جمعہ، 20 مئی، 2011

SahaneChamman صحن چمن کی باتیں: دھرنا سیاست۔ کیا ملک کی تقدیر بدل دے گی ؟

SahaneChamman صحن چمن کی باتیں: دھرنا سیاست۔ کیا ملک کی تقدیر بدل دے گی ؟: "عطا محمد تبسم دنیا کی تاریخ میں انسان اپنے عمل سے ہر تبدیلی لا سکتا ہے۔ اور تبدیلی کے لئے عوام اپنے گھروں سے نکل پڑیں تو پھر دنیا کی کوئی ..."

دھرنا سیاست۔ کیا ملک کی تقدیر بدل دے گی ؟

عطا محمد تبسم

دنیا کی تاریخ میں انسان اپنے عمل سے ہر تبدیلی لا سکتا ہے۔ اور تبدیلی کے لئے عوام اپنے گھروں سے نکل پڑیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انھیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے التحریر سکوائر پر اٹھارہ دن تک دھرنا دینے والے خمیہ زن احتجاجی مظاہرین کا جذبہ ساری دنیا نے دیکھا۔ اپنے مطالبات میں جس نظم و ضبط سے یہ اٹھارہ دن گزرے وہ دیدنی تھے۔ مصری عوام دیوانہ وار جھوم جھوم کر مصر کے پرچم کو ہوا میں لہرا تے تھے۔ التحریر سکوائر، مزاحمتی تحریک میں تاریخ کا حصہ بن گیا۔ آج سا ری دنیا میں عوام احتجاج کے لئے پرامن انداز میں اپنے مطالبات کے حق کے لئے دھرنے دیتے ہیں۔ عرب دنیا میں عوام اپنے آمر حکمرانوں سے نبرد آزما ہے۔ پاکستان کے عوام نے بھی ایک آمر کو رخصت کرنسے کے لئے وکلاءاور سول سوسائٹی کے ساتھ جو بےمثال تحریک چلائی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔

دنیا میں دھرنا سیاست یا احتجاج شمالی امریکہ سے شروع ہوا۔ جہاں گوروں کے مقابلے میں کالوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا تھا۔ انکے اسکول کالج کیفے ریستورانت،بسیں سب الگ تھیں۔ فروری 1961 میں نارتھ کیرولینا یونیورسٹی کے چا کالے طالب علم ایک مشہور زمانہ اسٹور میں داخل ہوئے اور سامان خریدنے کے بعد ایک لنچ کاونٹر پر جاکر بیٹھ گئے جو صرف گوروں کے لئے مخصوص تھا ۔ انھوں نے کافی کا آڈر دیا۔ انتظامیہ نے انھیں سرو کرنے سے انکار کردیا۔ یہ طلبہ یہاں بیٹھے رہے۔ یہاں تک کے اسٹور کے بند ہونے کا وقت ہوگیا۔

دوسرے دن اسٹور کھلنے پر یہ طلبہ پھر آگئے اس بار ان کی تعداد دو درجن سے زائد تھی۔ انھوں نے کاونٹر پر کھانے کا آرڈر دیا۔ انتظامیہ نے انھیں اس دن بھی سرو کرنے سے انکار کر دیا۔لیکن اس کے باوجود یہ طلبہ وہاں بیٹھے رہے۔ یہ خبریں مقامی اخٰبارات میں شائع ہوئی تو اگلے دن اس دھرنے میں مزید اضافہ ہوگیا۔یہاں تک کہ اسٹور والوں کے لئے کاروبار کرنا ممکن نہ رہا۔ 6 فروری کے دن جب اسٹور کے اندر اور باہر بہت بڑا مجمع تھا تو ایک فون کال آئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسٹور میں بم رکھا ہے جس کے بعد تما ہجوم منتشر ہوگیا۔ دو ماہ تک اسٹور بند رہے لیکن جب اسٹور کھلا تو احتجاج اور دھرنا دوبارہ شروع ہوگیا۔ اور گورے بھی کالوں کی حمایت میں آگئے۔ اس دھرنے کے نتیجے میں پورے امریکہ میں کالوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خلاف ایک ملک گیر تحریک برپا ہوئی۔ اور یہ قوانین تبدیل ہوئے۔



دھرنا سیاست پاکستان میں اب اتنی مقبول ہوگئی ہے کہ گھروں میں بچے بھی اپنی فرمایش پوری نہ ہونے پر دھرنے کی دھمکی دینے لگے ہیں۔ دھرنا پاکستان کی جدید تاریخ میں جماعت اسلامی بلکہ صحیح لفظوں میں قاضی حسین احمد صاحب نے متعارف کرا یا۔ قاضی کے دھرنے نہ صرف مشہور ہوئے بلکہ انھوں نے ملک کی سیاست کا رخ بھی موڑا۔ قاضی حسین احمد صاحب کی قیادت میں سب سے مشہور دھرنا اسلام آباد میں بے نظیر حکومت میں دیا تھا۔ جس میں جماعت اسلامی کے چار کارکنوں کی شہادت ہوئی ۔ خود قاضی صاحب بھی حکومتی تشدد کا شکار ہوئے۔ اس کے نتیجے میںبے نظیر صاحبہ کی حکومت تو ختم ہو گئی لیکن کھیر نواز شریف کے ہاتھ آئی اور نوازشریف صاحب وزیر اعظم بن گئے۔ قاضی حسین احمد اپنے دونوں ادوار میں اس احتجاجی سیاست کا حصہ بنے رہے۔ اور انھوں نے ایم ایم اے کا اتحاد بناکر سیاسی طور پر کامیابی بھی حاصل کی ۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سید منور حسن کا مزاج قاضی صاحب جیسا تو نہیں ہے۔ لیکن وہ اپنے موقف کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے آنے کے بعد جماعت کے ریلی ، لانگ مارچ ، ملین مارچ،اور دھرنوں میں کمی آئی ہے۔ 5 دسمبر 2010 کو جماعت اسلامی نے پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے سامنے چھ گھنٹے تک دھرنا دیا تھا ، اس موقع پر کارکنوں میں خشک چنے کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا تھا۔ دھرنا کے پنڈال کے چاروں طرف خاردار تاریں لگادیں۔ شرکاءکو واک تھرو گیٹ سے گزارا گیا تھا اورپولیس کی بھاری نفری دھرنا کے پنڈال کے اردگرد حفاظتی فرائض انجام دیتی رہی جماعت کا یہ ایک پرامن دھرنا تھا ۔سید منور حسن نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سے قبل حکومت کے خلاف 25فروری کو مزنگ چوک میں احتجاجی دھرنا دیا تھا۔ ان کی تما م جہدوجہد کا مرکز پاک امریکا تعلقات کے خاتمے اور امریکہ اور آئی ایم ایف کی غلامی سے بھی نجات کے لئے ہے۔

