پیر، 26 نومبر، 2012

شائد کسی کو یہ بات سمجھ آجائے۔

تین  دن گھر میں بند رہنے سے ایک مشق ہوگئی ہے۔  شائد  آئیندہ اس سے  بھی زیادہ گھر میں بند رہنا پڑے،ساتھ ہی وہ جو بار بار موبائیل کھول کر دیکھنے اور پیغام پڑھنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ اس  میں بھی بریک سا لگ گیا، رہا موٹر سائیکل کی سواری  اس جنجال سے بہت پہلے جان چھڑالی ہے۔ کراچی میں موٹر سائیکل چالیس لاکھ سے زائد ہیں۔ اگر یہ سڑک پر نہ نکلیں تو سڑکوں پر کیا خاک رونق ہوگی۔ غرض کہ یہ تین دن آرام سے ان ناولوں کو ختم کرنے میں صرف ہوئے، جو ایک عرصے سے ہماری فرصت کی راہ دیکھ رہے تھے۔  بس ایک چینل کا اودھم دھاڑ باقی تھا۔ اگر ہمارے پیارے رحمان بابا اس کا بھی کوئی توڑ کر لیتے تو پھر راوی کی طرف سے چین  ہی چین تھا۔  اس کے لئے راوی کا چین لکھنا ضروری نہ تھا۔ چینل والوں کو اب کوئی نئی راہ دیکھنی چاہیئے۔ اب نہ بریکنگ نیوز کا مزا ہے نہ لائیو ٹرانسمیشن کا ایک ہی لکیر کو بار بار پیٹنے سے اس کا سارا مزا جاتا رہا۔ معرکہ کربلا تو گذرے برسوں ہوگئے۔ لیکن اس عظیم قربانی کی یاد ہماری قوم نے پہلی بار جس جوش جذبے،عقیدت احترام ، جان جھوکوں میں ڈال کر منائی ہے۔ اس کے لئے بابا جی رحمان، اور صدر زرداری کو مبارک ہو۔ اس بار پتہ چلا کہ اب اس ملک میں ایک اقلیت کو کس طرح اکثریت پر مسلط کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کے لئے کیا کیا قربانیاں دی جاسکتی ہیں۔ گاڑیاں بند، سڑکیں بند، دکانیں بند، کاروبار بند، اسکول بند، دفتر بند، شہر بند،صوبے بند،، بس ایک حقہ پانی بند نہ ہوا ورنہ سب کچھ ہی بند تھا۔کیا آپ نے روئے زمیں پر ایسا ملک دیکھا ہے، عراق اور ایران جہاں اس اقلیت کی اکثریت ہے وہاں ایسا کچھ ہوا ہے۔ ہم اس بات کو کیوں نہیں سوچتے کہ شدت پسندی ہی سے شدت پسندی جنم لیتی ہے۔ جب لوگوں پر زمیں تنگ کردی جائے، ان کی آزادی سلب کر لی جائے ۔ ان پر کوئی فکر، رائے، مسلط کی جائے تو ان میں بھی ایک ردعمل پیدا ہوتا ہے۔کیا یہ جو کچھ ہوا اسے اسی طرح ہونا چاہیئے،کیا ۃم حالات کو دیکھ کر اپنی رویئے میں تبدیلی نہیں پیدا کرسکتے۔ یہ غم حسین ،صحابہ کی عظمت کی ریلیاں مرکزی سڑکوں پر کیوں، اس کے لئے چار دیواری میں اجتماعات کیوں نہیں کیے جاسکتے، انسانی جان کی بڑی حرمت ہے، ہم نے انسانوں کو بچانے کو عمل کیوں فراموش کر دیا، ہر طبقہ فکر کے عالم،دانشور،اس بات پر کیوں نہیں سوچتے کہ دو سو سال قبل ایسا کچھ کہیں پر نہ تھا،  اسلام تو نام و نمود نمائش کی تلقین نہیں کرتا، اس میں  تو راتوں  عبادت کے عمل کو افضل قرار دیا گیا ہے۔ آل رسول  نے جو عظیم قربانی دی ہے۔ اس میں تو عمل کا درس دیا گیا ہے۔ تو کیا ہمارا یہ عمل اس حقیقی تعلیم سے فرار نہیں ہے۔  اس پر کون سوچے گا۔ کون عمل کرے گا، اور کون عمل کروائے گا۔ حکومت نے جس طر ذمہ داریوں سے فرار حاصل کیا ہے اور پورے ملک کو مفلوج کیا ہے، اس قومی نقصان کا ذمہ دار کوں ہوگا۔ شائد  آگے کی بحث کو آپ برداشت نہ کر پائیں۔ اس لئے میں بات کو یہاں پر ختم کرتا ہوں۔ شائد ۔۔۔۔۔ کسی کو یہ بات سمجھ آجائے۔  

لیبلز: