جمعہ، 21 اکتوبر، 2011

داتا کی نگری کا نیا مسافر


لاہور میں ہوتے ہوئے داتا صاحب کا خیال نہ آئے اور حاضری نہ دی جائے یہ ممکن نہ تھا،میں ٹھیلے والے کے پاس تازہ تازہ پیلے پیلے سنہری رنگت والے امرود دیکھ کر ٹھر گیا، امرود کاٹ کر اس نے تھیلی میں ڈال دیئے، میں امرود کھاتا رکشا والے کے پاس گیا اور پوچھا داتا دربار چلو گے۔اس نے اثبات میں سر ہلا کر رکشہ اسٹارٹ کرلیا، میں امرود کھاتا رکشہ میں بیٹھ گیا، ابھی ایک بجا تھا، لیکن داتا دربار کی مسجد میں جانے والوں کا ہجوم تھا۔ رکشا رکا تو میں نے کرایہ اور امرود کی تھیلی رکشہ والے کے حوالے کی اور مسجد جانے والوں کی لائین میں کھڑا ہوگیا۔ وہاں موجود پولیس والے سے پوچھا نماز کتنے بجے ہوگی۔ اس نے کہا دو بجے، داتا کا مزار تو پہلے جیسے ہی ہے، مرائج خلائق عام سیدھے سادے دیہاتی بھی ہیں تو بابو لوگ بھی پر اب سیکورٹی بہت ہے، ہر طرف پولیس والے، چوکنا تلاشی لیتے ہوئے۔ ہر طرف کیمرے لگے ہیں۔ پہلے داتا کے مزار پر دیہاتی اور سادہ لوح لوگوں کے لٹنے اور جیب تراشی کی وارداتیں بھی  ہوتی تھیں۔ لیکن اب سب نوسر باز یہاں سے دوڑ گئے ہیں۔ پولیس والے جو یہاں موجود ہیں۔چپل جوتے رکھنے والوں کے اڈے اب اندد ہیں،دیگیں چڑھانے والوں کو ڈھونڈنے والے بھی گھومتے ہوئے مل جائیں گے، بلکہ قدم قدم پر ہر ایک یہی پوچھے کا دیگ چڑھانی ہے، نذر کرنی ہے۔ میں ان سب سے پچتا بچاتا


داتا کی خدمت میں سلام کرتا مسجد کی طرف چلا۔ دور دور تک لوگ بیٹھے تھے،مسجد کے اندر جگہ نہ تھی لیکن میں اندر داخل ہوا تو ایک جگہ تھوڑی سی جگہ مل ہی گئی،درود شریف کا ورد کرتے ہوئے میں نے اردگر نظر دوڑائی تو اندازہ ہوا۔ اس جگہ عام سے لوگ ہیں۔ اس ملک کے حقیقی وارث،دیہاتوں سے آنے والے غریب افراد، مزدور، کسان، ہر ایک عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا۔  ایک دو ایسے بھی تھے جو کبھی کبھی کھڑے ہوکر نعرے مارتے اور بیٹھ جاتے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے