مبینہ طور پر گولیاں چلائی تھیں۔ مقدمے کی ابتدائی سماعت نے اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کرلی تھی۔ جب عدالت کو بتایاگیاکہ ملزمہ نے مبینہ طور پر جس گن سے امریکی فوجیوں پر گولیاں چلائی تھیں اس بندوق پر عافیہ صدیقی کی انگلیوں کے نشان یا کوئی اور ثبوت موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس بندوق سے فائر کی گئی گولیوں کے خول موجود ہیں۔ دوران سماعت عافیہ صدیقی کی بیٹی مریم جو ایک یہودی کے پاس تھی۔ اسے لاکر عافیہ کو دکھایا جاتا تھا۔ اور دھمکی دی جاتی تھی کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی بیٹی کا کبھی پتہ نہیں چلے گا۔ عافیہ کو شروع ہی سے امریکہ کے عدالتی نظام پر اعتماد نہیں تھا ۔ جس کا اس نے برملا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ،،انہیں امریکہ کی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں اور مجھ پر لگائے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیںیہ ہیں ،،اس مقدمے کے ثبوت کا کوئی سر پیر ہی نہ تھا۔ پراسیکیوٹر نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عافیہ صدیقی کا القاعدہ یا طالبان سے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی اس تعلق کے شبہ میں ان کے خلاف کوئی الزام عائد کیا جاسکتا ہے۔شدت پسندوں کو اس فیصلے سے اپنے اقدامات کو جواز مل جائے گا۔امریکہ اور پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی ناٹو افواج کی سپلائی لائین بھی متاثر ہونے کا خظرہ ہے۔ اورتشدد پسندوں کو بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف نفرت ابھارنے کا موقع مل جائے گا۔ پورے ملک میں عافیہ کو سزا ہونے پرجو احتجاج کی جو لہر ابھری ہے ۔ اس پر پل باندھنا حکومت کے لئے مشکل ہوگا۔ امریکہ نے اس مظلوم عورت کو سزا سناکر اپنے خلاف ایک ایسی ایف آئی آر کٹا دی ہے۔ جس سے مشرف اور بش جیسے حکمران کبھی نہ بچ سکیں گے

بدھ، 22 ستمبر، 2010

چھٹتی نہیں ہے کا فر منہ سے لگی ہوئی


عطا محمد تبسم

مولانا فضل الرحمان ، مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ حکومت ان کو ایسی راس آئی ہے کہ چھٹتی نہیں ہے کا فر منہ سے لگی ہوئی۔ بے نظیر ہوں، یا نواز شریف، مشرف ہوں یا زرداری ان کی پانچوں انگلیاں ہی کیا، سب کچھ گھی میں ہے۔ ملک میں آگ لگے یا سیلاب آئے ان کی قدم پاکستان کی سرزمین پر ٹکتے ہی نہیں۔ ملک میں سیلاب آیا تو مولانا عمرے پر چلے گئے، لال مسجد کا سانحہ ہوا تو مولانا لندن جا بیٹھے۔ ان کے بھائی مولانا عطا الرحمن بھی وزارت ، گاڑیوں، اور بیرونی دوروں کے شوقین ہیں۔ حکومت میں رہنے سے سارے شوق پورے ہوجاتے ہیں۔ ابھی مولانا دوبئی سے آئے ہیں۔ قصد امریکہ جانے کا تھا۔ پر امید بر نہ آئی۔امریکیوں نے انھیں اپنے ملک آنے سے روک دیا گیا ہے۔ ادھر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی کو امریکا جانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نیویارک میں ہونے والی او آئی سی کی سالانہ رابطہ کانفرنس میں شرکت کیلئے دوحہ سے روانہ ہورہے تھے۔ تاہم انہیں دوحہ ایئرپورٹ پر امریکی حکام کے کہنے پر بورڈنگ پاس جاری نہیں کیا گیا اورامریکا جانے سے روک دیا گیا۔محکمہ خارجہ کے حکام کے مطابق ان کے کیس کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں جلد فیصلہ کرلیا جائےگا۔کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے نام پر مولانا کو فل پرٹوکول حاصل ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے پاکستانی سفیر اور امریکی حکام سے رابطہ کرکے اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور انہیں امریکا آنے کی اجازت دینے پر زور دیا ہے۔ ان کی پارٹی کے ایک اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی کو امریکا میں داخلے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اعظم سواتی کو امریکا داخل ہونے پر وفاقی وزیرکا پروٹوکول نہیں دیا جائے گا اور ان کی اسکریننگ کی جائے گی۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے ترجمان نے کہا کہ مولانا کو دوحہ ایئرپورٹ پر امریکا جانے سے روکے جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں وہ اسلام آباد میں اپنی رہائش پر موجود ہیں۔ ایسے مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئر مین ہوں گے تو کشمیریوں کا اس سے بدتر حال کیوں نہ ہوگا۔

