اتوار، 27 اپریل، 2014

پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی

عطا محمد تبسم
کراچی امن وامان کے معاملے میں حکومت کے لئے چیلینج بنا ہوا ہے، امن وامان کے بغیر کسی بھی شہر میں معاشی اور تجارتی سر گرمیاں کیسے پھل پھول سکتی ہیں، کراچی تو پھر بھی شہروں کی ماں ہے۔ اس ایک شہر میں کتنے شہر آباد ہیں۔ لیکن پھر بھی اس روشنیوں کے شہر میں اندھیروں کے سائے بڑھ رہے ہیں ، اور انسان تو اس شہر میں گھٹ ہی گئے ہیں،اس شہر میں سب سے زیادہ تشویش کا پہلو یہاں ہونے والی اندھے قتل کی وارداتیں ہیں، صحافی حامد میر پر ہونے والے قاتلانے حملے نے پورے ملک کی سیاست میں ابال پیدا کر دیا ہے، اور اب اس سے کاروبار اور اسٹاک مارکیٹ بھی متاثر ہونے لگی ہے، اسٹاک مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی 76 ارب کے اوگرا اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ کراچی میں دولت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے، سیاست کرنے والے صنعتکاروں اور تاجروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر کراچی کی طاقتور سیاسی جماعت حکومت کا حصہ بنی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کا خواب ہے کہ سندھ خصوصا کراچی میں امن قائم ہو۔ امن کا یہ خواب پولیس اور قانون نافد رکھنے والے اداروں کی کارکردگی ہی سے پورا ہوسکتا ہے۔ لیکن جس نظام کے کل پرزے زنگ آلودہ ہوں، اور جو کام ہی نہ کر رہا ہو، تو اس سے نتائج کیسے حاصل ہوں گے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایک رپورٹ مرتب کی تھی ، جس میں کہا گیا ہے کہ سیاسی اثرو رسوخ اور کمزور نظام کے باعث سندھ پولیس 4/ سالوں میں 88/ ہزار سے زائد اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ سندھ ہائی کورٹ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ بھر کی ماتحت عدالتوں کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں 88/ ہزار 998/ ملزمان مطلوب ہیں جنہیں عدالتوں نے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ یہ دراصل اس الزام کا جواب ہے، جو پولیس نے سپریم کورٹ کے لارجربنچ کی جانب سے کراچی میں بدامنی کیس پر عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران عدالتوں کے بارے میں دیا تھا ۔پولیس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پولیس ملزمان کو پکڑ کر عدالتوں میں پیش کرتی ہے، لیکن عدالتیں ملزمان کو چھوڑ دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے لارجربنچ نے کراچی میں بدامنی کیس میں سندھ میں اشتہاری و مفررو ملزمان کی صحیح تعداد بھی طلب کی تھی۔ مذکورہ رپورٹ تمام سیشن عدالتوں سے تفصیلات حاصل کرکے مرتب کی گئی ہے۔ ایک عمومی سا تبصرہ یہ ہے کہ پولیس میں اکثریت سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے اور کرپٹ افسران و اہلکاروں کی ہے۔ جو ملزمان کو گرفتار کرنا تو درکنار بلکہ ہاتھ آنے پر بھی انھیں رشوت لے کر چھوڑ دیتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ پولیس کے محکمہ میں تفتیشی افسران تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ پولیس میں اصلاحات ضروری ہیں۔ حکومت اور پولیس کے اعلی حکام کو بھی اس بات کا ادراک ہوچلا ہے، اس لئے کراچی اور سندھ پولیس کی موجودہ قیادت پولیس ریفارمر کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔ ہماری پولیس کا رول ایک فورس سے تبدیل ہوکر ایک خدمت گزار ادارہ کا ہونا چاہیئے، دنیا کے مہذب ملکوں کی پولیس شہریوں کی مدد کرنے والی پولیس تصور کی جاتی ہے۔ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ اس پر عمل کی ضرورت ہے۔ پولیس کے جوانوں اور افسران نے شاندار کارنامے بھی سرانجام دیئے ہیں، ان کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں۔ سابق صدر پر ویز مشرف کے دور میں پولیس آرڈر 2002 ءکے ذریعے پولیس نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کی گئی۔ اس کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا گیا۔اس پولیس آرڈر کے ذرایعے جہاں پولیس کے اختیارات ازسر نو متعین کئے گئے۔ پولیس کو سیاسی اثرات سے پاک کرنے کی کوشش بھی کی گئیں۔ پولیس کے احتساب کا طریقہ کار بھی متعین کیا گیا جس کی مثال اسی پولیس آرڈر کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام تھا۔ لیکن اب یہ عمل کچھ رک سا گیا ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز( سی آرایس ایس ) ایک این جی او کے طور پر قانون کی عملداری کیلئے کام کر رہا ہے۔ کراچی میں آج کل افراد کو راہ چلتے اٹھا لینا، اور انھیں بغیر کسی مقدمے کے اندراج کے حبس بے جا میں رکھنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی الزام میں کوئی شہری پکڑا جائے تو اسے تھانیدار کے خفیہ سیل میں رکھا جاتا ہے پولیس کے مخبر کی اطلاع پر کہ اس شہری کے ورثاءعدالت سے رجوع کر رہے ہیں تو اس شہری کو دوسرے تھانے میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ عدالتی بیلف کی آمد پر تھانے سے برآمدگی نہ ہوسکے بات یہی ختم نہں ہوتی۔بلکہ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے، جب تک مک مکا نہیں ہوجاتا۔ پولیس کی ان اصلاحات سے بہت فرق پڑ سکتا ہے، اگر اس مسئلے پر بھر پور توجہ دی جائے، اب پولیس کی تنخواہ ، ان کے میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات پر بھی توجہ دی جارہی ہے تو اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ پولیس کے انسپکٹر،سب انسپکٹر اے ایس آئی حوالدار یا سپاہی کی تنخواہ سے زیادہ اس کا رہن سہن ہے تو اس پر گرفت کی جائے۔لیکن یہ سلسلہ بھی اوپر سے شروع ہونا چاہیئے، پولیس کے اعلی عہدیداروں کو پہلے خو د مثال بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ 

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

سبسکرائب کریں در تبصرے شائع کریں [Atom]

<< ہوم