بدھ، 16 جون، 2010

افغانستان میں ایک کھرب ڈالر کی معدنیات کا انکشاف

عطا محمد تبسم

امریکہ اب افغانستان سے نہیں جائے گا۔کیونکہ اب تک اس نے افغانستان میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں ایسے معدنی ذخائر کا سراغ لگایا گیا ہے۔ جو امریکہ کے اب تک ہونے والے سارے نقصانات کا ازالہ کردے گا۔ یہ ذخائر اب سے پہلے معلوم نہیں ہوئے تھے۔ خیال یہ ہے کہ ان ذخائرسے افغان معیشت کو تبدیل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ان ذخائر کی مالیت کا اندازہ 1 ٹریلین امریکی ڈالر کا ہے۔ افغانستان میں معدنی ذخیرے کی تلاش کا کام خاصے عرصے سے جاری تھا۔امریکی حکام کے مطابق اس ذخیرے میں لوہا ، تانبا ، کوبالٹ ، سونے اور لتیم جیسے اہم صنعتی دھاتیں بہت بڑی مقدار میں ہیں اور بہت سی ایسی معدنیات بھی ہیں جو جدید صنعت کے لئے ضروری ہیں۔خیال کیا جارہا ہے کہ بالآخر افغانستان کان کنی میں سب سے زیادہ اہم ملکوں میں سے ایک میں ہو سکتا ہے۔پینٹا گون کی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں پتہ چلنے والے ذخائر میں لتیم جیسی قیمتی دھات ہے جو ،" لیپ ٹاپ اور BlackBerrys کے لئے بیٹری کی تعمیر میں اہم خام مال. کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔افغانستان کے معدنی دولت کے وسیع پیمانے پر ملنے کی رپورٹ پر پینٹا گون اورامریکی حکام اور امریکی ارضیات کے ماہر خوشی سے جھوم اٹھے ہیں۔ اس بارے میں افغان حکومت اور صدر حامد کرزئی کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اداروں کے مطابق ملک میں معدنیات کے ذخائر کی مالیت ایک کھرب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔افغانستان میں ایک چینی کمپنی کی مدد سے تابنہ نکالنے کی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔پینٹاگون، امریکی ارضیاتی سروس اور امریکی امدادی تنظیم یو ایس ایڈ کے اندازے کے مطابق افغانستان میں معدنیات کے ذخائر کی مالیت کم از کم نو سو ارب ڈالر کے قریب ہے۔امریکہ کے جیولوجیکل سروے کے مطابق ان معدنیات میں بڑی مقدار میں لوہے اور تانبےکے ساتھ ساتھ قیمتی لیتھیم کے ذخائر شامل ہیں۔افغانستان کی وزارتِ معدنیات کے ترجمان جواد عمر کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں معدنیات کی اصل مالیت کے بارے میں تو نہیں بتا سکتے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ملک کی ترقی میں یہ اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اگر معدنیات کو نکالا جاتا ہے تو افغانستان خود کفیل ہو سکتا ہے، اور اسے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہو گی۔سروے سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق ملک میں موجود معدنیات کی مالیت ایک کھرب ڈالر ہے۔’ ملک میں موجود تمام معدنیات کا سروے نہیں کیا گیا لیکن جو بھی دریافت ہوئیں ان کی مالیت ایک کھرب ڈالر ہے۔صدر حامد کرزئی کے ترجمان وحید عمر کا کہنا ہے کہ ’سروے سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق ملک میں موجود معدنیات کی مالیت ایک کھرب ڈالر ہے۔’ ملک میں موجود تمام معدنیات کا سروے نہیں کیا گیا لیکن جو بھی دریافت ہوئیں ان کی مالیت ایک کھرب ڈالر ہے۔‘تاہم یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس وقت یہ معلومات منظر عام پر کیوں لائی گئی ہیں۔امریکہ کے جیولوجیکل سروس نے افغانستان میں موجود معدنیات کے ذخائر کے متعلق سال دو ہزار سات میں رپوٹ جاری کی تھی۔ امریکہ نے گزشتہ سال دسمبر میں ان معدنیات کی مالیت کا انداز لگا لیا تھا۔اس کے بعد جون چودہ کو ایک کھرب مالیت کی معدنیات کی رپورٹ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی تھی۔بی بی سی کے جلِ میکگﺅرنگ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب افغانستان اور وہاں قائم حکومت کی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ ظاہر کرنا کہ افغانستان میں بڑی تعداد میں سونے کے ذخائر موجود ہیں، افغانستان کے مسئلے کے بین الاقوامی حل اور جنگ سے متاثر ملک کو قیمتی انعام دینا ہو سکتا ہے۔‘دریافت ہونے والے ذخائر میں لیتھیم بھی شامل ہے جو موبائل فون سے لیکر لیپ ٹاپ کی بیٹری میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی مستقبل میں گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال ہو گا۔لوہا: چار سو اکیس ارب ڈالر،تانبہ: ستائیس ارب ڈالر،کوبالٹ: اکیاون ارب ڈالر،گولڈ: پچیس ارب ڈالر،اس وقت بولیویا کے پاس لیتھیم کے سب سے زیادہ ذخائر ہیں۔اس کے علاوہ افغانستان میں نیوبئیم کے ذخائر بھی موجود ہیں جو سٹیل کو مزید مضبوط کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔معدنیات کی دریافت امریکی ارضیاتی سروس نے افغان حکومت کے ساتھ مل کر کی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ افغانستان لیتھیم کا سعودی عرب‘ بن سکتا ہے۔اس سے پہلے ہی افغان صوبے لوغر میں ایک چینی کمپنی کی مدد تانبے کے ذخائر نکالنے کا منصوبے بنایا گیا ہے۔معدنیات کو زمین سے نکالنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر معدنیات کی صعنت لگانے کے لیے کئی سال درکار ہونگے اور ایسا کرنے کے لیے امن کا موجود ہونا لازمی ہے، سرمایہ داروں کو سکیورٹی ضمانت دینا مشکل ہو گا۔بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان نے معدنیات کی دریافت کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اسے شدت سے ترقی کی ضرورت ہے، لیکن معدنیات کی دریافت مسئلے کا راتوں رات حل نہیں ہے۔‘معدنیات کو زمین سے نکالنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر معدنیات کی صعنت لگانے کے لیے کئی سال درکار ہونگے اور ایسا کرنے کے لیے امن کا موجود ہونا لازمی ہے، سرمایہ داروں کو سکیورٹی ضمانت دینا مشکل ہو گا۔نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کی سٹریٹجک اہمیت بڑھتی ہے تو افغانستان میں امریکہ سمیت خطے کے ممالک چین اور بھارت اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈی میں سینئر ریسرچ فیلو سٹفیفن سانوک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں معدنیات نکالنا آسان کام نہیں ہے۔’ ان کے خیال میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ افغانستان جیسے ملک میں جہاں فوجی کارروائی چل رہی ہے وہاں سے ایسی معدنیات کو نکالا جا سکے۔‘انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں نہ صرف مواصلات کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں بلکہ ان کے پاس قوانین بھی نہیں جو سرمایہ داروں کو راغب کر سکیں، روزگار کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے جس کی مدد سے ایک لمبے عرصے تک شدت پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔‘

جمعہ، 11 جون، 2010

پاکستان کرونیکل نوجوان نسل کے لئے ایک تحفہ



عطا محمد تبسم

عقیل عباس جعفری چپکے چپکے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ اور پھر جب اس کی کوئی نئی کاوش سامنے آتی ہے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ عقیل عباس جعفری کس پرجیکٹ پر کام کررہا تھا۔عقیل عباس کی نئی تحقیقی کتاب ’پاکستان کرونیکل‘ ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انھوں نے اپنے محدود وسائل میں ایک بڑا تحقیقی کام کیا ہے۔وہ مستقل مزاجی اور لگن سے کام کرتے ہیں۔ اوراپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ تحقیق و تحریر میں مبتلا رہنے والوں کو بھی یہ بات ایک مرتبہ چونکا دے گی کہ کسی نے تن تنہا پاکستان کی 70 برسوں کی سیاسی، ثقافتی، سماجی اور معاشی تاریخ کو ایک دستاویزی صورت دی ہے۔ تقریباً گیارہ سو صفحات پر مشتمل بڑے سائز کی اس کتاب کو اس قدر دقتِ نظری کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ شاید کسی بڑے حکومتی ادارے نے، بڑی ٹیم کے ساتھ، ایک معرکہ سرانجام دیا ہے۔اس کتاب کے شروع میں پیرس کی مشہور شاہراہ شانزے لیزے کا 1901ء کا ایک منظر ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ فوٹو گرافی کی اس شاہکار تصویر میں پورے یورپی معاشرے کو اپنی تمام تر تفاصیل کے ساتھ محفوظ کیا گیا تھا۔ کتاب کے اختتام پر 1990ءکے شانزلے لیزے کی تصویر ہے۔ ان دو تصویروں کے درمیان ایک ہمہ گیر انقلاب کی داستان رقم ہے جو خصوصاً ادارت کا ایک کارنامہ ہے۔ چند طویل مضامین کے علاوہ، جو عموماً سگمنڈ فرائیڈ، آئن سٹائن جیسے لوگوں پر لکھے گئے، بیشتر مواد بہت مہارت سے کم از کم الفاظ میں لکھا گیا اور اسے نادر و نایاب تصاویر سے مزین کیا گیا۔ مہاتما گاندھی اور قائد اعظم محمد علی جناح پر بھی مضامین تحریر کیے گئے۔ ہندوستان کی آزادی، فسادات جیسے واقعات بھی اس میں شامل ہوئے اور سوویت روس کے خلاف جہاد افغانستان میں پاکستان کے فرنٹ لائن سٹیٹ کے کردار پر بھی بات ہوئی۔ انتہائی دیدہ زیب کاغذ پر چھاپی گئی اس کتاب کے تمام صفحات رنگین ہیں۔ رنگوں نے اور رنگوں کے امتزاج نے مدیروں اور ناشروں کی بہت مدد بھی کی۔


عقیل عباس جعفری ب کا کہنا ہے کہ علم دشمن معاشرے میں علم دوستی کا مہنگا اور خطرناک شوق پالنے والوں کو اپنے ذاتی تجربوں کی روشنی میں فوراً سمجھ آ جا تی ہے کہ جن مراحل کو اجمالاً بیان کر دیا گیا ہے، جن رویوں کا اشارتاً ذکر کیا گیا ہے، وہ کس قدر جان لیوا ہوں گے۔ پاکستان میں ایک محقق کی لگن، عزت نفس اور قوت ارادی کو بہت کڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔عقیل عباس جعفری نے 1990ءمیں پاکستان ٹیلی ویڑن کی معلوماتی سیریز ”سات دن“ سے اپنے تحقیقی سفر کا آغاز کیا تھا۔ موجودہ کتاب کی ایک اہم خصوصیت نادر تصاویر ہیں۔ عطیہ فیضی کی تصو اور ان کی والدہ امیر النساءکے چہرے سے کم ہی لوگ آشنا تھے ۔ اس کتاب میںپاکستان کی اردو، پنجابی، گجراتی اور سرائیکی فلموں کے نادر اشتہارات شائع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جو ہماری اجتماعی سیاسی یادداشت کا حصہ ہیں


اس قدر ضخیم کتاب پڑھتے ہوئے اگر بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے کسی نوعیت کی ذاتی رائے زنی اور تعصب سے الگ رکھا گیا ہے۔ چونکہ جعفری صاحب بنیادی طور پر ایک شاعر ہیں لہٰذا یہ غالب طور پر پاکستان کی ثقافتی، علمی، ادبی تاریخ بن گئی ہے۔ سیاسی زندگی کے تمام تر اہم اور کم اہم واقعات بیان کرنے کے باوجود اس کا ثقافتی پہلو غالب رکھنا ادارت کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ تمام تر اہم اخبارات و جرائد کے اجرائ، بندش یا خاتمہ کی تفصیل موجود ہے۔ اہم ادبی، علمی شخصیات کے مختصر لیکن مربوط پروفائل دیے گئے ہیں، تمام تر سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈ (آدم جی، نگار ایوارڈ وغیرہ) کی تفاصیل موجود ہیں اور بیشتر اہم کتابوںکے سرورق دیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں آپ کو پاکستان کی فلم انڈسٹری، شاعری، ڈرامہ، ٹیلی ویڑن، ریڈیو پاکستان وغیرہ کا پورا سفر نظر آئے گا۔یہ کتاب پڑھتے ہوئے پہلا تعجب یہی ہوتا ہے کہ ایک شخص نے تن تنہا یہ کام کیسے سرانجام دے دیا، لیکن کچھ دیر کے بعد احساس ہوتا ہے کہ اردو علم و ادب کی تاریخ میں عقیل عباس جعفری ایک تازہ اضافہ ہے ،ورنہ اس نوعیت کے اہلِ جنوں ہمارے ہاں ہمیشہ سے رہے ہیں۔ بہت سے نام ذہن میں آتے ہیں۔ سبط حسن اور علی عباس جلالپوری جیسے محقق جنہوں نے تن تنہا اپنے زمانے کے فکری مزاج کو ڈھالنے میں ایک لازوال کردار ادا کیا۔ ظ انصاری جیسا مترجم جو ناقابل یقین کام کر گیا۔ ڈاکٹر احمد حسن دانی، عین الحق فرید کوٹی، حسن عسکری، آصف خان، محمد طفیل اور سید قاسم محمود جیسے ان تھک لکھاری جو اپنی لگن میں بڑا علمی سرمایہ چھوڑ گئے۔ کے کے عزیز کے بارے میں کیا کہیے؟ زاہد چوہدری، ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر اقبال احمد، اختر احسن اور عزیز صدیقی اور ستار طاہر کو کن الفاظ میں یاد کیا جائے؟ شفقت تنویر مرزا، احمد سلیم اور ڈاکٹر مبارک علی ایسی ہی لگن کے ساتھ علمی اور تحقیقی کار ہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں۔


عقیل عباس جعفری کی یہ کاوش اپنے وطن کے لیے، وطن سے محبت کرنے والی اور اس کے روشن اور تابناک مستقبل کا خواب دیکھنے والی نسل کے ایک تحفہ ہے۔


