اشاعتیں

کراچی کا خدا حافظ

کراچی کا خدا حافظ عطامحمد تبسم کراچی ایک بار پھر جل اٹھا ہے۔ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ سنکڑوں زخمی ہیں۔ اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جگہ جگہ تشدد کے واقعات جنم لے رہے ہیں۔تیس کے لگ بھگ گاڑیاں، جن میں رکشہ،موٹر سائیکل، منی بسیں، ٹرک ٹینکر شامل ہیں،جل کر خاکستر ہوچکی ہیں۔ اور یہ گراف لمحہ بہ لمحہ اوپر ہی جارہا ہے۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔سینکڑوں کی تعداد میں دکانیں، ٹھیلے، پتھارے نذر آتش کیے جاچکے ہیں۔ بہت سی نواحی بستیوں میں شدید کشید گی ہے۔ بنارس ، اورنگی ٹاو ¿ن ، قصبہ کالونی ، سہراب گوٹھ ، سائٹ اور ایف بی ایریا، لانڈھی ، ملیر،گلشن اقبال، گلستان جوہر، سمیت شہر کے مختلف حصوں میں توڑ پھوڑ، مار دھاڑ کے واقعات ہورے ہیں۔ سرکاری اور نجی املاک جلائی جار ہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں۔صدر بیرون ملک دورے پر ہیں، وزیر داخلہ اس لڑائی کے سرے وانا، طالبان، لشکر جھنگوی، جنداللہ اور دیگرکالعد م مذہبی جماعتوں سے ملا رہے ہیں۔کراچی میں یہ واقعات اچانک وقوع پزیر نہیں ہوئے،ایم کیو ایم کے صوبائی رکن اسمبلی رضا حیدر کے بہیمانہ...
قوت ارادی قائد اعظم بے پناہ قوت ارادی کے مالک تھے۔ وہ مجمع کو دیکھ بھی اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوتے تھے۔ کانپور کے اجلاس میں مسلم لیگ اور گانگریس کے راستے جدا جدا ہوگئے۔ اس اجلاس میں جس میں کانگریس کے حامیوں کو خاص طور پر جمع کیا گیا تھا۔ اجلاس میں گاندھی جی کی ایک قرار داد منظور کی گئی۔محمد علی جناح نے اس قرار داد پر زبردست نکتہ چینی کی۔پچاس ہزار کے مجمع میں قائد اعظم نے اپنی تقریر اس الفاظ سے شروع کی،، میں اس قرار داد کی مخالفت کرتا ہوں،،ان کی آواز شور وغل اور ہنگامے میں ڈوب گئی۔انھیں یقین تھا کہ حاضرین ان کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن انھوں نے لوگوں کے شور غل پر اسٹیج نہیں چھوڑا۔ ڈائس پر خاموش کھڑے رہے۔جب شور کم ہوا تو انھوں نے پھر سے کہا،، میں اس قرار داد کی مخالفت کرتا ہوں۔ ،، مجمع نے پھر شور کرنا شروع کیا۔لیکن انھوں نے اپنی تقریر گھن گرج کے ساتھ جاری رکھی۔آہستہ آہستہ ان کے جوش ، حوصلے، تحمل کے سامنے مجمع خاموش ہوگیا۔انھوں نے مجمع کو اپنے ساتھ کرلیا، لیکن مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کرسکے۔لیکن انھوں نے ثابت کردیا کہ ان پر حکم نہیں چلایا جاسکتا۔وہ گاندھی کو مسٹر گاندھی کہہ کر مخاطب ک...
ساری امیدیں ختم ہوئیں۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم زندگی کے راستے کتنے کھٹن اور جاں لیوا ہیں۔دشت کی آبلہ پائی میں زخم روح کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ایک امید کا سہارا تھا کہ کچھ جانیں بچ جائیں گی۔ لیکن رات گئے کائرہ صاحب کی پریس کانفرینس نے یہ امید بھی ختم کردی۔ جائے حادثہ کے مناظر ہولناک تھے۔ حادثے کے بعد سوائے آگ راکھ ، جسموں کے ٹکڑے، کے کچھ بھی نہ بچا۔انسان فانی ہے۔ موت کے سو بہانے ہوتے ہیں۔مر نے والے مر جاتے ہیں۔ اور جانے والوں کی صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ نہ جانے آج کیوں مجھے جولائی ۴۷۹۱ یاد آ رہا ہے۔ سٹی کالج حیدرآباد اسلام آباد میں طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں میں سے کسی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ کراچی سے اسلام آباد تک کا سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔آج جانے کیوں مجھے چھ جولائی ۴۷۹۱ یاد آرہی ہے۔ وہ بھی ایک ایسا ہی اجتماعی سانحہ تھا۔ سٹی کالج حیدرآباد کے طلبہ سالانہ ٹور پر مری گئے تھے۔ جہاں ان کی بس نتھیا گلی سے ہزاروں فٹ گہری کھائی میں گر گئی تھی۔ ۴۵ نوجواں طالب علم اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔تین دن تک ہم حیدرآباد کی سڑکوںاور گلیوں میں گھومتے رہے، رات کو نیند ن...
افغانستان میں ایک کھرب ڈالر کی معدنیات کا انکشاف عطا محمد تبسم امریکہ اب افغانستان سے نہیں جائے گا۔کیونکہ اب تک اس نے افغانستان میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں ایسے معدنی ذخائر کا سراغ لگایا گیا ہے۔ جو امریکہ کے اب تک ہونے والے سارے نقصانات کا ازالہ کردے گا۔ یہ ذخائر اب سے پہلے معلوم نہیں ہوئے تھے۔ خیال یہ ہے کہ ان ذخائرسے افغان معیشت کو تبدیل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ان ذخائر کی مالیت کا اندازہ 1 ٹریلین امریکی ڈالر کا ہے۔ افغانستان میں معدنی ذخیرے کی تلاش کا کام خاصے عرصے سے جاری تھا۔امریکی حکام کے مطابق اس ذخیرے میں لوہا ، تانبا ، کوبالٹ ، سونے اور لتیم جیسے اہم صنعتی دھاتیں بہت بڑی مقدار میں ہیں اور بہت سی ایسی معدنیات بھی ہیں جو جدید صنعت کے لئے ضروری ہیں۔خیال کیا جارہا ہے کہ بالآخر افغانستان کان کنی میں سب سے زیادہ اہم ملکوں میں سے ایک میں ہو سکتا ہے۔پینٹا گون کی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں پتہ چلنے والے ذخائر میں لتیم جیسی قیمتی دھات ہے جو ،" لیپ ٹاپ اور BlackBerrys کے لئے بیٹری کی تعمیر میں اہم خام مال. کے طور...
تصویر
پاکستان کرونیکل نوجوان نسل کے لئے ایک تحفہ عطا محمد تبسم عقیل عباس جعفری چپکے چپکے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ اور پھر جب اس کی کوئی نئی کاوش سامنے آتی ہے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ عقیل عباس جعفری کس پرجیکٹ پر کام کررہا تھا۔عقیل عباس کی نئی تحقیقی کتاب ’پاکستان کرونیکل‘ ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انھوں نے اپنے محدود وسائل میں ایک بڑا تحقیقی کام کیا ہے۔وہ مستقل مزاجی اور لگن سے کام کرتے ہیں۔ اوراپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ تحقیق و تحریر میں مبتلا رہنے والوں کو بھی یہ بات ایک مرتبہ چونکا دے گی کہ کسی نے تن تنہا پاکستان کی 70 برسوں کی سیاسی، ثقافتی، سماجی اور معاشی تاریخ کو ایک دستاویزی صورت دی ہے۔ تقریباً گیارہ سو صفحات پر مشتمل بڑے سائز کی اس کتاب کو اس قدر دقتِ نظری کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ شاید کسی بڑے حکومتی ادارے نے، بڑی ٹیم کے ساتھ، ایک معرکہ سرانجام دیا ہے۔اس کتاب کے شروع میں پیرس کی مشہور شاہراہ شانزے لیزے کا 1901ء کا ایک منظر ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ فوٹو گرافی کی اس شاہکار تصویر میں پورے یورپی معاشرے کو اپنی تمام تر تفاصیل کے ساتھ محف...
تصویر
موزے،برساتی کوٹ، سیل فون کی حفاظت کرنی چاہیئے۔ عطا محمد تبسم دو دن پہلے پریس کلب میں میرے ایک دوست کے پاس امریکہ سے فہد ہاشمی کے والد کا فون آیا۔ طویل گفتگو کے بعد میرے دوست نے بتایا کہ ہاشمی صاحب کراچی میں رہتے تھے ۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ جنہں1980میں دو ڈھائی سال کی عمر میں پاکستان سے امریکہ لے گئے تھے۔ ان بچوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ، ان کی اردو بھی واجبی سے ہے۔ ان میں چھوٹا بیٹا فہد ہاشمی ہے۔فہد ہاشمی نیویارک کے علاقے کوئینز میں پلے بڑھے۔ انہوںنے بروکلین کالج سے 2003 میں پولیٹیکل سائنس کی ڈگری لی۔اور پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں لندن کی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی سے 2006 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ نائین ایلیون کے بعد امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف جو ظالمانہ پالیسی اختیار کی۔ اس پر امریکیوں نے بھی احتجاج کیا۔ فہد ہاشمی بھی امریکی پالیسوں اور مسلمانوں کے خلاف امریکی امتیازی رویہ پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتا تھا۔ امریکی معاشرہ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ لیکن فہد کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ فہد ہاشمی ایک ذہین اور پڑھنے لکھنے والا طالب علم تھا۔دوران طالب عالمی اس کا تعارف...
ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کی ایک تازہ لہر عطا محمد تبسم کراچی میں ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کی ایک تازہ لہر آئی ہے۔گزشتہ ایک ہفتے میں شہر میں چار ڈاکٹر ہلاک کردئیے گئے ہیں۔ اس ایک ماہ میں تقریبا آٹھ ڈاکٹر ہلاک کئے جاچکے ہیں۔حیدرآباد میں گزشتہ ہفتے پروفیسر ڈاکٹر اسلم میمن کو دن دھاڑے اغوا کیا گیا۔ جو تا حال لاپتہ ہیں۔انھیں تاوان کے لئے اغوا کیا گیا ہے۔پشاور میں ڈاکٹرز کا اغوا اب باقاعدہ کاروبار ہے۔ اور بڑی تعداد ایسے ڈاکٹروں کی ہے جو اس ہولناک تجربے سے گزر چکے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے دو ہزار تین سو افراد پر ایک ڈاکٹر کی سہولت ہے۔ ایک ڈاکٹر کی تعلیم پر حکومت کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔حالات میں جب بھی ایسی بے یقینی کی فضا ہوتی ہے۔ ملک سے برین ڈرین ( ذہین افراد کا ملک سے چلے جانے )کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس ایک ماہ میں سندھ سے تین سو ڈاکٹر اور پنجاب سے بارہ سو ڈاکٹر ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔کوئٹہ کے حالات بھی خراب ہیں ۔ جہاں ایک ماہ میں سات ڈاکٹر قتل کردئیے گئے۔اندرون سندھ کی صورت حال بھی کوئی اچھی نہیں ہے۔جمعہ کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے کراچی میں ڈاکٹروں کے قتل کی مذ...