بدھ، 18 اپریل، 2012

صحن چمن کی باتیں: جانے یہ سب بے خوف کیوں ہوگئے ہیں۔

صحن چمن کی باتیں: جانے یہ سب بے خوف کیوں ہوگئے ہیں۔: عطا محمد تبسم آج بارش کا امکان ہے۔ مجھے محکمہ موسمیات پر یقین نہیں ہے۔ اس لئے گھر سے نکلتے ہوئے چھتری اور برساتی نہیں لی۔ یہ بات کچھ صحیح...

جانے یہ سب بے خوف کیوں ہوگئے ہیں۔

عطا محمد تبسم

آج بارش کا امکان ہے۔ مجھے محکمہ موسمیات پر یقین نہیں ہے۔ اس لئے گھر سے نکلتے ہوئے چھتری اور برساتی نہیں لی۔ یہ بات کچھ صحیح نہیں ہے۔ ہم کراچی والے بارش سے کیا ڈریں گے۔ ہم تو برستی گولیوں اور جلتے ڈائروں میں گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ شہر میں کتنی اموات ہوئی ۔ یا تو ٹی وی کی بریکنگ نیوز سے پتہ چلتا ہے یا ٹریفک کے بہاﺅ سے۔ رات کو اچانک سلائیڈ چلنا شروع ہوئی ہوٹل بند کرنے کے احکامات جاری ہوگئے ہیں۔ تھوڑی سی حیرانی ہوئی ، پھر خیال آیا شائد بجلی ہوٹل والے زیادہ خرچ کرنے لگے ہیں۔ اس لئے کوئی نئی ترکیب نکالی گئی ہے۔ لیکن پھر اندازہ ہوا کہ اب شہر کے چائے خانے نشانہ ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ شہر میں جاری ہے اور ہوٹلوں پر گولیاں برسائی جارہی ہیں۔ صبح اخبار کی سرخی سے پتہ چلا کہ شہر میں پندرہ افراد قتل ہوچکے ہیں۔ بوری بند لاشیں جگہ جگہ پھینکی جارہی ہیں۔ اب تو لوگ رکشہ میں لاش ڈال کر ایمبولینس والوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ ایسا ہی کچھ لکھا ہے اخبار میں ، حیران ہوں۔ یہ کیسا ملک ہے ۔ جس کے ہر شہر میں ایک نیا ڈرامہ ہے۔ کہیں پانچ سو ہتھیار بند جیل توڑنے نکل آتے ہیں۔ تو کہیں بسوں کو روک کر مسافروں کو علیحدہ کرکے شناختی کارڈ دیکھ کر لائین میں کھڑا کرکے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔ کہیں چالیس چالیس افراد اغوا کر لئے جاتے ہیں۔ لیاری میں آئے دن گھمسان کی جنگ ہوتی ہے۔ راکٹ لانچر داغے جاتے ہیں۔ پولیس بچاﺅ کے لئے چھپتی پھرتی ہے۔ بچے برستی گولیوں اور جلتی ہوئی گاڑیوں اور ٹائروں کے درمیان اسکیٹنگ کرتے ہیں۔ ابلیس کا رقص جانے کیسا ہوتا ہوگا۔ ہم نے تو جو نظارے دیکھے ہیں۔ اس میں شیطانیت ہر طرف ناچتی دکھائی دیتی ہے۔ انسان جانے کب شیطان کا روپ دھار لیتا ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ ہر طرف شیطان ہی شیطان اور اس کے چیلے ہیں۔ جو کبھی کھبی انسان کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ میرے دوست نے ایس ایم ایس کیا ہے۔ کہا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کا ورد کروں۔ تاکہ برف کی سفید مچھلی کے پیٹ سے میری فوج کے جوان زندہ سلامت نکل آئیں۔ جانے کیوں میں اب تک معجزہ کے انتظار میں ہوں۔ امیدیں ، آنسو، دعائیں،رب العالمین کے حضور التجائیں، سب دم سادھے ہوئے ہیں۔ کب کوئی خبر آتی ہے۔ عجیب بے حسی ہے۔ ایک طرف لوگ مر رہے ہیں۔ قتل ہورہے ہیں ۔آگ لگی ہے۔ لیکن دوسری جانب نئی نئی وازرت بن رہی ہیں۔ حلف اٹھائے جارہے ہیں۔ ان حلف اٹھانے والوں کو ان الفاظ کا بھی پاس نہیں جو وہ حلف اٹھاتے ہوئے دہراتے ہیں۔ شائد انھیں یقین ہی نہیں ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ ایک دن انھیں اس دنیا سے جانا ہے۔ انھیں دوسری دنیا کی وسعت کا اندازہ ہی نہیں ۔ اس دنیا میںستاروں کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی میل فی سیکنڈ کی رفتار سے فاصلہ طے کر لاکھوں سال میں زمین پر پہنچتی ہے۔ تو دوسری دنیا کی وسعت کیا ہوگی۔ رب زولجللال کیپکڑ سے دل لرزتا ہے۔ جانے یہ سب بے خوف کیوں ہوگئے ہیں۔