موزے،برساتی کوٹ، سیل فون کی حفاظت کرنی چاہیئے۔
عطا محمد تبسم
دو دن پہلے پریس کلب میں میرے ایک دوست کے پاس امریکہ سے فہد ہاشمی کے والد کا فون آیا۔ طویل گفتگو کے بعد میرے دوست نے بتایا کہ ہاشمی صاحب کراچی میں رہتے تھے ۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ جنہں1980میں دو ڈھائی سال کی عمر میں پاکستان سے امریکہ لے گئے تھے۔ ان بچوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ، ان کی اردو بھی واجبی سے ہے۔ ان میں چھوٹا بیٹا فہد ہاشمی ہے۔فہد ہاشمی نیویارک کے علاقے کوئینز میں پلے بڑھے۔ انہوںنے بروکلین کالج سے 2003 میں پولیٹیکل سائنس کی ڈگری لی۔اور پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں لندن کی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی سے 2006 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ نائین ایلیون کے بعد امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف جو ظالمانہ پالیسی اختیار کی۔ اس پر امریکیوں نے بھی احتجاج کیا۔ فہد ہاشمی بھی امریکی پالیسوں اور مسلمانوں کے خلاف امریکی امتیازی رویہ پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتا تھا۔ امریکی معاشرہ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ لیکن فہد کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ فہد ہاشمی ایک ذہین اور پڑھنے لکھنے والا طالب علم تھا۔دوران طالب عالمی اس کا تعارف ’المہاجرون‘ نامی تنظیم سے ہوا۔اس کی لمبی ڈارھی اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے اس کی ہمدردی اور امریکہ کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات نے اسے امریکی پالیسوں سے اختلاف کا راستہ دکھایا۔ لیکن وہ امریکی شہری تھا۔ قانون کی پاسداری کو مقدم رکھتا تھا۔ اس لئے وہ کسی خلاف قانون کام میں ملوث نہیں ہوا،لیکن امریکی انیٹیلیجنس اور ایف بی آئی اس کے پیچھے لگی رہی۔ چھہ جون کو اسے ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔ اس پر القاعدہ سے رابطے، فوجی ساز وسامان اور رقم کی فراہمی کا الزام لگایا گیا۔ جب وکیل نے فوجی امداد کی تفصیلات پوچھی تو یہ موزے اور برساتی کوٹ نکلا۔ امریکیوں کی پوری کوشش تھی کہ فہد کو برطانیہ سے امریکہ لے جایا جائے۔ وہ برطانیہ سے امریکہ کے حوالے کئے جانے والے پہلے فرد ہیں۔ 2007 میں امریکی فہد ہاشمی کو امریکہ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ جہاں اسے اے کیٹیگری سیکورٹی میں تین سال تک 23 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا رہا۔ جب ایک گھنٹے اس کی اہل خانہ سے ملاقات کرائی جاتی تو اس دوران چاروں طرف کیمرے لگے ہوتے۔ اس رویہ نے فہد کو نفسیاتی مریض بنادیا۔ اس کی داستان اس قدر ہولناک تھی کہ اس کی ایک امریکی پروفیسر نے اس پر احتجاج کی مہم شروع کردی۔ امریکہ اور برطانیہ میں پاکستانی کیمونٹی میں یہ کیس بہت اہمیت اختیار کرچکا ہے۔جو مقدمے سے قبل ہاشمی کی قید کے حالات پر اعتراض کررہے ہیں۔ ہاشمی کو مین ہیٹن کی جیل کی کوٹھری میں لگ بھگ تین سال تک دن کے 23 گھنٹوں کے لیے تنہا رکھا جاتا تھا۔


بروک لین کالج کی سیاسیات کی پروفیسرژاں تھیو ئارس نے ہاشمی کو پڑھایا تھا اور انھوں نے ا ±س کے مقدمے کی تشہر کے لیے ایک مہم منظم کرنے میں بھی مدد کی تھی جس میں مین ہیٹن میں چندہ اکھٹا کرنے کی ایک حالیہ مہم بھی شامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہاشمی کی قید کے حالات اذیت رسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اِس قسم کے حالات غیر انسانی ہیں۔ یہ بین الااقوامی معیار کے منافی ہیں۔ یہ لوگوں کی اہلیت پراور مسٹر ہاشمی کی جانب سے خود اپنا دفاع کرنے کی اہلیت پر ایک غیر مناسب سودے بازی کے مترادف ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ یہ غیر امریکی رویہ ہے۔ جیل کے باہر فہد ہاشمی کے حمایتیوں کا طویل عرصے تک باقاعدگی سے احتجاج بھی جاری رہا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پر احتجاج کیا اور کہا کہ ہاشمی کو قانونی کارروائی سے پہلے ہی اذیتناک حراست میں رکھا گیا ہے۔ لیکن امریکی اپنے اس خلاف قانوں رویہ پر شرمندہ نہیں ہیں۔ وہ اسے معمول کی کاروائی قرار دیتے ہیں۔پاکستانی نژاد امریکی شہری سید فہد ہاشمی کو دہشت گردوں کی مدد کرنے کے جرم میں بدھ کو نیو یارک کی ایک عدالت نے پندرہ سال قید، اوررہا ہو کرمزید تین سال نگرانی میں گزارنے کی سزا سنا ئی۔ڈاکٹر عافیہ کی طرح یہ کیس بھی مسلمان نوجوانوں کو یہ باور کرانے کے لئے ہے کہ وہ اپنے دل سے جذبہ جہاد کو نکال پھینکیں۔ ورنہ انھیں دنیا میں عبرت کا نشان بنادیا جائے گا۔ امریکیوں نے مسلمانو پر تشدد کے جو نئے انداز پنائے ہیں۔ ان پر امریکی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی شرمندہ ہیں۔ اور مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ قیدیوں کو طویل عرصے قید تنہائی میں رکھ کر انہیں نفسیاتی مریض بنادیا جاتا ہے۔ پھر ایسے ٹاﺅٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ جو قیدیوں کی ہمدری حاصل کرتے ہیں۔ اور انھیں عدالت میں اعتراف جرم اور ہلکی سزا سنانے کے لئے ہموار کرتے ہیں۔ فہد ہاشمی پر بھی یہی نسخہ آزمایا گیا۔ جج نے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم اعتراف کرتے ہو۔ تو اس نے کہا الحمدولللہ۔ جی ہاں ۔ پھر اس کا جرم بھی کیا ہے ، ایسے مقدمات تو پاکستانی پولیس بھی بناتی رہی ہے، چوہدری ظہور الہی پر بھینس کی چوری سے مشابہ اس مقدمے میں موزے، برساتی کوٹ، سیل فون کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کو اپے موزے،برساتی کوٹ، سیل فون کی حفاظت کرنی چاہیئے۔