پیر، 20 ستمبر، 2010

عافیہ کی رہائی حکومت پوائینٹ اسکور کرسکتی ہے۔


عطا محمد تبسم



اس دن بھی سارے دوست ڈاکٹر عافیہ کے گھر جمع ہوئے تھے۔ جو عافیہ کی رہائی کے لئے طویل جدوجہد کے بعد اس مرحلے پر پہنچے ہیں۔برطانیہ سے ایون رڈلی مریم اور گونتابے کے قیدی معظم بیگ آئے تھے۔ کراچی کے دوستوں میں سلیم مغل، انتخاب سوری ، شہزاد مظہر،پاسبان کے الطاف شکور ، صحافتی برادری، این جو اوز اور دانشور سب یہ سوچ رہے تھے کہ اب عافیہ کی رہائی کیسے ہو۔عصمت آپا ، عافیہ کی والدہ کے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے۔ احمد جو اپنی ماں سے بچھڑ کو ادھورا سا سہما ہوا بچہ ہے۔ مریم تو اب تک شاک کی کیفیت میں ہے۔ فوزیہ کہہ رہی تھی کہ عافیہ تو اسی دن مر گئی تھی۔ جب اس کے بچے اس سے چھین لئے گئے تھے۔ امریکی عدالت ایک ایسے قیدی پر مقدمہ چلا رہی ہیں جو ظلم وستم سے ذہنی طور پر معذور ہے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ اس کے مقدمے کے دوران اس کی بیٹی مریم کو بار بار اس کے سامنے لاکر دھمکی دی جاتی رہی کہ اگر اس نے لب کشائی کی تو اس کی بیٹی عمر بھر اسے نہ مل سکے گی۔ ڈاکٹر عافیہ پاکستان کی بیٹی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بردہ فروش حکمرانوں نے اسے اپنے اقتدار پر قربان کر دیا ہے۔ چند روز جاتے ہیں کہ امریکی عدالت اسے سزا سنا دیں۔ اس سزا پر پاکستان ہی میں نہیں دنیا اسلام میں شدید ردعمل ہوسکتا ہے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے امریکہ کے اٹارنی جنرل کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کیلئے ایک خط لکھا ہے۔ ایک طویل خاموشی کے بعد، کیا ایسی اپیل پہلے نہیں کی جاسکتی تھی۔ آخر پاکستان امریکہ کا کیسا اتحادی ہے جو اپنے شہریوں کو نہ انصاف دلا سکتا ہے ۔ نہ انھیں امریکہ سے واپس مانگ سکتا ہے۔ وزیر داخلہ نے امریکی اٹارنی جنرل کو باور کرایا ہے کہ یہ پاکستانی عوام کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے پاکستان میں امریکہ کیلئے اچھے جذبات پیدا ہونگے۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکی حکومت اس معاملہ کے انسانی پہلو کو بھی مدنظر رکھے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ کے دو بچے غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں جس سے ان کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے جبکہ ڈاکٹر عافیہ کی ضعیف والدہ بھی انتہائی پریشان کن صورت حال سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے درخواست کی کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے لئے ذاتی اثر ورسوخ استعمال کریں۔ رحمان ملک نے یاد دلایا ہے کہ امریکہ کی قانونی تاریخ میں ایسی 90مثالیں موجود ہیں کہ جن میں مقدمات انسانی بنیادوں پر واپس لیئے گئے۔ ، ایک افغان جیل میں قیدی اور تشدد کا سامنا کرنے اور اپنے بچوں سے علیحدگی کا درد ہی عافیہ کے لئے کافی ہے ، امریکہ پاکستان کی عوام سے یکجہتی پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے عوامی امنگوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔ صدر امریکہ چاہیں تو وہ رہائی کے اقدام کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی وطن واپسی پاکستان میں امریکہ کے لئے خیر سگالی پیدا ہوں گے۔حکومت اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق سیکھ سکتی ہے۔ حکومت جس کی ناکامی کے چرچے اور چل چلاﺅ کی باتیں کی جارہی ہیں۔ وہ عافیہ کے مقدمے میں مداخلت کرکے اپنی پوائینٹ اسکور کرسکتی ہے۔ اسے گیلانی اور زرداری حکومت کو کارنامہ ہی سمجھا جائے گا۔اگر ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں امریکی حکومت نے کوئی عاجلانہ فیصلہ کیا تو دہشت گردی کی جنگ میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی ناٹو افواج کی سپلائی لائین بھی متاثر ہونے کا خظرہ ہے۔ اور ششدد پسندوں کو بھی اس کے خلاف نفرت ابھارنے کا موقع مل جائے گا۔ پورے ملک میں عافیہ کو سزا ہونے کی صورت میں احتجاج کی جو لہر ابھرے گی۔ اس پر پل باندھنا حکومت کے لئے مشکل ہوگا۔ا
ایک تعارف۔۔۔ عطا محمد تبسم

اسکول میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اردو کے استاد نے تعریف کی،یوں لکھنے سے دلچسپی بڑھی،پڑھنے کا شوق آنہ لائیبریری لے گیا۔ ان دنوں بچوں کی دنیا، تعلیم وتربیت جیسے رسالے تھے،کتابوں کے شوق کی آبیاری کرنے کے لئے کوئی رہنما نہیں تھا۔ اس لئے جو ملا پڑھ لیا، قاسم محمود کے شاہکار نے ادب کی راہ دکھائی،مفتی کی علی پور کا ایلی نیشنل سنٹر میں روزانہ جاکر پڑھتا، لائیبریری کے اوقات ختم ہونے پر گھر چلا جاتا، کئی دنوں میں یہ کتاب ختم کی،کالج میں ایک محسن دوست مل گیا، اس نے ادب کے ستھرے ذوق کو مہمیز کیا،تعلیم ، معاش اور طلبہ سیاست نے صحافت کی راہ دکھائی۔کراچی یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے اساتذہ اور دوست احباب نے اردو اور انگریزی پر توجہ دلائی، لیکن بچپن میں پیلے اسکول کی تعلیم انگریزی والوں کا کیا مقابلہ۔ سو زندگی بھر ایک طالب کی طرح حرف حرف سیکھنے کا عمل جاری ہے۔حیدرآباد شہر میں پیدائش،جامعہ سندھ سے ایم اے معاشیات،اور جامعہ کراچی سے ایم اے صحافت کے بعد اخبارات ، اور تعلقات عامہ سے رشتہ نان جو جڑا ہے۔بلاگ کے دوستوں سے سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ ابھی تک درست طریقے پر نہ تو بلاگ بنا پایا۔نہ ہی تبصروں کو دیکھ پایا۔ آج کمنیٹس میں جاکر دیکھا تو پتہ چلا ۔ دوستوں نے ہمت افزائی کی ہے۔ لیکن ابھی تک سمجھ نہ پایا کہ کیا کرنا ہے۔

ہفتہ، 18 ستمبر، 2010

شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق

عطا محمد تبسم

عید کے بعد کراچی میں کیا ہوگا۔ یہ ایک عمومی سا سوال تھا۔ جو عید پر ملنے جلنے والے ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے۔ اس سوال کی وجہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت اور مخلوط حکومت میں نمایاں کردار ادا کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے وہ بیانات اور خطاب تھے۔ جن میں انقلاب اور جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف اظہار خیال کیا جاتا رہا ہے۔ قائد تحریک کی سالگرہ ۷۱ ستمبر کو منائی جاتی ہے اور ایم کیو ایم کے کارکن اس دن کا خصوصیت سے انتظار کرتے ہیں کہ اس دن انھیں اپنے رہنما کے جنم دن پر خوشیا ں منانے کا موقع ملتا ہے تو دوسری جانب نائین زیرو کے نزدیکی میدان میں موسیقی اور گانوں کا منفرد شو ہوتا ہے جس میں ملک کے بڑے فنکار شرکت کرتے ہیں۔ٹھیک بارہ بجے الطاف حسین اپنے ساتھیوں سے یک جہتی کے لئے خطاب کرتے ہیں۔ ملک میں سیلاب کی صورت حال کے سبب اس بار سالگرہ کی تقریبات سادگی سے منائی جانے والی تھی کہ اچانک ایک ناگہانی افسوس ناک خبر نے ماحول کو سوگوار کر دیا۔لندن میں ایم کیو ایم کے مرکز کے قریب ایم کیو ایم کے کنوینر عمران فاروق کو نامعلوم قاتل نے چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا۔عمران فاروق لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ 1992میں حکومت کی طرف سے ایم کیو ایم کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن کے بعد روپوش تھے۔ اس دوران ان کے خلاف کئی مقدمات درج کئے گئے تھے۔ ان مقدمات کو سیاسی انتقام کا نام دے کر انہوں نے اپنی جان کو درپیش خطرے کے پیش نظر لندن میں سیاسی پناہ لے رکھی تھی۔

