منگل، 3 اگست، 2010

کراچی کا خدا حافظ

کراچی کا خدا حافظ



عطامحمد تبسم






کراچی ایک بار پھر جل اٹھا ہے۔ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ سنکڑوں زخمی ہیں۔ اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جگہ جگہ تشدد کے واقعات جنم لے رہے ہیں۔تیس کے لگ بھگ گاڑیاں، جن میں رکشہ،موٹر سائیکل، منی بسیں، ٹرک ٹینکر شامل ہیں،جل کر خاکستر ہوچکی ہیں۔ اور یہ گراف لمحہ بہ لمحہ اوپر ہی جارہا ہے۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔سینکڑوں کی تعداد میں دکانیں، ٹھیلے، پتھارے نذر آتش کیے جاچکے ہیں۔ بہت سی نواحی بستیوں میں شدید کشید گی ہے۔ بنارس ، اورنگی ٹاو ¿ن ، قصبہ کالونی ، سہراب گوٹھ ، سائٹ اور ایف بی ایریا، لانڈھی ، ملیر،گلشن اقبال، گلستان جوہر، سمیت شہر کے مختلف حصوں میں توڑ پھوڑ، مار دھاڑ کے واقعات ہورے ہیں۔ سرکاری اور نجی املاک جلائی جار ہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں۔صدر بیرون ملک دورے پر ہیں، وزیر داخلہ اس لڑائی کے سرے وانا، طالبان، لشکر جھنگوی، جنداللہ اور دیگرکالعد م مذہبی جماعتوں سے ملا رہے ہیں۔کراچی میں یہ واقعات اچانک وقوع پزیر نہیں ہوئے،ایم کیو ایم کے صوبائی رکن اسمبلی رضا حیدر کے بہیمانہ قتل نے اس سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بدن کر دیا ہے۔ جو کراچی میں ایک مدت سے لگی ہوئی ہے۔ اور اسے بجھانے یا ختم کرنے کے لئے کوئی کاروائی اور ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ گزشتہ سال کراچی میں ہدف بناکر قتل کئے جانے والوں کی تعداد تین سو کے لگ بھگ تھی۔ رواں سال میں یہ تعداد اب تک دو سو تیس شمار کی جاتی ہے۔ وزیر داخلہ اسے لسانی، گروہی،مذہبی، فرقہ وارانہ فسادات کی سازش گردانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں ہونے والے قتل کے جرم کی بنیاد کھلی سیاسی دشمنیوں پر ہے ۔ حا لیہ دنوں میںپولیس نےمختلف جماعتوں کے کم از کم 10 سیاسی کارکنوں کے خلاف ، تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے شبہ میں کیس درج کئے ہیں۔ اسی طرح ، 40 افراد جنہیں جولائی میں ہدف بناکر قتل کیا گیا ان میں ، بھاری اکثریت مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک تھی ۔ شہر کے ، نسلی اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے علاوہ جرائم پیشہ گروہوں کی جنگ بھی جاری ہے۔ جس میں لیاری اور اب ڈالمیا سر فہر ست ہیں۔اسی طرح زمین چھیننے اور پلاٹوں پر قبضے کے لئے بھی مسلح گروپ برسر پیکار ہیں۔ جو ملیر اورسرجانی ٹاو ¿ن کے علاقوں میں توسیع علاقے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ کہیں اسٹیٹ تنازعہ ہے، کہیں پر قتل ووٹ بینک کے قیام کے لیئے کیا جا رہا ہے ۔ کراچی میں تشدد کئی پرتوں ہے.اس میں مزید اضافہ پولیس کی ناکامی اور ناقص کارکردگی ہے۔صوبائی حکومت بھی اس صورت حال کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔کراچی میں تشدد کی اہم وجوہات اہم سیاسی جماعتوں کی قیادت کی ناکامی بھی ہے ۔ جو اقتدار میں شامل ہونے کے باوجود اپنے اختلافات حل کرنے اور ، ہلاکتوں پر روک لگانے میں ناکام رہے ہیں۔ بہت سی جماعتیں ہیں جن کے کارکنوں پر تشدد میں ملوث ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں نے ان سنگین الزامات کی جانچ پڑتال اور شہر کی فلاح و بہبود، اور امن کو ترجیح نہیں دی۔ قانون اور انصاف کی ہر طرف سے دھائی دی جاتی ہے، لیکن قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔پچھلے دنوں جب ٹارگٹ کلنگ پر بہت شور مچا تو کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر حکومت نے نیم دلی کے ساتھ ایک انکوائری ٹریبونل تشکیل دیا تھا ۔ لیکن اس ٹریبونل کو کوئی سہولت، جگہ کی فراہمی، سیکورٹی، اور رقم فراہم نہیں کی گئی۔ یوں اس کی جانب سے بھی اب تک کوئی پیش رفت نہیں دکھائی دی۔ اس بات کی اطلاعات ہیں کہ ،ٹریبونل نے کاروائی شروع کرنے سے پہلے مناسب سیکورٹی ، جگہ اور عملے کے لئے بات کی ہے۔۔ اس سلسلے میں انکوائری ٹریبونل کے سربراہ جسٹس (ر) علی سائیں ڈنومتیلو نے محکمہ داخلہ کو ایک خط بھیجا تھا ۔ حکومت سندھ نے یہ ٹریبونل گزشتہ دنوں شہر میں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں سمیت 80 سے زیادہ لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد قائم کیا تھا۔ٹربیونل کے دائرہ کار میں، ھدف بنا کر قتل کے واقعات میں ملوث گروہوں کی نشاندہی کرنا اور ایسے واقعات کو روکنے کے لئے موثر اقدامات تجویز کرنا تھا۔ یہ دوسرا ٹریبونل ہے جوگزشتہ دو سالوں کے دوران پی پی پی کی قیادت میں صوبائی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جسٹس علی محمد بلوچ کی سربراہی میں ایک ٹربیونل دسمبر 2008 ءمیں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد نومبر دسمبر 2008 میں ہونے والے نسلی تشدد کے اسباب کا پتہ لگانا تھا، یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ کراچی میں پہلے بھی انکوائری ٹربیونل بنائے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کی ریلی کے دوران 2007-08 میں،سانحہ نشتر پارک 2006 اور 18 اکتوبر دھماکے پر تشکیل دئے جانے والے کمیشن کی رپوٹیں بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ اور نہ ہی ان اسباب اور افراد کی نشاندہی کی گئی جس کے سبب یہ سانحات پیش آئے۔ کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں سینکڑوں لوگوں کا خون بہا ہے۔ لیکن ان کی تحقیقات کبھی نہ ہوسکی۔ستمبر 2006 میں ارباب غلام رحیم نے سانحہ نشتر پارک کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنایا تھا۔ اپریل 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد کی سربراہی میں 18اکتوبرکارساز ریلی دھماکوں کی تحقیقات سونپی تھی۔ سندھ حکومت ایک انکوئری کمیشن اپریل میں سٹی کورٹس میں الطاف عباسی ایڈووکیٹ اور دوسرے وکلاءکوطاہر پلازہ میں ان کے دفتر میں جلادینے کے واقعات کی چھان بین کے لئے بھی قائم کیا تھا۔لیکن اب تک ان میں سے کسی کی نہ رپورٹ آئی اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار قرار دے کر قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔کراچی میں دو دن میں ہلاک و زخمی ہونے والے غریب،مزدور، چائے والے، تندور والے، چوکیدار ،محنت کش ہیں، جن کے چہروں، سینوں،اور جسم پر ایم ایم نائین، کلاشنکوف،جیسے ہتھیاروں سے گولیا ں چلائی گئی ہیں۔رضا حیدر کا قتل ایک دلخراش اور افسوسناک سانحہ ہے۔ لیکن اس شہر میں بے کس بے وسیلہ محنت کشوں کا قتل عام اس ے بھی بڑا سانحہ ہے۔ اب بھی معاشرہ میں توازن کو قائم رکھنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو کراچی کا خدا حافظ ہے۔

پیر، 2 اگست، 2010

قوت ارادی


قائد اعظم بے پناہ قوت ارادی کے مالک تھے۔ وہ مجمع کو دیکھ بھی اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوتے تھے۔ کانپور کے اجلاس میں مسلم لیگ اور گانگریس کے راستے جدا جدا ہوگئے۔ اس اجلاس میں جس میں کانگریس کے حامیوں کو خاص طور پر جمع کیا گیا تھا۔ اجلاس میں گاندھی جی کی ایک قرار داد منظور کی گئی۔محمد علی جناح نے اس قرار داد پر زبردست نکتہ چینی کی۔پچاس ہزار کے مجمع میں قائد اعظم نے اپنی تقریر اس الفاظ سے شروع کی،، میں اس قرار داد کی مخالفت کرتا ہوں،،ان کی آواز شور وغل اور ہنگامے میں ڈوب گئی۔انھیں یقین تھا کہ حاضرین ان کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن انھوں نے لوگوں کے شور غل پر اسٹیج نہیں چھوڑا۔ ڈائس پر خاموش کھڑے رہے۔جب شور کم ہوا تو انھوں نے پھر سے کہا،، میں اس قرار داد کی مخالفت کرتا ہوں۔ ،، مجمع نے پھر شور کرنا شروع کیا۔لیکن انھوں نے اپنی تقریر گھن گرج کے ساتھ جاری رکھی۔آہستہ آہستہ ان کے جوش ، حوصلے، تحمل کے سامنے مجمع خاموش ہوگیا۔انھوں نے مجمع کو اپنے ساتھ کرلیا، لیکن مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کرسکے۔لیکن انھوں نے ثابت کردیا کہ ان پر حکم نہیں چلایا جاسکتا۔وہ گاندھی کو مسٹر گاندھی کہہ کر مخاطب کرتے۔ لوگ چیختے چلاتے کہ مہاتما گاندھی کہو، لیکن وہ شور غل سے بے نیاز مسٹر گاندھی ہی کہتے رہے۔ اپنی تقریر کے دوران ایک بار انھوں نے مولانا محمد علی کو مسٹر محمد علی کہا، لوگ مشتعل ہوگئے نہیں نہیں۔۔ مولانا محمد علی کہو۔ہنگامہ ہوتا رہا۔ جب سکون ہوا تو قائد نے پھر اسی طرح تقریر شروع کی۔،، میں آپ کا حکم نہیں مان سکتا۔ مجھے یہ حق ہے کہ میں کسی شخص کو جس لقب سے چاہوں مخاطب کروں بشرطیہ وہ ناشائستہ نہ ہو۔ میں مسٹر محمد علی کو مولانا تسلیم نہیں کرتا۔ یہ قائد اعظم ہی کا حوصلہ تھا کہ وہ ہزاروں کے مجمع سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی بات کا بر ملا اظہار کرتے تھے۔


(میٹ مسٹر جناح ۔ اے ۔ اے ۔ رﺅف صفحہ۵۳۲ )


آج کتنے ہیں جو مصلحت اور منافقت چھوڑ کر قائد کی طرح جو بات حق سمجھتے ہوں اس کا بر ملا اظہار کریں