اب ہمارے یہاں دھرنا سیاست مقبولیت کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔اس لئے ہر طرف دھرنا دھرنا نظر آتا ہے۔ اس دھرنے میں بھی عوام ہی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاہراہیں بند ہوجانے سے مسافر پریشان ہوتے ہیں۔ اور بھوک پیاس اور دیگر مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ کراچی اور سندھ ان دھرنوں کا خصوصی مرکز ہیں۔گذشتہ دنوں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرف سے دو بار قومی شاہراہ پر دھرنا دیا گیا ۔ جس میں ق لیگ کی ممبر قومی اسمبلی ماروی میمن، مختلف سیاسی و سماجی رہنماوں ،لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت 700 افراد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ میہڑ میں بیج، کھاد، راشن اور خیمے نہ ملنے کے خلاف 20 سے زائد دیہات کے سیکڑوں سیلاب متاثرین نے قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر 3 گھنٹے دھرنا دیا، شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور اور زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے ملازمین نے ریٹائرڈ افسران کو ہٹانے اور دیگر مطالبات کے حق میں ہڑتال کی اور وائس چانسلر آفس کے سامنے دھرنا دیا۔ جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کے بیہمانہ قتل پر کراچی، لاہور،پشاور، راولپنڈی کوئٹہ اور اندرون سندھ سمیت ملک بھر میں صحافیوں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے دھرنے دیئے ۔ جئے سندھ محاذ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے حیدرآباد میں گل سینٹر سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی اور دھرنا دیا گیا۔ ‘ مرکزی جمعیت علماء پاکستان حیدرآباد کی جانب سے مہنگائی کے خلاف پریس کلب حیدرآباد پر احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا۔ دھرنا سیاسی جماعتوں ہی میں نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقا ت میں مقبول ہے۔ کچھ عرصہ قبل فنڈز کے اجراء کے حوالے سے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹرحفیظ شیخ کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے تو وزیر خزانہ نے نئی اسکالرشپس بندکرنے اور سرکاری جامعات کو فنڈز دینے سے انکار کردیا اس موقع پر وائس چانسلرز کی کمیٹی نے حکومت کو دھمکی دی کہ اگر فنڈز کا اجراءبند ہوا تو تمام سرکاری جامعات کو تالے لگا کر شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جائے گا۔ صحافی اور میڈیا والے بھی اب اپنے مطالبات کے لئے دھرنا دیتے ہیں۔ ان کے خلاف معاشرے کے بااثر طبقات اور سیاسی جماعتیں بھی دھرنا سیاست کرتی ہیں۔ جیو اور جنگ کے خلاف بھی ایک ایسا دھرنا دیا گیا جس میں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی تھی۔ ٹیلیویژن چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے جیو نیٹ ورک کے دفتر اور صحافیوں کو ہراساں کرنے پر سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ جیو کے دفتر کے سامنے دھرنے میں شامل سیاسی جماعت کے عہدیداروں کی باز پرس کی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔پاکستان کے شورش زدہ علاقے مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی سندھ آمد کے خلاف سندھی قوم پرست جماعتوں نے پنجاب سندھ سرحد کے قریب دھرنا دیا تھا ۔ دھرنے کی قیادت سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنمائ ڈاکٹر قادر مگسی نے کی تھی۔

کراچی کے عوام ان دنوں ایک طرف تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے گزر رہے ہیں تو دوسری جانب بجلی اور پانی کے لئے بلبلاتے عوام کے دھرنے ہیں جو شہر کی کسی بھی شاہراہ پر کسی وقت بھی ہوسکتے ہیں۔ کراچی کے عوام نے جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ وہ قومی ، علاقائی، لسانی، مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے ان دھرنوں میں حصہ لیتے ہیں اور ا نھیں کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ پرویز مشرف کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی اور ججوں کی بحالی کا وعدہ پورا نہ ہوا تو سب سے پہلے 28 اگست 2008 کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر وکلاءکی جانب سے دو گھنٹے کا دھرنا دیا گیا ۔ صدر آصف زرداری کے خلاف ملک میں ہونے والا یہ پہلا دھرنا تھا۔ جس کے بعد تحریک چلی اور ججوں کی بحالی ہوئی۔ کراچی میں یوم عاشور پر بم دھماکے میں ہلاکتوں کے بعد بھی یہاں دھرنا دیا گیا۔ ضیا الحق کے دور میں عشر کے مسئلے پر بھی شعیہ برادری کی جانب سے ایم اے جناح روڈ پر کئی گھنٹو ں کا دھرنا دیا گیا تھا۔



اب کراچی پر ایک بار پھر ساری دنیا کی نظریں ہیں۔ ناٹو فورسسز کی سپلائی لائین کو روکنے کے لئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 21 اور 22 مئی 2011ء کو کراچی میں ڈرون حملے روکنے کے لئے جس دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دھر نے کے اعلان نے حکمرانوں اور عوام کو اضطراب سے دوچار کردیا ہے۔ ڈرون حملے سرحد اور وزیرستان کے علاقے میں ہوتے ہیں۔ احتجاج بھی وہیں ہوتا ہے۔ لیکن کراچی جیسے شہر میں یہ پہلا موقع ہے کہ ان حملوں پر اتنا بڑا قدم اٹھایا جارہا ہے۔ عوام عمران خان کو پسند کرتے ہیں۔ اور پشاور کے بعد کراچی کے اس دھرنے کو کامیاب بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ملک کے طور پر قائم رکھنے کی خواہش رکھنے والا ہرفرد اس دھرنے پر نظریں گاڑھے ہوئے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں بشمول اپوزیشن اور دینی سیاسی جماعتوں کو یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ عمران خان صحیح ر ±خ پر کام کررہے ہیں اور وہ غیرت مندی کا مظاہرہ کررہے ہیںکہ پاکستان کی خودمختاری کی نفی کرنے والے ملک کے خلاف عوامی آواز اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن مسلم لیگ ن عمران خان سے خوش نہیں ہے ۔اس کا اظہار قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار خان کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے خفیہ ایجنسیوں پر سیاست میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور دھرنے میں خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اوروہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کو تمام ثبوت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان نے پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے کے بعد کم و بیش اپنی دس سالہ سیاسی جدوجہد میں انہیں پہلی مرتبہ عوامی سطح پر جس انداز سے پذیرائی ملی ہے اس پر وہ نازاں اور مسرور ہی نہیں بلکہ ملک میں بہت جلد تبدیلی لانے کے بارے میں بھی انتہائی پرعزم ہیں۔