کراچی میں نسلی اور سیاسی فسادات کی تاریخ بیس برس پرانی ہے۔ جہاں کسی بھی ہلاکت پر ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں۔ گزشتہ ماہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد شہر میں ہونے والے ہنگامے اور فسادات میں 85 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی خبر ملتے ہی شہر میں سوگ کی فضا پھیل گئی اور خوف کا ماحول محسوس کیا جانے لگا تھا۔ جس پر ایم کیو ایم کی قیادت نے انتہائی منظم انداز سے حالات کو قابو میں کیا۔ اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم کی صف اول کی قیادت کے ایک فرد کی موت پر کراچی میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ لندن میں ہونے والے اس قتل نے سیاسی حلقوں میں ایک خوف پیدا کر دیا ہے۔ لندن پاکستانی سیاست دانوں کی جنت ہے۔ جہاں وہ ملکی سیاست سے گھبرا کر پناہ لیتے رہے ہیں۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے ڈاکٹر عمران فاروق کی موت پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اگرعمران فاروق کی موت سیاسی قتل ثابت ہوئی تو اس سے نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سیاست دانوں کو تشویش ہو سکتی ہے۔ اخبار گارڈین کے مطابق عمران فاروق کے ساتھی ان کی موت کو سیاسی قرار دے رہے ہیں۔ برطانیہ کو سیاسی بنیاد پر پناہ گاہ کے حوالے سے دنیا میں محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ عمران فاروق کا قتل ابھی تک ایک معمہ ہے۔ پولیس کے مطابق 50 سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن کے شمالی علاقے میں اپنے گھر کے سامنے زخمی حالت میں پایا گیا۔ ان پر چاقو کے متعدد وار کیے گئے تھے جبکہ ان کے سر پر بھی چوٹ کے نشان تھے۔ لندن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کی شہادت پر جس دل گرفتگی اور اظہار غم کیا ہے۔ اس نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو بھی غم زدہ کر دیا ہے۔ بھائی کے آنسو کارکنوں سے نہیں دیکھےجاتے۔ زندگی کا سب سے بڑا صدمہ قرار دیتے ہوئے الطاف حسین نے عمران فاروق کوشہید انقلاب قرار دیا ہے۔ عمران فاروق کی شہادت کے بعد کراچی کے علاقے شریف آباد میں واقع ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد آ جا رہی ہے۔ غم سے نڈھال ڈاکٹر عمران فاروق کے والد محمد فاروق اپنی رہائش گاہ پر پر سہ دینے والوں ملتے ہیں۔ تو ایک بوڑھے باپ کی بے بسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کراچی میں بہت سے ایسے خاندان ہیں جنہوں نے اپنے بڑھاپے کا سہارا کھو دیا ہے۔ پاکستان بنانے والوں کی نئی نسل کو سیاست راس نہیں آئی، مڈل کلاس سیاست دانوں کی فصل کو بام پر آنے سے پہلے ہی کاٹ ڈالا گیا۔ عمران فاروق بھی اسی مڈل کلاس سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے باپ کے یہ الفاظ اس مڈل کلاس سیاست کا نوحہ ہیں۔ ،، عمران فاروق کی زندگی ایک درویش کی زندگی تھی،وہ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے اور کم پیسوں میں گزارا کرتے تھے۔ مہاجر سیاست کا دو بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والا پارٹی کا کنوینر یوں دنیا سے چلا گیا۔ اس اسمبلی کا تو غریب سے غریب رکن بھی تین کروڑ کا مالک ہے۔ الطاف حسین نے سچ کہا کہ یہ غم ان کی دل پر نقش رہے گا جوکبھی دھل نہیں سکے گا۔