بدھ، 9 جون، 2010

ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کی ایک تازہ لہر

عطا محمد تبسم
کراچی میں ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کی ایک تازہ لہر آئی ہے۔گزشتہ ایک ہفتے میں شہر میں چار ڈاکٹر ہلاک کردئیے گئے ہیں۔ اس ایک ماہ میں تقریبا آٹھ ڈاکٹر ہلاک کئے جاچکے ہیں۔حیدرآباد میں گزشتہ ہفتے پروفیسر ڈاکٹر اسلم میمن کو دن دھاڑے اغوا کیا گیا۔ جو تا حال لاپتہ ہیں۔انھیں تاوان کے لئے اغوا کیا گیا ہے۔پشاور میں ڈاکٹرز کا اغوا اب باقاعدہ کاروبار ہے۔ اور بڑی تعداد ایسے ڈاکٹروں کی ہے جو اس ہولناک تجربے سے گزر چکے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے دو ہزار تین سو افراد پر ایک ڈاکٹر کی سہولت ہے۔ ایک ڈاکٹر کی تعلیم پر حکومت کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔حالات میں جب بھی ایسی بے یقینی کی فضا ہوتی ہے۔ ملک سے برین ڈرین ( ذہین افراد کا ملک سے چلے جانے )کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس ایک ماہ میں سندھ سے تین سو ڈاکٹر اور پنجاب سے بارہ سو ڈاکٹر ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔کوئٹہ کے حالات بھی خراب ہیں ۔ جہاں ایک ماہ میں سات ڈاکٹر قتل کردئیے گئے۔اندرون سندھ کی صورت حال بھی کوئی اچھی نہیں ہے۔جمعہ کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے کراچی میں ڈاکٹروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز قرار دیا ۔ اورنگی ٹاو ¿ن میں ایک ڈاکٹر کو پیر کی شام دو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ چالیس سالہ ڈاکٹر بابر عبدالمنان کو زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ بدھ دو جون کو ایک پچاس سالہ ڈاکٹر جنید شاکر کو نیو کراچی کے سیکٹر ای میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شاکر اپنی نجی کلینک سے موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے کہ بارش اور لوڈشیڈنگ کے دوران نامعلوم افراد نے انہیں ہلاک کر دیا اور جمعرات کے روز صبح ڈاکٹر حسن رضا کو جب وہ نیشنل میڈیکل سینٹر سے اپنی ڈیوٹی ختم کرکے نکلے تھے قتل کیا گیا۔جمعہ چار جون کو کراچی میں کالا پل کے قریب پنتیس سالہ ڈاکٹر حسن حیدر بخاری کو گولیاں مارک ہلاک کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ نیشنل میڈیکل سینٹر سے اپنی رات کی ڈیوٹی ختم کرکے گھر واپس پہنچے تھے کہ انہیں نامعلوم کار سواروں نے ہلاک کر دیا۔ ان کو تین گولیاں سر میں ماری گئی تھیں۔ کراچی سے ملحقہ بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ہفتے کی شب نا معلوم ملزمان نے ساکران روڈ پر واقع ماروی کلینک کے مالک ڈاکٹر مدن لعل ولد رام چند کو موبائل فون چھیننے کے دوران مزاحمت کرنے پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ مقتول کافی عرصے سے حب کے ساکران روڈ پر ماروی کلینک چلاتا تھا۔ادھر جیکب آباد کے ڈاکٹر ڈاکٹرامرکھتری کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے سول اسپتال سے شہرکے مختلف راستوں سے مارچ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعجازجکھرانی کی رہائش گاہ کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے کر روڈ بلاک کی ۔ دوسری جانب پی ایم اے جیکب آباد کے ایک وفد نے ڈاکٹر اے جی انصاری اور ڈاٹرگل محمد برڑو کی قیادت میں وفاقی وزیر جسٹس ریٹائرڈ عبدالرزاق تھہیم سے ملاقات کی اورانہیں ڈاکٹرکے قتل سے متعلق معلومات سے آگاہ کیا۔ ان ہی دنوں میںسانگھڑ میں ایک ڈاکٹر کو بھی قتل کیا گیا۔ اس حوالے سے میں نے پی ایم اے کے مرکزی صدر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن سومرو سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان وارداتوں نے ڈاکٹر کمیونٹی میں بے چینی پیدا کردی ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف پھر وہی مہم چلائی جا رہی ہے جو 2000ء کی دہائی کے آغاز میں شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے ڈاکٹروں کے خلاف حالیہ مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان واقعات کو نہ روکا گیا تو خدشہ ہے کہ ایک بار پھر ڈاکٹر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سی سی پی او وسیم صاحب اور ان کے ساتھ دیگر پویس اہلکار آئے تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پولیس کو الرٹ کریں گے۔جب کہ۔ پولیس نے تمام ڈاکٹروں کے قتل کے مقدمات نامعلوم افراد کے خلاف درج کیے ہیں اور تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ایک ڈاکٹر اپنے مریض کا علاج ،کسی مذہبی،گروہی، لسانی،علاقائی،تعصب سے بالا تر ہوکر کرتا ہے۔ اس کے کام کے اوقات ایسے ہیں کہ وہ آسانی سے ٹارگٹ بن جاتا ہے۔ یہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ایک سازش ہے۔ جس کا پورے معاشرے کو مل کر مقابلہ کرنا چاہیئے۔اگر کل ڈاکٹر نہ ہوگا تو آپ کس سے علاج کرائیں گے۔ ذرا اس پر ٹھنڈے دل سے سوچیں۔

منگل، 8 جون، 2010

آٹے دال کا بھاﺅ

عطا محمد تبسم
بجٹ اجلاس میں شرکت کرنے والے عوامی نمائندوں سے ایک ٹی وی اینکر پرشن نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آٹے کی فی کلو قیمت کیا ہے۔ یا دال کی قیمت فی کلو کیا ہے،یا گوشت کس بھاﺅ بک رہا ہے تو کسی عوام نمائندے کو آٹے ، دال، گوشت کو بھاﺅ نہیں معلوم تھا۔یہ ہمارے منتخب نمائندے ہیں۔ جو پاکستان کے عوام کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں پہنچے ہیں، جو ہمارے لئے بجٹ کی منظوری دیتے ہیں۔جو عوام کا غم کھاتے ہیں۔ ایرکنڈیشن گاڑیوں،دفاتر،گھروں میں رہتے ہیں۔عوام کے ٹیکس سے اپنی مراعات اور الاونس لیتے ہیں۔جہازوں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں وقت گزارتے ہیں۔ اس دو سالہ عوامی جمہوری دور میں عوام پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ کسی کو اس کا احساس نہیں ہے۔ حکومت کے دو سال میں مارچ 2008تامارچ 2010،آٹا13 روپے سے بڑھ کر 34 روپے اورچینی21 روپے سے بڑھ کر 67 روپے ،پیٹرول46 روپے71 روپے،موٹرسائیکل32000 روپے سے بڑھ کر62000 روپے،یو ایس ڈالر 60 سے بڑھ کر 83 روپے،کال اور ایس ایم ایس ٹیکس%15 سے بڑھ کر %21 اور لوڈشیڈنگ%30 سے بڑھ کر %150 ہوگئی ہے۔چائے کی پتی (250 گرام کا پیکٹ) 65 روپے سے بڑھ کر 124 روپے کا ہوگیا ہے، مرغی کا گوشت 71 روپے سے بڑھ کر 116 روپے ہوگیا ہے۔( یاد رہے کہ یہ اعداد شمار مارچ تک کے ہیں۔ تین ماہ میں ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔) روزمرہ کی کے استعمال کی ہر چیز، سبزیاں اور پھل، بجلی اور قدرتی گیس کے نرخ، پٹرولیم مصنوعات ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔ کراچی کے عوام پر کے ایس سی کی صورت میں جو قہر نازل ہورہا ہے۔ اس کا کوئی مداوا نہیں ہے۔ تازہ ترین یہ ہے کہ کے ای ایس سی کو کراچی کے عوام سے چار ارب چونتیس کروڑ پچاسی لاکھ روپے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اور سات ماہ میں کے ای ایس سی کراچی کے عوام سے پانچ روپے بائیس پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافی بل وصول کرے گی۔نیپرا جس نے کے ای ایس سی کے اعداد شمار کوماننے سے انکار کیا تھا، اب صارفین کے حقوق سے زیادہ کے ای ایس سی کے مفادات کی پاسبانی کررہی ہے۔ کراچی کی سیاسی ، سماجی، عوامی تنظیموں کو اس ناانصافی پر اپنی آواز بلند کرنی چاہئے۔کے ای ایس سی نے اپنا یہ ہرجانے کا دعوی مقررہ مدت میں پیش نہیں کیا۔ لیکن پھر بھی اسے دو ارب روپے کا فائدہ اس ایک فیصلے سے پہنچایا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں۔ جو ڈوریاں ہلا رہی ہیں۔ ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ کے ای ایس سی کی ملکیت میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ دوسری جانب کے ای ایس سی کے ذریعے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔، بجلی کے موجودہ نرخ 3.91 روپے ہیںجو ۰۵ یونٹ والے صارفین سے وصول کئے جاتے ہیں۔ 100 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور کمرشل اور صنعتی صارفین کیلئے نرخوں میں عام صارف کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ گھریلو صارفین جو 101 سے 300 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرتے ہیں ان کیلئے نرخ 4.96 روپے فی یونٹ (علاوہ ٹیکس) ہے، جو 301 سے 700 یونٹ استعمال کرتے ہیں ان کیلئے نرخ 8.03روپے فی یونٹ ہے جبکہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کیلئے نرخ 10 روپے فی یونٹ (ٹیکس کے بغیر) ہے۔ کمرشل صارفین کیلئے بجلی کے نرخ فروری 2008ء میں 9.53 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) ہوا کرتے تھے جبکہ اب یہ قیمت 14.93 روپے فی یونٹ (بشمول ٹیکس) تک جا پہنچی ہے۔ یہی صورتحال گیس کی ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایل پی جی کی قیمتیں 817 روپے فی سلنڈر سے بڑھ کر 1092 فی سلنڈر ہوگئیں یعنی 270 روپے فی سلنڈر۔، ڈیزل 37.86 سے 69.27 فی لٹر اور مٹی کا تیل 42 سے 72 روپے فی لٹر تک پہنچ چکا ہے۔ وہ غریب جو ایل پی جی نہیں خرید سکتے، جن کے پاس قدرتی گیس نہیں ہے اور لکڑی استعمال کرتے ہیں ان کیلئے لکڑی کی قیمتیں 230 روپے فی 40 کلوگرام سے بڑھ کر 302 روپے ہوگئی ہےگزشتہ 2 برس کے دوران ہوشربا مہنگائی کے نتیجے میں تقریباً ہر شہری کی زندگی اس سطح سے 50 فیصد زیادہ مہنگی ہوگئی ہے جتنی یہ فروری - مارچ 2008ء میں ہوا کرتی تھی۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ ایک طرف ملک کی اقتصادی حالت خراب ہوگئی ہے تو دوسری طرف کرپشن میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ گڈگورننس دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ عام شہری کی زندگی بد سے بدتر ہوچکی ہے؛ ملک کے تاجر طبقے تباہ حال ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ صنعتی یونٹ بند ہورہے ہیں۔ اسٹاک ایکسچیج کی صورتحال یہ ہے کہ ایک سال میں تین چار کمپنیاں لسٹیڈ ہوئی ہیں۔ حکومت کا سینسٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ فروری 2008ء میں 173 تھا جو جنوری 2010ء میں بڑھ کر 254 تک پہنچ چکا ہے؛ روز مرہ کے استعمال کی کئی اشیاء کی قیمتوں میں 250 سے 300 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ عوامی اجتماعات میں روٹی، کپڑا اور مکان کے وعدے کرنے والے حکمرانوں نے فروری 2008ء سے حقیقتاً انہیں بے مثال مہنگائی دی ہے۔ہم ایک بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ اور مستقبل میں بھی کوئی امید نظر نہیں آتی۔جب تک عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کے فضا قائم نہیں ہوگی،یہ صورتحال مزید بگڑتی جائے گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ سنگین حالات کو محسوس کرے۔ اور عالمی اداروں کے عوام دشمن معاہدوں سے الگ ہوکر عوام کی سہولت کے اقدامات کرے۔

اتوار، 6 جون، 2010

آئی ایم ایف کا بجٹ قوم کو مبارک ہو

          
                   عطا محمد تبسم
 عالمی مالیاتی ادارے یا آئی ایم ایف کے ساتھ پچھلے سال جو معاہدہ طے ہوا۔اس معاہدے کے کے مطابق حکومت بجلی، تیل، گندم، گنے اور بعض دیگر اشیا پر دی جانے والی مالی امداد ختم کرنے کی پابند ہے۔ جبکہ سٹاک مارکیٹ پر کیپیٹل گینز ٹیکس سمیت جائیداد کی خرید وفروخت اور مختلف سروسز پر نئے ٹیکس بھی لاگو کرنے ضروری ہیں۔اس صورت حال میں بجٹ پیش کرنا حکومت کے لئے اور بھی مشکل تھا کہ کسی کو پاکستان پر اعتماد نہیں ہے۔ ہمارے اعداد شمار بھی اپنی وقعت کھو چکے ہیں۔ حکومتی افراد پر بھی کسی کو کوئی اعتماد سرے سے نہیں ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ قومی بجٹ اور حفیظ شیخ دونوں اسمبلی میں ایک ساتھ آئے۔ٹیکسوں کے نفاذ پر ابھی تک چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے اس لئے ویٹ کا مسئلہ فی الحال اکتوبر تک لٹکا دیا گیا ہے۔اس نئے ٹیکس کے لگنے کے بعد یہ توقع کرنا کہ اس سے عام آدمی کو فرق نہیں پڑے گا محض طفل تسلی ہے۔ اس ٹیکس کا اثر کم و بیش ہر چیز پر پڑے گا اور اسی نسبت سے مہنگائی میں اضافہ ہو جائے گا۔ کھانے پینے کی اشیا سے لے کر الیکٹرانکس اور عام گھریلو استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں کم از کم بیس سے پچیس فیصد اضافہ لازمی ہو جائے گا۔ پارلیمنٹ اور حکومت میں شامل وڈیرے اور چوہدری اوربڑے زمینداروں نے ایک بار پھر زرعی آمدنی کو ٹیکس سے بچانے میں کامیاب اور سارا بوجھ غربت میں پسے ہوئے عوام پر ڈالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔یہ لابی اس قدر طاقتور ہے کہ انھوں نے شوکت ترین کو اس لئے رخصت کردیا کہ وہ کہتے تھے کہ نئے مالی سال میں زرعی ٹیکس ضرور لاگو کیا جائے گا۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ان نئے ٹیکسوں کے نفاد اور سبسڈیز کے خاتمے سے عام آدمی کے لیے مہنگائی میں اضافہ تو یقینی ہو گا ´
پاکستان کی موجودہ حکومت بھی ماضی حکومتوں کی طرح پاکستان کے عوامی اثاثوں کو فروخت کرنے کے درپے ہے تاکہ انکو بیچ کر جتنا پیسہ اکٹھا ہوسکے کیا جائے اور خوب لوٹ مچائی جائے اس کے علاوہ ان کی سیل میں بداعنوانیوں سے بھی خوب کمایا جائے اور پھر ان قومی ملکیتی ادروں کو اپنے رشتہ داروں یا پیاروں کو اونے پونے داموں دے کر انہیں خوش کیا جائے۔ جیسے پاکستان ان کی ذاتی جاگیر یا ملکیت ہے۔ ضیا الحق آمریت ہو یا پھر اس کے سپولے نواز لیگ ہو یا پھر انہی کی ترقی یافتہ شکل مشرف لیگ آمریت ہو اور اس کا وزیر اعظیم جو آئی ایم ایف کا سرکاری گماشتہ تھا اسی روش پر قائم رہے لیکن اب بد قسمتی سے پیپلز پارٹی جو عوام اور مزدورں کی نارملی پارٹی ہے جس کی قیادت پر عوام اور مزدور دشمن جاگیردار ، ساہوکار، سرمایہ دار، اور ریاستی ایجنٹ ،قابض ہو چکے ہیں انکی موجودہ حکومت بھی انہی عوام دشمن پالیسیوں پر گامزن ہے۔ اور اکیس نیشنلائز اداروں کو ڈی نیشنلائز کر رہی ہے جس کے خلاف مزدور سراپا احتجاج ہیں اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین نے اس کے خلاف پورے پاکستان میں ایک منظم تحریک کا آغاز بھی کر رکھا ہے۔ اور اب جب پاکستان کے قومی تحویل میں ادارے ختم ہونے والے ہیں یا فروخت کے لیے مزید نہیں رہے۔ تو اب حکومت پاکستان کی زمیں کو بھی عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔کیا تنخواہ میں اضافے سے مہنگائی اور افراط زر میں کمی ہوگی۔ جی نہیں بائیس گریڈ والوں کی تنخواہ میں پچاس فیصد اضافہ منگائی میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔ اس بجٹ کا آٹھواں حصہ دفاعی اخراجات میں چلا جائے گا۔ جبکہ فوج کے پینشن اور دوسرے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے، نچلی سطح کے ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا بڑا حصہ گیس بجلی پیڑول اور آٹے دال گوشت اور دودھ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی نظر ہوجائے گا،جماعتِ اسلامی کے رہنماءپروفیسر خورشید احمد کے اس سوال کا جواب بھی اس بجٹ دستاویز میں نہیں ہے کہ وہ وفاق کے ان پچیس محکموں کا مستقبل کیا ہوگا۔ جنہیں ختم کرنے کا فیصلہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں کیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین بے روزگار ہوںگے۔ لیکن بجٹ ان کے بارے میں بالکل خاموش ہے ۔
بوجھل دل اس بارے میںقدموں سے اپنے گھر کی طرف چل دیا اور سوچتا رہا کہ پچھلے سال 4کھرب 84ارب روپےکے بجٹ میں غریبوں کو دی جانے والی 189 ارب روپے کی مراعات واپس لی گئی تھیں، اس سال چھ سو پچاسی روپے کا خسارے کا بجٹ ہے۔ جس میں سے گندم کپاس ،بجلی کھانے پینے کی اشیاد ءسمیت ایک سو چار ارب کی مراعات جو غریبوں کے لئے تھیں ان کو ختم کردیا گیا ہے، ہیں۔یہ سب بوجھ غریب اور متوسط طبقہ پر پڑے گا۔ دوسری طرف بجٹ کا خسارہ چھ سو پچاسی ارب روپے سے زائد ہونے کی وجہ سے غیرملکی قرضوں کا بھاری بوجھ مزید بھاری ہوجائے گا۔ جس سے 17کروڑ کی آبادی میں سے ہر شخص پر قرضہ کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہماری قوم کا بچہ بچہ اور ہر مرد اور خاتونساٹھ ہزار روپے فی کس مقروض ہے۔ بجٹ میںکوئی ایسااقدام نظر نہیںآ یا جس سے عوام کو براہ راست کوئی ریلیف ملتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر9 کا انحصار غیر ملکی امداد اور قرضوں پر ہے۔ ملک میں 30 سے 35 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔ اور ان کی مجبوری میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔کہا جاتاہے کہ حد سے بڑھی ہوئی بھوک انسان کی حب الوطنی کو ہی نہیں اس کاایمان بھی کھاجاتی ہے۔ ایسے میں عوام کو کیا اور کس لئے قربانی کا درس دیا جائے۔بجٹ پر کوئی مطمئن نہیں۔ کار‘فریج اور ائیر کنڈیشنرکے بغیر تو زندگی گزاری جا سکتی ہے مگر آٹا‘گھی اور چینی پیٹرول کے بغیر تو زندگی نہیں گزر سکتی۔‘پتا نہیں وطن کی کتنی مائیں غربت کے لبادے میں اپنی عصمت چھپائے اپنے دست دعا کو کشکول بنائے پھرتی ہیں۔صحت ، تعلیم ، امن و امان، بجلی، روزگار کی فراہمی پر بجٹ خاموش ہے اور پارلیمنٹ میں بیٹھا طبقہ اشرافیہ تالیاں پیٹ رہا ہے۔ یہ ہے عوامی جمہوریت ۔ کیا س جمہوریت سے عوام کا پیٹ بھر سکے گا۔ کیسے کیسے لطیفے ہیں ´ تین کروڑ انرجی سیور بلب مفت تقسیم کئے جائیں گے۔ جنکو جلانے کے لئے ہمارے پاس بجلی نہیں ہے۔وفاقی وزیر مالیات عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بہت ساری خرابیوں کی وجہ مالی بد انتظامی ہے۔ ان کے مطابق پورے ملک کی حکومت کا سالانہ خرچ ایک سو پینسٹھ ارب روپے ہے لیکن صرف بجلی پیدا کرنے والی کمپنی پیپکو کو سالانہ ایک سو اسی ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔قوم کو لوٹنے والے یہ معاہدے کس نے کیئے اور کون اب تک انھیں چلا رہا ہے ۔اس کا جواب شائد وزیر خزانہ کے پاس بھی نہیں ہے، کیونکہ کل ملک دیوالیہ ہوجانے پر یہ سارے پنچھی تو دوسرے ملکوں میں اڑ جائیں گے، عوام یونہی پستی رہے گی۔

جمعرات، 3 جون، 2010

میں ان غنڈوں کی فوری گرفتاری چاہتا ہوں

عطامحمد تبسم


،میں ان غنڈوں کی فوری گرفتاری چاہتا ہوں،کل صبح تک 1500 لوگ اندر کردیئے جائیںِ، کمرے میں ایک آواز گونجی اور اس کے ساتھ ہی سرخ گاﺅن والی شخصیت پردے کے پیچھے غائب ہوگئی۔انوار الحق نے فوری طور پر 1500کے ہندسے کو 17 پر تقسیم کرنا شروع کردیا، کیونکہ صوبے (مشرقی پاکستان)میںضعلوں کی تعداد سترہ تھی۔ وہ پریشان تھے کہ تقسیم میں باقی بچنے والے چار کے ہندسے کا کیا کریں۔ این ایم خان عقدے وا کرنے کے ماہر تھے۔ بولے میمن سنگھ بڑا ضلع ہے، وہاں سے چار لوگ اور پکڑ لو۔ اگلی صبح تک 1500 سو لوگ گرفتار کئے جاچکے تھے۔ان قسمت کے ماروں میں رکشا کھینچنے والے، محنت کش،بے گناہ مسافر، غریب خوانچے والے اور بے یارومددگار راہ گیر سب شامل تھے۔ تین ماہ سے کم عرصے میں مشرقی بنگال کو تسخیر کرنے کے بعد اسکندر مرزا کراچی واپس چلے گئے۔ مئی 1954 کا یہ واقعہ الطاف گوہر نے ،،ایوب خان فوجی راج کے پہلے دس سال ،، نامی کتاب میں اسکندر مرزا کے حوالے سے تحریر کیا ہے۔ سرخ گاﺅن والے اسکندر مرزا تھے۔ جنہوں ۶۵ سال پہلے کسی بھی واقعے کے نتیجے میں پولیس کی کاروائی کے لئے جو رہنمائی کا اصول طے کیا تھا۔ اس پر آج بھی اسی طرح عمل ہورہاہے۔پاکستان میں کیسے کیسے خونی واقعات ہوئے ہیں۔ خود کش دھماکے، دہشت گردی کے واقعات،کئی کئی گھنٹوں تک پولیس سے دہشت گردوں کی آنکھ مچولی، ٹیلیویژن چینلوں پر براہ راست ان مقابلوں کو دنیا بھر میں دیکھا گیا۔اس پر ہمارے وزیر داخلہ کی براہ راست کامنٹری،اور پولیس اہلکاروں کے دعوی، اور پھر پویس والوں یا قانون نافد کرنے والوں کے ہاتھوں میں دبوچے ہوئے دہشت گرد جن کی شناخت چھپانے کے لئے ان کے منہ پر فورا کپڑا ڈال دیا جاتا ہے۔پولیس والے اپنی زبان میں ایسے مجرموں کو دلہن کہتے ہیں۔حکومت کی جانب سے اعلان کہ ہم نے دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ہوم منسٹر کے دعوی کے ہم دہشت گردوں کے نیٹ ورک نزدیک جا پہنچے ہیں۔لیکن بعد میں نہ جانے یہ دہشت گرد کہاں چلے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں اخبارات میں تفصیل کیوں نہیں آتی۔ یہ کون لوگ ہیں۔ کہاں سے آئے تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پکڑے جانے والے بہت سے افراد کا ان دہشت گردی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کئی دہشت گرد تو بیچارے کچرا چننے والے نکلے۔ کئی کا قصور یہ تھا کہ ان کے چہرے پر داڑھی تھی، جو آج کے دور میں دہشت گردوں کا ٹریڈ مارکہ بنادیا گیا ہے۔ کئی ایسے بھی تھے جن کی شکل صورت ہی ایسی تھی کہ وہ دہشت گرد نظر آتے تھے۔ مشرف دور میں بھی بہت سے ایسے افراد کو خطرناک اور منظم گروہ کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ جو بعد میں عدالتوں سے بری ہوگئے۔ ایسے مجرموں کو پکڑ کر سب سے پہلے ہم انہیں ہائی پرفائیل کیس بناتے رہے۔ تاکہ امریکہ سے آشیر باد اور ڈالر مل سکیں۔ ملک میں ہونے والے ان خونی واقعات پر ایک جوڈیشل کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ان تمام کیسوں کی چھان بین ہونی چاہیئے کہ اس کے نتیجے میں کس کس نے تمغے ، ترقیاں،انعامی رقوم وصول کیں۔ جن بے گناہ اور معصوم لوگوں کو پکڑا گیا۔اور بے گناہ ثابت ہوئے، ان کو دی جانے والی رسوائی ، ایذیت اور ان کے چھینے گئے ماہ سال کا مالی مداوا ہونا چاہئے۔ ان افسران اور اہلکاروں کو سزائیں ملنی چاہیئے۔ جنہوں نے جھوٹے مقدمات بنائے۔ ایسے تمام کیسوں کے بارے میں ایک قرطاس ابیض کی ضرورت ہے۔ جو ہمارے منہ پر ملی ہوئی سیاہی کو دھو سکے۔

بدھ، 2 جون، 2010

مصلحتوں اور مجرمانہ غفلتوں کا شکار کراچی

عطامحمدتبسم
ہم ابھی ایک خونی مہینے سے گزر کر آئے تھے۔مئی کو اگر ماضی میں دیکھا جائے تو یہ کراچی کے شہریوں کے لیے کئی برس سے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ مئی کے مہینے میں یہاں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جو ماضی کو بھلا دیتا ہے۔ مئی 2010ءکو ہی لے لیں تو کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں 42 سے زائد بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دو کارکنوں کا قتل ہوا۔ جس پر احتجاج کرتے ہوئے، پارٹی کے ایم این اے عبدالقادر نے اپنے استعفی کا اعلان کردیا۔ جون کو شروع ہوئے ابھی ایک ہی دن خیریت سے گزرا ہے کہ لیاری میں ایک خونی لڑائی چھڑ گئی ہے۔ کراچی میں گروہی ، نسلی،سیاسی،بھتہ مافیا، منشیات فروش،زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کی اجارہ داری ہے۔ جس میں عام شہری کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ شہر کے کسی بھی حصے میں کسی بھی وقت کوئی معمولی سا واقعہ ، یا جھگڑا ایک تصادم کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ جس کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر میں حالات خراب ہوجاتے ہیں۔ مسلح افراد کراچی کی گلیوں اور محلوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔اور جب تک حالات پر قابو پایا جاتا ہے۔کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ آج ہی کے قومی اخبار میں ان جرائم پرقابو پانے والی اور امن امان بحال رکھنے والی پولیس کی ایک احتجاجی ریلی کے کارکنوں پر تشدد کی نمایاں تصویر شائع ہوئی ہے۔پولیس افسر انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو بھاری بوٹ سے لات مار رہا ہے۔یہ ہماری پولیس کی بہادری کی لازوال نشانی ہے ۔وہ نہتے سیاسی کارکنوں پر لاٹھیوں، بھاری بوٹوں،اور بندوقوں سے ٹوٹ پڑتی ہے۔ لیکن جہاں گولیاں چل رہی ہوں ، عوام مررہی ہو،اور مسلح جتھے حملہ آور ہوں وہاں یہ پولیس دور دور تک نظر نہیں آتی۔کراچی میں اسلحہ مافیا کی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کی مہربانی سے ہر قسم کا ملکی اور غیر ملکی اسلحہ اور گو لہ بارود کراچی میں عام دستیاب ہے۔ قریب دوکروڑ آبادی کے اس شہر میں اب تک محکمہ داخلہ اسلحہ لائسنسوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز نہیں کرسکا۔ تین اطراف سے کھلے کراچی میں ہر جانب سے اسلحہ آرہا ہے ۔ کراچی میں بڑے پیمانے پراسلحے کے کاروبار کو لسانی فسادات اور جرائم کی پرورش کا اہم ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ ۔ یہ اسلحہ زیادہ تر ٹرکوں اور بڑی گاڑیوں میں چھپا کر کراچی لایا جاتا ہے، کراچی کے تھانوں میں غیر قانونی ہتھیار برآمد کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ سیاسی اور لسانی جھگڑوں میں اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں میں غیر قانونی اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے ،تو کیا ہم نے ان کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے غیر قانونی اسلحے کی ترسیل کو روکنے کے خاطر خواہ انتظامات کئے ہیں۔دو دن پہلے مجھے سپر ہائی وے پر واقع ایک ہوٹل پر جانے کا موقع ملا۔ یہ ہمارے فاران کلب کے دوستوں کی محفل تھی۔جسکی میزبانی سلیم قریشی نے کی تھی اور اس کے روح رواں ندیم اقبال تھے۔واپسی میں رینجرز کے اہلکاروں نے ناکے لگائے ہوئے تھے۔اور انھوں نے ہماری گاڑیوں کی خوب اچھی طرح تلاشی لی۔لیکن پورے کراچی میں یہ ناممکن ہے۔گزشتہ مہینوں میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی کےدورہ کے موقع پر کہا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روکنے کے لیے ایجنسیوں کے کردار میں اضافہ، رینجرز کو تلاشی کے اختیارات اور کراچی میں محکمہ داخلہ کے کرائسس مینجمنٹ سیل کا قیام شامل ہے۔ انھوں نے کراچی میں تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے اور تشددکے ذمہ داروں کے خلاف بلاتخصیص کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ریکارڈ کے مطابق مجموعی ملکی محاصل میں کراچی کا حصہ53.38 فیصد کے قریب ہے اس میں سے 53.33 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور مختلف اشیا پر درآمدی ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی(مجموعی ملکی پیداوار) میں اکیلے کراچی کا حصہ20 فیصد سے زیادہ ہے۔دو سال پہلے کراچی دنیا کے امیر ترین شہروں کی فہرست میں81ویں نمبر پر تھا۔ اب بھی سالانہ 5.9 فیصد کی متوقع شرح نمو کے ساتھ 2020ء تک کراچی کی جی ڈی پی 127 ارب ڈالر متوقع ہے، اس طرح کراچی دنیا کا 66واں امیر ترین شہر بن سکتا ہے۔تاہم ملک میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا مرکز ہونے کے باوجود کراچی کا امن و امان ہمیشہ مصلحتوں اور مجرمانہ غفلتوں کا شکار رہا ہے۔ جو اس کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

