منگل، 5 ستمبر، 2017

ریڈیو



سال تو جانے کونسا تھا پر تھا ریڈیو کا زمانہ بابو جی کے پیچھے پڑ گئے ریڈیو خریدیں پھر ایک دن بابو جی کے ساتھ دونوں چھوٹے بھائیوں کو لے کر سٹی تھانے کے مقابل رضوی برادرز پہنچے ریڈیو فروخت کرنے کی سب سے بڑی دکان تھی آر جی اے کا ٹرانسٹر ریڑیو ایک سو آٹھ روپے کا خریدا رسید بھی میرے نام پتہ کے ساتھ کاٹی گئی الہ دین کے بڑے چار سیل لگتے تھے اب گھر میں صبح شام ریڈیو کی آواز گونجتی تلاوت سے آغاز ہوتا یہ ریڈیو پاکستان ہے آواز بہت بھلی لگتی سارے دن پروگرام اور فرمائشی گیت چلتے رات کو ڈرامے اور فرمائشی گیتوں کے پروگرام ان دنوں اتوار کو ریڑیو پاکستان بچوں کے پروگرام میں جاتے بھائی جان عبدالقیوم جب اسٹوڈیو میں لے جاتے تو اس کی منفرد خوشبو سے من بھر جاتا ریڈیو والوں نے جشن تمشیل منایا پچھواڑے میں اسٹیج بنا بہترین ڈرامے نامور فنکار حیدرآباد کی تاریخ میں اس قدر نابغے پھر ایک ساتھ کبھی جمع نہ ہوئے الیاس عشقی اپنے سفید بالوں سے.نمایاں نظر آتے ایک بار جوہر حسین نے زیڈ اے بخاری کو نیشنل سنٹر میں بلایا وہ بھی سفید سر والے ان کے الفاظ کا اتار چڑھاو قصے کہانیاں بہت دن مزا دیتی رہی رجب علی بچوں کے پروگرام میں آ تے بعد میں نورجہاں کے ساتھ ان کا دوگانا مجھ سا تجھ کو چاہنے والا کوئی اور ہو اللہ نہ کرے نے انھیں خوب شہرت دی یہ ریڈیو جو سب کی آنکھ تارا اور راج دلارا تھا گھر میں ٹی وی آنے کے بعد جانے کب ناکارہ اور از کار رفتہ میں بدل گیا

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

سبسکرائب کریں در تبصرے شائع کریں [Atom]

<< ہوم