اتوار، 20 اپریل، 2014

میڈیا کے بے حس مالکان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم

 میڈیا کے بے حس مالکان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم

کراچی دو دہائی سے بدا منی کا گڑھ ہے، یہاں روز سات آٹھ اور کبھی کبھی اس زیادہ افراد قتل ہوتے ہیں، بھتہ خوری، چھینا چھپٹی، اغوا، فائرینگ کے واقعات معمول ہیں، لیکن حکومت ، میڈیا اخبارات، اقتدار میں حصہ رکھنے والے سب خاموش رہتے یں۔ ہفتے کے روز شاہراہ فیصل پر ناتھا خان پل کے قریب جیونیوز کے سینئر اینکر پرسن حامدمیر کی گاڑی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس میں وہ زخمی ہوئے، پورے ملک میں شور مچ گیا، کیا کوئی انہونا واقعہ ہوا، یہاں کراچی میں روزانہ ہی کئی افراد کا قتل ہوتا ہے، ان کی بوری بند لاشیں، تشدد زدہ بے نام لاشے ملتے ہیں، اب تک ہزاروں افراد قتل ہوچکے ہیں، جو قتل کرتے ہیں وہی شور بھی مچاتے ہیں، مقتول کے جنازے پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں، اپنے جھنڈوں میں لپیٹ کر تدفین کرتے ہیں، مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔لیکن حکومت ( اگر اس کا سندھ میں کوئی وجود ہے تو) کچھ نہیں کرتی، کراچی والوں نے تو اس پر صبر ہی کر لیا ہے، اب کوئی حامد میر جیسا مہمان ( جانے کس کا مہمان) ، کیونکہ کراچی پاکستان سے علیحدہ تو نہیں ہے نا، اب کوئی اپنے گھر کے کسی حصے میں آئے جائے تو ہم اسے مہمان کیونکر کہیں۔ حامد میر خوش قسمت ہیں کہ انھیں فوری طور پر آغا خان اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ورنہ اس شہر میں تو کوئی زخمی کو خوف کے مارے اٹھاتا بھی نہیں ہے۔ انھیں طبی امداد بھی مل گئی، ورنہ یہاں تو اسپتال والے ہاتھ نہیں لگاتے، قاتل اتنے بے رحم ہیں کہ بچوں کے سامنے ان کے ماں بات کو دن دھاڑے قتل کرتے ہیں۔ پکڑے جانے والوں کے بیانات کے ریکارڈ سنیئے، ویڈیو دیکھئے، ایک ایک نے سو ، سو افراد کے قتل کا اعتراف کر رکھا ہے، لیکن کیا ان میں سے کسی کو پھانسی یا کوئی اور سزا ہوئی، جیلوں میں وی وی آئی پی کی زندگی گزارنے والے یہ قاتل مزے کر رہے ہیں۔ پھر حامد میر پر فائرینگ پر یہ واویلا ، شور کیوں ، یہ تو کراچی میں رہنے والے ، آنے والے کی قسمت ہے ، بچ گیا تو نصیب ورنہ مرنے والوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ حملہ آور حامد میر کی کار کا تعاقب کرتے ہوئے ایئر پورٹ کی جانب سے انکی کار کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے، واردات کے کے دوران ملزم کے پستول کے ایک میگزین کی گولیاں ختم ہوگئیں۔ دوسرا میگزین پستول میں لگایا اور دوبارہ بھی فائرنگ شروع کردی۔ حامد میر صاحب اس شاہراہ فیصل جو وی وی آئی پی سڑک ہے، اس پر کچھ عرصے پہلے دو تین علماءکو شہید کیا گیا تھا، آپ نے اس کی فوٹیج دیکھی ہوگی، کیا کمال کی منصوبہ بندی تھی، اور قاتل کتنے بے خوف تھے، مزے سے سب کے سامنے وادات کے بعد موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ کیا اس فوٹیج کے بعد قاتل پکڑے گئے۔ ولی خان بابر کا قتل اور ان کے گواہوں کو چن چن کر مانے اور اس مقمے کی پیروی کرنے والے وکلاءکا کیا حشر ہوا، سب کچھ آپ کے سامنے ہے، آپ کے بھائی عامر میر کا اور ٓئی ایس کا جھگڑا بہت پرانا ہے، ان کی گاڑی جلادی گئی، مارا پیٹا گیا، انھوں نے تو فوری طور پر اپنا بدلہ آئی ایس آئی پر الزام لگا کر لے لیا۔ ایک ماہ پہلے ر لاہور میں نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن اور بلاگر رضا رومی کی گاڑی پر فائرنگ سے ان کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا۔رضا رومی ایکسپریس گروپ کے اخبار ٹریبیون کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں اور اسی گروپ کے چینل کے لیے شو کرتے ہیں مگر ان پر حملے کی خبر ایکسپریس ٹریبیون پر کچھ یوں نظر آئی’گاڑی پر حملہ، ایک ہلاک، ایک زخمی۔‘ یہ ہے صحافیوں کی وقعت ان کے اپنے اخبار میں سنیچر کو حامد میر پر حملے کی خبر اے آر وائی پر نشر نہیں ہوئی۔ نامعلوم دہشت گرد، ایک نامعلوم فرد ’نجی چینل‘ ’نجی اخبار‘ ایک سیاسی جماعت ،کہہ کر بات کو چھپانے کی یہ میڈیا کی روش کب تک جاری رہے گی، کیا ان قاتلوں کے تعلق کی پردہ پوشی میڈیا کی جانب سے اس کی خاموش حمایت نہیں ہے۔ ضیا الدین صاحب کا یہ کہنا درست ہے کہ ’ہمارا میڈیا، خاص کر میڈیا کے اداروں کے مالکان مکمل مکمل طور پر بے حس ہو چکے ہیں اور مکمل طور پر مارکیٹ کے نام بک چکے ہیں۔وہ مقابلہ بازی اور بہتر ریٹنگ کے لیے ایک دوسرے کی عزت کرنا بھول چکے ہیں،، میری دعا ہے کہ آپ ( حامد میر ) صحت یاب ہوں۔ کاش کراچی کے حالات سدھر جائیں، نواز شریف اسے ماڈل ٹاون اور زرداری اسے بے نظرآباد ہی سمجھ کر اس کے حالات اور درد کو محسوس کریں۔ 

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

سبسکرائب کریں در تبصرے شائع کریں [Atom]

<< ہوم