منگل، 1 جون، 2010

پاکستانی صحافیوں کی بے مثال بہادری

عطامحمد تبسم



میری طلعت حسین سے ملاقات کلفٹن کے ساحل پر واقع ایک ہوٹل میں اس وقت ہوئی تھی۔ جب وہ ایک صحافتی ورکشاپ میں شریک تھے۔اس ورکشاپ میں بھارت سے آنے والے کئی صحافی موجود تھے۔ خوبصورت، وجہیہ اور انگریزی اردو میں یکساں مہارت رکھنے والے طلعت حسین ان دنوں اسلام آباد میں دی نیوز کے نیوز ایڈیٹر تھے۔ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام سویرے سویرے جاری تھا۔ بعد میں پی ٹی وی ورلڈ پر ان کا پروگرام نیوز نائٹ بھی مقبول ہوا۔بہت کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ طلعت حسین نے ہیڈ اینڈ شولڈر کے ایک اشتہار میں ماڈلنگ بھی کی ہے۔وہ پاکستان کے معدوے ان چند صحافیوں میں سے ہیں۔جو نیشنل ڈیفینس کالج، ایر وار کالج، نیول وار کالج، پاکستان فارن سروس ٹرینگ اکیڈمی اور قائد اعظم یونیورسٹی میں لیکچر کے لئے بلائے جاتے ہیں۔ وہ سی این این، لاس اینجلس ٹائمز، گارجین، نیویارک ٹائمز جسے اخبارات میں لکھتے ہیں۔ یوں انھیں عالمی شہرت حاصل ہے۔ پاکستانی میڈیا میں ان کی شہرت کے کئی حوالے ہیں۔ جن میں لائیو وتھ طلعت ان کا مقبول ترین پروگرام تھا۔ پیر کے دن جب اسرائیل نے غزہ کے محصور اور مظلوم باشندوں کو امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر حملہ کیا اور دنیا کے مختلیف ملکوں سے تعلق رکھنے والے این جی او سے تعلق رکھنے والے ۰۲ سے زائد افراد ہلاک ہونے کی خبر آئی ۔ تو پاکستان اور دنیا کی صحافتی برادری کو اس بات نے مضطرب کردیا کہ اس امدای قافلے میں طلعت حسین بھی شامل ہیں۔ جنہیں دیگر افراد کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں نے گرفتار کرلیا ہے۔ یہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لیے جانے والا تاریخ کا سب سے بڑا قافلہ تھا۔ جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں افراد شامل ہیں۔ قافلے میں ندیم احمد خان ان کی اہلیہ ، آج نیوز کے نیوز اور کرنٹ افئیر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر طلعت حسین، پروڈیوسر رضا محمود آغا پاکستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرر ہے تھے۔۔ ترکی کی غیر سرکاری تنظیم آئی ایچ ایچ کے سربراہ محترم بلند یلدرم اس قافلے کی قیادت کررہے ہیں۔ تیرہ بحری جہازوں پر مشتمل امدادی سامان بھی قافلے کے ہمراہ ہے۔ اس سامان میں ادویات، اشیائے خور ونوش،کپڑے اور دیگر امدادی سامان شامل ہے۔ قافلہ اس سامان کو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ادھر اسرائیل کے تیور اور ارادے جو پہلے ہی سے کچھ خطرناک دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے اس نہتے قافلے پر گولیوں کی بارش کردی اور قافلے میں شامل افراد کو گرفتار کرلیا۔ یہ اسرائیل کی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا ایسا ثبوت ہے۔ جس کی عالمی طور پر مذمت کی جارہی ہے۔ترکی میں اس قافلے کو تقریباً دس لاکھ افراد نے استنبول میں جمع ہوکر الواع کہا تھا۔، اور ان کے نعروں سے صرف استنبول ہی نہیں بلکہ اسرائیلی ایوانوں کے دروبام بھی گونج اٹھے اور اسرائیلی حکومت حواس باختہ ہوگئی۔ اسرائیل کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس مہم کے پیچھے ترک حکومت ہے اور یہ امدادی سامان حماس کے لیے بھجوایا جارہا ہی، چنانچہ اسرائیل نے اشدد نامی بندرگاہ پر اپنے جنگی جہاز جمع کئے اور بیچ سمندر میں قافلے پر حملہ کیا۔ اس سے قبل بلند یلدرم نے کہا تھا کہ ہمارا مقصد خطے میں موجود تمام قیدیوں اور مظلوموں کی آزادی ہے اور یہ ہمارا اجتماعی مسئلہ ہی، ہمارا یہ قافلہ اس تحریک کا نقطہ آغاز ہے اور ہمارا دوسرا بڑا مقصد پناہ گزین فلسطینیوں کومکانات بناکر دینا اورانہیں اپنے گھروں میں دوبارہ بسانا ہے۔“ اسرائیلی فوج نے اس قافلے پر کمانڈو فوجیوں کے ذریعے حملے کیا۔ جسمیں کم از کم بیس افراد کے ہلاک ہوئے اور بہت سے زخمی ہیں۔ حملے کے بعد ترکی کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران مطالبہ کیا کہ اسرائیلی حملے کی بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے اور پکڑی گئی چھ کشتیوں کو چھوڑ کر حراست میں لیے گئے فلسطینی نواز امدادی کارکنوں کو رہا کر دینا چاہیے اور انہیں زرِ تلافی ادا کرنا چاہیے۔’اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ نے ابھی تک اس حملے پر محتاط ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور اپنے بیان میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ حملے کی مزیداطلاعات کے مطابق حملہ ساحل سے ساٹھ کلومیٹر دور بین الاقوامی پانیوں میں ہوا۔ ترک ٹیلی ویڑن پر دکھائی جانے والے تصاویر میں اسرائیلی فوجی کشتیوں پر انسانی حقوق کے کارکنوں سے لڑتے ہوئے دکھائے گئے ۔ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ نے اسی کشتی سے حملے کی خبر نشر کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی بحریہ نے فائرنگ کی اور کشتی پر سوار ہو گئی جبکہ کشتی کے کپتان زخمی ہو گئے ہیں۔ الجزیرہ کی خبر اس آواز پر ختم ہوئی جس میں ایک شخص عبرانی میں کہتا ہوا سنائی دیا ہے کہ ’سب بکواس بند کر دیں‘۔ ان کشتیوں پر ہزاروں ٹن امدادی سامان موجود ہے جس میں سیمنٹ اور تعمیر میں کام آنے والا دوسرا سامان بھی موجود ہے جو اسرائیل غزہ لے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔اسرائیل نے غزہ میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقے کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی تھی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ہر ہفتے پندرہ ہزار ٹن امداد غزہ میں لے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ وہاں کی ضرورت کا چوتھا حصہ بھی نہیں۔غزہ کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان لے کر جانے والے بحری جہازوں کے قافلے فوٹیلا پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے تمام پاکستانی شہریوں کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے میں محفوظ ہیں اور وہ اسرائیل کی تحویل میں ہیں۔ ان میں پاکستان کے نجی ٹیلی ویڑن آج نیوز کے نیوز اور کرنٹ افئیرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طلعت حسین اور پروڈیوسر رضا محمود آغا کے علاوہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے چیئرمین ندیم احمد خان ہیں۔یہ افراد اس قافلے میں شامل ایک جہاز پر سوار ہیں۔ہے۔ ترکی کی معروف رفاہی وفلاحی تنظیم آئی ایچ ایچ اس مہم میں پیش پیش ہے۔ غزہ کے محاصرے کا آغاز 27 دسمبر، 2008ء کو اسرائیلی فضائی حملوں سے ہوا، جس کو اسرائیل نے آپریشن کاسٹ لیڈ (Operation Cast Lead) کا نام دیا، اس تنازع کا آغاز نومبر، 2008ء میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپے میں 6 فلسطینی مسلمانوں کی شہادت سے ہوا۔ اس تنازع میں اب تک 550 سے زائد فلسطینی مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ اب تک ہلاک ہونے والے 550 فلسطینیوں میں سے 25 فیصد عورتیں اور بچے ہیں جبکہ زخمیوں میں ان کا تناسب 45 فیصد ہے۔ حملوں کے نتیجے میں غزہ میں صورتحال مزید بگڑ چکی ہے اور اشیائے خورد و نوش اور طبی امدادی سامان کی سخت قلت ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں پینے کا صاف پانی اور ایندھن بھی نایاب ہے۔ شہر کے تمام ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمی دم توڑ رہے ہیں۔ علاقے کی بجلی پہلے ہی سے معطل ہے اور لاکھوں لوگ ایک بدترین انسانی المیہ سے دوچار ہیں۔ غزہ سے ملنے والی اطلاعات بھی انتہائی محدود ہیں کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں صحافیوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے اس لیے حقیقی صورتحال کا درست اندازہ نہیں ہو پارہا۔ چار صدیوں تک فلیسطین پر عثمانیوں کی حکمرانی رہی ہے۔ 1917 ءمیں برطانیہ نے اس خطے کو اپنی تحویل میں لےکر اعلان بالفور کے ذریعہ یہودیوں کے لئے ایک قومی ریاست کے قائم کی۔جس کے بعد سے ارض فلسطین پر مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ اسرئیل کی دہشت گردی کو امریکہ کی پست پناہی حاصل ہے۔فوٹیلا کے امدادی قافلے پر حملے نے یہودیوں کی دہشت گردی کو بے نقاب کردیا ہے۔ پاکستان کے صحافیوں نے اس قافلے میں شامل ہوکر جرات اور بہاردری کی اعلی مثال قائم کی ہے۔ پاکستانی عوام اپنے ہیروز کا استقبال کرنے کو چشم براہ ہے۔