جمعرات، 16 ستمبر، 2010

میوزیکل چیئر کا گیم

عطا محمد تبسم
حیدرآباد سے کراچی کا سفر آرام سے دو گھنٹے میں طے ہوگیا۔ گھر سے آدھ کلو میٹر کے فاصلے پر راشد منہاس روڈ پر کراچی کا ٹریفک اپنے پورے جوبن پر تھا۔ دور دور تک کاروں ،بسوں،رکشائ، موٹر سائیکلوں ،ٹرک، مزدا ٹرک،ویگن کی ایک نا ختم ہونے والی بھیڑ تھی۔کراچی کے باشعور شہریوں میں قائد اعظم کے فرمودات اتحاد، تنظیم ، نظم وضبط کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نتیجہ یہ تھا کہ حیدرآباد سے کراچی کو سفر دو گھنٹے، اور کراچی میں آدھ کلو میٹر کا فاصلہ بھی دو گھنٹے میں طے ہوا۔ کراچی کا ٹریفک اب ایک ڈراﺅنے خواب کی صورت ہے۔ جس میں پھنس جانے کا تصور ہر گاڑی چلانے والے کو ایک جنونی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے کہ کسی طرح میں نکل کر اپنی منزل پر پہنچ جاﺅں۔گھر آنے پر ٹی وی سے پتہ چلا کہ پورے کراچی میں ہر جگہ ٹریفک جام ہے جو بعض مقامات پر رات ایک دو بجے تک رہا۔ کراچی کے شہری جس طرح اب ٹارگٹ کلنگ کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرچکے ہیں۔ ایسے ہی ٹریفک جام کو بھی اس شہر میں رہنے کا ایک ٹیکس سمجھ کر قبول کرلیا گیا ہے۔ سپر ہائی وے پر دور دور تک سیلاب متاثرین کی جھونپڑ پٹیاں ہیں۔ عورتیں بچے صبح شام سڑک پر ہاتھ پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہماری حکومت کے دعوے اپنی جگہ ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور جانب اشارہ کررہے ہیں۔ حد سے زیادہ بد انتظامی اور نااہلی نے ان کو بھی زبان دے دی۔ جو اپنے جرائم کے سبب منہ چھپائے پھر رہے تھے۔ سیلاب انسانوں ہی کو بے گھر نہیں کرتا، زہریلے سانپ اور مگر مچھ بھی بے گھر ہوجاتے ہیں۔ ان دنوں پانی کے جانوروں نے ایک نیا تماشا شروع کر رکھا ہے۔ ان جانوروں کو بھی میڈیا کی حمایت حاصل ہے۔ اب نجومی تو حکومت کے جانے کی صبح شام کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ جرمنی میں آکٹوپس پال نے فٹ بال ورلڈ کپ میں کام یاب پیش گوئیاں کر کے عالم گیر شہرت حاصل کی تھی۔ اب ان کی دیکھا دیکھی آسٹریلیا میں ایک مگر مچھ نے بھی پیش گوئیوں کے میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ڈارون کے ایک وائلڈ لائف پارک میں ہیری نامی مگر مچھ نے آسٹریلیا کے عام انتخابات میں وزارت عظمی کے لیےجولیا گیلارڈ کے منتخب کی پیش گوئی کی ہے۔سیلاب کی امداد کو ڈکارنے والے مگرمچھوں کے کارناموں سے متاثر ہوکر سابق صدر مشرف نے بھی شائد کسی مگر مچھ سے فال نکلوائی ہے۔ اور اب انھوں نے دو ہزار تیرہ میں ہونے والے عام انتخابات میں صدر یا وزیر اعظم بننے کے لئے حصہ لینے کا ارادہ کرلیا ہے۔ سابق صدر کا کہنا ہے کہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ پاکستانی قوم کو اندھیروں اور مایوسی سے نکالنا چاہتے ہیں۔عجیب بات ہے جن لوگوں نے اس قوم کو اندھیروں میں ڈوبویا وہی اسے روشنی بخشنے کا دعوی کر رہے ہیں۔ ملک میں اقتدار کے لئے برسوں سے میوزیکل چئیر کا کھیل جارہی ہے۔ جس میں آج ہم ہیں ۔ کل تماری باری ہے۔پر جاری اس گیم میں ہر جانے والا ایک نئی مصیبت اس قوم کے سر پر منڈھ جاتا ہے۔ اسکندرمرزا گئے تو ایوب خان کا تحفہ دے گئے۔وہ جاتے جاتے یحی خان کو کرسی پر بیٹھا گئے۔ بھٹو ذرا سا چوک گئے تو ضیاالحق آبیٹھے،ان کے جانے کے بعد بےنظیر اور میاں نواز شریف کی میوزیکل چئیر جاری تھی کہ اچانک مشرف نے کرسی اچک لی۔انکو قوم نے بڑی مشکل سے رخصت کیا تھا کہ جموریت آگئی اور اب جموریت ہے لیکن جمہور غائب ہے۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔اس لئے ایک بار پھر میوزیکل چئیر گیم شروع ہورہا ہے۔ جس میں سارے کھلاڑی پھر صدر صدر یا وزیر اعظم وزیر اعظم کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