دھرنا دینا اور اس میں شرکت کرنے کے حوالے سے مغربی دنیا میں تیاریوں کا سلسلہ کئی مہینوں پر محیظ ہوتا ہے۔ وہ دھرنے کی جگہ، عوام کی ضروریات، ہنگامی حالات اور لوگوں کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات اور تیاریاں کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور عوام بھی ان دھرنوں اور ریلیوں میں فیسٹیول اور میلے ہی کی طرح شرکت کرتے ہیں۔ ایسے دھرنوں میں شرکت سے پہلے لوگوں کو ہدایات دینی چاہیئے کہ وہ اکیلے پولیس کی طرف بڑھنے کی کوشش مت کریں، ٹولیوں کی صورت میں آگے بڑھیں، اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں پوری معلومات رکھیں، ایسے لوگوں کے ساتھ جائیں جو آپکے دوست ہوں یا آپکو اچھی طرح جانتے ہوں اور آپکو کچھ ہونے کی صورت میں آپکی مدد یا خبر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں– ایسے جوتے پہنیں کہ آپ کو پہننے اور دوڑنے میں آرام دہ ہوں، ایسے کپڑے پہنیں جو آپ کے جسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھکے رکھیں اور گیس کو کھال پر لگنے سے بچائیں، اپنے ساتھ پانی اور نمک ضرور رکھیں، پینے کے لئے اور گیس کا شکار ہونے کی صورت میں منہ دھونے کے لئے پانی ضرور ساتھ رکھیں، کوشش کریں کہ دو قمیضیں پہنیں تاکہ بوقت ضرورت اوپر والی شرٹ کو اتار کر اور بھگو کر آنسو گیس کے خلاف استعمال کر سکیں، اپنے ساتھ اپنی شناختی علامات ضرور رکھیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں آپ کی شناخت ہو سکے،اتنے پیسے ضرور ساتھ رکھیں کہ اپنے ساتھ دو تین لوگوں کے کھانے پینے اور فون کا خرچہ پورا کر سکیں، گھڑی ، کیمرہ ، کاغذ پینسل ہمراہ رکھیں تاکہ اہم معلومات کو ریکارڈ کر سکیں ، اگر آپ سانس، شوگر یا کسی اور مرض میں مبتلا ہیں تو انہیلر ،انسولین اور مطلوبہ ادویات ساتھ رکھیں، کوئی ایسی چیز نا پہنیں جسکی وجہ سے آپ یا وہ چیز آسانی سے گرفت میں آ سکے، مثلاً زیورات، کھلے بال، ٹائی، کانوں کے لٹکتے ہوئے بندے وغیرہ، کھانے پینے کا پورا خیال رکھیں تاکہ لمبے وقت تک احتجاج کا حصہ بن سکیں، اگر لمبے وقت کا احتجاج ہے تو نیند ضرور حاصل کریں۔ ہمارے یہاں ہجوم میں دہشت گردی کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ جس کا بھی انتظا م ضروری ہے۔ اس دھرنے کی ضرورت کے بارے میں عمران خان کاکہنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے پاکستان کو 70ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ان سے کئی ہزار انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ہی عوام کو انصاف دلائے گی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداکردہ جماعتیں یہ کام نہیں کرسکتی۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بڑی سیاسی جماعتیں دور کھڑی تماشا دیکھ رہی ہیں اگر یہ جماعتیں دھرنا دیں تو 72 گھنٹوں میں ڈرون حملے ختم ہوسکتے ہیں

لیبلز:

بدھ، 18 مئی، 2011

ذرا سی غیرت




عطا محمد تبسم



ہمارے ایک دوست نے ہمیں رائے دی ہے کہ ہم  ویٹ   کے اشتہار پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ انھوں نے مشورہ دیتے ہوئے
کہا ہے کہ ہم اس ایڈریس پر اپنا احتجاج ای میل کریںPlease support "SAV Team" to stop this vulgar ad of Veet in educative, respectful & peaceful way. Just write an e-mail to sumera.nizamuddin@reckittbenckiser.com , tauseef.faisal@rb.com as soon as possible & circulate that mail amongst your friends & relative circle to write more & more mails to these two. میڈیا کس قدر خود سر ہوگیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کوئی پروگرام دیکھیں۔ یا تو بچے ایسے کسی ایڈ پر اٹھ کر چلے جاتے ہیں یا ہم ریموٹ سے مدد لیتے ہیں یا پھر خجالت محسوس کرکے رہ جاتے ہیں۔۔ الیکٹرک میڈیا کے اس دور سے قبل اشتہارات کی سنسر کا نظام تھا۔ پی ٹی وی کی پالیسی اس بارے میں سخت تھی۔ ضیاالحق کے دور میں بنی اس پالیسی کو بھی ہم نے طاق پر سجا دیا ہے۔ اب اشتہارات میں بچوں کو جھوٹ بولنا، ساتھیوں کو بے وقوف بنانا، چوری کرنا،بداخلاقی کرنا، بدتمیزی کرنا سکھایا جاتا ہے۔ بچیوں کو اشتہار میں ان کی فطری ضروریات کے بارے نت نئے انداز سے بتایا جاتا ہے۔ غبارے کبھی بچے خوشیوں میں اڑاتے تھے۔ اس غباروں کے اشتہار نئی ضرورتوں اور استمال کے ساتھ بتائے جاتے ہیں۔ کئی چینل تو اس قدر مادر پدر آزاد ہوچکے ہیں کہ ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ تخلیق انسان کی ساری کاروائی کو اسکرین پر پھیلا دیں۔ دوسری جانب ہمارا معاشرتی رویہ بھی بزدلانہ،منافقانہ،بے رحمانہ ہے۔ ہم نے اسی کو ترقی سمجھ لیا ہے۔ شائد اسی کا سبب ہے کہ بلقیس ایدھی کہتی ہے کہ معاشرہ میں بے حیائی اور برائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب ایدھی کے جھولوں اور پالنے میں پھینکے جانے والے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ عرب کی جہالت اور بچیوں کو قتل کر دینے کی باتیں ماضی کی یادگار جہالت ہوں گی۔ لیکن اس جدید دور میں جو ہورہا ہے وہ قتل سے بڑھ کر شقی القلبی ہے۔ بلقیس ایدھی نے اپیل کی ہے کہ بچوں کو جھولوں میں ڈالتے وقت انھٰن پولی تھین کے تھیلوں میں نہ ڈالیں کیونکہ یہ بچے دم گھٹ کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ہمارا معاشرہ کہاں کھڑا ہے۔ ہم تو عرب دور کی جا ہلیت سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم اپنے آپ کو ترقی یافتہ، روشن خیال، اور جدید کہنے میں فخر محسوس کئے جارہے ہیں، تو کیا آپ میں تھوڑی سے غیرت باقی ہے تو آپ اس سنگین مسئلہ پر کچھ نہ کریں تو ای میل اور خطوط لکھ کر ہی اپنا فرض پورا کریں

لیبلز:

پیر، 2 مئی، 2011

غریب عوام کے ارب پتی نمائندے


عطا محمد تبسم
پاکستان کے سیاست دان اب بدنامی سے نہیں ڈرتے ، کرپشن، لوٹ مار، دھونس دھاندلی،اختیارات کا ناجائز استعمال، ذاتی مقاصد کے لئے پوری قوم کو داﺅں پر لگا دینا ، ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔گذشتہ برسوں میں لوٹ مار کرپشن، دھوکہ دہی کا جس بڑے پیمانے پر چلن ہوا ہے اس نے عوام کا بھوکوں مار دیا ہے، بے روزگاری،منگائی اور دہشت گردی، اور آئے دن کے ہونے والے حادثات نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے روز بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب سیاست دانوں کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ ہمارے سیاست دان ارب پتی ہیں، رات دن قوم کے غم میں لنچ ڈنر کھاتے ہیں۔ تقریر کرتے ہوئے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ اربوں کی کرپشن کرتے ہیں ، جیل میں جاکر عیش کرتے ہیں۔ لیکن لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں کرتے۔صدر آصف زرداری کے اثاثے اور دولت کا کوئی شمار نہیں ہے۔ اب وہ پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا کے بڑے دولت مندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان اکانومی واچ کے صدر کے مطابق ن لیگ کے سربراہ اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔دونوں سیاست کو ایک منافع بخش کاروبار سمجھتے ہیں۔طریقہ واردات الگ مگرمقصد ایک ہے۔ پاکستان کو لوٹ مار کے لئے زرخیز خطہ سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ میاں نواز شریف کے اربوں روپے مالیت کے کاروبار عرصہ دراز سے مسلسل خسارے میں ہیں مگر اس کے باوجود انکے اثاثے بڑھ رہے ہیںاور وہ پاکستان کے چوتھے امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔ حسین نواز کے تریسٹھ کروڑ کے اثاثے صرف برطانیہ میں موجود ہیں جبکہ دیگر مغربی ممالک اورسوئس بینکوںکے اکاونٹ اسکے علاوہ بتائے جاتے ہیں۔
نیا بجٹ آنے والا ہے۔ جس کی منظوری کے لئے چوہدری برادران سے صلح ہوئی ہے۔ قاتل لیگ کو صدر پاکستان نے معافی دے دی ہے۔ اور اب وہ شیروانیاں پہن کر حلف اٹھانے والے ہیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف سے مہنگی شرائط پر قرضوں کے حصول کی سودے بازی ہوری ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان سے محبت اور عنایت کرنے والے آئی ایم ایف اور امریکہ،پاکستانی سیاستدانوں کی دولت کی ملک میںواپسی کی شرط عائد نہیں کرتے۔پاکستانی پارلیمنٹ کے ارکین کی انیتیس فیصد ٹیکس سرے سے ادا نہیں کرتی، سینٹ اور قومی اسمبلی کے کل گیارہ سو ستر ارکان میں سے صرف سات سو سات اراکین ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے بھی صرف نو فیصد یعنی ایک سو نو ایسے ارکین ہیں جو ایک لاکھ سالانہ سے زائد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب پورے ملک کے لئے قاعدے قوانین بنانے والی قومی اسمبلی کے 342 ارکان میں سے تریپن فیصد یعنی 181 ارکان ٹیکس دیتے ہیں ، ان میں سے صرف 43 ایسے ہیں جو ایک لاکھ سے زائد ٹیکس دیتے ہیں۔سینٹ کے 100 ارکان میں سے آدھے سے بھی کم صرف 48 افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں اور انیس ایسے اراکین ہیں جو ایک لاکھ سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے 371 میں سے صرف 34 ایسے ہیں جو ایک لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے 168 میں سے ایک لاکھ ٹیکس دینے والے نو اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ خیبر پختون خواہ کے 124 میں سے ایک لاکھ ٹیکس دینے والے صرف تین اراکین ہیں۔ جبکہ بلوچستان کی اسمبلی کا ایک رکن ہے جو ایک لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ٹیکس کی ادائیگی کا یک جانب یہ حال ہے تو دوسرے جانب ان کی بڑھتی ہوئی دولت کا بھی کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔
کچھ عرصے قبل پارلیمانی جمہوریت کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی ایک غیرسرکاری تنظیم پیلڈیٹ نے اراکینِ اسمبلی کی جانب سے انتحابی کمیشن کے پاس جمع کرائے گئے اثاثوں کی تفصیل سے حاصل کردہ اعداد شمار سے ایک رپورٹ مرتب کی تھی۔ جس میں ان امارت کو اندازہ کیا گیا تھا ۔پلڈاٹ کے مطابق اراکینِ اسمبلی میں سب سے زیادہ امیر اور دولت بھی میں پہلے نمبر پر محبوب اللہ جان، دوسرے نمبر پر شاہد خاقان عباسی جبکہ تیسرے پر جہانگیر خان ترین ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کاروبار سیاست سب سے اچھی تجارت ہے۔ جس میں کچھ نہ کرنے پر بھی اثاثوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق
 قومی اسمبلی کے اراکین کے اثاثوں میں گزشتہ چھ سال کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ سال دو ہزار دو اور تین کے درمیان ایک رکنِ اسمبلی کے اثاثوں کی اوسط مالیت اگر دو کروڑ ستائیس لاکھ تھی تو وہ سال دو ہزار آٹھ نو میں بڑھ کر آٹھ کروڑ روپے تک جا پہنچی ہے۔پلڈاٹ کے مطابق موجودہ اسمبلی کے اراکین پرانے ایوان سے دوگنا امیر ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں تو امیر بنے اور لوٹ مار کے تمام اندازے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں، ۲۰۰۲ میں مشرف دور میں قائم ہونے والی پڑھی لکھی اسمبلی میں امیر ترین رکنِ پیپلز پارٹی کے محبوب اللہ جان تھے۔ جوکوہستان سے ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت تین ارب روپے سے زیادہ ہے۔دوسرے نمبر پر شاہد خاقان عباسی جبکہ تیسرے پر جہانگیر خان ترین ہیں۔اس کے مقابلے میں غریب ترین رکن فیصل آباد سے حکمراں پیپلز پارٹی کے سعید اقبل چوہدری ہیں جن کے ذمے تقریبا تین کروڑ روپے واجب ادا ہیں۔ ان کے بعد سانگھڑ سندھ سے روشن دین جونیجو اور لاہور سے شیخ روحیل اصغر ہیں۔خواتین میں مسلم لیگ نون کی پنجاب سے رکن نزحت صدیق امیر ترین ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت اکانوے کروڑ سے زائد کے ہیں۔ ان کے بعد پشاور سے پیپلز پارٹی کی عاصمہ ارباب جہانگیر دوسرے نمبر پر پانچ سو پندرہ کروڑ روپے کے ساتھ ہیں۔عورتوں میں مسلم لیگ نون کی پنجاب سے رکن نزحت صدیق امیر ترین ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت اکانوے کروڑ سے زائد کے ہیں۔ ان کے بعد پشاور سے پیپلم پارٹی کی عاصمہ ارباب جہانگیر دوسرے نمبر پر پانچ سو پندرہ کروڑ روپے کے ساتھ ہیںقبائلی علاقوں سے رکن اسمبلی محمد کامران خان کے اثاثوں میں ایک سال میں بیالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس جائزے میں امیر ترین سیاسی جماعت کے طور پر جس کے اراکین دولتمند ہیں مسلم لیگ فنکشنل ثابت ہوئی تھی ۔جغرافیائی اعتبار سے اسلام آباد سے منتخب اراکین کے بعد ترتیب وار خیبر پختونخواہ، پنجاب، قبائلی علاقوں، سندھ اور بلوچستان کے اراکین امیر ترین ہیں۔مشرف دور میں روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا اور منتخب نمائندوں نے نوٹوں کی بوریاں بھر بھر کر تجوریاںبھری۔ معاملہ جعلی ڈگریوں کا ہو، یا کرپشن الزامات، یا کسی بھی نوعیت کے احتساب کا پاکستان کی طبقہ اشرافیہ کے یہ نمائندے جو اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہتے ہیں اپنے آپ کو ہر طرح کے احتساب اور باز پرس سے مبرا سمجھتے ہیں۔ سال2009 میں پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سینیٹ، قومی اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تین سو انچاس ایسے ارکان کی فہرست جاری کی تھی جنہوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے دی جانے والی تاریخ پر اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست کے مطابق سینیٹ کے گیارہ، قومی اسمبلی کے ایک سو پانچ، پنجاب اسمبلی کے ایک سو پینتالیس ، سندھ اسمبلی کے تینتیس، سرحد سے پینتیس اور بلوچستان کے بیس، ارکان اسمبلی شامل ہیں۔قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس ارکان میں سے صرف دو سو چونتیس ارکان نے اپنے گوشوارے جمع کروائے ۔ گو الیکشن کمیشن نے اس بات کا انتباہ بھی کیا کہ جن ارکان پارلیمنٹ اور اراکین صوبائی اسمبلی نے مقررہ تاریخ تک اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہیں کروائے تو ا ±ن کی رکنینت معطل کر دی جائے گی۔ ان فراد میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی شامل تھے ۔ جن میں وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر تجارت مخدوم امین فہیم، وزیر پیدوار منظور احمد وٹو ، وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف، بہبود آبادی کی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سرحدی امور کے وزیر نجم الدین خان، وزیر مزہبی امور حامد سعید کاظمی ، انسانی حقوق کے متعلق وفاقی وزیر ممتاز عالم گیلانی، پیٹرولیم اور نجکاری کے وفاقی وزیر سید نوید قمر اور مواصلات کے وزیر عالمگیر خان، وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی، مواصلات کے وزیر مملکت امتیاز صفدر وڑائچ، اطلاعات کے وزیر مملکت صمصام بخاری کے علاوہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب جیسی شخصیات شامل تھیں ۔ اسی فہرست میں سابق صدر فاروق لغاری بھی اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی اہلیہ اور رکن قومی اسمبلی فرح ناز اصفحانی بھی شامل تھیں۔ گوشوارے جمع نہ کرنے والوں میں ذیادہ تعداد کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ دوسرے نمبر پر حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے تھا۔
دوسری جانب جمع کرائے گئے گوشواروں کی حیثیت بھی ایک مزاق کی سی ہے۔ آپ ایک کروڑ کے اثاثے کو چند لاکھ کا لکھ سکتے ہیں۔ آپ سے باز پرش کرنے اور تحقیقات کو حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔یہ کتنا بڑا مزاق ہے کہ پاکستان کے الیکشن کمیشن کو جمع کرائے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثہ جات کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے ک ±ل اثاثے کی مالیت ایک کروڑ 94 لاکھ روپے ہے۔ ان کے پاس 63 لاکھ روپے کا پنجاب کے شہر ملتان میں مکان ہے،( آجکل ایک سوبیس گز کے گھر کی پوش علاقے میں یہی قیمت ہے ۔ گیلانی صاحب یقینا ایک سو بیس گز کے گھر میں نہیں رہتے ) ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔ اس کے علاوہ وہ دو سو تولے سونے کے مالک بھی ہیں۔ تاہم ان کے پاس گاڑی نہیں ہے۔قائد حزب اختلاف جو اسمبلی کے فلور پر قوم کی ہمددی میں طویل تقاریر کرتے ہیں۔ ان کے پاس اپنے اثاثوں کی مالیت کا تعین کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی خان کے اثاثوں میں ملک کے مختلف شہروں میں چھ زمینیں ہیں، ایک مکان اور فیض آباد میں 98 کنال زمین اور پنجاب کے شہر چکری میں 430 کنال اراضی ہے۔ ان کے پاس ایک مرسڈیز گاڑی اور ایک پجیرو بھی ہے۔کامریڈ ، عوامی خدمت گار عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی کے ک ±ل اثاثے تین کروڑ چار لاکھ روپے کے ہیں۔ سنا ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ اب وہ سیاست میں تو کبھی کبھی ضرورت کے وقت رونمائی کراتے ہیں۔ ڈیزل اور مولانا ایک زمانے میں ہم قافیہ شمار ہوتے تھے۔ بعض لوگوں کے ہر طرف پھیلے کاروبار پر نظریں گاڑھے ہوئے ہیں۔ لیکن گوشوارے سے ان کی مسکینی ظاہر ہوتی ہے۔   مولانا فضل الرحمان کا اپنے اثاثوں میں ایک مکان ڈیرہ غازی خان میں ہے جس میں ان کا پانچواں حصہ ہے۔ ان کا ایک اور مکان شورکوٹ میں ہے جس کی مالیت پچیس لاکھ ہے۔ ان کے پاس چار لاکھ تین ہزار روپے نقدی بھی ہے۔پنجاب کے چوہدری بھی ان اثاثوں سے تو غریب ہی لگتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے اثاثوں میں دو مکانات ہیں جن کی مالیت ایک کروڑ بتیس لاکھ روپے ہے اور اس کے علاوہ نوے ایکڑ زمین بھی ہے۔ ان کے پاس ایک گاڑی بھی ہے جس کی مالیت دو کروڑ چھ لاکھ روپے ہے۔ نقدی میں ان کے پاس چار کروڑ چھ لاکھ روپے ہیں۔ سونے میں ان کے پاس پچاس اونس سونا ہے۔

’پاکستان کی سینیٹ اور اسمبلی میں عوامی نمائندے کتنے امیر ہیں‘ ان کی چند جھلکیا ں ملاحظہ کیجئے۔
غریب سنیٹر
الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کے مطابق سینیٹر مولانا گل نصیب کے اثاثے سب سے کم ہیں۔الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق اس فہرست میں سب سے غریب مولانا گل نصیب ہیں جن کے پاس آٹھ مرلے کے گھر کے علاوہ ساٹھ گرام سونا بھی شامل ہے۔
شوکت ترین سابق وزیر خزانہ
الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق اس فہرست کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اثاثے رکھنے کے حوالے سے سب سے ا ±وپر ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کی جانے والی فہرست کے مطابق سب سے زیادہ اثاثے پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین کے ہیں اور ا ±ن کے اثاثوں کی مالیت اربوں روپے ہے۔شوکت ترین کے پاس چوّن کروڑ پچپن لاکھ کی جائیداد، دو کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کی گاڑیاں اور مختلف مالیاتی ادراوں اور بینکوں میں تین ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی ہے۔یہ تفصیلات پہلی بار ریکارڈ پر آئی ہیں۔
رحمان ملک وفاقی وزیر داخلہ
ظاہر اثاثوں کے اعتبار سے وزیر داخلہ رحمان ملک دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے اثاثوں کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے
 حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے پاکستان میں دو گھر ہیں۔ ایک گھر کراچی میں ہے جس کی مالیت چھ لاکھ روپے ہے( کراچی میں چھ لاکھ روپے کا ڈھنگ کا دو کمروں کا فلیٹ نہیں ملتا) جب کہ دوسرا گھر صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ہے جس کی مالیت ایک کروڑ روپے ہے۔اس کے علاوہ ا ±ن کے پاس بی ایم ڈبلیو گاڑی ہے جس کی مالیت اکتیس لاکھ پچاس ہزار روپے ہے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ چوراسی ہزار روپے کا بینک بیلنس ہے۔وزیر داخلہ کی لندن میں جائیداد کی مالیت ا ±نتیس کروڑ پچاس لاکھ روپے ہے جب کہ بیرون ملک تین لاکھ ڈالر کا کاروبار ہے جو ا ±ن کی اہلیہ کے نام ہے علاوہ ازیں پچاس تولے زیورات بھی ا ±ن کی اہلیہ کے نام ہیں۔ وفاقی وزیر کے اثاثوں کی تفصیلات پہلی مرتبہ سامنے آئی ہیں۔
فاروق نائیک
سینیٹ کے چئرمین فاروق ایچ نائیک کا تعلق بھی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور ا ±ن کی جائیداد اور دیگر اثاثوں کی مالیت تیرہ کروڑ سے زائد ہے۔
چوہدری برادران
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے لاہور اور اسلام آباد میں واقع دو گھروں میں آدھا حصہ ہے جن کی مالیت 72 لاکھ روپے ہے جبکہ تین کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپے بینک بیلنس ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے اثاثوں کی مالیت اکتیس کروڑ روپے ہے۔( یہ خاندان اربوں روپے کے این آئی سی ایل، اور پنجاب بنک فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث ہے )
سلیم سیف اللہ
مسلم لیگ قاف کے ایک دھڑے ہم خیال گروپ کے سربراہ سیلم سیف اللہ خان کے اثاثوں کی مالیت آٹھارہ کروڑ اکیس لاکھ ہے اس کے علاوہ بارہ لاکھ روپے کی گاڑیاں اور بارہ لاکھ کے طلائی زیورات بھی ہیں۔
راجہ ظفرالحق
سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ناز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کی بیس لاکھ روپے کی جائیداد کے علاوہ تین لاکھ پچھتر ہزار روپے بینک بیلنس ہے۔
رضا ربانی
قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی کا کراچی میں ایک گھر ہے جس کی مالیت پچپن لاکھ روپے ہے۔ لاہور میں بھی ا ±ن کا ایک گھر ہے جس کی مالیت پچاس لاکھ روپے ہے اس کے علاوہ بیس لاکھ روپے کا بینک بیلنس بھی ہے۔
سنیٹر احمد علی
حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر احمد علی کی ایک کروڑ پینتالیس لاکھ روپے کی جائیداد ہے اس کے علاوہ پچاس لاکھ روپے کی دو گاڑیاں بھی ا ±ن کی ملکیت ہیں۔ احمد علی خزانے سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
پروفیسر خورشید احمد
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کے پاس چالیس لاکھ روپے کے گھر کے علاوہ چالیس لاکھ روپے کی اراضی بھی ہے۔
 زاہد احمد خان
حکمراں اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کے پاس پچاس لاکھ روپے کی جائیداد کے علاوہ چار لاکھ روپے کا بینک بیلنس بھی ہے
طلحہ محمود
حکمراں اتحاد میں شامل ایک اور جماعت جمعت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر طلحہ محمود کی جائیداد کی مالیت ساڑھے چار کروڑ روپے ہے جبکہ بتیس لاکھ روپے کا کاروبار اور ا ±ناسی لاکھ روپے بینک اکاو ¿نٹ میں ہیں۔طلحہ محمود داخلہ کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چئرمین بھی ہیں۔
فیصل رضا عابدی
پاکستا ن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فیصل رضا عابدی کے پاس اٹھانونے لاکھ کی جائیداد کے علاوہ ا ±نتالیس لاکھ روپے کی گاڑیاں اور ستر ہزار روپے کا بینک بیلنس بھی ہے۔

 الیکشن کمیشن نے چند دن قبل قومی اسمبلی کے اراکین کی طرف سے مالی سال 2010ء کیلئے جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے سالانہ گوشوارے جاری کئے ہیں۔ جس کے چند دلچسپ حقائق ملاحظہ ہوں
ایم این اے نور عالم خان
 خیبر پختونخوا سے پیپلزپارٹی کے ایم این اے نور عالم خان امیر ترین ارکان میں شامل ہیں جنہوں نے ساڑھے تین ارب روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں جبکہ ان کے پاس 4 ہزار کنال زرعی اراضی بھی ہے۔
 انجینئر امیر مقام
 انجینئر امیر مقام کی جائیداد کی مالیت 16 کروڑ 36 لاکھ، ایک کروڑ 60 لاکھ کا بزنس، دو کروڑ 60 لاکھ روپے کی گاڑی، پانچ لاکھ کی جیولری 11 کروڑ 97 لاکھ روپے کی نقدی ہے۔ ان کے اسلام آباد میں دو پلاٹ، 17 گاڑیاں ہیں جن میں 3 ٹرک شامل ہیں۔
غلام احمد بلور
 عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور کے کل اثاثہ جات کی مالیت 4 کروڑ 64 لاکھ 62 ہزار ہے جن میں 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کے کیش اور پرائز بانڈ ہیں۔ ان کی بیگم کے اثاثہ جات ایک کروڑ 51 لاکھ 50 ہزار ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات ارباب عالمگیر خان کی پاکستان میں جائیداد کی مالیت ایک ارب 45 کروڑ روپے جبکہ دبئی میں 3 کروڑ روپے مالیت کا اپارٹمنٹ، 7 کروڑ کے سیونگ سرٹیفکیٹس، 95 لاکھ روپے مالیت کی تین گاڑیاں، 36 لاکھ روپے مالیت کے زیورات، 2 کروڑ روپے کا بینک بیلنس ہے۔
مسعود عباسی
 مسعود عباس کی اراضی اور دیگر اثاثہ جات کی مالیت 14 کروڑ 2 لاکھ روپے جبکہ بینک میں جمع شدہ رقم 14 کروڑ روپے ہے۔
اسفند یار ولی
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کی زرعی اراضی کی مالیت 3 کروڑ روپے جبکہ گھر کی مالیت 40 لاکھ روپے مالیت ہے۔ ان کے پاس پانچ لاکھ روپے کی گاڑی، 50 تولے سونا اور بینک بیلنس 6 لاکھ روپے ہے۔
آفتاب شیر پاﺅ
پیپلز پارٹی شیرپاو ¿ کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاو ¿ کی چارسدہ میں دکانیں اور ہاو ¿س کی مالیت ایک کروڑ 35 لاکھ روپے، 35 لاکھ روپے کی گاڑی جبکہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے بینک بیلنس ہے۔ ان کی اراضی اور اثاثہ جات کی مالیت ایک کروڑ 57 لاکھ 72 ہزار روپے ہے۔
انجنیئر عثمان خان
 انجینئر عثمان خان ترکئی کی پاکستان میں اراضی اور گھر کی مالیت 80 لاکھ روپے جبکہ دوہا قطر میں گھر کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے۔
سردار مہتاب
 مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سردار مہتاب احمد خان کی 60 لاکھ روپے مالیت کے گھر اور فارسٹ اراضی ہے، ان کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہے۔
فیصل کریم کنڈی
 ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی کے پاس 23 کنال زرعی اراضی ہے جس کی مالیت 5 لاکھ روپے، 8 لاکھ روپے بینک بیلنس جبکہ ان کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہے۔
ہمایوں سیف اللہ خان
 ہمایوں سیف اللہ خان کی پاکستان میں جائیداد کی مالیت 16 کروڑ 59 لاکھ روپے جبکہ ان کی سرمایہ کاری ایک کروڑ 38 لاکھ، 100 تولے سونا، 54 لاکھ روپے بینک بیلنس، دو گاڑیاں ہیں۔
 منیر خان اورکزئی
فاٹا اراکین کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی کے کرم ایجنسی میں گھر کی مالیت ایک کروڑ 70 لاکھ، پشاور ورسک روڈ پر 2 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ ان کا دوہا قطر میں ٹرانسپورٹیشن کا کاروبار ہے جس میں دولاکھ 65 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
عبدالمالک وزیر
فاٹا سے رکن عبدالمالک وزیر کے پاس پاکستان میں اپنا گھر نہیں ہے جبکہ ان کے پاس 8 لاکھ 25 ہزار روپے کی گاڑی اور 20 ہزار روپے بینک بیلنس ہے۔ ظفر بیگ بھٹی کے 3 کروڑ روپے کے گھر، ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی اراضی ہے۔
انجم عقیل خان
مسلم لیگ (ن) کے اسلام آباد سے رکن انجم عقیل خان کے راولپنڈی اسلام آباد میں 17 مختلف مقامات پر کروڑوں روپے کی اراضی ہے، 65 لاکھ روپے کی گاڑی ہے۔
 شاہد خاقان عباسی
 شاہد خاقان عباسی کے 30 لاکھ روپے مالیت کی دو گاڑیاں، 30 لاکھ روپے کی جیولری، 20 کروڑ 80 لاکھ روپے کے گھر، ایک ارب 60 کروڑ روپے کا کاروبار ہے۔
 راجہ پرویز اشرف
 پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی اسلام آباد میں 2 کوٹھی کی مالیت ساڑھے 5 کروڑ روپے، ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کی زرعی اراضی، 18 لاکھ روپے کی گاڑی، 10 تولے سونا ہے۔
کیپٹن محمد صفدر
 نوازشریف کے داماد کیپٹن محمد صفدر کا اسلام آباد میں 500 گز کے پلاٹ کی مالیت اڑھائی لاکھ روپے، مانسہرہ میں ایک کنال پلاٹ کی مالیت 7 کروڑ 86 لاکھ روپے، بی ایم ڈبلیو گاڑی کی مالیت 60 لاکھ روپے، 550 گرام جیولری، 40 لاکھ روپے بینک اکاو ¿نٹ ہے۔
 چوہدری نثار علی خان
 اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کے مختلف جگہوں پر 8 پلاٹس، چکری میں 430 کنال زرعی اراضی جبکہ 198 کنال شاملات، مرسیڈیز کار 2010ئ پجارو ، فیض آباد میں رہائشی گھر، 5 لاکھ 86 ہزار روپے الائیڈ بینک میں جمع ہیں۔ ان کی بیگم کے نام پیر سوہاوہ اسلام آباد میں ایک کنال کا پلاٹ، چکری میں 328 کنال کی زرعی اراضی، رائیونڈ لاہور میں 8 کنال کا زرعی پلاٹ جبکہ فیروز سنز لیبارٹریز میں دولاکھ 81 ہزار کے حصص ہیں۔
 رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کے مختلف مقامات پر 6 پلاٹ یا گھر ہیں جن کی مالیت ایک کروڑ 24 لاکھ روپے ہے۔
 شیخ آفتاب احمد کے پاس پاکستان میں اثاثہ جات کی مالیت ایک کروڑ 39 لاکھ 20 ہزار روپے جبکہ 24 لاکھ روپے سے زائد بینک کا قرضہ لیا ہوا ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے گلبرگ لاہور میں گھر کا نصف حصہ ہے جس کی مالیت 32 لاکھ 90 ہزار جبکہ اسلام آباد میں گھر میں شیئر 50 فیصد ہے جس کی مالیت 52 لاکھ 50 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے، قصور میں ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی اراضی کی مالیت 45 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ان کے پاس 2 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی ہے ، 4 کروڑ 61 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔
 سمیرا ملک کا بینک بیلنس ایک کروڑ 76 لاکھ روپے جبکہ ان کے پاس 28 لاکھ روپے کی دو گاڑیاں ہیں۔ ان کے پاس 3 کروڑ 90 لاکھ روپے کی زرعی اراضی، 85 لاکھ روپے کا بنی گالہ میں پلاٹ اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا اسلام آباد میں گھر ہے۔
 عابد شیر علی کے اسلام آباد میں پلاٹ اور گھر کی مالیت 93 لاکھ روپے، ایک کروڑ 18 لاکھ روپے کی ٹیکسٹائل کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ ان کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہے۔
