اشاعتیں

2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عمران فاروق کے قاتل

عطا محمد تبسم  س تھے۔ اس سوال کی وجہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت اور مخلوط حکومت میں نمایاں کردار ادا کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے وہ بیانات اور خطاب تھے۔ جن میں انقلاب اور جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف اظہار خیال کیا جاتا رہا ہے۔ قائد تحریک کی سالگرہ ۷۱ ستمبر کو منائی جاتی ہے اور ایم کیو ایم کے کارکن اس دن کا خصوصیت سے انتظار کرتے ہیں کہ اس دن انھیں اپنے رہنما کے جنم دن پر خوشیا ں منانے کا موقع ملتا ہے تو دوسری جانب نائین زیرو کے نزدیکی میدان میں موسیقی اور گانوں کا منفرد شو ہوتا ہے جس میں ملک کے بڑے فنکار شرکت کرتے ہیں۔ٹھیک بارہ بجے الطاف حسین اپنے ساتھیوں سے یک جہتی کے لئے خطاب کرتے ہیں۔ ملک میں سیلاب کی صورت حال کے سبب اس بار سالگرہ کی تقریبات سادگی سے منائی جانے والی تھی کہ اچانک ایک ناگہانی افسوس ناک خبر نے ماحول کو سوگوار کر دیا۔لندن میں ایم کیو ایم کے مرکز کے قریب ایم کیو ایم کے کنوینر عمران فاروق کو نامعلوم قاتل نے چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا۔عمران فاروق لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ 1992میں حکومت کی طرف سے ایم کیو ایم کے خلاف شروع کئے گ

ماسک.........

تصویر
عطا محمد تبسم   آنکھ کھلتے ہی، میرا ہاتھ چہرہ پر گیا، میرا ماسک ۔۔۔ رات جب میں سویا تھا تو اسے میں نے منہ پر لگایا تھا،  لیکن اب  وہ میرے چہرے پر نہیں تھا، خوف کی ایک لہر میرے سراپے میں دوڑ گئی،میں نے جلدی سے بستر ٹٹولا، اور جلد ہی مجھے وہ مڑا  تڑا   ایک طرف نظر آگیا، میں نے اسے ہاتھ میں لے کر پہلے اس کی سلوٹیں درست کی اور پھر اسے منہ پر لگالیا۔  ایک  بو کا احساس ہوا، لیکن پھر میں اسے بھول گیا، میری گرم گرم سانسیں  اس ماسک میں  گھٹ گھٹ کر نکل رہی تھی، جی چاہا اسے منہ سے نوچ کو پھینک ہی دوں۔ رات بھی  میں اس سے بہت تنگ آیا  ہواتھا، یہ بار بار کبھی میری آنکھوں  اور کبھی میری ناک سے نیچے کھسک جاتا ،  عجیب بےہودہ  چیز ہے یہ ماسک  جانے کس مٹی کا بنا ہے،  مٹی کا نہیں کسی میٹریل کا بنا ہے، کپڑا   بھی نہیں ہے اور کاغذ بھی نہیں ہے، اس کی تہہ کتنی موٹی ہے،  بس یونہی سے ہے،  اس سے نفرت  تھی مجھے ، شروع شروع  تو میں نے اسے نہ منہ لگایا اور نہ ہی اس پر توجہ دی، بھلا  میں کیوں لگاؤں ماسک، مجھے کیا پڑی  جو اسے منہ پر اوڑھے  رہوں، کانوں میں  الجھائے رکھوں، لیکن جب  آفس میں داخلی گیٹ پر کھڑے گارڈ نے مجھ