جمعرات، 18 فروری، 2010

سو جو تے سو پیاز

عطا محمد تبسم

آپ نے سو پیاز اور سو جوتے والا لطیفہ سنا ہے۔اگر یاد نہیں آ رہا تو ایک بار پھر سن لیں۔ ایک جاٹ کسی مقدمے میں پھنس گیا۔عدالت نے سزا سنا دی۔سزا سو پیاز کھانے یا سو جوتے کھانے کی تھی۔سزا کے انتخاب کا حق ملزم کو دیا گیا۔ جاٹ نے سزا سن کر ہنس کر کہا یہ تو کوئی سزا نہیں ہے۔لو جی میں سزا بھگتنے کو تیار ہوں۔ میں سو پیاز کھاﺅں گا۔ سو اس کے آگے پیاز کا ٹوکرا رکھ دیا گیا۔ اب جناب جاٹ نے پیاز کھانا شروع کیا۔ ایک دو تین۔۔۔۔ دس بارہ پیاز کھائی ہوں گی۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔اب پیاز نہیں کھائی جارہی تھی۔ کہنے لگا کہ میں سو جوتے کھانے کو تیار ہوں۔ پھر جاٹ کو جوتے لگنا شروع ہوئے۔ابھی گنتی بیس تک پہنچی تھی کہ جاٹ چلانے لگا ہائے مرگیا۔ ہائے مر گیا۔ روکو روکو ۔۔۔ میں پیاز کھانے کو تیار ہوں۔ دوبار سے پیاز کا ٹوکرا اس کے سامنے لایا گیا۔ اس نے پیاز کھانا شروع کی اور۔۔ کچھ دیر بعد کہنے لگا بس جی بس ۔۔ میں جوتے کھانے کو تیار ہوں۔ سارا گاﺅں یہ تماشا دیکھتا رہا۔ جاٹ کبھی پیاز اور کبھی جوتے کھاتا رہا۔ اور یوں اس نے سزا بھگتی کہ سو پیاز بھی کھائی اور سو جوتے بھی کھائے۔ آپ نے کیلے کے چھلکے پر پھسل کر دیکھا ہے۔ آسان لگتا ہے نا۔۔۔ بس کیلے کے چھلکے پر پاﺅں رکھ دو۔ باقی آپ کو کیا کرنا ہے ۔ جو کرنا ہے وہ چھلکے نے کرنا ہے۔ آپ کو تو اس وقت ہی پتہ چلے گا۔ جب آپ چاروں شانے چت سڑک پر پڑے ہوں گے۔نہ جانے وہ کیسے مشیر اور دوست ہیں جنہوں نے چار دن پہلے صدر مملکت کو عدلیہ کے ججوں کو لگانے کا نوٹیفیکیشن نکالنے کا مشورہ دیا تھا۔راتوں رات ایک بحران نے جنم لیا۔ پورے ملک میں لوگوں کی نیندیں حرام ہوگئی۔ سڑکوں پر جلسے جلوس،عدالتوں میںبائیکاٹ، جلسے،ہنگامہ، کسی کے پتلے جلے،کسی کی تصویر پر جوتوں کی برسات ہوئی،کہیں زندہ باد کہیں مردہ باد کے نعرے لگے۔اسٹاک مارکیٹ کی حالت پتلی ہوگئی۔ عوام بیچارے حیران ۔ ۔۔ یا اللہ آٹا،چینی،بجلی،گیس،اور پیڑول کی یہ مہنگائی۔۔ اور حکمرانوں کا یہ شوق پنجہ آزمائی۔کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔لیکن بھگتنا تو عوام کو ہوگا۔چیف کی بحالی پر کیسی کیسی نکتہ آفرینی کی گئی۔ مشرف کے غیر قانونی اقدام کو ختم کرنے کے لئے سبحان اللہ کیسی کیسی قانونی موشگافیاں کی گئی۔کیسے مشیر اور دوست ہیں جنہوں نے کہاکہ معطل ججوں کی بحالی ایگزیکٹو آرڈر سے نہیں ہوسکتی۔انہیں ازسرِنو حلف اٹھانا پڑے گا۔انکی بحالی آئینی پیکیج کے بغیر ممکن نہیں ہے۔لیکن پھر کیا ہوا ان ججوں کو ایک اوورسیز اور ایک لوکل ٹیلی فون کال پر بحال کرنا پڑا اور بدنامی بھی کمائی۔پھر این آر اوکیس میں بھی ان مشیروں اور دوست نما دشمنوں نے ایک سو بیس دن کی وہ مہلت گنوا دی۔ جس میں پارلیمنٹ کو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ عدالت میں این آر او کا دفاع کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔اور جب عدالت نے اسے کالعدم قرار دے دیا تو آپ اس فیصلے پر عمل درآمد کروانے کے بجائے پورے معاملے کو سیاست قرار دے دیا۔جمہوریت کے خلاف سازش سازش کا شور مچ گیا۔آئی ایس آئی کو ماتحت کرنے کا مشورہ بھی ان دوستوں کا ہوگا۔ جو نوٹیفیکیشن سات گھنٹے بعد ہی واپس لینا پڑا۔اپنے ہی ملک کے اداروں کو فتح کرنے کا مشورہ دینے والے۔یہ کون لوگ ہیں۔ ان کے مقاصد کیا ہیں۔ جمہوریت کو ان آستین کے سانپوں سے خطرہ ہوسکتا ہے۔ باہر والے تو ایوان صدر میں آ نہیں سکتے۔ عوام کو روٹی کپڑا اور مکان بلکہ اب تو امن امان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ سیاست کے کھیل میںاورکوئلوں کی دلالی میں منھ کالا ہو تا ہی ہے۔لیکن منھ کالا کرانے والے، راستے میں کیلے کے چھلکے بچھانے والے،اور سو پیاز اور سو جوتے کھلوانے والوں کے نام عوام کو پتہ چلنا چاہئے۔





پیر، 15 فروری، 2010

ویلنٹائن ڈے پر آگ کے تحفے


 
ویلنٹائن ڈے پرمحبت کے اظہارکے لیے گلاب کے پھو ل سے بہتر تحفہ کوئی نہیں سمجھا جاتا۔لیکن اس بار اس دن محبت اور پھول پھولوار کے بجائے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے ایک دوسرے کو گرما گرم تحفے ارسال کئے ہیں ۔ اس نے ماحول میں آگ سی بھر دی ہے۔ میاں نواز شریف نے اسلام آباد میں انتہائی دل گرفتہ انداز میں بیتے ہوئے ماہ و سال کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ جمہوریت صدر زرداری کے ہاتھوں میں غیر محفوظ ہے اور یہ کہ انہیں صدر زرداری کے اقدامات سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔ میاں نواز شریف دو سال سے جس مخمصے میں گرفتار تھے۔بالاآخر وہ اس سے باہر آگئے اور انھو ں نے واضح انداز میں کہ دیا کہ زرداری کی جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق نہیں اور صدر زرداری جمہوریت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف میری اجازت سے آرمی چیف سے ملے تھے۔ میاں نواز شریف نے حالیہ عدالتی بحران میں ایک بار پھر عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی تقرری کے معاملے پر آئین کے مطابق عمل نہ کیا گیا تو مسلم لیگ ن اعلیٰ عدلیہ کا اسی طرح ساتھ دے گی جیسے عدلیہ بحالی تحریک میں دیا تھا۔میاں نواز شریف کی اسلام آباد کی اس پریس کانفرینس کا جواب جیالوں نے لاہور کی ریلی میں میاں نواز شریف کے پتلے جلاکر دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تبادلے کا صدارتی حکم غیر آئینی قرار دیے جانے کے بعد مختلف شہروں میں وکلا تنظیموں ،سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی ، تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کیخلاف اور ججوں کی حمایت میں مظاہروں اور پورے ملک میں پیپلز پارٹی کی جانب سے صدر زرداری کے ساتھ یکجہتی کے مظاہروں نے ملک میں ایک ہلچل کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ سیاست میں اپنے فیصلوں کی حمایت میں سیاسی جماعتوں کا اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لے آنا، اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کا سخت لب ولہجہ ملک میں عوامی سطح پر تصادم کی فضا ہمور کررہا ہے۔ جس کا فائدہ سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کو نہیں پہنچے گا۔ ایسے میں جناب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جو مصالحتی انداز اختیار کیا ہے اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ حالات پر قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جمہوریت ، ملک اور اداروں کو کوئی خطرہ نہیں۔ ججوں کے معاملے سمیت تمام معاملات کو حل کرلیں گے۔عدلیہ کا معاملہ مسئلہ کشمیر نہیں جو حل نہ ہوسکے۔ ایک ایسے دن جب اظہار محبت کی نئی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔جلسوں میں آگ لگانا، پتلے جلانا،جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے۔ملک میں تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، اور انھیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ جسے قائم رکھنا چاہئے۔سیاسی قائدین کو اس آگ کی آنچ کو مدہم رکھنا چاہئے ورنہ یہ آگ سب کر جلا کر راکھ کردے گی۔اور جمہوریت کا قافلہ صحرا میں بھٹکتا پھرے گا۔