 غلام بی بی پروانہ کی 4 کروڑ روپے کی زرعی اراضی، 8 لاکھ روپے کا گھر، ساڑھے تین کروڑ روپے کا زیر تعمیر لاہور میں گھر ہے۔
 مخدوم سید فیصل صالح حیات کی 194 ایکڑ اراضی ہے جس کی مالیت 4 کروڑ 45 لاکھ روپے، شاہ جیوانہ ٹیکسٹائل مل کی مالیت 17 لاکھ 42 ہزار روپے ہے، 22 لاکھ روپے کی گاڑی 60 تولے سونا، 57 لاکھ روپے بینک بیلنس ہے۔
شیخ وقاص اکرم کے پاس 40 لاکھ روپے کی گاڑی، رائس مل، فواد گھی انڈسٹری اور جھنگ میں فلنگ اسٹیشن ہے۔
 مسلم لیگ (ق) کے رکن چوہدری وجاہت حسین کے مختلف علاقوں میں گھر، فارم ہاو ¿س اور زرعی اراضی کی مالیت ایک کروڑ 79 لاکھ روپے، 5 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری، 55 لاکھ روپے کی دو گاڑیاں، پچاس تولے سونا، دو کروڑ روپے بینک بیلنس ہے۔
 وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کی گھروں اور اراضی کی مالیت 50 لاکھ روپے، ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔
 سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے گجرات میں زرعی اراضی کی مالیت ساڑھے 3 کروڑ، گھر کی مالیت 25 لاکھ جبکہ پٹرول پمپ کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے۔ ان کے پاس 50 تولے سونا ہے۔
 مسلم لیگ (ن) کے رکن خواجہ محمد آصف کے دو رہائشی گھروں کی مالیت 84 لاکھ روپے، ڈی ایچ اے لاہور میں چار کنال کے پلاٹ کی مالیت 60 لاکھ روپے ہے، ان کے پاس 6 گاڑیاں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے بینک میں ان کے 74 ہزار 186 درہم جبکہ سٹی بینک نیویارک میں 20 ہزار ڈالر جمع ہیں۔
 وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی زرعی اراضی اور گھر کی مالیت 2 کروڑ 85 لاکھ روپے، 13 لاکھ روپے کی گاڑی اور 2 کروڑ 86 لاکھ روپے کی جیولری ہے۔ ایک کروڑ 13 لاکھ 11 ہزار روپے ان کے اکاو ¿نٹ میں جمع ہیں۔
احسن اقبال کی زرعی اراضی اور رہائشی پلاٹ کی مالیت 2 کروڑ 10 لاکھ روپے، 14 لاکھ روپے کی گاڑی اور 15 تولے سونا ہے۔
 محمد حمزہ شہباز شریف
 وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے محمد حمزہ شہباز شریف کے کل اثاثہ جات کی مالیت 21 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے۔ ان کی چوہدری شوگر مل، رمضان شوگر مل، حمزہ سپننگ ملز، محمد بخش ٹیکسٹائل ملز، کلثوم ٹیکسٹائل ملز، حدیبیہ پیپر ملز سمیت دیگر میں انوسٹمنٹ ہے۔
 رضا حیات ہراج
 رضا حیات ہراج کے پاس 54 لاکھ روپے کی دو گاڑیاں، 100 تولے سونا، فلور مل میں 50 فیصد حصص، آئل مل میں شراکت، لاہور میں ساڑھے تین کنال کے گھر میں ایک چوتھائی حصہ جس کی مالیت 40 لاکھ روپے، دو کنال کا لاہور میں گھر بیگم کو تحفتاً دیا ہے جس کی مالیت 40 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
 حنا ربانی کھر
 وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی کھرغربی میں 387 کنال اراضی، کوٹ اردو میں 800 کنال، اسلام آباد میں پلاٹ اور کوٹ ادو میں 78 ایکڑ اراضی ہے۔ ان کے پاس 30 لاکھ روپے کی جیولری ہے۔
حامد سعید کاظمی
کروڑوں روپے کے حج اسکنڈل میں ملوث سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی پاکستان میں جائیداد کی مالیت ایک کروڑ 70 لاکھ، 18 لاکھ 32 ہزار کے شیئرز، 3 گاڑیاں، 50 تولے سونا ہے۔
فریال تالپور
 صدر آصف علی زرداری کی بہن رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کی ٹنڈو اللہ یار میں 52 ایکڑ اراضی، ڈسٹرکٹ حیدر آباد میں 153 ایکڑ، ڈسٹرکٹ سانگھڑ میں 43ا یکڑ، ڈی ایچ اے کے کراچی میں 90 لاکھ روپے کا گھر، گوادر میں پلاٹ، کلفٹن کراچی میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کا گھر، 22 لاکھ روپے کا کاروبار، 62 لاکھ کی سرمایہ کاری، 3 گاڑیاں، 3 کروڑ 73 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہیں۔
 ڈاکٹر عذرا فضل
 ڈاکٹر عذرا فضل کے اثاثہ جات میں ڈی ایچ اے میں دو کروڑ روپے کا گھر، گوادر میں 5 لاکھ روپے کا پلاٹ، سانگھڑ میں 24 لاکھ روپے کی زرعی اراضی، اسلام آباد میں پلاٹ کیلئے 7 لاکھ روپے جمع کرائے ہیں، ڈی ایچ اے ویلی اسلام آباد اور ڈی ایچ اے ہومز اسلام آباد میں پلاٹوں کیلئے ایڈوانس جمع کرایا ہے۔ ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں کمرشل اور رہائشی پلاٹ کیلئے 35 لاکھ روپے جمع کرائے ہیں۔
 مخدوم امین فہیم
 مخدوم امین فہیم کی ہالہ میں 184 ایکڑ زرعی اراضی، بیٹیوں، بیگم اور بیٹوں کے نام پر بھی زرعی اراضی ہے۔ ڈی ایچ اے کراچی میں 2 ہزار مربع گز کا ساڑھے تین کروڑ روپے مالیت کا گھر، ڈی ایچ اے کراچی میں ہزار مربع فٹ کا ایک کروڑ 32 لاکھ روپے کا گھر، فیز ٹو ڈی ایچ اے کراچی میں 1 کروڑ 44 لاکھ روپے کا گھر، فیز فائیو میں 7 لاکھ روپے کا گھر، پونے چار ایکڑ کا اسلام آباد، راول ڈیم کے پاس فارم ہاو ¿س، دبئی میں 22 لاکھ درہم کا اپارٹمنٹ ان کے اثاثہ جات میں شامل ہے ان کے پاس چار گاڑیاں ہیں جبکہ28 لاکھ کی جیولری ہے۔
 سید نویدقمر
 سید نویدقمر کے پاس 54 لاکھ 80 ہزار روپے کی بدین میں زرعی اراضی، ٹنڈو محمد خان میں 115 ایکڑ جبکہ مٹھی میں 40 ایکڑ اراضی ہے۔ ان کے پاس 48 لاکھ روپے کی گاڑی اور 50 تولے سونا ہے۔
 ڈاکٹر فہمیدہ مرزا
 اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی پاکستان میں ڈی ایچ اے کراچی میں ہاو ¿س کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے، اسلام آباد میں پلاٹ و اپارٹمنٹ، 250 ایکڑ زرعی اراضی، 466 ایکڑ اپنے اور بچوں کے نام زرعی اراضی، بدین میں 32 ایکڑ اور زرعی فارم ہاو ¿س جبکہ اوورسیز اپارٹمنٹ کیلئے ایک کروڑ 12 لاکھ روپے ایڈوانس جمع کرائے ہیں۔ ان کے مرزا شوگر ملز میں شراکت داری، دو گاڑیاں اور 144 تولے سونا ہے۔
ڈاکٹر محمد فاروق ستار
ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمد فاروق ستار کا کراچی میں گھر میں حصہ 6 لاکھ 30 ہزار روپے، دو گاڑیاں، 400 گرام سونا، 5 ہزار 557 روپے نقدی، 16 لاکھ 48 ہزار بینک بیلنس ہے۔
خوش بخت شجاعت
خوش بخت شجاعت کے ذمہ 88 لاکھ 96 ہزار روپے بینک قرضہ ہے۔ سید حیدر عباس رضوی کے پاس 5 لاکھ روپے کی گاڑی 95 تولے سونا، 4 لاکھ نقدی، 81 لاکھ روپے بینک بیلنس ہے جبکہ ان کے پاس اپنا ذاتی گھر نہیں۔
 پاکستان کی سیاست میں حساب کتاب ، احتساب، باز پرش لایعنی باتیں ہیں۔ یہاں کے سیاست دان جب عوام کی طاقت سے ایک بار اقتدار میں آجائیں تو پھر وہ نوٹ کماو مہم میں لگ جاتے ہیں۔ ان میں جہاں قانونی گرفت نہیں ہے وہاں عوامی سظح پر بھی لوگ ان نمائندون سے کوئی سوال جواب نہیں کرتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جانب ان اثاثوں کی چھان بین ہو تو دوسری جانب اس سلسلے میں موثر قانون سازی کی جائے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ سیاستدانوں کے اثاثوں کا جائزہ لے اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے ارب پتی رہنماوں کو الیکشن کے لئے نا اہل قرار دے ۔

لیبلز: